امریکہ اور پاکستان: سرد جنگ کے ابتدائی سال اور اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز

Research / Writing: Muhammad Mashhood Qasmi

سرد جنگ کا دور عالمی سیاست میں ایک ایسی بساط تھی جہاں ہر ملک اپنی بقا اور مفادات کی جنگ لڑ رہا تھا۔ 1953ء کا سال پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں جغرافیائی اہمیت اور عالمی نظریات نے دو بالکل مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا۔

عالمی منظرنامہ: 1953ء اور امریکی پالیسی میں تبدیلی

1953ء میں جب جزیرہ نما کوریا میں جنگ بندی ہوئی اور سوویت یونین کے طاقتور رہنما جوزف سٹالن کا انتقال ہوا، تو امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے سوویت یونین کو روکنے (Containment) کی پالیسی پر نظرِ ثانی کی۔ اگرچہ انہوں نے “Chance for Peace” جیسے خطابات کے ذریعے امن کی کوششیں کیں، لیکن سرد جنگ کی تلخی کم نہ ہو سکی، جس نے امریکہ کو نئے اسٹریٹجک اتحادیوں کی تلاش پر مجبور کر دیا۔

پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت اور نیویارک ٹائمز کا اعتراف

امریکہ کی نظریں یوریشیا کے دائرے پر تھیں اور بحرِ ہند کے سر پر واقع پاکستان کا جغرافیہ اس کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ 1953ء میں نیویارک ٹائمز نے ایک اداریے میں پاکستان کو ایک ایسی ابھرتی ہوئی طاقت قرار دیا جو “آزاد دنیا” کے لیے انتہائی اہم ہو سکتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت دنیا پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت دیکھ رہی تھی، اس وقت پاکستان کے وزیرِ خارجہ ظفر اللہ خان واشنگٹن میں ہنگامی خوراک کی امداد کی درخواست کر رہے تھے۔

جوہری توانائی: “امن کے لیے ایٹم” اور پاکستان

8 دسمبر 1953ء کو صدر آئزن ہاور نے اقوام متحدہ میں “جوہری قوت برائے امن” (Atoms for Peace) کا تاریخی منصوبہ پیش کیا۔ اس کا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی کو تباہی کے بجائے معاشی ترقی اور استحکام کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس وقت کی امریکی انتظامیہ پاکستان کی ترقی کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملک کی پوشیدہ صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے کافی پرجوش تھی۔

جان فوسٹر ڈلس کا دورہ اور جنرل ایوب خان کا کردار

مئی 1953ء میں امریکی وزیرِ خارجہ جان فوسٹر ڈلس نے جب جنوبی ایشیا کا دورہ کیا، تو انہوں نے پاکستانی قیادت کو تعاون کے لیے بے قرار پایا۔ اگرچہ ملک کی سیاسی صورتحال مثالی نہ تھی، لیکن ڈلس آرمی چیف جنرل ایوب خان کی شخصیت اور ان کے کمیونزم مخالف نظریات سے بے حد متاثر ہوئے۔ ایوب خان نے فوجی اتحاد کی بنیادیں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ستمبر 1953ء میں ان کا دورہِ امریکہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک بڑا “ٹرننگ پوائنٹ” ثابت ہوا۔

رچرڈ نکسن کا دورہِ پاکستان اور پاک امریکہ دفاعی تعلقات کا آغاز

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو 1950ء کی دہائی پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل نظر آتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب سرد جنگ کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس تناظر میں امریکی نائب صدر رچرڈ نکسن کا دورہِ کراچی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔

رچرڈ نکسن کا تاثر: ہندوستان بمقابلہ پاکستان

دسمبر 1953ء میں نائب صدر رچرڈ نکسن نے نئی دہلی کے بعد کراچی کا دورہ کیا۔ نئی دہلی میں ان کی ملاقات بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ہوئی، جنہیں انہوں نے ایشیا کا سب سے کم دوستانہ رویہ رکھنے والا رہنما پایا۔ اس کے برعکس، نکسن پاکستان سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے پاکستانیوں کے اعتماد اور بے تکلفی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ نکسن نے عہد کیا کہ امریکہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ہر اس قوت کے خلاف کھڑا ہوگا جو اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

1954ء کا تاریخی فوجی معاہدہ

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں مئی 1954ء کا سال ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عرصے میں دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر ایک فوجی معاہدے پر دستخط کیے۔

امریکی تعاون: اس معاہدے کے تحت امریکہ نے پاکستان کو جدید فوجی آلات اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

پاکستان کی ذمہ داری: پاکستان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ یہ امداد کسی جارحانہ مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی بلکہ صرف دفاع تک محدود رہے گی۔

غیر جانبداری یا دفاعی ضرورت؟

اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس امداد کا مقصد کسی عالمی جنگ میں شریک ہونا نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کو برقرار رکھنا ہے۔

امریکی سفیر ہوریں بلڈ ریتھ نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس امداد کے بدلے کسی بلاک کا حصہ بننے یا کسی تیسری طاقت کی جنگ میں شامل ہونے کا پابند نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان بدستور غیر جانبدار رہنے کا حق رکھتا تھا۔

چوہدری ظفر اللہ خان کا حقیقت پسندانہ نظریہ

اگرچہ اس وقت غیر جانبداری کی باتیں کی جا رہی تھیں، لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “غیر جانبداری کا انتخاب ایک سراب بن سکتا ہے”۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر عالمی طاقتوں کے درمیان تصادم ناگزیر ہو جائے تو کسی بھی ملک کے لیے جنگ کے اثرات سے بچنا یا مکمل غیر جانبدار رہنا محض ایک خواہش تو ہو سکتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انتہائی مشکل عمل ہے۔

Ref:

John Wilson Lewis and Xue Litai, China Builds the Bomb (Stanford University Press, 1988).

Richard Rhodes, The Making of the Atomic Bomb (New York: Simon and Schuster).

David Holloway, Stalin, and the Bomb: The Soviet Union and Atomic Energy, 1939-1956 (New Haven: Yale University Press, 1994).

The Impact on Proliferation (Berkeley: University of California Press, 1999).

Avner Cohen, Israel and the Bomb (New York Columbia University Press, 1998).

Bhumitra Chakma, Pakistan’s Nuclear Weapons (New York: Routledge, 2009).

Naeem Salik, The Genesis of South Asian Nuclear Deterrence (New York: Oxford University Press 2009).

The Hildreth Telegram: Shaping the Future of US-Pakistan Relations

In the early 1950s, the geopolitical landscape was shifting rapidly. A declassified secret telegram dated December 1, 1953, sent by the American Ambassador to Pakistan, Horace Hildreth, provides a fascinating glimpse into the strategic maneuvers behind the scenes. This document outlines the U.S. perspective on Pakistan’s internal stability and its role in the “free world.”

A Critical Moment for Leadership

By late 1953, Pakistan was grappling with internal political friction. Ambassador Hildreth’s telegram highlighted “dissension within the Cabinet” and a growing sense of frustration across the country. Despite these challenges, the U.S. identified Prime Minister Mohammed Ali Bogra as the “best hope for Pakistan.” The American strategy was clear: use diplomatic influence and the promise of military aid to bolster the Prime Minister’s position and stabilize the government.

The Strategic Importance of Military Aid

One of the most significant levers discussed in the telegram was the extension of military aid. The U.S. believed that providing such support would not only strengthen the Prime Minister’s hand but also counteract the national mood of frustration. However, Hildreth noted that military aid alone wasn’t enough; the Prime Minister needed to take “decisive action” to inspire confidence and unite his government.

Five Pillars of the U.S. Agenda

Ambassador Hildreth proposed five key points for Vice President Richard Nixon to emphasize during his upcoming visit to Karachi. these points formed the backbone of the U.S. vision for Pakistan:

A Modern State:

The U.S. expressed hope that Pakistan would evolve into a modern, progressive nation.

Regional Defense:

Washington sought Pakistan’s commitment to Middle East (ME) defense, linking this cooperation directly to the potential for military aid.

National Unity:

Recognizing the internal factions, the U.S. urged the Prime Minister to assert strong leadership to unify the country.

Global Role:

The telegram stressed that a stable and strong Government of Pakistan (GOP) was essential for playing a significant role in the “free world” concept.

Relations with India:

The U.S. encouraged continued efforts to settle outstanding issues with India, valuing regional stability.

Stability as a Prerequisite

The core message of the telegram was that the strength of U.S.-Pakistan relations was inextricably linked to the stability of the Pakistani government. Ambassador Hildreth believed that by impressing the necessity of “strong and firm leadership” upon the Governor General and the Prime Minister, the U.S. could help guide Pakistan toward a more secure and pro-Western alignment during the Cold War.

Historical Significance

This telegram serves as a reminder of how early diplomatic communications laid the groundwork for decades of security cooperation. It reveals a time when the United States was deeply invested in the personal success of Pakistani leaders to ensure the country remained a bulwark against opposing global influences.

Research / Writing: Muhammad Mashhood Qasmi

Author