
🏏 کرکٹ انسائیکلوپیڈیا قمر احمد — ملاقاتیں اور یادیں 🏏
🏏 کرکٹ انسائیکلوپیڈیا قمر احمد — ملاقاتیں اور یادیں 🏏 (تحریر و تحقیق: محمد سجاد خان) کل فیس بک نے یاد دہانی کرائی کہ آج قمر صاحب کی سالگرہ ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں چند نام ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں بلکہ ایک عہد کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ قمر احمد صاحب بھی ایسی ہی شخصیات میں شامل تھے۔ وہ بلا مبالغہ ’’کرکٹ انسائیکلوپیڈیا‘‘ تھے۔ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط صحافتی زندگی میں انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ، اعداد و شمار اور روایات کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی متعدد کتابیں کرکٹ کے سنجیدہ طالب علموں اور محققین کے لیے مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان

شادی کر لیجو مگر سبزی گوشت نہ لائیو: دادا کی پوتے کو نصحیت مگر ہوا وہی
شادی کر لیجو مگر سبزی گوشت نہ لائیو دادا کی پوتے کو نصحیت مگر ہوا وہی “ایک بات بتائیں یہ آپ کے سارے بھائی اتنے چالاک اور ذھین ہیں ۔ آپ اتنے بے وقوف کیوں ہیں ” ۔ یہ وہ جملہ بلکہ حملہ ہے جو بیوی کبھی نہ کبھی براہ راست شوہر کے دل و دماغ پر کرتی ہے ۔ ایک نکتے کے فرق سے بات کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے اور مجھے اسٹوڈنٹ لائف میں بسوں میں لکھا یہ شعر یاد آنے لگتا ہے ۔ ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے انسانی ذھانت کی چار اقسام اور گھریلو ذھانت میں انسانی ذھانت کو چار خانوں میں تقسیم

پاکستان کا پہلا مارشل لا، ایوب خان اور اسکندر مرزا
اکتوبر27، 1958: پاکستان کی تاریخ کا وہ دن جس نے اقتدار، آئین اور جمہوریت کا رخ بدل دیا پاکستان کی تاریخ میں بعض تاریخیں ایسی ہیں جنہیں محض کیلنڈر کے ایک دن کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان تاریخوں کے ساتھ ایسے فیصلے وابستہ ہوتے ہیں جن کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ 27 اکتوبر 1958 بھی ایک ایسا ہی دن ہے۔ اس روز جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کرکے پاکستان کی حکومت مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یہ محض ایک حکمران کی جگہ دوسرے حکمران کے آنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سیاسی عمل کی تکمیل تھی جس کا آغاز بیس

تزکیہ قلب کیسے ہو؟
قلب کا آئینہ، تزکیۂ نفس اور نفسِ مطمئنہ کا سفر انسان کا قلب ایک آئینے کی مانند ہے جو اگر صاف شفاف ہو تو اس میں تجلیات کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔ چار امور ایسے ہیں جنہیں زندگی میں قوتِ ایمانی سے شامل کیا جائے تو یہ عکس حاصل ہونا ممکن ہے۔ قلب کے آئینے کو روشن کرنے والے چار امور ۱۔ گناہوں سے مکمل اجتناب گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو خالص نیت اور ثابت قدمی کے ساتھ مکمل طور پر ترک کرنے کی ایسی کوشش کی جائے جیسے جہاد اور ہجرت کے لیے کی جاتی ہے، بالخصوص وہ گناہ جو جنسی شہوات یا منفی اخلاق، جذبات و خیالات سے متعلق ہوں۔ ۲۔ کثرتِ استغفار اور توبہ

خوجی ایک حقیقت تھا:طالب علم کی مدد کا دلچسپ اور سبق آموز قصہ
خوجی ایک حقیقت تھا: ایک طالب علم کی مدد کا دلچسپ اور سبق آموز قصہ خوجی ایک حقیقت تھا — یہ جملہ بظاہر ایک ادبی کردار کے بارے میں محسوس ہوتا ہے، لیکن اس دلچسپ قصے میں یہی خیال ایک حقیقی انسان کے کردار سے جڑ جاتا ہے۔ شاہ محی الحق فاروقی صاحب کی کتاب ”سرگزشت“ میں شامل یہ واقعہ مختصر ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی، دوستی، تعلیم اور بے غرض مدد کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ مکمل قصہ سننے کے لیے نیچے وڈیو پر کلک کریں خوجی اور اردو ادب اردو ادب سے واقف افراد کے لیے خوجی کوئی نیا نام نہیں۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار کی مشہور تصنیف ”فسانۂ آزاد“ میں خوجی ایک نمایاں اور

اردو ڈیجیٹل کتابیں: مستقبل، ایمیزون پبلشنگ اور ادیب آن لائن کا سفر
اردو ڈیجیٹل کتابیں: جدید دور میں اردو ادب، ایمیزون پبلشنگ اور ادیب آن لائن کا مستقبل مکمل انٹرویو دیکھنے کے لیے نیچے وڈیو پر کلک کریں قسط اول: ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ کی کتابیں اور اردو پبلشنگ کے مسائل ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ کا ادبی سفر اور تصنیفی تجربات اردو ڈیجیٹل کتابیں اردو ادب کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بن رہی ہیں، لیکن اس سفر کو سمجھنے کے لیے ان مصنفین کی جدوجہد جاننا بھی ضروری ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو ادب میں نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ بنیادی طور پر سائنس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کیمسٹری اور فزکس کی تعلیم و

گوانتانامو کی کہانی، ملا ضعیف کی زبانی
گوانتانامو کی کہانی، ملا ضعیف کی زبانی — ایک افغان سفارت کار کی قید اور عالمی سیاست کا تنقیدی جائزہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ملک کا سابق سفیر اچانک گرفتار ہو جائے، اسے دوسرے ملک کے حوالے کر دیا جائے اور پھر وہ دنیا کی سب سے متنازع فوجی جیلوں میں سے ایک میں پہنچ جائے؟ اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق اور انصاف کے اصول برقرار رکھے گئے؟ افغانستان کے سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب ”گوانتانامو کی کہانی، ملا ضعیف کی زبانی“ انہی سوالات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ایک

پاکستان میں تاریخ کا قتل — ڈاکٹر کے کے عزیز
پاکستان میں تاریخ کا قتل — ڈاکٹر کے کے عزیز کی کتاب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک قوم اپنے بچوں کو برسوں تک ایسی تاریخ پڑھاتی رہے جس میں بعض واقعات غلط بیان کیے گئے ہوں، بعض کرداروں کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہو اور بعض اہم حقائق سرے سے غائب ہوں؟ اور اگر کوئی مؤرخ ان کتابوں کا جائزہ لے کر یہ سوال اٹھائے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تاریخ پڑھا رہے ہیں یا ایک مخصوص تصورِ تاریخ یاد کروا رہے ہیں، تو کیا ہوگا؟ The Murder of History in Pakistanپاکستان کے معروف مؤرخ ڈاکٹر کے کے عزیز نے اپنی کتاب میں یہی سوال اٹھایا ہے۔ اس کتاب کا
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
