ڈاکٹر معین الدین عقیل:ایک تعارف

ڈاکٹر معین الدین عقیل: علمی و تحقیقی تعارف

ڈاکٹر معین الدین عقیل کون ہیں اور زندگی میں کیاکیا کچھ کیا ہے؟ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ،تہذیب اور ادب کے ممتازمحقق ومصنف اور معلم ، جنھیں ان اوصاف کے سبب ملکی و عالمی سطح پرغیرمعمولی مناصب اور اعزازات حاصل ہوئے۔

خاندانی پس منظر اور تحریکِ آزادی سے وابستگی

جداعلیٰ: مملکتِ حیدر آباد دکن میں سید احمد شہیدکی تحریک جہاد کے رہنماسید علا ءالدین، مجاہد آزادی ۱۸۵۷ءسید علاءلدین، سید احمد شہید کی تحریکِ مجاہدین میں شریک ہوکرگرفتار ہوئے اورانگریزوں کی قید میں بمقام جزیرۂ کالا پانی قید میں رہ کر ۱۸۸۴ ء میں شہادت پائی؛ خاندان ازبزرگان ٹپلگی، قصبہ جنواڑا، ضلع بیدر؛ مملکتِ حیدرآباد دکن؛ والد سید ضمیر الدین (۱۹۱۲ء-۱۹۷۹ء)، مملکت آصفیہ حیدرٓباد کی سرکاری ملازمت میں تھے، اورزیادہ تر قیام اودگیرمیں رہا۔

تعلیمی اسناد اور تدریسی و انتظامی مناصب

پیدائش: ۲۵ جون ۱۹۴۶ء؛ اعلیٰ ترین تعلیمی اسناد: کراچی یونیورسٹی سے ڈی لٹ اور پی ایچ ڈی کے علاوہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پرامتیازی علمی تحصیلات و اعترافات، جن کے ذیل میں بین الاقوامی اور ملکی اعلیٰ تعلیمی و علمی اداروں میں ممتاز مناصب پر تعیناتی، جیسے بطور ڈین، فیکلٹی اوف لینگویجز اینڈ لٹریچر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد)؛ پروفیسر و صدر شعبۂ اردو،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد)؛ اور کراچی یونیورسٹی میں تدریسی، تحقیقی اور انتظامی مناصب، جیسے پروفیسر و صدر شعبہ اردو؛ ناظم شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ؛ ناظم میقاتِ شام؛ ناظم شعبۂ رہنمائے، مشاورت و تعیناتیِ طلبہ۔

بین الاقوامی سطح پر علمی و تحقیقی خدمات

بین الاقوامی سطح پر، بطور مہمان پروفیسراور ریسرچ فیلو: ‘ٹوکیو یونیورسٹی اوف فورن اسٹڈیز’ (جاپان)؛ ‘دائیتو بنکا یونیورسٹی’، سائتاما (جاپان)؛ ‘اوساکا یونیورسٹی’ (جاپان)؛ ‘کیوتو یونیورسٹی’ (جاپان)؛ اور ‘ورینٹل یونیورسٹی’، نیپلز (اٹلی)۔ ایک صاحب ِ نظر دانش ور اوراسکالر، جنھوں نے دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کیا اورجنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی، تاریخی و تہذیبی مطالعات کے لیے مخصوص عالمی شہرت و معیار کی جامعات، علمی و تعلیمی اداروںاور کتب خانوں میں استفادہ کیا اورتوسیعی و مہمان خطبات دیے، اور وہاں کے ممتاز اسکالرز کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شراکت اور پیش کش۔

تصنیف و تالیف اور علمی مقالات

تصنیف و تالیف کی مد میں اردو اور انگریزی زبانوں میں فی الوقت ۹۵سے زائدکتابیں تصنیف و شائع کیں اور۷۰۰سے زائد تحقیقی مقالات، مضامین و ابواب اور مقدمات تحریر کیے جو عالمی معیار کے تحقیقی مجلوں اور قاموسوں اور کتابوں او ررسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ متعددجامعات اور علمی وتحقیقی اداروں سے بحیثیت رکن، مشیر یا شریک ِ کار کے طور پرمنسلک بھی رہے اوران حوالوں سے علمی و تعلیمی دنیا میں ایک عزت و وقارکے حامل رہے ۔

قومی و بین الاقوامی اعزازات و ستائش

‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ‘اسلام آباد نے جون ۱۹۸۳ء میں اور ‘انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی’، اسلام آباد نے مئی ۲۰۲۳ء میں ‘ بہترین استاد’ کے اعزازات سے نوازا۔ قومی سطح پرمتعددسرکاری ستائشوں اور اعترافات بمثل ، صدر ِپاکستان کی جانب سے: ‘ستارۂ امتیاز’ (۲۰۲۲ء) اور شہنشاہ ِ جاپان کی جانب سے جاپان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز: Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon ،جو اپریل ۲۰۱۳ء میں عطاہوا۔ ان کے علاوہ: “عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ” منجانب: ‘مجلس فروغ ادب’ دوحہ (قطر)، ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۱ء۔

ارمغانِ علمی اور خدمات کا اعتراف

بیرونِی ممالک سے ان وقیع و منفرد اعزازات کے علاوہ قومی سطح پر عالمی معیار کا ایک وقیع ذولسانی ارمغانِ علمی: “History, Literature and Scholarly Perspectives: South and West Asian Context, A Festschrift Presented in Honour of Moinuddin Aqeel” یا “جنوب مغربی ایشیا کا علمی تناظر: تاریخ، تہذیب اور ادب-ارمغان ِ مقالات بہ پیش ِ خدمت معین الدین عقیل” اطراف ِ عالم کے ممتاز اسکالرز نے پیش کیا، جسے ڈاکٹر جاوید احمد خورشید اور ڈاکٹر خالد امین نے مرتب اور ‘ادارہ ٔ معارف ِ اسلامی کراچی نے ۲۰۱۶ء میں شائع کیا۔ متعدد اسکالرز نے آپ کی شخصیت و علمی و تعلیمی خدمات پر مقالات اور کتابیں تصنیف و شائع کیں اورملک و بیرون ملک کی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے متعدد مقالات تصنیف کیے اور یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔

تحقیقی شغف اور تعلیمی اثرات

علمی وتحقیقاتی دل چسپیوں اور ذوق و شوق کا سبب ہے کہ تاحال ذاتی مطبوعہ تصانیف کی تعدادکم از کم ۹۵ ہے جب کہ مزید متعدد تصانیف زیر طبع ہیں۔ پھران ہی دل چسپیوں کے ذیل میں مضامین و مقالات بھی بکثرت لکھے ہیں جن کی مطبوعہ تعداد ۷۰۰ سے زیادہ ہے اور ان میں ملکی و عالمی سطح پرمختلف جامعات اور تحقیقی اداروں میں پیش کردہ تحقیقی خطبات بھی شامل ہیں ۔ ان سب کے علاوہ مختلف ملکی و عالمی جامعات نے اپنے ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے متعددتحقیقی مقالات میں ڈاکٹر عقیل کی حیات و خدمات ِعلمی وتدریسی کو موضوع ِ مطالعہ و تحقیق بنایا ،اور یہ سلسلہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے تحقیقی مطالعات کےلیے ملک اور بیرونی ممالک کی متعدد جامعات میں جاری ہوا اور ہنوزجاری ہے۔

کتب خانہ اور “عقیل کلیکشن

ایک کتاب شناس اور کتاب دوست کی حیثیت میں اپنے موضوعات ِ دل چسپی اور ذاتی ذخیرہ ٔ کتب یا ذاتی لائبریری کے سبب، جوجنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ و تہذیب اور ادب کے موضوعات پر ۵۰ ہزار سے زائدنادر و کمیاب کتابوں، مخطوطات اور دستاویزات پر مشتمل ہے، ایک عالمی شہرت کے حامل ہیں، اس ذخیرے میں سے دس ہزار کتابوں کا ایک وقیع گوشہ ڈاکٹر عقیل نے ‘ادارۂ تحقیقات ِ اسلامی’، کراچی کو بطور ہدیہ اس کےکتب خانے کی نذر کیا، اور ایک زیادہ بڑا ذخیرہ، جس میں سے ۲۸ ہزار کتابیں ہیں،اب ‘کیوتو یونیورسٹی جاپان کے کتب خانے میں بطور “عقیل کلیکشن” محفوظ ہیں ، اور درج ذیل برقی پتے پر قابلِ ملاحظہ و استفادہ ہیں: http://www.asafas.kyoto-u.ac.jp/kias/aqeel_db/en/index.html and http://www.asafas.kyoto-u.ac.jp/kias/aqeel_db/pdf/classification.pdf

“آپ جلد ہی انکا بلاگ پڑھیں گے “​اردو زبان و لسانیات کی اہمیت اور مطالعہ”

Author