آدمی غنیمت ہے- سیّد انیس شاہ جیلانی کے خاکوں کا مجموعہ

اردو ادب کے رنگ: لائبریری کا جنون اور مشاعروں کے دلچسپ قصے

اردو ادب کی دنیا صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپے کرداروں کی زندگیاں بذاتِ خود ایک جیتا جاگتا افسانہ ہیں۔ آج کے بلاگ میں ہم چند ایسی شخصیات اور واقعات کا ذکر کریں گے جو تاریخ کے صفحات میں اپنی انفرادیت کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

مبارک شاہ جیلانی: ایک جنونی خواب اور مبارک اردو لائبریری

تعمیرِ انسانیت میں کتابوں کے کردار سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس کے لیے جو قربانیاں دی جاتی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔ 1925ء میں جب مبارک شاہ جیلانی صاحب نے بہاولپور کے ایک دور افتادہ گاؤں ‘محمد پور’ میں ایک لائبریری کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا، تو معاشرے کا رویہ حوصلہ شکن تھا۔

اس وقت کے لوگوں نے انہیں “سنکی” سمجھا اور ان کے اس انوکھے خواب کا مذاق اڑایا۔ مگر مبارک صاحب کی لگن رنگ لائی۔ وہ اپنے انتقال سے قبل چار سے چھ ہزار تک نایاب کتابیں جمع کر چکے تھے۔ آج وہ گاؤں اسی لائبریری کی بدولت علم کی روشنی سے منور ہے اور لوگ اب تک اس سے فیض اٹھا رہے ہیں۔

رئیس احمد جعفری: محبت کے لیے حلیہ کی تبدیلی

رئیس احمد جعفری اردو کے صاحبِ طرز ادیب اور صحافی تھے۔ ان کی زندگی کا ایک واقعہ ان کی ظاہری وضع قطع اور ذاتی زندگی کے تضاد کو دلچسپ انداز میں بیان کرتا ہے۔

وہ ندوہ اور جامعہ ملیہ سے فارغ التحصیل تھے، اس لیے جب وہ بمبئی پہنچے تو ان کا حلیہ روایتی مولویانہ تھا، جس میں لمبی داڑھی اور مخصوص لباس شامل تھا۔ مگر جب زندگی میں پسند کی شادی کا مرحلہ آیا، تو انہوں نے اپنی محبت کی خاطر اپنی داڑھی اور مونچھیں صاف کروا دیں، جو ان کی شخصیت کا ایک غیر متوقع موڑ تھا۔

اردو ادب کے مختصر ترین خاکے: دریا کو کوزے میں بند کرنا

خاکہ نگاری اردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی شخصیت کی پوری زندگی کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض ادیبوں نے اختصار کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ وہ فن کا شاہکار بن گئیں۔

اردو ادب میں ایسے خاکے بھی موجود ہیں جو طوالت کے بجائے جامعیت پر مبنی ہیں۔ اختر جونا گڑھی صاحب کا خاکہ محض دو سطروں پر مشتمل ہے، جبکہ چراغ حسن حسرت صاحب نے کمال کرتے ہوئے صرف ایک سطر میں خاکہ لکھ کر خاکہ نگاری کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

ماہر القادری اور مشاعرے کا عجیب و غریب اعلان

مشاعرے ہمیشہ سے تہذیب اور شائستگی کا مرکز رہے ہیں، لیکن کبھی کبھی وہاں ایسے اعلانات بھی ہو جاتے ہیں جو سننے والوں کو حیران و پریشان کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ مولانا ماہر القادری کے ساتھ پیش آیا۔

ایک مشاعرے کے دوران مولانا ماہر القادری اس وقت دم بخود رہ گئے جب اسٹیج سے اچانک یہ اعلان ہوا: “حضرات! مشاعرے کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کی جاتی ہے کیونکہ صاحبِ صدر استنجا کرنے تشریف لے جا رہے ہیں۔” اس غیر رسمی اور عجیب اعلان نے شرکاء کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔

مولانا حسین احمد مدنی اور ‘ننگِ اسلاف’ کا لقب

برصغیر کی عظیم علمی شخصیت مولانا حسین احمد مدنی اپنی کسرِ نفسی اور عاجزی کے لیے مشہور تھے۔ وہ اپنے نام کے ساتھ اکثر ایسے القابات لکھتے تھے جو ان کی فروتنی کو ظاہر کرتے تھے۔

مولانا اکثر اپنے دستخط سے پہلے “ننگِ اسلاف” (یعنی اسلاف کے نام پر دھبہ، جو وہ کسرِ نفسی میں لکھتے تھے) لکھا کرتے تھے۔ ایک بار اسٹیج سے اعلان کرنے والے نے اس کا پس منظر سمجھے بغیر مائیک پر باقاعدہ یہ اعلان کر دیا: “حضرات! اب ‘ننگِ اسلاف’ مولانا حسین احمد مدنی صاحب خطاب فرمائیں گے۔” یہ واقعہ علم اور سادگی کے درمیان ایک عجیب تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

کتابوں سے دوستی: ایک لازوال فیض

ان تمام واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ چاہے وہ مبارک شاہ جیلانی کی لائبریری ہو یا اکابرین کی علمی مجالس، کتاب اور علم کا رشتہ ہمیشہ انسانی زندگی میں رنگ بھرتا رہا ہے۔ یہ قصے ہمیں بتاتے ہیں کہ علم کی راہ میں آنے والی مشکلات اور دلچسپ موڑ ہی دراصل تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

Author

  • Shaheer Ul Haque

    شہیرالحق بی ایس ایم ٹی کے طالب علم ہیں اور کلینیکل لیبارٹری سائنس میں تخصیص کا ارادہ رکھتے ہیں، مطالعے کا بہت شوق ہے، جاسوسی ناول اور اسلامی تاریخ پر کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا شوق اور مشغلہ کمپیوٹر گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور  اے آئی ٹولز  ہیں۔ ان شعبوں میں آپ ذکر کتاب کے ٹیم میں اعزازی خدمات انجام دیتے ہیں۔