کارپِٹ صاحب-مارٹن بوتھ

کوربٹ صاحب: ایک عظیم شکاری اور ہمدرد انسان کی داستانِ حیات

دنیا انہیں ایک نڈر شکاری کے طور پر جانتی ہے، لیکن مارٹن بوتھ کی کتاب “کاربٹ صاحب” (جس کا خوبصورت اردو ترجمہ مسز رابعہ سلیم نے کیا ہے) ہمیں اس عظیم انسان کے ان پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے جو اب تک پردہِ اخفا میں تھے۔ یہ کتاب محض شکار کی مہم جوئی نہیں بلکہ ایک ایسے گورے کی کہانی ہے جس کا دل ہندوستانیوں کے ساتھ دھڑکتا تھا۔

سو سال قدیم نینی تال کی جھلک

یہ کتاب قاری کو ایک صدی پیچھے لے جاتی ہے، جب برٹش راج اپنے عروج پر تھا۔ مصنف نے اس دور کے نینی تال کی ایسی منظر کشی کی ہے کہ پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا اور گھنے جنگلات کا سحر آپ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس زمانے کا طرزِ معاشرت اور قدرتی حسن اس کتاب کے صفحات میں زندہ ہو اٹھا ہے۔

پیدائشی انگریز مگر روح سے ہندوستانی

جم کوربٹ پیدائشی طور پر انگریز تھے، لیکن ان کی جڑیں ہندوستان کی مٹی میں پیوست تھیں۔ وہ یہاں کی زبان، ثقافت اور لوگوں سے اس قدر مانوس تھے کہ مقامی لوگ انہیں اپنا مسیحا مانتے تھے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت کا کوئی مذہب یا نسل نہیں ہوتی؛ وہ کسی بھی عام ہندوستانی سے بڑھ کر اس دھرتی کے وفادار تھے۔

مقامی لوگوں کے ساتھ لازوال رشتہ

جم کوربٹ اور مقامی آبادی کے درمیان محبت کا رشتہ دو طرفہ تھا۔ جہاں لوگ مصیبت کے وقت “کاربٹ صاحب” کو پکارتے تھے، وہیں جم بھی ان سادہ لوح دیہاتیوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے۔ وہ ان کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے، اسی لیے ان کے جانے کے برسوں بعد بھی نینی تال کے لوگ ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔

ابتدائی ناکامیاں اور مسلسل جدوجہد

اکثر لوگ جم کوربٹ کو ایک کامیاب شکاری کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن یہ کتاب ان کی ابتدائی ناکامیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ جنگل کے اسرار و رموز سیکھنے کے دوران انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کس طرح بار بار کی ناکامیوں نے انہیں ایک ماہر نشانہ باز اور ٹریکر (نشان شناس) بنایا، یہ حصہ نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

آدم خور شیروں کا شکار: موت سے آنکھ مچولی

کتاب کا سب سے سنسنی خیز حصہ وہ ہے جہاں جم کوربٹ ان آدم خور شیروں اور تیندوں کا تعاقب کرتے ہیں جنہوں نے بستیوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا۔ ان کے شکار کی کہانیاں صرف گولی چلانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ صبر، ہمت اور جنگل کی نفسیات کو سمجھنے کا ایک انوکھا تجربہ ہیں۔

ایک بے مثال الوداع: سخاوت کی انتہا

ہندوستان کی آزادی کے بعد جب جم کوربٹ نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے انگلستان کے بجائے کینیا کو اپنا نیا مسکن چنا۔ لیکن رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں کم ہی ملتی ہے؛ انہوں نے اپنی تمام تر زمین اپنے ان مزارعین کے نام کر دی جنہوں نے برسوں ان کے ساتھ کام کیا تھا۔ یہ ان کا اس دھرتی اور یہاں کے لوگوں کے لیے آخری نذرانہ تھا۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

Author

  • Shaheer Ul Haque

    شہیرالحق بی ایس ایم ٹی کے طالب علم ہیں اور کلینیکل لیبارٹری سائنس میں تخصیص کا ارادہ رکھتے ہیں، مطالعے کا بہت شوق ہے، جاسوسی ناول اور اسلامی تاریخ پر کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا شوق اور مشغلہ کمپیوٹر گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور  اے آئی ٹولز  ہیں۔ ان شعبوں میں آپ ذکر کتاب کے ٹیم میں اعزازی خدمات انجام دیتے ہیں۔