-
View all postsڈاکٹر معین الدین عقیل اردو زبان کے ممتاز نقاد، نامور محقق اور جید استاد کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان و ادب کی تدریس اور فروغ کے لیے وقف کیا، اور اٹلی، جاپان اور پاکستان کی مختلف جامعات میں علمی خدمات انجام دیں۔ ان کی معروف تصنیف جنگِ آزادی میں اردو کا حصہ علمی حلقوں میں خاص شہرت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب اردو، انگریزی، فارسی اور جاپانی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، جبکہ انہوں نے نوّے سے زائد کتب تصنیف و تالیف کرکے علمی دنیا کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔ پاکستان اور جاپان کی متعدد جامعات میں تدریسی فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری کی ستائیس ہزار سے زائد کتابیں سن 2012ء میں کیوتو یونیورسٹی کو ہدیہ کرکے علم دوستی کی روشن مثال قائم کی۔
-
View all postsڈاکٹر عقیل عباس جعفری اردو کے ممتاز محقق، مصنف، شاعر، مدون اور اسکرپٹ نگار ہیں۔ تحقیق، تاریخ، معلوماتِ عامہ، سیاست، ادب، فلم، موسیقی اور قومی موضوعات پر ان کی متعدد وقیع کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں پاکستان کرونیکل اور پاکستان کرونیکل ضمیمہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کئی نادر ادبی و تاریخی تصانیف کی تدوین بھی کی ہے اور ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن، اے آر وائی اور جیو ٹی وی کے لیے متعدد مقبول علمی و ادبی پروگراموں کے اسکرپٹس اور سوالنامے مرتب کیے ہیں۔ وہ اپنی نسل کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی شاعری و نثر معتبر ادبی جرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی ہے۔ انہیں ریڈیو پاکستان کی جانب سے بہترین نعت گو اور بہترین قومی نغمہ نگار اورپاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز کے اعزازات بھی حاصل ہو چکے ہیں۔
-
View all postsشاہ ولی اللہ جنیدی صاحب 8 جنوری 1966 کو کراچی کے ایک نامور علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے اور جامعہ کراچی سے گریجویشن کیا۔ آپ گزشتہ 35 برسوں سے فعال صحافت سے وابستہ ہیں اور شہری مسائل کے ساتھ ساتھ تاریخ کی گہرائیوں میں اتر کر تحقیق کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ آپ کراچی کی تاریخ، قدیم شاہراہوں، ثقافت اور شخصیات پر ایک معتبر اور مستند بین الاقوامی محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کی مشہور تحقیقی کتب میں "نارتھ کراچی نصف صدی کا قصہ (2017)"، "یہ شاہراہ عام نہیں" (جس کا انگریزی ترجمہ 2021 میں شائع ہوا)، "شکستہ تہذیب، ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد (2023)" اور "کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز (2025)" شامل ہیں۔ ان گراں قدر اور بے مثال تاریخی و ثقافتی تخلیقات کی بدولت آپ کو عالمی سطح پر ایک ممتاز اور معتبر شناخت حاصل ہے
Recent Posts
-
View all postsبرگیڈئیر صولت رضا (ریٹائرڈ) نے ابتدائی تعلیم ڈی پی نیشنل ہائی اسکول ٹیونیشیا لائنز کراچی سے حاصل کی ۔ میٹرک ماڈل ہائی اسکول ماڈل ٹاؤن لاہور سے کیا ۔ انٹرمیڈیٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے معاشیات اور سیاسیات میں گریجویشن کی۔ ایم اے صحافت پنجاب یونیورسٹی سے کیا ۔ دسمبر 1971 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کمیشنڈ آفیسر کی تربیت کے لئے منتخب ہوئے ۔ تربیت کی تکمیل کے بعد رجمنٹ آف آرٹلری کی ایک یونٹ میں تعینات کئے گئے ۔ دو برس بعد ایم اے صحافت کی ڈگری کے باعث ان کی خدمات آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے حوالے کردی گئیں
برگیڈئیر صولت رضا نے پی ایم اے کاکول میں زیر تربیت کیڈٹ کے شب و روز کے بارے میں "کاکولیات" تحریر کی ۔ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے پہلی کتاب ہے ۔ مصنف پہلے ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر کیپٹن تھے ۔ اب تک 35 کے لگ بھگ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ کاکولیات سدا بہار کتاب ہے جو عسکری مزاح کی علامت کے طور پر مقبول ہے برگیڈئیر صولت رضا کی دیگر کتب "غیر فوجی کالم" اور "پیچ و تاب زندگی"ہیں
-
View all postsسید معراج جامیؔ اردو ادب کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد، مزاح نگار، مدیر اور اشاریہ ساز ہیں۔ غزل، ہائیکو، سین ریو، نعت، سفرنامہ، خاکہ، افسانچہ اور تحقیقی و تنقیدی نثر میں ان کی خدمات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ دو درجن سے زائد تصانیف و مرتبہ کتب، متعدد ادبی رسائل کی ادارت اور اردو ادب کے لیے گراں قدر تحقیقی کام ان کی پہچان ہیں۔ ان کی ادبی خدمات پر متعدد جامعات سے ایم فل کے تحقیقی مقالے بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی نصف صدی پر محیط علمی و ادبی جدوجہد انہیں عہدِ حاضر کی اہم ادبی شخصیات میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔
-
View all postsممتاز اور کہنہ مشق صحافی خالد عظیم چوہدری 9 جولائی 1956ء کو کھاریاں میں پیدا ہوئے، جنہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے جرنلزم اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہیں عملی صحافت کا تین دہائیوں سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جس کے دوران انہوں نے قومی و بین الاقوامی اداروں میں ابلاغ، کارپوریٹ کمیونیکیشن اور تنظیمی قیادت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ سما ٹی وی اسلام آباد کے بیورو چیف کے عہدے پر بھی فائز رہے اور درست اردو تلفظ کی ادائیگی کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت کا ایک اہم اور قابلِ فخر حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ خالد عظیم صاحب کے پاس صحافت کی دنیا کی کئی ان کہی کہانیاں محفوظ ہیں، کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ہنگامہ خیز دور میں چیف جسٹس کی معزولی سے لے کر بحالی تک کی پوری تحریک کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس کے علاوہ، انہیں کارگل کی جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر جا کر لائیو کوریج کرنے کا منفرد موقع ملا، جہاں انہوں نے ایک یادگار رات فوجی مورچے میں بھی گزاری۔ اپنی جدید انتظامی سوچ، پیشہ ورانہ دیانت اور متوازن طرزِ صحافت کے باعث وہ آج بھی صحافتی حلقوں میں ایک انتہائی باوقار اور قابلِ احترام نام سمجھے جاتے ہیں۔
-
View all postsشیخ عاطف علی
مورخ، محقق اور مٹی کے نبض شناس
ٹنڈو آدم (ضلع سانگھڑ) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیخ عاطف علی تاریخِ سندھ کے ایک معتبر محقق ہیں۔ آپ نے سندھ کے قدیم دارالحکومت 'المنصورہ' اور وہاں کے تاریخی سکوں پر گراں قدر تحقیق کی ہے، جس پر آپ کے 5 سے زائد مستند مقالات شائع ہو چکے ہیں۔
سرزمینِ سندھ کی عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے کے لیے آپ آج کل ٹنڈو آدم کی تاریخ کو یکجا کرنے کے مشن پر ہیں، اور اس موضوع پر آپ کی 50 سے زائد تحقیقی اقساط سوشل میڈیا پر قارئین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ آپ کا قلم وقت کی دھول میں کھو جانے والے تاریخی خزانوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کا ہنر جانتا ہے۔
-
View all postsتعارف:
سہیل یعقوب سماجی اور علمی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔ آپ نے بہت عرصے تک شہر کی معروف جامعات میں بطور وزٹنگ فیکلٹی خدمات سرانجام دی ہے۔ درس و تدریس اور تربیت کے ساتھ آپ کا تعلق بہت پرانا ہے۔ آپ نے 36 سال کثیر القومی اور قومی اداروں میں اعلی عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہے اور آج کل تربیتی ورکشاپ کے علاوہ قومی اور سماجی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ آپ شہر کی مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہے اور ان کی تقریبات میں باقائدگی سے شرکت کرتے ہیں
-
View all postsڈاکٹر انیلا سعید خان کا تعلق شعبۂ تعلیم سے ہے۔ آپ اردو ادب میں ڈاکٹر آف فلاسفی ہیں۔ آپ نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے ’’اردو ناول پر مغربی تہذیب و تمدن کے اثرات‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کی سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں۔
مطالعہ، تحقیق اور تصنیف و تالیف آپ کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔
-
View all postsعلی منیر فاروقی ایک قانون دان، کاروباری حکمتِ عملی کے ماہر اور ڈیٹا اینالیٹکس کے شوقین پیشہ ور ہیں۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی جبکہ عملی زندگی میں اشتہارات، برانڈ مینجمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بزنس کنسلٹنگ کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ جدید ڈیٹا پر مبنی فیصلوں، مارکیٹنگ اسٹریٹجی اور کاروباری ترقی کے موضوعات پر بھی لکھتے اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے گوگل ڈیٹا اینالیٹکس سمیت متعدد بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز بھی حاصل کی ہیں۔ ان کی دلچسپی قانون، ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور مؤثر کاروباری حکمتِ عملی کو یکجا کر کے اداروں کی ترقی میں کردار ادا کرنے پر مرکوز ہے۔
-
View all postsسید طارق حسنی ایک تجربہ کار پٹرولیم جیولوجسٹ ہیں جنہوں نے 36 سال سے زائد عرصہ پاکستان اور دیگر ممالک میں عالمی تیل اور گیس کی تلاش (exploration) میں گزارے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی کمپنیوں جیسے پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (POL) اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، وہ معروف بین الاقوامی اداروں بیکر ہیوز، شلمبرگر، پیٹروناس اور جیو سروسز سے بھی منسلک رہے۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر ملائیشیا، اٹلی، قازقستان اور سعودی عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ اب وہ ریٹائرڈ کنسلٹنٹ جیولوجسٹ ہیں، جن کی دلچسپی پٹرولیم کی تلاش میں اب بھی قائم ہے، جبکہ ان کی حالیہ تحریریں سیاحت، تاریخ اور جیو اسٹریٹجک موضوعات پر مرکوز ہیں۔
-
View all postsمسز تنویر روف ایک باصلاحیت، باوقار اور تجربہ کار شخصیت ہیں جنہوں نے پینسٹھ سالہ زندگی کو حوصلے، دانشمندی اور استقامت کے ساتھ گزارا ہے۔ وہ ماضی کی تلخیوں پر نہ رکنے بلکہ آگے بڑھنے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے پر یقین رکھتی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے وابستہ، انہوں نے پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی ہے۔ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور لوگوں سے ملنے کا شوق رکھنے والی مسز تنویر روف سفر کو علم اور دلوں کے قریب آنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
وہ پُراعتماد، خوش مزاج اور ہر ماحول میں خود کو ڈھال لینے والی خاتون ہیں۔ پاکستان کی علاقائی زبانوں پر عبور اور دنیا بھر میں پھیلے دوست ان کے انسانی تعلقات کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ایک اچھی معلمہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اچھی مصنفہ اور مترجم بھی ہیں آپ کے سوانح عمری کے دو حصہ "زندگی خوبصورت ہے" اور "بڑھاپا بھی خوبصورت ہے" شائقینِ کتب میں مقبول ہوا اور اس کے علاوہ بھی آپ کی تصانیف اور تراجم بھی شائع ہوچکی ییں
