
کتابوں کا عشق اور علم کا عشق، انسان کو ایک نئی زندگی دیتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی کتابوں کے مزار دیکھے ہیں؟ وہ علم جو صدیوں کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچا، آج وہ بے قدری کی خاک میں مل رہا ہے۔
آج میں نے کتابوں پر تبصرے کے لیئے جو کتاب۔ منتخب کی ہے وہ رضا علی عابدی صاحب کی شہرہ آفاق کتاب “کتب خانہ” ہے
رضا علی عابدی کی کتاب “کتب خانہ” ہمارے علمی ورثے کی بکھری ہوئی داستان ہے۔
یعابدی صاحب ہمیں۔ عابدی صاحب، جن کی آواز بی بی سی اردو کے ذریعے برسوں ہمارے گھروں میں گونجتی رہی، انہوں نے اس کتاب میں پاکستان اور ہندوستان کے نایاب کتب خانوں کی وہ تصویر کشی کی ہے جو دل کو تڑپا دیتی ہے ہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ان مخطوطات اور نادر نسخوں کا نوحہ ہے جو دیمک، بارش اور ہماری لاپروائی کی نذر ہو گئے۔ ۔
کراچی کی گلیوں سے لے کر حیدرآباد دکن کے شاہی محلوں اور سندھ کے دور دراز مدرسوں تک لے جاتے ہیں۔ ان کا اندازِ بیاں اتنا سادہ اور دلنشین ہے کہ قاری خود کو ان ویران لائبریریوں کے درمیان کھڑا محسوس کرتا ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ یہ ان کتابوں کے مزار ہیں جو خاک کی صحبت میں رہتے رہتے خود بھی خاک ہو گئیں۔
علم کے وہ سفینے جو بے خبری کے ساحل سے چلے اور ناقدری کی نذر ہو گئے۔
وہ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ جس علم نے ہمیں تہذیب سکھائی، ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اگر آپ کو اپنی تاریخ، اردو ادب اور اپنی علمی میراث سے تھوڑی سی بھی محبت ہے، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک پکار ہے۔ یہ ہمیں جگانے کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ ہم اپنے حال کے آئینے میں مستقبل کو بچا سکیں۔ عابدی صاحب بہت درد سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، اور اب کیا کریں گے؟ یہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ان مخطوطات اور نادر نسخوں کا یہ کتاب نہیں،۔ اسے ضرور پڑھیں نوحہ ہے جو دیمک، بارش اور ہماری لاپروائی کی نذر ہو گئے۔
کراچی کی گلیوں سے لے کر حیدرآباد دکن کے شاہی محلوں اور سندھ کے دور دراز مدرسوں تک لے جاتے ہیں۔ ان کا اندازِ بیاں اتنا سادہ اور دلنشین ہے کہ قاری خود کو ان ویران لائبریریوں کے درمیان کھڑا محسوس کرتا ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ یہ ان کتابوں کے مزار ہیں جو خاک کی صحبت میں رہتے رہتے خود بھی خاک ہو گئیں۔ وہ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ جس علم نے ہمیں تہذیب سکھائی، ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اگر آپ کو اپنی تاریخ، اردو ادب اور اپنی علمی میراث سے تھوڑی سی بھی محبت ہے، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک پکار ہے۔ یہ ہمیں جگانے کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ ہم اپنے حال کے آئینے میں مستقبل کو بچا سکیں۔ عابدی صاحب بہت درد سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، اور اب کیا کریں گے؟


