الطاف حسن قریشی: قلم کا وہ ستارہ جو اب ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آج جب 94 سال کی عمر میں الطاف حسن قریشی صاحب ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو دل میں ایک عظیم خلا پیدا ہو گیا ہے۔ وہ صرف ایک صحافی نہیں تھے — وہ ایک عہد تھے، ایک ادارہ تھے، اور پاکستانی قوم کی فکری تاریخ کے ایک زندہ گواہ تھے۔ جنہوں نے تقسیمِ ہند کے درد سے لے کر آج کے پاکستان تک کا سفر قلم سے رقم کیا، آج وہ قلم ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ہے۔
لاہور کی وہ گلیاں، اردو ڈائجسٹ کا وہ دفتر، اور وہ تحریریں جو دہائیوں تک قوم کو جگانے اور سوچنے پر مجبور کرتی رہیں، اب ان کی یادوں کا حصہ بن گئی ہیں۔ دل رو رہا ہے، مگر تسلی ہے کہ انہوں نے جو روشنی جلائی تھی، وہ آنے والی نسلوں تک جلتی رہے گی۔
صحافتِ پاکستان کا ایک درخشندہ ستارہ
پاکستانی صحافت کے آسمان پر کچھ ستارے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے دھندلکے میں بھی روشنی پھیلاتے رہتے ہیں۔ الطاف حسن قریشی انہی ستاروں میں سے ایک تھے۔ 3 مارچ 1932ء کو برٹش انڈیا کے ضلع حصار کے قریب سرسہ میں پیدا ہونے والے یہ بزرگ صحافی، سیاسی تجزیہ کار, مصنف اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر اعلیٰ نہ صرف صحافت کے ایک ادارہ تھے بلکہ ایک عہد کی آواز، قومی تاریخ کے عینی شاہد اور دائیں بازو کی فکری تحریک کے اہم معمار بھی تھے۔ چوہتر سال سے زائد کی صحافتی خدمات کے ساتھ وہ قلم کی طاقت سے قوم کو سوچنے پر مجبور کرتے رہے۔
خاندانی پس منظر اور ہجرت کا درد
الطاف حسن قریشی کا خاندان مذہبی اور روایتی اقدار سے جڑا ہوا تھا۔ 1947ء کی تقسیم ہند کے وقت ان کا خاندان سرسہ سے ہجرت کر کے پاکستان آیا۔ ریڈکلف ایوارڈ کے اعلان کے بعد سرسہ کا مسلمان محلہ ریفیوجی کیمپ بنا دیا گیا۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک کوئی اندر نہ جا سکتا تھا اور نہ باہر نکل سکتا تھا۔ خاندان تقریباً خالی ہاتھ لاہور پہنچا۔ یہ مشکل ترین وقت تھا، مگر اسی عزم نے انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دی۔
قریشی برادران: علم و صحافت کی ایک مثالی جوڑی
ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی (1928-2020) بھی ایک ممتاز شخصیت تھے۔ انہوں نے جرمنی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی، پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کی اور کاروانِ علم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ بھائیوں کی یہ جوڑی صحافت اور علم کی دنیا میں ایک مثالی مثال بنی۔
تعلیم اور ابتدائی سفر
سرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد الطاف صاحب لاہور آئے اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ سیاسیات کی یہ تعلیم ان کی بعد کی تجزیاتی صحافت کا بنیادی ستون بنی۔
صحافتی کیریئر: ایک طویل جدوجہد کا آغاز
1959-60 میں بھائی اعجاز حسن قریشی اور مالک ظفر اللہ خان کے ساتھ مل کر ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہور سے نکالا گیا۔ نومبر 1960ء سے الطاف حسن قریشی اس کے مدیر اعلیٰ تھے اور طویل عرصے تک اس ذمہ داری کو نبھاتے رہے۔ یہ رسالہ پاکستان کے سب سے مقبول اور معتبر ماہناموں میں شمار ہوتا ہے، جو معاشرتی، سیاسی، ادبی اور فکری موضوعات پر متوازن اور گہری تحریروں کے لیے جانا جاتا ہے۔
فکری تصادم اور قومی بحرانوں میں اصولی موقف
1960 اور 80 کی دہائی کمیونسٹ بمقابلہ اسلام پسندوں کے ideological تصادم کا دور تھی۔ قریشی برادران نے دائیں بازو اور اسلام پسند موقف اختیار کیا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے متاثر ہو کر انہوں نے روزنامہ جسارت اور ویکلی زندگی بھی شائع کیے۔ ان کی تحریروں کی وجہ سے متعدد بار جیل کا سفر بھی کرنا پڑا۔ مشرقی پاکستان کے بحران، 1965ء کی جنگ، مختلف مارشل لا ادوار اور قومی اہم موڑوں پر ان کے تجزیات نے قوم کی سوچ کو متاثر کیا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ رپورٹس لکھیں۔
نئی نسل کی آبیاری اور شاگردوں کی تربیت
انہوں نے کئی نامور صحافیوں کو تربیت دی، جن میں مولانا صلاح الدین، مجیب الرحمٰن شامی، ضیاء شاہد اور دیگر شامل ہیں۔
تصانیف: علم و تاریخ کا لازوال خزانہ
الطاف حسن قریشی نے صحافت کے ساتھ ساتھ کتابیں لکھ کر بھی اپنا نام امر کیا ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں شامل ہیں:
ملاقاتیں اور ملاقاتیں کیا کیا — مشہور شخصیات کے انٹرویوز کا مجموعہ، جن میں مسلم دنیا کی اہم ہستیاں بھی شامل ہیں۔
جنگِ ستمبر کی یادیں — 1965ء کی جنگ کے عینی مشاہدات۔
چھ نکات کی سچی تصویر — شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات پر تجزیہ۔
مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا تارا — علیحدگی کے بحران کی تفصیلی داستان۔
مقابل ہے آئینہ، نوکِ زبان، دانش گفتگو اور مزید ملاقاتیں وغیرہ۔
ان پر الطافِ صحافت (مرتب: ڈاکٹر طاہر مسعود) جیسی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں جو ان کی صحافتی خدمات کو خراجِ عقیدت ہیں۔
زندگی کے خاص واقعات اور تاریخی میراث
1947ء کی ہجرت، 1965ء کی جنگ کے محاذوں پر رپورٹنگ، مشرقی پاکستان کا بحران، جیل کی سزائیں اور طویل عرصے تک اردو ڈائجسٹ چلانا — یہ سب ان کی زندگی کے سنگ میل ہیں۔ وہ صدر ممنون حسین، وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ شخصیات کے انٹرویوز لے چکے ہیں۔
قومی اعزازات اور اعترافِ خدمات
انہیں ستارہِ امتیاز اور APNS و CPNE کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز جیسے اعزازات مل چکے ہیں۔
اختتام: ایک ادارہ بن چکے بزرگ
الطاف حسن قریشی قلم کے ذریعے قوم کو آئینہ دکھاتے رہے۔ ان کی تحریریں سادگی، گہرائی اور قومی سوچ سے بھری ہوتی تھیں۔ وہ صرف صحافی نہیں، بلکہ ایک فکری رہنما تھے جنہوں نے اسلام کو نظامِ زندگی کے طور پر پیش کیا اور پاکستان کے نظریے کی حفاظت کی۔
ایک کبھی نہ بجھنے والا فکری چراغ
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات کے باوجود عزم، قلم اور سچائی کی راہ پر چلنے والے کبھی نہیں ہارتے۔ الطاف حسن قریشی پاکستانی صحافت کے ایک زندہ ادارہ تھے — ایک ایسا ستارہ جو اب ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں روشنی بکھیرتا رہے گا۔
اللہ تعاoلیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی میراث کو قائم رکھے۔ آمین۔
ان کی کتابیں، اردو ڈائجسٹ کے شمارے اور ان پر لکھی گئی تحریریں ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ایک یادگار انٹرویو سننے کے لیئے نیچے امیج کو پریس کریں
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں





