شہرِ ہنر منداں – اردو ادب کا ایک انمول اور لازوال شاہکار
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی گلی کے موڑ پر بیٹھا وہ عام سا پان والا یا جوتے گانٹھنے والا شخص اپنی ذات میں کتنا بڑا فنکار اور کتنی بڑی داستان چھپائے ہوئے ہے؟
اردو ادب کی دنیا میں کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک پورا عہد اور تہذیب اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک لازوال کتاب محترمہ صفورہ خیری صاحبہ کی “شہرِ ہنر منداں” ہے۔ یہ کتاب کراچی کے ان 28 باہمت خاک نشینوں کے خاکوں پر مبنی ہے جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر شاید کبھی اہمیت نہیں دیتے۔
صفورہ خیری صاحبہ، جن کا تعلق دہلی کے ایک نہایت معزز اور علم دوست گھرانے سے تھا، انہوں نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ معاشرتی اصلاح اور انسانی نفسیات کو اہمیت دی۔ اس کتاب کا ہر خاکہ ہمیں زندگی کی ایک نئی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔
مثال کے طور پر ‘اکاؤنٹنٹ پنواڑی’ کا قصہ ہی لے لیجیے۔ چاند میاں، جن کی آنکھوں میں اکاؤنٹنٹ بننے کے خواب تھے، مگر حالات کی ستم ظریفی نے انہیں پان کی دکان تک پہنچا دیا۔ لیکن کیا وہ ہار گئے؟ نہیں۔ ان کی جدوجہد، اپنی بوڑھی ماں کے لیے ان کی محبت اور بیماری کے باوجود ہمت نہ ہارنا، ہمیں سکھاتا ہے کہ ہنر مند کبھی بھکاری نہیں ہوتا۔
اس کتاب میں “ڈاکٹر کی ڈائری” اور “خوشبو کا سفیر” جیسے مضامین انسانی دکھوں اور خوشیوں کا بہترین آئینہ ہیں۔ کراچی کے ادارے “ایڈوانس انجینئرنگ ایسوسی ایٹس” نے اسے جس خوبصورتی سے شائع کیا ہے، وہ قابلِ دید ہے۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ قدرِ ہنر صرف بڑے ناموں میں نہیں، بلکہ ان ہاتھوں میں بھی ہے جو محنت سے رزقِ حلال کماتے ہیں۔



