جیون ایک کہانی-علی احمد خان

سقوطِ ڈھاکہ: جب نفرتوں نے اپنوں کو ہی اجنبی بنا دیا

پاکستان کی تاریخ میں 1971 کا سال ایک ایسا المیہ ہے جس نے جغرافیہ ہی نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کو بھی تقسیم کر دیا۔ اس المیے کے پیچھے وہ حقائق کارفرما تھے جنہیں وقت کے ساتھ بھلا دیا گیا، لیکن عینی شاہدین کی داستانیں آج بھی ہمیں جھنجھوڑتی ہیں۔

آزادی کے فوراً بعد بدلتے ہوئے رویے

پاکستان کی آزادی جہاں خوشیاں لائی، وہیں کچھ ایسے رویے بھی پروان چڑھے جنہوں نے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ مغربی پاکستان اور وہاں سے ہجرت کر کے جانے والے غیر بنگالیوں کا مقامی بنگالیوں کے ساتھ رویہ حد درجہ افسوسناک تھا۔

حقارت آمیز سلوک اور بیگانگی

آزادی کے ابتدائی سالوں میں ہی بنگالیوں کے خلاف ایک مخصوص زہریلا بیانیہ جنم لینے لگا تھا۔ ان کی زبان، ثقافت اور ان کی شخصیت کو حقارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا، جس نے آہستہ آہستہ ملک ٹوٹنے کی راہ ہموار کی۔

1971 کا آرمی ایکشن اور انسانی المیے

جب حالات بے قابو ہوئے تو طاقت کا استعمال کیا گیا، لیکن اس عمل میں معصوم جانیں اور انسانی رشتے بری طرح پامال ہوئے۔

تعصب کی انتہا اور قتل و غارت

اس دور کے مظالم کی داستانیں روح کانپا دینے والی ہیں۔ تعصب اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ایک غیر بنگالی عورت کو صرف اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کیونکہ اس نے ایک بنگالی شخص سے شادی کی تھی۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت پر نفرت کس حد تک غالب آ چکی تھی۔

محمد پور کیمپ کے لرزہ خیز حالات

مکتی باہنی اور بھارتی فوج کی موجودگی میں جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی تھی، وہیں محمد پور کے غیر بنگالیوں کے کیمپ میں اخلاقی گراوٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ وہاں شراب خانے کھلنا اور عصمت فروشی کا آغاز ہونا ایک ایسا بدنما داغ ہے جس پر تاریخ آج بھی شرمندہ ہے۔

ایک دردناک ردعمل اور کفارہ کا احساس

تاریخ میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ہی گروہ کے مظالم کو دیکھ کر اللہ سے انصاف مانگا۔ دیناج پور میں علی احمد صاحب کے خاندان کی کہانی بھی ایسی ہی ایک عبرت ناک مثال ہے۔

خاندان کی قربانی اور ضمیر کی آواز

جب علی احمد صاحب کو یہ اطلاع ملی کہ دیناج پور میں ان کا پورا خاندان مارا گیا ہے اور کوئی ایک غیر بنگالی بھی زندہ نہیں بچا، تو ان کا جواب غیر متوقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرا خاندان مارا گیا ہے، تو میں اسے ان مظالم کا کفارہ سمجھوں گا جو یہاں بنگالیوں کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ یہ جملہ اس کرب کا عکاس تھا جو ایک حساس دل محسوس کر رہا تھا۔

یوپی سے مشرقی پاکستان تک: ایک عینی شاہد کا بیان

یہ تمام واقعات کسی سنی سنائی بات پر مبنی نہیں، بلکہ اس شخص کی زبانی ہیں جس نے خود ہجرت کا دکھ سہا اور پھر ایک نئے المیے کا گواہ بنا۔

ہجرت در ہجرت کا کرب

یوپی کے ضلع غازی پور سے ہجرت کر کے مشرقی پاکستان جانے والے اس شخص نے بنگالیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی وہ داستان بیان کی ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نے کہاں غلطی کی اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن بن گیا۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

Author

  • Shaheer Ul Haque

    شہیرالحق بی ایس ایم ٹی کے طالب علم ہیں اور کلینیکل لیبارٹری سائنس میں تخصیص کا ارادہ رکھتے ہیں، مطالعے کا بہت شوق ہے، جاسوسی ناول اور اسلامی تاریخ پر کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا شوق اور مشغلہ کمپیوٹر گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور  اے آئی ٹولز  ہیں۔ ان شعبوں میں آپ ذکر کتاب کے ٹیم میں اعزازی خدمات انجام دیتے ہیں۔