
حصہ 1: آبائی جڑیں اور لالو کھیت کی باضابطہ زندگی
دورانیہ: 00:00 – 09:06
اس افتتاحی حصے میں انس اشرف اپنا پس منظر بیان کرتے ہیں اور اپنے والد سید غیاث الدین اشرف کا ذکر کرتے ہیں جو ہائی کورٹ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ وہ اپنی جوانی کے دور کے لیاقت آباد (لالو کھیت) کا ایک نقشہ کھینچتے ہیں اور اسے ایک صاف ستھرا، منظم اور انتہائی باضابطہ علاقہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے اس دور کی ایک اہم شخصیت “بابو جی” تھے، جو ایک پڑوسی تھے لیکن محلے کے تمام لڑکوں کے لیے ایک خود ساختہ سرپرست کا درجہ رکھتے تھے۔ بابو جی نوجوانوں پر کڑی نظر رکھتے تھے تاکہ وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں اور “بری صحبت” یا فضول عادات سے دور رہیں۔ انس بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ معاشرہ ایک مشترکہ خاندان کی طرح کام کرتا تھا جہاں بزرگ ہر بچے کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری لیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مقامی دودھ والا، فضل بھائی بھی بزرگوں کو لڑکوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں (جیسے گلی میں کنچے کھیلنا) کی اطلاع دیتا رہتا تھا۔ باہمی احترام اور اجتماعی نگرانی کے اس ماحول نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ یہ حصہ اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب سماجی رشتے بہت مضبوط تھے اور محلہ بچوں کے لیے ایک محفوظ اور منظم جگہ تھی جہاں وہ شفیق مگر سخت گیر بزرگوں کی نگرانی میں پروان چڑھتے تھے۔
حصہ 2: ثقافتی اقدار اور تعلیمی جدوجہد
دورانیہ: 09:07 – 18:12
گفتگو کا رخ محلے کے بھرپور ثقافتی تانے بانے کی طرف مڑتا ہے، جہاں شادی بیاہ جیسی تقریبات نجی معاملہ ہونے کے بجائے ایک اجتماعی ذمہ داری ہوتی تھیں۔ انس یاد کرتے ہیں کہ کس طرح نوجوان لڑکے رضاکارانہ طور پر خیمے لگانے سے لے کر برتن دھونے تک ہر کام سنبھال لیتے تھے، اور پڑوسی کی بیٹی کی شادی کو اپنی بہن کی شادی کی طرح سمجھتے تھے۔ یہ خدمت کا جذبہ ان کی تربیت کا طرہ امتیاز تھا۔ اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں وہ جناح کالج سے کراچی پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ تک منتقلی کے چیلنجز پر بات کرتے ہیں۔ وہ ایک دلسوز اندرونی کشمکش کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ان کے ٹیکنیکل تعلیم کے انتخاب پر پریشان تھیں، کیونکہ ان کے خاندان میں پروفیسرز اور لیکچررز کی کثرت تھی، اس لیے اسکریو ڈرائنگ یا پلاس کے کام کو سماجی طور پر کم تر سمجھا جاتا تھا، جس سے ان کی مستقبل کی شادی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تھے۔ ان سماجی رواجوں کی تسکین کے لیے انہوں نے ساتھ میں پرائیویٹ بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ حصہ اس وقت کے سماجی و معاشی دباؤ اور پیشہ ورانہ حیثیت کے بارے میں روایتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ انس کی استقامت کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے خاندان کے خدشات اور پاکستان کی سماجی توقعات کا احترام کرتے ہوئے ایک بہتر مستقبل کے لیے فنی تربیت اور باقاعدہ تعلیم کے درمیان توازن قائم کیا۔
حصہ 3: غیر متوقع موقع اور فنی مہارت
دورانیہ: 18:13 – 27:18
یہ حصہ انس کے کیریئر کے ایک “معجزاتی” موڑ کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں مختصر مدت کی ملازمت کے دوران، وہ اپنے ایک دوست کو سعودی عرب میں ملازمت کے انٹرویو کے لیے چھوڑنے گئے۔ غیر متوقع طور پر انہیں انٹرویو کی فہرست میں اپنا نام سب سے اوپر ملا۔ کرکٹ کے لباس میں ہونے اور پاس کوئی دستاویزات نہ ہونے کے باوجود، ان کے دوست نے انہیں انٹرویو روم میں دھکیل دیا۔ عرب حکام پر مشتمل انٹرویو پینل نے ان کی وزن کرنے اور ٹیسٹنگ مشینوں کے بارے میں فنی معلومات کا امتحان لیا۔ انس کی “آٹومیٹک ویئرز” اور “پوسٹل اسکیلز” میں عملی مہارت نمایاں رہی۔ انہوں نے کیلیبریشن اور سینسی ٹیویٹی کی گہری سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور یہاں تک کہ سعودی قوانین کے مقابلے میں حکومتِ پاکستان کے معیارات پر حکام سے مکالمہ کیا۔ ان کی ایمانداری اور مسائل حل کرنے کی مہارت—مثلاً ٹیسٹ ویٹ دستیاب نہ ہونے پر صابن کی ٹکیوں کو وزن کے لیے استعمال کرنے کی تجویز—نے بھرتی کرنے والوں کو بے حد متاثر کیا۔ ٹیکنیکل مظاہرے کے اختتام پر وہ اور ان کا دوست دونوں موقع پر ہی منتخب ہو گئے۔ یہ حصہ فنی مہارت کی اہمیت اور اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح قسمت اور حقیقی مہارت کا سنگم زندگی بدل دینے والے مواقع کا سبب بن سکتا ہے۔
حصہ 4: پاسپورٹ کی رکاوٹ اور غیبی مدد
دورانیہ: 27:19 – 36:26
ویڈیو کا آخری حصہ سخت قوانین کے دور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کی شدید جدوجہد پر مبنی ہے۔ انس کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا اور انہیں پاسپورٹ آفس میں سخت رویے اور فوری انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی مایوسی اور بے بسی کا ذکر کرتے ہیں جب تک کہ ان کے ماموں نے مداخلت نہ کی۔ ان کے ماموں نے پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک واقف کار کے نام ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی پرچی دی۔ یہ “سفارش” کلیدی ثابت ہوئی۔ جب انہوں نے وہ پرچی پیش کی، تو دفتر کا ماحول دشمنی سے بدل کر انتہائی میزبانی میں تبدیل ہو گیا۔ حکام نے نہ صرف ان کا پاسپورٹ فوری طور پر تیار کیا بلکہ ان کے ساتھ انتہائی احترام سے پیش آئے اور ان کی تواضع بھی کی۔ انس اس تجربے کو عاجزی کے ساتھ “مشیتِ ایزدی” اور بزرگوں کی مدد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لالو کھیت کی گلیوں سے لے کر پہلی بین الاقوامی ملازمت تک، ان کے تمام راستے والدین کی دعاؤں اور دوسروں کی مہربانیوں سے ہموار ہوئے۔ انٹرویو شکر گزاری کے احساس پر ختم ہوتا ہے، جس میں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی محض ذاتی کوشش نہیں بلکہ ان کے سپورٹ سسٹم اور خاندان و معاشرے سے ملنے والی روحانی برکات کا نتیجہ تھی۔
پہلی قسط مکمل دیکھنے کے لییے نیچے امیج کو کلک کریں

ابتدائی سفر اور غیر متوقع ذمہ داری
ٹائم لائن: 00:00 – 04:54
اس افتتاحی حصے میں انس اشرف سعودی عرب آمد کا احوال بیان کرتے ہیں۔ رات ایک بجے جب وہ ایئرپورٹ پر اترے، تو وہاں ایک نمائندہ ان کے نام کا پلے کارڈ لیے کھڑا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بارہ افراد کے اس گروپ میں صرف انس صاحب ہی تھے جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ نمائندے نے فوراً ایک بالکل نئی “زیرو میٹر” کوسٹر کی چابیاں ان کے ہاتھ میں تھما دیں اور حکم دیا کہ وہ پوری ٹیم کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں۔ انس صاحب، جنہوں نے پاکستان میں صرف سوزوکی ایف ایکس جیسی چھوٹی گاڑیاں چلائی تھیں، اب ایک انجان ملک میں بائیں ہاتھ کی ڈرائیونگ (Left-hand drive) والی بڑی کوسٹر چلا رہے تھے۔ وہ رات کے وقت صحرا میں گاڑی چلانے کی گھبراہٹ اور رہائش گاہ پہنچنے کے بعد “گھر میں نظر بند” ہونے جیسے احساس کا ذکر کرتے ہیں۔ تمام ساتھیوں کے پاسپورٹ اور دستاویزات کارروائی کے لیے لے لیے گئے، جس نے گروپ میں ابتدائی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔ یہ حصہ ذمہ داری کے اچانک بوجھ اور ایک نئے ملک میں ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے ثقافتی صدمے (Culture Shock) کو اجاگر کرتا ہے۔
اقامتی مراحل اور لائسنس کا حصول
ٹائم لائن: 04:55 – 08:00
یہ حصہ آمد کے کچھ عرصہ بعد درپیش انتظامی رکاوٹوں پر مبنی ہے۔ اس ابتدائی خوف کے باوجود کہ شاید انہیں مشقت والے کاموں پر لگا دیا جائے گا، صورتحال اس وقت بہتر ہوئی جب ان کا کوآرڈینیٹر انہیں میڈیکل چیک اپ اور لائسنس کے حصول کے لیے لینے آیا۔ انس صاحب “مرور” (ٹریفک پولیس آفس) میں اپنے ڈرائیونگ ٹیسٹ کو یاد کرتے ہیں، جہاں وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی میں قسمت کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ پہلی ہی کوشش میں سعودی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو ان کے لیے ایک بڑا سکون اور خود اعتمادی کا باعث بنا۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح اپنی دستاویزات کو تاریخ وار ترتیب سے رکھنے کی ان کی عادت نے حکام کو متاثر کیا، جبکہ ان کے ساتھیوں کے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ اس حصے کا اختتام اس وقت ہوتا ہے جب کوآرڈینیٹر نے دوبارہ کوسٹر کی چابیاں ان کے حوالے کیں اور انہیں ترغیب دی کہ وہ تفریح کے لیے ٹیم کو مقامی بازاروں کی سیر کروائیں، حالانکہ انس صاحب شروع میں تھوڑی چڑ محسوس کر رہے تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں بطور ڈرائیور نہیں بلکہ بطور انجینئر پہچانا جائے۔
پروجیکٹ کا آغاز اور بین الاقوامی ٹیم ورک
ٹائم لائن: 08:01 – 14:00
تیسرا حصہ ایک بڑے صنعتی منصوبے، جس میں فلور مل اور سائلوز (اناج کے گودام) شامل تھے، میں انس صاحب کے پیشہ ورانہ کردار کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔ انہیں ایک برطانوی انجینئر مسٹر برائن کی نگرانی میں رکھا گیا جہاں انہوں نے جرمن تکنیکی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انس صاحب برطانوی اور جرمن ٹیموں کے درمیان دلچسپ تعلقات اور دونوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے تجربے پر بات کرتے ہیں۔ انہیں جہلم سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی ایک ٹیم دی گئی، جنہیں وہ جسمانی طور پر مضبوط اور محنتی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کام 50 فٹ کی بلندی پر وزنی آٹومیٹک اسکیلز (ترازو) نصب کرنا تھا۔ انس بتاتے ہیں کہ پاکستان سے حاصل کردہ ٹیکنیکل ڈپلومہ پیچیدہ نقشوں (Blueprints) کو پڑھنے میں کس قدر کارآمد ثابت ہوا۔ وہ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ کس طرح ایک برطانوی جونیئر اسسٹنٹ نے ضروری چرخیوں اور سہاروں کو پہلے سے نصب کر کے غیر متوقع مدد فراہم کی، جس سے ان کا ایک دن کا کام بچ گیا۔ یہ حصہ تکنیکی تعلیم کی اہمیت، بلندی پر کام کرنے کے چیلنجز اور بڑے انجینئرنگ منصوبوں کو متنوع افرادی قوت کے ساتھ سنبھالنے کے لیے درکار اشتراکِ عمل پر زور دیتا ہے۔
فنی پیچیدگیاں اور وطن واپسی کا وعدہ
ٹائم لائن: 14:01 – 19:38
آخری حصے میں انس صاحب ایک خاص تکنیکی چیلنج کا ذکر کرتے ہیں جو ایک مشین میں مینوفیکچرنگ خرابی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ مینوئل پر پوری طرح عمل کرنے کے باوجود اناج کی ترسیل کا وقت درست نہیں آ رہا تھا۔ وہ اس خرابی کو دور کرنے کے مشکل عمل کو بیان کرتے ہیں جہاں برطانوی انجینئر نے انہیں سکھایا کہ کس طرح اناج نکالنے کی گنجائش کا حساب لگایا جاتا ہے اور ٹارچ کی مدد سے مکینیکل خرابی کو پہچانا جاتا ہے۔ اس تجربے نے انس کو مشینوں کی پیچیدگیوں میں مہارت حاصل کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے سعودی عرب میں نو کامیاب سال گزارے، جہاں ان کے کام کو بہت سراہا گیا۔ باوجود اس کے کہ ان کے کئی ساتھی بہتر مستقبل کے لیے برطانیہ یا امریکہ چلے گئے، انس صاحب نے پاکستان واپسی کو ترجیح دی۔ وہ انکشاف کرتے ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ اپنی والدہ سے کیے گئے ایک وعدے پر مبنی تھا کہ “جیسے ہی میں اپنے مالی اہداف حاصل کر لوں گا، میں گھر واپس آ جاؤں گا”۔ انٹرویو کا اختتام خاندان کے ساتھ وفاداری اور پردیس
میں مادی فائدے پر ذاتی وعدوں کی تکمیل کو ترجیح دینے کے ایک جذباتی پیغام پر ہوتا ہے۔
دوسری قسط مکمل دیکھنے کے لییے نیچے امیج کو کلک کریں

وطن واپسی اور ملازمت کی تلاش
ٹائم لائن: 00:00 – 07:12
اس افتتاحی حصے میں انس اشرف بیرون ملک پرکشش مواقع کے باوجود پاکستان واپسی کے اپنے فیصلے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اپنی والدہ سے کیے گئے وعدے اور اپنی جڑوں سے گہری وابستگی کی وجہ سے انہوں نے کراچی میں آباد ہونے کا انتخاب کیا۔ تاہم، یہ تبدیلی آسان نہیں تھی۔ شروع میں انہیں اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے سابقہ ادارے “ایوری اسکیل” نے انہیں سنیارٹی دینے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے انہوں نے وہاں کام کرنے کی پیشکش مسترد کر دی۔ اس دور میں جب کراچی بدامنی، تشدد اور ہڑتالوں کی لپیٹ میں تھا، انس صاحب نے کئی ماہ گھر پر گزارے جس کی وجہ سے وہ کافی بے چین رہے۔ سعودی عرب میں وسیع تکنیکی تجربے اور اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے کے باوجود، انہوں نے اخبار میں اشتہار دیکھ کر ایک زیرِ تعمیر ہسپتال (حنیف ہسپتال) میں ایک معمولی “آؤٹ ڈور کلرک” کی اسامی کے لیے درخواست دی۔ یہ انتخاب ان کی عاجزی اور تعمیری کام کرنے کی تڑپ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حصہ بیرون ملک پیشہ ورانہ استحکام اور اس دور میں پاکستان کے غیر مستحکم حالات اور ملازمتوں کی صورتحال کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔
آؤٹ ڈور کلرک سے دیانتدار منتظم تک
ٹائم لائن: 07:13 – 14:26
انس صاحب حنیف ہسپتال میں اپنی غیر روایتی شمولیت کا احوال بتاتے ہیں۔ ملازمت کے حصول کے لیے انہوں نے اپنی قابلیت کو کم ظاہر کیا اور صرف میٹرک کی سند لکھی تاکہ زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انہیں مسترد نہ کر دیا جائے۔ انٹرویو کے دوران فوراً کام شروع کرنے کی آمادگی اور عملی رویے نے انتظامیہ کو بے حد متاثر کیا۔ شروع میں انہیں ہسپتال کے گودام کو منظم کرنے اور بے ترتیب مالیاتی ریکارڈ کو سنبھالنے کا کام سونپا گیا۔ انس صاحب کے نظم و ضبط کے فطری رجحان اور سعودی عرب کی تربیت نے انہیں اس قابل بنایا کہ انہوں نے محض ایک گھنٹے کے اندر تمام الجھے ہوئے بلوں اور وینڈر فائلوں کو ترتیب دے دیا۔ اس کارکردگی نے کرنل نجم کی توجہ حاصل کی، جنہوں نے انس صاحب کی سرپرستی شروع کر دی۔ تاہم، ان کی اس باریک بینی نے جلد ہی انہیں تعمیراتی سپروائزر اختر شاہ کے مدمقابل کھڑا کر دیا۔ انس نے محسوس کیا کہ پروجیکٹ کی پیشرفت ابتری کا شکار ہے اور اس میں کوئی ربط نہیں ہے۔ ایک جونیئر عہدے پر ہونے کے باوجود انہوں نے آپریشنل خامیوں کی نشاندہی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
بدعنوانی کا انکشاف اور انتظامی دباؤ
ٹائم لائن: 14:27 – 21:30
جیسے ہی انس صاحب نے ہسپتال کے مالیاتی ریکارڈ کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی، انہوں نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے پنکھوں، سیمنٹ اور پینٹ جیسی اشیاء کے متعدد “فرضی بلوں” کی نشاندہی کی—یعنی ایسی اشیاء جن کی ادائیگی تو کر دی گئی تھی لیکن وہ کبھی ہسپتال پہنچی ہی نہیں تھیں۔ اصل اور جعلی لین دین میں فرق کرنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں ہسپتال کے اندر موجود “مافیا” کے نشانے پر لا کھڑا کیا۔ ان کی دیانتداری کو پہچانتے ہوئے، ہسپتال کے مالک شیخ حنیف نے انس صاحب کو اپنے کارپوریٹ آفس منتقل کر دیا تاکہ وہ تمام ادائیگیوں کی نگرانی کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد ہسپتال کی انتظامیہ میں موجود بدعنوان عناصر کو نظر انداز کرنا تھا۔ انس صاحب کو مالک کے بیٹے، سلیم کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کی غفلت یا جان بوجھ کر شمولیت اس دھوکہ دہی کا سبب بن رہی تھی۔ انہوں نے سلیم کی والدہ کے سامنے ان تمام مسائل کو بڑی دلیری سے بیان کیا اور ذاتی حفاظت یا ملازمت کے تحفظ کے بجائے ہسپتال کی سالمیت کو ترجیح دی۔
ترقی، ذمہ داری اور سماجی چیلنجز
ٹائم لائن: 21:31 – 28:51
ویڈیو کے آخری حصے میں انس صاحب بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کا عہدہ ایک کلرک سے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر میں تبدیل ہوا۔ مالیاتی نظام کو درست کرنے کے بعد، انہیں آئی سی یو مانیٹرز اور الٹرا ساؤنڈ مشینوں جیسے جدید طبی آلات کی خریداری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے میڈیکل ڈائریکٹرز کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہسپتال کے لیے بہترین ٹیکنالوجی درآمد کی جائے۔ تاہم، ان کی ترقی اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد نے انہیں مختلف سیاسی اور سماجی دباؤ کا ہدف بنا دیا۔ ایک پنجابی انتظامیہ والے ماحول میں اردو بولنے والا ہونے اور پھر مقامی سیاسی گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ایک دم گھٹنے والی صورتحال پیدا کر دی۔ انتظامیہ کے بھروسے کے باوجود، بیرونی دباؤ ناقابلِ برداشت ہوتا گیا۔ آخر کار انس صاحب نے دوسرے منصوبوں کی طرف منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جن میں فیضِ عام ہسپتال اور طاہر میڈیکل سینٹر شامل تھے۔ یہ حصہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح انہوں نے انتظامیہ کی آنکھیں اندرونی خطرات کے حوالے سے کھولیں اور ثابت کیا کہ ان کی دیانت کا اثر دیرپا تھا۔
تیسری قسط مکمل دیکھنے کے لییے نیچے امیج کو کلک کریں

سعادت مند اولاد اور ایک غیر متوقع موت
ٹائم لائن: 00:00 – 10:02
اس جذباتی حصے میں انس اشرف ایک نہایت فرمانبردار بیٹے کی کہانی سناتے ہیں جو امریکہ سے کراچی اپنے والد کی تیمارداری کے لیے آیا جو وینٹیلیٹر پر تھے۔ ان لوگوں کے برعکس جو سفر کی رکاوٹوں کا بہانہ بناتے ہیں، یہ بیٹا فوراً پہنچا اور ہسپتال ہی میں قیام کیا تاکہ اپنے والد کے قریب رہ سکے۔ وہ بے حد عاجز اور سخی انسان تھا، اس نے نہ صرف ہسپتال کے عملے کی مدد کی بلکہ ریسپشنسٹس کو کمپیوٹر کے پروگرام بہتر طریقے سے چلانا بھی سکھائے۔ اس نے اپنے والد کے علاج پر دل کھول کر خرچ کیا اور نچلے درجے کے عملے میں کھانا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ 15 دن کی بھرپور دیکھ بھال کے بعد والد صحت یاب ہو گئے اور گھر جانے کے لیے تیار تھے۔ لیکن تقدیر کا کھیل دیکھیے، عین اس وقت جب وہ روانہ ہونے والے تھے، وہ تندرست نوجوان بیٹا انس صاحب کے دفتر کے سامنے اچانک گرا اور جاں بحق ہو گیا۔ یہ واقعہ زندگی کی ناپائیداری اور طبی سائنس کی محدودیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انس صاحب کا خیال ہے کہ اس کی خدمت نے شاید اسے جنت کا حقدار بنا دیا تھا، کیونکہ اس کا مشن پورا ہو چکا تھا۔ اس واقعے نے پورے ہسپتال کو صدمے میں ڈال دیا۔
اولاد کے متضاد رویے اور اخلاقی پستی
ٹائم لائن: 10:03 – 13:21
پچھلی کہانی کے برعکس، انس صاحب ایک تکلیف دہ واقعے کا ذکر کرتے ہیں جس میں ایک امیر خاندان کا والد آئی سی یو میں انتقال کر گیا۔ تمام تر آسائشوں—گاڑیوں، نوکروں اور بنگلوں—کے باوجود بچوں نے اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ جب صبح چار بجے والد کا انتقال ہوا تو ہسپتال نے گھر والوں کو اطلاع دی، لیکن صبح گیارہ بجے تک کوئی بھی میت لینے نہیں پہنچا۔ آخر کار انس صاحب خود ایمبولینس چلا کر میت ان کے گھر پہنچانے پر مجبور ہوئے۔ وہاں پہنچ کر وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ گھر میں سوگ کا کوئی نام و نشان نہ تھا؛ گھر والے اس قدر بے حس تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہاں تک کہ انہوں نے تدفین کا انتظام بھی نہیں کیا تھا۔ یہ حصہ معاشرے کے اس تاریک پہلو کو اجاگر کرتا ہے جہاں مادی دولت اکثر جذباتی لاتعلقی اور بوڑھے والدین کی نظر اندازی کا باعث بنتی ہے۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ اگر انسان کے پاس انسانی اقدار اور اپنے والدین کے لیے احترام نہیں، تو پیشہ ورانہ کامیابی اور سماجی حیثیت بے معنی ہے۔
پیشہ ورانہ غفلت اور انسانیت کا امتحان
ٹائم لائن: 13:22 – 20:15
انس صاحب نرسنگ کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور تیماردار کے پس منظر کے اثرات پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ ہسپتال میں کام کرنے والی دو بہنوں، شازیہ اور نازیہ کی کہانی سناتے ہیں۔ ایک بہن کا بڑا آپریشن ہوا، اور چونکہ وہ غریب اور یتیم تھیں، اس لیے ہسپتال نے سرجری اور اینستھیزیا سمیت تمام اخراجات معاف کر دیے۔ تاہم، آپریشن کے بعد کی نازک رات میں، تندرست بہن جو بطور تیماردار موجود تھی، گہری نیند سو گئی۔ انس صاحب جب اگلی صبح پہنچے تو دیکھا کہ مریضہ دم توڑ رہی تھی اور اسے اندرونی طور پر خون بہہ رہا تھا، جبکہ اس کی اپنی سگی بہن قریب ہی بے خبر سو رہی تھی۔ انس صاحب کو اس کی جان بچانے کے لیے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا۔ یہ واقعہ صحت کی دیکھ بھال میں ہر وقت چوکنا رہنے کی اہمیت اور غفلت کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ یہ انس صاحب کے انتظامی انداز کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود سنگین مریضوں کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ عملہ مستعد رہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگرچہ ادارہ مفت خدمات فراہم کر سکتا ہے، لیکن مریض کی زندگی کا دارومدار تیماردار کی بیداری اور خلوص پر بھی ہوتا ہے۔
ذاتی صدمے اور زندگی کی حقیقت
ٹائم لائن: 20:16 – 41:09
آخری حصہ نقصان اور انسانی کوششوں کی محدودیت پر ایک گہری ذاتی عکاسی ہے۔ انس صاحب ان طبی اداروں کی دیواروں کے درمیان اپنی اہلیہ اور والدہ کو کھونے کا تذکرہ کرتے ہیں جہاں ان کا اپنا اختیار چلتا تھا۔ بہترین ڈاکٹروں اور آلات تک رسائی کے باوجود، جب ان کا وقت آیا تو وہ خود کو بالکل بے بس محسوس کر رہے تھے۔ ان کی اہلیہ اچانک دماغی انفیکشن کی وجہ سے انتقال کر گئیں، اور ان کی والدہ کو بڑے سرجنوں کے بورڈ نے ناقابلِ آپریشن قرار دے دیا۔ ان تجربات نے انہیں سکھایا کہ انسان زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش تو کر سکتا ہے، لیکن زندگی اور موت پر اختیار صرف اللہ کا ہے۔ انس صاحب اور انٹرویو لینے والے “مومن کے صبر” پر بات کرتے ہیں—جو کہ مشیتِ ایزدی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ گفتگو کا اختتام “حقوق العباد” پر ہوتا ہے جو زندگی کا اصل جوہر ہے۔ انس صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دوسروں کی خدمت اللہ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے، اور انسان کو اس دنیا سے وقار اور نیک اعمال کے ساتھ رخصت ہونا چاہیے، بالکل اس فرمانبردار بیٹے کی طرح جس کا ذکر پہلے کیا گیا۔
چوتھی قسط مکمل دیکھنے کے لییے نیچے امیج کو کلک کریں
-
View all postsمیں نے زندگی کے چار عشرے قانون، اسلامی بینکاری اور کارپوریٹ گورننس کے شعبوں کی خدمات میں گزارے ۔ جامعہ کراچی سے ایل ایل ایم کے بعد، مجھے میزان بینک کے بانی کمپنی سیکرٹری اور پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی سمیت کئی معتبر اداروں میں کلیدی خدمات کی سعادت ملی۔ پیشہ ورانہ سفر کے دوران کئی بڑی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے بورڈ پر ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیئے اور ٹرینر کی حیثیت سے نوجوانوں کی فکری آبیاری کی کوشش کرتا رہا ہوں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، اب میں نے خود کو کتابوں اور علم کے فروغ کے لیے وقف کر دیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نئی نسل تک اخلاقی اور بامقصد پیغام پہنچانے کی عاجزانہ کوشش کر رہا ہوں۔ میری زندگی کا اب ایک ہی مقصد ہے: سیکھنا، سکھانا اور اپنے تجربات کو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بنانا۔



