کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، انسان کو بدل دیتی ہیں
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج ان دنوں میرے زیرِ مطالعہ آنے والی ان نایاب کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے مجھے محض نئی معلومات نہیں دیں بلکہ میرے کئی پرانے تصورات کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ اس کتاب کو شیما مجید اور علامہ جاوید نے مرتب کیا ہے جبکہ اسے ادارۂ علم و عرفان نے شائع کیا ہے۔ تقریباً ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی، فکری اور روحانی دستاویز ہے جو قاری کو صدیوں سے قائم تصورات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
بعض کتابیں صرف معلومات فراہم کرتی ہیں۔
بعض کتابیں خیالات میں وسعت پیدا کرتی ہیں۔
اور بعض کتابیں انسان کو اپنے ہی علم پر سوال اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میرے لیے اسی تیسرے درجے کی کتاب ثابت ہوئی۔
منصور حلاج کے بارے میں میری پہلی رائے
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج پڑھنے سے پہلے اگر کوئی مجھ سے منصور حلاج کے بارے میں پوچھتا تو شاید میرا جواب بھی وہی ہوتا جو برصغیر کے اکثر مسلمانوں کا ہے۔
میں صرف اتنا جانتا تھا کہ انہوں نے “انا الحق” کہا، خدائی کا دعویٰ کیا اور اسی جرم میں انہیں سولی دے دی گئی۔
میری پوری معلومات چند سنی سنائی باتوں، چند روایات اور ادھورے حوالوں تک محدود تھیں۔
منصور کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں حضرت لال شہباز قلندر کا مشہور فارسی شعر گونج اٹھتا تھا۔
منم عثمانِ مروندی کہ یارِ شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم
میں ہمیشہ یہی تصور کرتا تھا کہ شاید منصور وجد کی کیفیت میں تختۂ دار پر گئے، “انا الحق” کا نعرہ بلند کیا اور رقص کرتے ہوئے پھانسی قبول کر لی۔
لیکن حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج نے میرے ذہن میں بنی ہوئی یہ پوری تصویر بدل دی۔
تاریخ کو صرف سننا کافی نہیں، پڑھنا بھی ضروری ہے
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج نے پہلی مرتبہ مجھے یہ احساس دلایا کہ تاریخ صرف روایتوں سے نہیں سمجھی جا سکتی۔
اسے اصل مآخذ سے پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اسی کتاب سے معلوم ہوا کہ ابوالمغیث حسین بن منصور بن مثنیٰ حلاج 244 ہجری میں ایران کے صوبۂ فارس کے علاقے طور، بیضا کے قریب پیدا ہوئے۔
انہوں نے کم عمری میں قرآنِ مجید حفظ کیا۔ بچپن ہی سے عبادت، ریاضت، مطالعہ اور تصوف کی طرف ان کا رجحان نمایاں تھا۔
بعد میں انہوں نے بصرہ، بغداد، مکہ، خراسان، ترکستان اور ہندوستان تک کے اسفار کیے۔ متعدد تاریخی روایات کے مطابق وہ سندھ اور ملتان بھی آئے، جہاں اہلِ علم سے ملاقاتیں کیں اور اپنے افکار پیش کیے۔
منصور حلاج صرف صوفی نہیں، ایک عظیم مصنف بھی تھے
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج کی ایک ایسی بات نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا جس کا مجھے پہلے کبھی اندازہ نہیں تھا۔
منصور حلاج صرف ایک صوفی، درویش یا مبلغ نہیں تھے بلکہ غیر معمولی درجے کے مصنف بھی تھے۔
اس کتاب کے مطابق انہوں نے تقریباً سینتالیس کتابیں تصنیف کیں۔ ذرا ایک لمحہ رک کر سوچیے۔ آج ہمارے پاس کمپیوٹر ہیں۔ انٹرنیٹ ہے۔
ڈیجیٹل لائبریریاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت موجود ہے۔ ریسرچ ڈیٹا بیس موجود ہیں۔اس کے باوجود ایک معیاری کتاب لکھنا آسان نہیں۔
اب ایک ہزار سال پہلے کے دور کا تصور کیجیے۔ نہ کمپیوٹر۔ نہ ای بکس۔ نہ سرچ انجن۔ نہ مصنوعی ذہانت۔ اور ایسے دور میں ایک شخص سینتالیس کتابیں لکھ دے۔ یہ صرف محنت نہیں بلکہ علم سے غیر معمولی وابستگی کی علامت ہے۔
پھر ایسا کیا ہوا کہ منصور متنازع شخصیت بن گئے؟
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج اس سوال کا بھی جواب تلاش کرتی ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک بلند پایہ عالم، صوفی اور مصنف تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع کرداروں میں شامل ہو گیا۔
کتاب کے مختلف تحقیقی مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ “انا الحق” اور وحدت الوجود سے متعلق ان کے بعض افکار یقیناً اختلاف کا باعث بنے، مگر معاملہ صرف مذہبی نہیں تھا۔
ان کے مریدوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ عوام میں ان کا اثرورسوخ وسیع ہو رہا تھا۔ اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے اثر سے خوف پیدا ہونے لگا تھا۔
تاریخ ہمیں بارہا یہی سبق دیتی ہے کہ جب کوئی شخصیت عوام کے دلوں میں جگہ بنانے لگتی ہے تو اختلافِ رائے اکثر سیاسی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
نو سالہ قید اور ایک دردناک انجام
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج کے مطابق منصور کو برسوں قید میں رکھا گیا۔ روایات کے مطابق انہوں نے تقریباً نو سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کچھ عرصہ رہائی بھی ملی لیکن مخالفت ختم نہ ہوئی۔ بالآخر دوبارہ گرفتار کیے گئے۔
مقدمات قائم ہوئے۔ فتوے صادر ہوئے۔ اور پھر وہ المناک انجام آیا جسے پڑھتے ہوئے دل کانپ اٹھتا ہے۔ انہیں سولی پر لٹکایا گیا۔ کوڑے مارے گئے۔ پتھر برسائے گئے۔ ہاتھ کاٹے گئے۔ جسم کو زخمی کیا گیا۔
اور آخرکار ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک سزائے موت نہیں تھی۔ یہ طاقت کے اظہار کی ایک خوفناک مثال تھی۔
سید سلیمان ندوی کی چشم کشا رائے
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میں سید سلیمان ندوی کا ایک اقتباس پڑھ کر میں دیر تک سوچتا رہا۔
انہوں نے لکھا:
“حلاج شہیدِ حق نہ تھا، قتل راہِ سیاست تھا۔ اس کی حیثیت مذہبی گنہگار کی کم اور سیاسی مجرم کی زیادہ بنا دی گئی۔ اس کے خون کا داغ علماء کے قلم سے زیادہ سلاطین کی تلوار پر ہے۔”
یہ چند سطریں انسان کو تاریخ کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
اقبال کی رائے کیوں بدلی؟
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج کا ایک اور دلچسپ باب علامہ اقبال سے متعلق ہے۔
این میری شمل کے مطابق اقبال ابتدا میں منصور حلاج کے افکار پر سخت تنقید کرتے تھے۔
لیکن جیسے جیسے ان کا مطالعہ وسیع ہوا، ان کی رائے میں بھی تبدیلی آتی گئی۔
بعد ازاں “جاوید نامہ” میں انہوں نے منصور کو روحانی جرات، آرزو اور مسلسل جستجو کی علامت کے طور پر پیش کیا۔
یہ تبدیلی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔
بڑا انسان وہ نہیں جو کبھی اپنی رائے تبدیل نہ کرے۔
بلکہ بڑا انسان وہ ہے جو نئے علم کی روشنی میں اپنی رائے درست کر لے۔
لوئی ماسینیوں — وہ شخص جس نے دنیا کو دوبارہ منصور سے متعارف کرایا
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میں فرانسیسی مستشرق لوئی ماسینیوں پر ایک نہایت دلچسپ مضمون بھی شامل ہے۔
اگر کہا جائے کہ جدید دنیا نے منصور حلاج کو دوبارہ دریافت کیا تو اس کا بڑا سہرا ماسینیوں کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے تقریباً پچپن برس مسلسل منصور حلاج پر تحقیق کی۔
نایاب مخطوطات تلاش کیے۔
دنیا بھر کے کتب خانوں سے مواد جمع کیا۔
اور منصور کی گم شدہ تحریروں کو محفوظ کر کے علمی دنیا کے سامنے پیش کیا۔
یہ محنت اپنی مثال آپ ہے۔
منصور حلاج کے چند فکر انگیز اقوال
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میں شامل بعض اقوال دیر تک ذہن میں گونجتے رہتے ہیں۔
“خدا تک پہنچنے کے راستے اتنے ہیں جتنی مخلوق کی سانسیں۔”
اور
“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس کے لیے ہر آزمائش ایک آئینہ بن جاتی ہے۔”
ان اقوال کی تعبیر سے اختلاف ممکن ہے، لیکن اتنا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ منصور کی پوری زندگی تلاش، سوال اور حقیقت کی جستجو کا نام تھی۔
کتاب کی ترتیب اور سب سے بڑی خوبی
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج کو مرتبین نے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلے حصے میں اٹھارہ سے زائد اہلِ علم کے تحقیقی مضامین شامل ہیں جن میں منصور کی زندگی، تصوف، فلسفہ، سیاسی حالات، مقدمے اور تاریخی پس منظر پر مفصل گفتگو کی گئی ہے۔

دوسرے حصے میں منصور حلاج کے اپنے منتخب اقوال، تحریریں اور کلام شامل ہیں۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

قاری صرف دوسروں کی رائے نہیں پڑھتا بلکہ خود منصور کی آواز بھی سنتا ہے۔
میری رائے
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میرے نزدیک محض ایک کتاب نہیں بلکہ سوچنے کی دعوت ہے۔
یہ قاری پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرتی۔
بلکہ اسے تحقیق، مطالعہ اور غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
میرے لیے اس کتاب کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ تاریخ میں کسی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی اپنی تحریریں، اس کے اپنے الفاظ اور مستند تاریخی حوالوں کو ضرور پڑھنا چاہیے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہر کتاب نئی معلومات نہیں دیتی۔
کچھ کتابیں انسان کو اپنی معلومات پر شک کرنا سکھاتی ہیں۔
اور یہی شک علم کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج میرے لیے ایسی ہی ایک کتاب ثابت ہوئی۔
اس نے مجھے صرف منصور حلاج سے متعارف نہیں کرایا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی شخصیت کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی اپنی آواز بھی ضرور سنی جائے۔





