تاریخ: بیان کا ایک فن اور انسانی تاثرات
لارڈ میکالے نے ایک جگہ یہ کہا تھا کہ”تاریخ بیان کا ایک فن ہے۔اس سے انسانی تاثرات میں دل چسپی پیدا ہوتی ہے۔تصور کے سامنے تصویریں آتی ہیں ۔لیکن ضروری ہے کہ مختلف واقعات کو ہنرمندانہ طریق پرانتخاب کیا جائے اور انہیں مناسب ترتیب سے پھیلا دیا جائے اور اپنے دماغ سے کچھ ایجاد و اختراع نہ کیا جائے۔”
شاہد حمید صاحب: سرمدی زندگی کا استعارہ
تاریخ کے اس تصور کو مدنظر رکھا جائے تو یہ انسان کی سرمدی زندگی کا استعارہ اور علامات کا فکری نظام قائم کرتا ہے۔ بلاشبہ شاہد حمید صاحب بن کر افقِ ادب پر چمکتے ہیں، جن کی زندگی کی اسی سرمدیت کا اظہار کتاب ” شاہد حمید ،اے عشق جنوں پیشہ” میں بارہا کیا گیا ہے۔ یہ کتاب “اے عشق جنوں پیشہ” بک کارنر جہلم کا محض ایک اشاعتی کارنامہ ہی نہیں بلکہ دو نہایت سعادت مند اور قابل ِ فخر بیٹوں گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کا اپنے والد محترم کی خدمت میں جذبہ ٔ محبت و بے پناہ عقیدت سے معمور، پیش کیا گیا آراستہ و پیراستہ” ارمغان “ہے جس کی اصل قدر و قیمت کے تعین میں شاہد حمید صاحب کی عظیم الشان لافانی شخصیت کے مضمر ات پنہاں ہیں ۔
فلسفۂ خودی اور شاہد حمید کی کامل شخصیت
کامل شخصیت اورخودی کےنظریے کے ابتدائی مدارج میں تخلیقی فعالیت نمودار ہوتی ہے۔یہی خودی جب فرد کی محدودیت سےلا محدودیت کی جانب قدم بڑھاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ فر د کی آزادی کی علم بردار، یہی فلسفۂ خودی ہےجو دراصل انسانی شخصیت کی پہچان ،ا س کی خواہشات اور اس کے دوام پرسوال اُٹھاتی ہے اور جواب بھی اسی خودی کے فلسفے سے برآمد ہوتاہے۔ شاہد حمید صاحب کی شخصیت، گفتگو،لین دین ،ان کے برتاؤ،عملی و عائلی زندگی میں ان کے رویوں کے بارے میں آپ کے صاحب زادے جو باتیں احاطہ ٔ تحریر میں لے کر آئے ہیں ان لفظوں میں موجود سچائی نہایت اہم اور مبنی بر حقیقت ہے ۔ علم الرجال کے مراحل بھی یہی ہوتے ہیں کہ روایت بیان کرنے والی کی شخصیت بھی مدنظر ہوتی ہے ۔
“پاپا”: ایک مربی اور رول ماڈل کی تصویر
کتاب کا پہلا مضمون”پاپا” ہے ۔یہ مضمون آپ کے بڑے صاحب زادےگگن شاہد صاحب نے تحریر کیا ہے۔مذکورہ مضمون کے یہ سطور نہایت اہم ہیں کہ “شاہد حمید صرف والد نہیں تھے۔دوست تھے،مربی تھے،محسن تھے،اُستاد تھے،entrepreneurتھے،صاحب ِ ذوق تھے،کتاب دوست تھے،آرٹسٹ تھے،وہ ہمارے لیے جدوجہد اور ہمت کا استعارا تھے اور بہترین رول ماڈل تھے۔”ایک بیٹے کی جانب سے یہ الفاظ آپ کی خوبیوں کی مدلل معنویت کا واضح اور پرُخلوص اظہار ہیں ۔
احترامِ آدمیت اور فکری وسعت
“اے عشق جنوں پیشہ”میں موجود تمام مضامین شاہد حمید صاحب کے فکرو خیال کے وسیع اقلیم سے عبارت ہیں اور ان مضامین میں آپ کی زندگی کے جان دار تقاضوں اور زندہ معاشرتی قدروں کی تقویت کے احساس کو کمال خوبی سےبیان کیا گیا ہے ہے۔یہ شاہد حمید صاحب کی ایسی خوبیاں ہیںجومعاشرے کے لیے ہمیشہ زرِ کامل عیار ثابت ہوتے ہیں ۔آپ کا تخصیصی پہلو یہ ہے کہ امر شاہد صاحب آپ کے دوسرے صاحب زادے نے بھی تحسین و عقیدت کا بزبانِ شعر اظہار کیا ہے اور اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ شاہد حمید صاحب کے حیات کے مختلف النوع گوشوںکی مرکزیت میں احترامِ آدمیت ، احترام ِ کائنات،احترام قلم و کتاب اور عرفانِ خودی کا صیغہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک ایسے فرد کا رویہ ہے جس کی ذات میں انسانی فطرت کی سچائی ، غیر محسوس انداز میں مسلسل شامل رہتی ہے ۔
تعمیرِ خودی اور موت پر فتح
ایک ایسا انسان جو ایک مختلف،بہتر اور کامل دنیا کی تعمیر کی خواہش میں مبتلا ہے۔ آپ کی شخصیت میں ایسی قوت ِ ارادی اور توکل کی نعمت کی شمولیت تھی جو کسی بھی وجود کو کام یابی اور کامرانی کا متلاشی بناتا ہےاور اس عرفان ذات کا سرچشمہ فرد کی موضوعیت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا؎
ہو اگر خود نگر و خودگر وخود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
کتاب کی بقا اور احیائے علم کے لیے جدوجہد
شاہد حمید صاحب نے توقیر نفس، عرفان نفس اور اپنے فلسفۂ زندگی میں سہل پسندی سے پہلو تہی اور بصیرت افروز انداز کو اختیار کر کے اپنےفکری قد و قامت اور مقام کو مفکرین و دانشوران کے سامنے متعین و واضح کیا ہے اور آتشِ رفتہ کے ایسے سراغ فراہم کیےہیں کہ کھوئے ہووؤں کی جستجو کے اسرار کی وضاحت ہوتی ہے۔ آپ کی شخصیت میں تاریخی اور وہ ابدی حقائق موجود ہیں جو آپ کے بعد بھی لوحِ محفوظ سے محو نہیں ہوسکے گا ۔
آپ نے دنیائے کتب میں انسانی فکری رجحانات اور نفسیات کا تجربہ و تجزیہ مدلل بنیادوںپر کیا ، مطالعے کا دائرہ وسیع کیا اور مطالعےکے ذوق و شوق کوزمان و مکاں کی سی وسعت عطا کی ۔ ان تمام باتوں کی روشنی میں شاہد حمید صاحب کے ان نظریات وسعی ٔ پیہم کی تصدیق و تائید ہوتی ہے کہ آپ نے کتاب کی بقا اور اس کے احیا و استحکام کی تشکیل کو ممکن بنایا ہے۔ آپ مطالعہ ٔ کتب کی فکری جہات اور معنویت کی وضاحت اپنے عمل سے کرتے ہیں ۔
یہ فکری جہت دراصل شاہدحمید صاحب یہاں خالقِ کائنات کے ساتھ یقین و اعتماد کی حامل رہی ہے کیونکہ خالق ِ کائنات کا پیغام بھی الکتاب ہے۔ گویا انسان کی تخلیقیت میں قلم و قرطاس کی اہمیت خالقِ کا ئنات کی عظیم پکار کا جواب ہے۔ بلا شبہ شاہد حمید کا نظام فکر اس عظیم پکار کے جواب کےموضوعات و مباحث سے تشکیل پاتا ہے۔آپ اپنے رویوں میں بہت متنوع ہونے کے ساتھ ساتھ علم و شعور کی مرکزیت سےمعمور ہیں۔ آپ تخلیق ِ آدم اور انسان کا مقصد حیات، خیر و شر، قوموں کا عروج و زوال، موت و حیات کی حقیقت اورموجودہ تہذیب کی دشواریوں سے نوع انسانی کی نجات کا طریقہ،ان سب کی اساسیت کتاب کو قرار دیتے ہیں ۔
سیلف میڈ انسان اور جنونِ کامیابی
شاہد حمید صاحب کے نظریات کی بنیادیں انسانی وجود کو جدوجہد کی نظریاتی حظ سے آشنا کراتی ہیں۔یہ وہی جدوجہد ہے جس کی بنیاد پر فرد اپنا جہان تخلیق کرنے کی استعداد اور حوصلہ رکھتا ہے۔رؤف کلاسرا صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ”سیلف میڈ لوگ بھی کمال کے ہوتے ہیں ۔۔۔کامیابی لہو مانگتی ہے،محنت مانگتی ہے۔ایک جنون ،ایک پاگل پن درکار ہے۔گھر بیٹھے کچھ نہیں ملتا۔گوتم کی طرح نروان پانےکے لیے سات دریا اور سات جنگل عبور کرنےپرتیں ۔شاہد حمید صاحب نے یہی کیا”
البیغ کامو کا باغی اور شاہد حمید کی انفرادیت
البیغ کامو(Albert Camus) کی کتاب The Rebel میں مصنف نے ان خصائص کو آدمیت کی اساس قرار دیا ہے۔البیغ کامو کہتا کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی شخص پرانی روایات اور سماجی و مذہبی تحریکات کی اسیری میں اپنی زندگی گزار سکتا ہے مگر انسانی زندگی میں وہ خطِ فاصل اہم ہے کہ کہ جس کے سبب سے فرد اخلاقیات ، اقدار اور تحریکات کی فرسودگی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔یہ خط ِفاصل بک کارنر جہلم کے بانی اور اس کےروح رواں شاہدحمید صاحب کے یہاں کمال خوبی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ آپ کے یہاں فرد اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوتا۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اپنی ذات کی معراج کے لیے انسان کو اپنی جدودجہد کی دست برداری سے گریز کرنا پڑتا ہے وگرنہ وجود ِ آدمیت ، بدعقیدگی (bad faith)یا غیر مصدقہ وجود میں تبدیل ہوجائےگا۔
خدا پر توکل اور خوابوں کی تعبیر
شاہد حمید صاحب کے نزدیک جدوجہد ِ مسلسل اور خدا کی ذات پر کامل توکل درحقیقت انسان کی اپنی ذات کی تفہیم ہے جو اس کی ذات کی استواریت ، استقامت اور یقین کی ہم آہنگی کا امتزاج ہے ۔شاہد حمیدصاحب اس اصول ِ تخلیق کے حد درجہ قائل تھے ۔آپ کے رویے میں فلسفہ ٔ زمان و مکاں بہت اہمیت رکھتا تھا اور یہی اللہ تعالی کی تدبیر عام کا مظہر ہے جو افتخار عارف صاحب جیسے صاحب علم و کمال کے جملوں میں پنہاں ہے کہ “جب بھی جہلم کی طرف سے گزر رہا ہوتا ہوں یابک کارنرکی کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں، مجھے بڑے شاہد صاحب بڑے یاد آتے ہیں۔وہ جہاں بھی ہوں گے بہت مطمئن بہت خوش ہوں گےکہ امر اور گگن نے ان کے ایک خواب کو تعبیر سے ہمکنار کیا ہے۔” بلاشبہ یہ سطور شاہد حمیدصاحب کی شخصی تفہیم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔شاہد حمیدصاحب کے یہاںیہ تدریجی مراحل اپنی بے پناہ دریافتوں اور انکشافات سے گزرتے ہیں اور کردار کا یہ شعور ، دریافت و استعجاب کی مکانی ؎ کشش سے گزر کر زمانی خلا کو پرکردیتا ہے
اپنی دنیا آپ پیدا کر، اگر زندوں میں ہے
جہدِ مسلسل اور بیکراں تمنائیں
خالق کائنات نے ایک خاص انداز میں اپنی جود و عطا سے ہر ڈھونڈنے والے کو نئی دنیا کی نشانات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔شاہد حمیدصاحب کی طبیعت کے مثبت و روشن خیال جواہر، معقولیت اور توانائی سے معمور جذبے، حیات اور روح کی غایت بالیدگی ، تعقل اور فکری آگہی پر مشتمل نظریات نے آپ کی بے مثل شخصیت کوآپ کےامکانی نشونما کے مدارج کا استعارہ قرار دیاہے ۔
فاؤسٹ کا کردار بھی بیکراں تمناؤں کا مجموعہ ہےجو عالم امکاں کی تسخیر کے خواب دیکھتا ہے اور نجات کے لیے ترکِ آرزو کا قائل نہیں۔اس کے نزدیک انسانی قلب میں موجود آرزوؤں کی تخلیق میں ہی زندگی کا راز پوشیدہ ہے اوروہ اپنی جہدِ مسلسل اور اپنے جذبہ ٔ ایثار کے سہارے منفرد و مختار بن سکتا ہے
؎”کچھ کام نہیں بنتابے جرأت ِ انداز” ۔
اور یہ بھی کہ “کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک”۔
اقبال کا مردِ مومن اور شاہد حمید کی مرکزیت
اقبال کے صاحب ادراک اور شاہدحمید صاحب میں یہ قدرِمشترک ہے کہ ہردو کے رویےانسانی جذبِ دروں پر اکتفا کرنے اور اپنی انسانی موضوعیت سے فرد کے بے مثل وجود کے تجربے کو حقیقت کی رسائی عطا کرتے ہیں۔گویا شاہدحمید صاحب اس حقیقت سے روشناس ہیں کہ اولاً اپنے وجود کی داخلی صفات سے آگہی حاصل کرلی جائے بعد ازیں تگ و تاز اور جدوجہد سے تجدید اور اجتہاد کا در بھی واکیا جائے تاکہ ذہن کی آزادی اور ارتقائی حرکیات کے قوانین کو اپنی زندگی میں لازم و ملزوم رکھا جاسکے۔
آپ نے اپنی زندگی میں اس فلسفے کو بڑی شد و مد کے ساتھ مدنظر رکھاکہ فرد محض اپنےزمان و مکاں میں محدود و مقید نہیں بلکہ اپنی ذات کے اثبات کے لیے اُسے اپنے ہی جیسے افرادِ سے ایک نامعلوم وابستگی کے رشتے میں بندھنا لازم ہے ۔ شاہدحمید صاحب ہمیشہ اس بات پر زور تھے کہ تقلیدِ محض سے زندگی کی تعمیر و توسیع نہیں ہوسکتی۔وسیع و عظیم تر مقصد کے لیےاپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت کا اظہارحسن رضا گوندل کے مضمون میں بھی ہوتا جب وہ کہتے ہیں کہ “ان سے ملاقات کا وعدہ پورا نہ ہوسکا۔مگر نہیں ۔۔۔شاہد حمید کہیں نہیں گئے۔۔وہ گگن شاہد اور امر شاہد کے روپ میں موجود ہیں ۔وہ بک کارنر سے چھپنے والی ہر کتاب میں موجود ہیں۔ہر کتاب کے ٹائٹل کے پس منظر میں ان کا ہنستا مسکراتا پر رونق چہرہ موجود ہے ۔جب بھی کوئی کتاب کھولتا ہوں ان سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ جب تک بک کارنر موجود ہے۔جب تک کتاب موجود ہے۔ شاہد حمید موجود ہیں ۔”
وجودیت اور خود آگہی کا سفر
وجودیت کے فلسفے میں فرد کی خود آگہی کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ انسان کو اس کے باطن سے متعارف کراتا ہےجو اس کی شعوریت کا جزو لازم بن جاتا ہے۔ شاہدحمید صاحب کی شخصیت بھی در حقیقت ایسی ہی تھی کہ شعور کی باطنی گہرائیوں سے ان کی خودی کی حقیقی ماہیت اور ان کا شخصی جوہر منکشف ہوتا ہے۔ نطشے کا فوق البشر ہویا اقبا ل کا مردِ کامل،زندگی کے کشاکش اور مصائب سے کمال متانت کے ساتھ نبرد آزما ہونا اُسے اپنی اور دوسروں کی نظروں میں افضل اور برتر بنادیتا ہے ۔ مادی دنیا اس کے سامنے مثلِ خس و خاشاک ہوجاتی ہے اور وہ توکل و وضع داری کی نعمت کی سرفرازی کی بدولت اپنے ہونے کا اقرار کر کے دراصل اپنی خودی کی تکمیل کرتا ہے ۔
شخصی و نظریاتی وسعت اور وضع داری
جذبے کی یہ شدت فرد کے باطن میں کائنات کی سب سے اہم حقیقت کے فہم کا احساس بیدار کرتی ہے ۔ شاہدحمید صاحب کے یہاں فہم و ادراک کی یہ خوبی جب فرد کی محدودیت سے اس کی وسعت کی جانب قدم بڑھاتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فر د کی شخصی و نظریاتی وسعت کی علم بردار ہے۔عناصر کا یہ امتزاج آپ کی شخصیت کی پہچان ،ا س کی خواہشات اور اس کے دوام پرسوال اُٹھاتی ہے اور جواب آپ کی زندگی کے فلسفے سے ہی برآمد ہوتاہے اسی لیےصدف مرزا صاحبہ کا یہ کہنا کس قدر درست اور سچ ہے کہ”شاہد برادران نے ورثے میں اپنے والد کی وضع داری پائی ہے”؎
کہتا ہے کون عمر ِ رواں لوٹتی نہیں
جا میکدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا
سارتر کی وجودیت اور انسانیت کی خیر خواہی
سارتر نے وجودیت (Existentialism) کے فلسفے کو نئے رنگ عطا کیے ہیں جس میں انسانی ذہن کے اکتشاف و بازیافت کے هزارہا مثبت و منفی ،ہر دوپہلو کبھی مخفی اور کبھی موجود ہوتے ہیں جو کبھی معاون اور کبھی مزاحم کی حیثیت سے انسانی فطرت میں اپنے اظہارات کو راستہ دیتے ہیں ۔اس فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو شاہدحمیدصاحب نے اپنے نظام ِ فکر میں انسانیت اور زندگی کی خیر خواہی کاایک راست زاویہ متعین کرنے کی سعی کی ہے اوریہ پیغام دیاہےکہ شر کے برعکس خیر اور سلامتی سے معمور فتح،بہر صورت حضرت انساںکا ہی مقدرہے۔
آپ نے عالم آب و خاک میں گفتگو، تجزیات،رائے عامہ اور تجاویز کو لفظ کی تجسیم کی عطا ئی کی قدر و قیمت کا درست اندازہ کیا ہے اور علم و شعورکے جہانوں کومعلوم و یقینی ترتیب میں تبدیل کرنے کی عظیم سعی بھی(Noble Enterprise) کی ہے۔ آپ کا عشق ِ کتب ان تمام باتوں کا گواہ اور مدلل و مستند بنیادوں پر قائم ہےاور یہ الفا ظ جن تاریخی و بشریاتی معنوں میں ادا کیے گئے ہیں ان کی نثری تفہیمات شاہدحمید صاحب کی کتاب “اے عشق جنوں پیشہ” میں اپنی مکمل معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔
درونِ ذات کی فکری صلاحیتیں
کتاب میں موجود متن کامطالعہ قاری پر واضح کرتا ہے کہ فکری و بشریاتی خوبیوں کے اظہارات اپنی درون ِ ذات (Self Conscience)ے برآمد کرنے کے ہنر کا واضح و بین اظہار شاہدحمید صاحب کی شخصیت میں نمایاں ہیں ۔آپ کی کثیر جذبی صلاحیتوں (Hybrid abilities)نے معاشرت و ثقافت کے مختلف النوع پہلوؤں کی نمائندگی نمایاں و ممتاز خطوط پر کی ہے۔
اسپنگلر(Oswald Spengler) نے اپنی کتاب “زوال ِ مغرب ” میں عالمی تاریخ کے مسائل کو تصورِ قضا و قدراور اُصولِ علیت(Causality) کی روشنی میں بیان کیا ہےاور ان ہی اصولوں کو تعمیرِ عالم کی اساسیت تسلیم کیا ہے۔ انسان کی عالمی بصیرت، اس کی عالمی آرزو کو جنم دیتی ہے جسے وہ قضا و قدر کی لازمی صورت کو تسلیم کرنے کے باوجود ہمہ وقت کائناتی مسائل کے حل کی جانب متوجہ رہتا ہے اور حیات و موت کے علت و معلول (Cause and Effect)کے رشتے کو پائیدار سمجھتا ہے۔صدف مرزا لکھتی ہیں کہ”قرطاس و کتاب سے جنونی عشق کرنے والی ہستی کو کاتبِ کائنات،عشق کی کتاب کے صفحۂ اول پر نورانی لفظوں میں لکھے گا۔آمین” اور یہ بھی کہ “یہ نور بھرا چراغ تو تہہ خاک بھی روشن ہے۔”
تخیل کی قوت اور صوفیانہ اختصاص
ابن ِ عربی نے تخیل(Thought) کی تخلیق کو تخلیقات میں عظیم تر قرار دیا ہےاور اس تخیل کو دو دنیاؤں میں منقسم کرتے ہوئے اسے حواس اور تجرید کے نام سے موسوم کیا ہے۔حواس اور تجرید اپنی فطری صلاحیتوں کے زیر ِ اثراپنے آس پاس ہونے والے واقعات و حوادث کی پیش بینی کرسکتے ہیں اور یہی دور اندیشی، عقل و شعور کی مدد سے انسانی معاشرت اور انسانی ارتقا کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
شاہدحمید صاحب نے بھی اپنے اسی تخیل کی بنیاد پر آفاقی صداقت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر ایک سماجی و ثقافتی تغیر کوسمجھنے کے لیے ان تمام حالات و واقعات کو سمجھنا ضروری ہے جن حالات سے ان ممکنہ تبدیلیوں کا ربط ہے ۔ جمالیاتی بنیادوں پر آپ زندگی کے ان حقائق تک پہنچنے کے لیے حواس ،عقل،فکراور تخیلات کو بہ لحاظ ِ کمیت اوربہ لحاظِ کیفیت ، ہر دو صورتوں میں بروئے کار لاتے ہیں اور جمالیات و رجائیت کے یہ احساسات آپ کے دل کے جذبِ دروں میں آپ کے گہرے و پائیدار مطالعات ِ حیات کے سبب استوار ہوئے ہیں ۔
افتخار عارف جیسے صاحب علم وفکر شخصیت نے شاہدحمید صاحب کی ان ہی صوفیانہ اختصاصی خوبیوں کے لیے یہ الفاظ کہے کہ “کتاب پسپائی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ایسے میں یہ خبر کسی بشارت سے کم نہیں تھی کہ شہرِ جہلم میں کہ جس کی غالب شناخت عسکری رہی ہے،ایک کتاب گھر وجود میں آیا ہےاور جس کے کرتا دھرتادو نوجوان ہیں ،گگن شاہد اور امر شاہد۔ان کی پُشت پناہی ان کے والدِ بزرگوارحضرت شاہد حمید کرتے رہے۔حیرت ہوئی کہ جانتے بوجھتے بیٹوں کو ایک اوکھے کام پر لگانے والا آدمی کتاب اور صاحبانِ کتاب کا عاشق ضرور ہوگا۔”
دردمندی اور تہذیبی شعور
ولیم شیکسپیئر نےThe Tempest میں اپنے ایک کردار Mirandaسے یہ مکالمات کہلوائے تھے کہ “O, I have suffered with those that I saw suffer!”۔ شاہدحمید صاحب کے یہاں بھی گفتگو کےموضوعات، مطالعات ِ کتب و اشاعت ِ کتب میں آپ کے فکری بیانیے اور ان کی پیش کش کا انداز آپ کی ذہنی ،قلبی اور نفسیاتی جدوجہد تک پہنچنے کی کلید ہے جو آپ نے ساری عمر کمال شعور،سمجھداری ،بہادری اور جذبہ ٔ حب الوطنی کے ساتھ انجام دی۔یہ دردمندی اور احساس،تہذیبی شعور کی کلیت(Holistic) کے سبب سے ہی آپ کی زندگی میں شمولیت پاتی ہیں۔
شاہد حمید صاحب کی دور بینی نے یہ بھانپ لیا تھا کہ سماجی اور معاشرتی نظام کے اَن مِٹ اور لازوال ہونے کے لیے یہ لازم ہے کہ انسانی تواریخ اپنے فکری تغیرات اور نظریاتی میلانات کی متضاد کیفیات کے باوجود یک قالب ہوکر اپنے اثرات میں یکسانیت لیے ہوئے ہوتی ہے لہٰذا مختلف النوع ادوار میں جاری و ساری نظاموں کی شکستگی، مرحلۂ تاریخ کا کوئی سرسری یا لمحاتی مطالعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا تسلسل ہمیشہ اور ہر شعبہ ٔ حیات میں قائم رہتا ہے۔
روشنی سے سفر اور وجدان کا انسلاک
منافقت اور نظام ِ زندگی میں مطلب برآری کا عمل تاریخ کو درست طور پر مرتب و مدون کرنےکے عمل سے ہمیشہ ہی گریز کرتا ہے، جب کہ سماجیات کے عمل میں اگر عام آدمی کا چہرہ وضاحت اور واقعیت کے ساتھ دکھایا جائے تو یہی کامیابی و فلاح کی علامت ہے۔”زندگی سے ڈرتے ہو” ن م راشدؔ کی ایک شہرہ ٔ آفاق نظم ہے۔اس نظم کے کچھ مصرعے مثلاً؎
لب اگر نہیں ہلتے،ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں ،راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں،صبح کی اذاںبن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو،روشنی تو ہم بھی ہیں
ا س نظم کے مندرجات کو تدریجی انداز میں برتتے ہوئےحمی شاہد صاحب نے بھی شخصی و فکری بصیرت کو ہم آہنگ کردیا ہےاور اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کی اختصاصی شخصی بصیرت (Specialized Individual Acumen) آپ کے خیالات میں ایک پختہ اور مثبت فکر کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔حالات کے درست ،صریح اور مبنی بر حقائق احساس ِ ادراک نے آپ کےذوقِ کتب کی تخلیقی لَے (Taste of Creation) کو نہایت اثر انگیز اور پائیدار انسانی عظمت کا شاہ کاربنادیتے ہیں ۔ شاہدحمیدصاحب کے وجدان کا زندگی کے شعور سےرفتہ و پیوستہ انسلاکی ربط یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی عملی زندگی میں انسانی سچائی اپنی بقا کی تلاش میں سرگرداں و متمنی رہی تھی اور پیہم ہے۔
حرفِ آخر: تکمیلیت کا سفر
پیٹر واٹسن (Peter Watson) نے کہا تھا کہ کائنات کی اساسیت عقلی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہی عقلی بنیادیں ،زاویہ ٔ نظراور فکری رجحانات شاہد حمید صاحب کی شخصیت،تصورات ، ان کی تخلیقی مظاہرات اور جہلم کی فضاؤں میں موجود بک کارنر، گگن شاہد اور امر شاہد کی شخصیات میں اپنی تکمیلیت تک رسائی پاتے ہیں۔ بقول اقبالؒ؎
اسی کش مکش میں گزریں مری زندگی کی شامیں
کبھی پیچ و تاب ِ رازی،کبھی سوز و ساز ِ رومی
ڈاکٹر صائمہ ذیشان کے مزید کالم پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں




