کیا آپ نے کبھی ایسی شخصیت دیکھی ہے جس کی زندگی ایک پرفیکٹ “مکس پلیٹ” کی طرح ہو؟
ایک طرف بچپن کی شرارتیں جو اب بھی ہنسی کے قہقہے اڑاتی ہیں، دوسری طرف جوانی کی سیاسی آگ جو نظریات کی جنگ لڑتی رہی، اور درمیان میں انسانی رشتوں کی وہ خوشبو جو دل کو چھو لیتی ہے۔
آج بات کرتے ہیں ایسی ہی ایک کتاب کی *”مکس پلیٹ”* از *ظفر عالم طلعت* — جو کراچی کی سیاست، ادب، سماج اور زندگی کے رنگوں کا ایک رنگین، چٹخارے دار مجموعہ ہے۔
کچھ عرصہ قبل *Zikrekitab.com* ذکر کتاب کے یوٹیوب چینل پر اس کتاب کا ایک تبصرہ سامنے آیا تھا۔ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے، لیکن کم ہی لوگوں نے سنی۔ مگر جن لوگوں نے وہ ویڈیو دیکھی انہوں نے پسند ضرور کی ،۔ آج میں اسی تبصرے کی روشنی میں، تھوڑی سی چاشنی اور بہت ساری شگفتگی کے ساتھ یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔ اگر یہ پڑھ کر دل کرے تو مکمل 24 منٹ کی وہ ویڈیو ضرور سنیں یقین جانیں، وقت ضائع نہیں ہوگا!
یہ کتاب محض کاغذ پر لکھی ہوئی تحریروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ *زندگی کے مختلف ذائقوں* کا ایک انوکھا پلیٹ ہے:
– کبھی تیز مرچ والی شرارتیں
– کبھی میٹھی یادوں کی چٹنی
– کبھی سیاسی جدوجہد کا کڑوا ذائقہ
– اور ہر لقمے میں انسانی رشتوں کی گرمجوشی
اردو ادب میں خاکے اور یادیں لکھنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، لیکن ظفر عالم طلعت نے اسے ایک نئی جہت دی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں ایسا ہے کہ پڑھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور دل میں کبھی کبھار ایک ہلکی سی کسک بھی چھو جاتی ہے۔
کتاب کیسے بنی؟ (ایک مزاحیہ الزام تراشی!)
کتاب کے شروع میں مصنف نے ان لوگوں کے نام لکھے ہیں جن کے “اصرار” سے یہ کتاب وجود میں آئی۔
حیرت کی بات — ان ناموں میں *تبصرہ نگار* کا نام بھی شامل ہے!
تبصرہ نگار صاحب کہتے ہیں:
“ارے بھئی! میں نے تو مذاق میں کہا تھا کہ ‘ظفر صاحب، آپ کی یادیں لکھ ڈالیں نا!’
وہ سچ مان بیٹھے اور کتاب شائع کر دی۔ اب مجھے بھی موردِ الزام ٹھہرا دیا!
حالانکہ میرا تو ادب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا!”
بیگم صاحبہ: اصل ہیروئن (اور ڈانٹ کی ماہر!)
ظفر صاحب نے بڑے پیار اور مزاح سے لکھا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے… لیکن میرے پیچھے تو *پوری کی پوری بیگم صاحبہ* کھڑی تھیں!
“شادی سے پہلے میں ایک کھلی کتاب تھا،
شادی کے چالیس سال بعد قلم نگاری اور شوخی سب جیسے غائب ہو گئی۔
بیگم اکثر فرماتیں: ‘کوئی کام کی بات لکھا کرو، یہ الٹی سیدھی تحریریں تو لوگوں کے سر سے گزر جاتی ہیں!'”
بیگم کی ڈانٹ نے ہی تو کتاب مکمل کروائی یہ “undue influence” تو قانون میں بھی چل سکتا ہے!
بچپن: شرارتوں کا طوفان
ظفر صاحب بچپن میں اتنے چلبلے تھے کہ ایک والد کے دوست نے حیرت سے پوچھا:
“یہ لڑکا ماں کے پیٹ میں بھی اتنا بے چین رہا ہوگا… باہر نکلنے کے لیے تڑپ رہا ہوگا!”
یہ جملہ پڑھ کر ہنسی روک نہیں پاتی!
طالب علمی اور جمعیت کا سنہری دور
کتاب میں اسلامی جمعیت طلبہ کے وہ جادوئی دن بیان ہوئے ہیں جہاں نظم و ضبط، ذمہ داری اور مزاح سب ساتھ ساتھ چلتے تھے۔
نظامت کے فرائض، الیکشنز کی چکا چوند، اور طلبہ لیڈرشپ سب کچھ بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
ایک جگہ تو لکھا ہے کہ زیر تربیت ناظم نے گھر گھر رابطے میں اتنا زور لگایا کہ کواڑ کی آڑ سے ایک ہاتھ نکلا جس میں روٹی اور تھوڑا سا سالن تھا — گویا “بھائی، بھوکے مر رہے ہیں، تقریر بعد میں!”
انسانی رشتوں کی گرمجوشی
کتاب کا سب سے خوبصورت حصہ میاں بیوی کے پیار، وفاداری اور قربانیوں کے قصے ہیں۔
کرنل جمیل اور ان کی اہلیہ کی کہانی، والدین کی بیماری میں بیگم کی بے لوث خدمت یہ سب پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
یہ بتاتا ہے کہ سیاست اور جدوجہد کے بیچ بھی *انسانیت* سب سے بڑی طاقت ہے۔
کراچی کی سیاست: پوشیدہ، سنسنی خیز کہانیاں
ظفر صاحب نے کراچی کی سیاسی تاریخ کے کئی اہم رنگ بیان کیے ہیں۔
تبصرہ نگار نے دو ایسی دلچسپ کہانیاں بھی بتائیں جو کتاب میں شامل نہیں ہو سکیں:
– ایک مرتبہ *الطاف حسین* کو گرفتاری سے بچانے کے لیے جماعت اسلامی کے ایک رکن کے گھر کئی دن روپوش رکھا۔
– دوسرا وہ خطرناک لمحہ جب ایک جماعت اسلامی کے خاندان کو مسلح محاصرے سے بچانے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنماؤں سے مدد لی۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ مشکل وقت میں انسانیت کی سرحد پار کرنا کتنا مشکل اور کتنا ضروری ہوتا ہے۔
آخری لقمہ: کیا حاصل ہوا؟
“مکس پلیٹ” پڑھ کر (یا اس کی ویڈیو سن کر) آپ کو یہ سب ملے گا:
– ہنسی کے قہقہے
– سوچنے پر مجبور کرنے والے لمحات
– کراچی کے پرانے دور کی جھلک
– سیاسی تاریخ کے پوشیدہ گوشے
– اور سب سے بڑھ کر *انسانی رشتوں کی اہمیت* اور مشکل میں ثابت قدمی کا حوصلہ
یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کی تلخیوں کو ظرافت کے لبادے میں کیسے پیش کیا جائے۔
اور ہاں، یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے اکثر بیگم کی ڈانٹ کا ہاتھ بہت مضبوط ہوتا ہے!
*اگر آپ زندگی میں تھوڑی سی شگفتگی، سچائی اور چٹپٹے پن کا ذائقہ چکھنا چاہتے ہیں تو “مکس پلیٹ” ضرور پڑھیں (یا ویڈیو سنیں)!*
کتاب کی تفصیلات:
– نام: مکس پلیٹ
– مصنف: ظفر عالم طلعت
– *ناشر:* نی Foundation، کراچی
– قیمت: 1000 روپے
آپ نے کتاب پڑھی ہے یا ویڈیو سنی ہے؟ کمنٹس میں اپنے تاثرات ضرور شیئر کریں ظفر صاحب کی شخصیت اور ان کی یادیں شیئر کرنے کا بہترین موقع ہے!
(اگر آپ Zikrekitab کی ویڈیو نہیں دیکھی تو لنک تلاش کر کے ضرور سنیں وہ 24 منٹ زندگی کے مزے دار لمحات کا خزانہ ہیں!)
کیا خیال ہے؟ پلیٹ تیار ہے — اب بس کھانا شروع کریں!

