سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک: عزم و استقلال کی ایک داستان
سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک کا سفر کوئی معمولی داستان نہیں، بلکہ یہ خوابوں اور حقیقت کے اس تصادم کی کہانی ہے جہاں جیت ہمیشہ سچی لگن کی ہوتی ہے۔ کیا ایک معمولی سپاہی اسسٹنٹ کمشنر بننے کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ ایک ایسا نوجوان جس پر قتل کا جھوٹا مقدمہ ہو اور اسے گھر سے بھاگنا پڑے۔ حالات کی ستم ظریفی اسے کہاں سے کہاں لے گئی، آئیے جانتے ہیں۔ آج میں آپ کی توجہ ایک ایسی کتاب کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس کا عنوان ہے “سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک”۔ یہ کتاب صرف ایک آپ بیتی نہیں، بلکہ عزم کی ایک لازوال داستان ہے۔
ابتدائی حالات اور تعلیمی پیاس
اس شاہکار کتاب کے مصنف عبدالغفور چوہدری صاحب ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے۔ وہ ایک ایسے روایتی گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں تعلیم کا دور دور تک چرچا نہ تھا۔ ان کے والدین بالکل ناخواندہ تھے اور ان کا آبائی پیشہ کاشتکاری تھا۔ مگر اس بچے کے خواب بہت بڑے اور ہمت ہمالیہ جیسی تھی۔ آپ تصور کریں، اس دور میں وہ اسکول جانے کے لیے کیا کرتے تھے۔ وہ روزانہ بارہ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی، روایتی شلوار قمیض میں ملبوس اس بچے کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے۔
آزمائش کا دور: جھوٹا مقدمہ اور روپوشی
ابھی میٹرک کا امتحان پاس ہی کیا تھا کہ زندگی میں ایک کٹھن آفت ٹوٹ پڑی۔ سیاسی مخالفین نے ان پر قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ گرفتاری کے خوف سے انہیں اپنا گھر اور اپنا پیارا گاؤں چھوڑنا پڑا۔ ایک مفرور کے طور پر وہ لاہور پہنچے اور پاک فوج میں بھرتی ہو گئے۔ وہاں وہ ایک ٹیکنیکل اسسٹنٹ یعنی سپاہی کے طور پر کام کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد اصل قاتل پکڑا گیا اور وہ اس جھوٹے مقدمے سے بے گناہ قرار پائے۔
فوجی وردی اور تعلیمی سفر کی جدوجہد
عبدالغفور صاحب نے سپاہی کی وردی پہن کر قناعت نہیں کر لی۔ انہوں نے وردی میں رہتے ہوئے بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اس کتاب پر نہایت خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کامیابی دراصل محنت کا دوسرا نام ہے۔ دنیا میں جو بھی کامیاب ہوا، اس نے مشقت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ عبدالغفور صاحب نے سپاہی ہوتے ہوئے انٹر کے امتحان میں پورے بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک کا یہ مرحلہ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ناکامیاں اور منزل کی تبدیلی
انہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ مگر بینائی کی کمزوری ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔ کوئی اور ہوتا تو شاید یہاں ہمت ہار کر بیٹھ جاتا اور اپنی قسمت کو روتا۔ مگر انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنا رخ بدلا اور سول سروس کی طرف مڑ گئے۔ پرائیویٹ امیدوار کے طور پر انہوں نے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ پھر ایم اے اسلامیات، سیاسیات اور انگریزی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے ایل ایل بی بھی کیا اور اپنے تعلیمی سفر کو رکنے نہیں دیا۔ یہ مسلسل جدوجہد ہی دراصل سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک پہنچنے کا زینہ بنی۔
کامیابی کا سورج: پی سی ایس میں اول پوزیشن
1993 میں انہوں نے پہلی بار سی ایس ایس (CSS) اور پی سی ایس (PCS) کے امتحانات دیے۔ پہلی کوشش میں ناکامی ہوئی، مگر وہ مایوس نہیں ہوئے۔ اگلے ہی سال دوبارہ امتحان دیا اور اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات ہوئے۔ ان کا سفر یہاں بھی نہیں رکا، انہوں نے اپنی راتوں کی نیندیں قربان کر کے محنت جاری رکھی۔ بالآخر 1996 میں پی سی ایس کے تحریری امتحان میں پورے پنجاب میں اول آئے۔ وہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ درجہ اول مقرر ہوئے۔ ایک سپاہی اب انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کر رہا تھا، اور یوں سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک کا خواب حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔
سرکاری ملازمت اور دیانت داری کے امتحان
انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں دیانت داری اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے پاکستانی بیوروکریسی کے تلخ حقائق اور نظام کی خامیاں بھی کھل کر بیان کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سیاستدان کرپشن کی سرپرستی کرتے ہیں اور کس طرح ایک ایماندار افسر کے لیے سسٹم میں جگہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں اسی ایمانداری کی پاداش میں نیب کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کچھ دن حوالات کی سلاخوں کے پیچھے بھی گزارنے پڑے۔ مگر ہمیشہ حق کی جیت ہوتی ہے اور وہ تمام جھوٹے الزامات سے باعزت بری ہوئے۔
حاصلِ زندگی اور پیغام
عبدالغفور چوہدری صاحب کی زندگی اور ان کی یہ تصنیف “سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک” ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ فرش والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، تو عرش والا آپ کے لیے ایسے راستے کھولے گا جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوں گے۔ والدین کی دعائیں سمیٹنا اور مظلوموں کی بددعا سے بچنا ہی اصل کامیابی ہے۔ آج وہ ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور میں ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں، وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور روایتی پاکستانی لباس و وقار کے ساتھ اب بھی خلقِ خدا کی خدمت میں مصروف ہیں۔
نوجوانوں کے لیے نصیحت
میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ ہمارے نوجوان اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔ یہ آپ بیتی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی ہو، تو منزل مل ہی جاتی ہے۔ یاد رکھیے، خدا کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ حالات سے لڑ کر جو اپنی تقدیر بدلتے ہیں، وہی تاریخ بناتے ہیں۔ مایوسی کفر ہے، بس محنت کیجیے اور خدا کی ذات پر کامل بھروسہ رکھیے۔ اگر آپ بھی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں، تو سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک کی یہ داستان آپ کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دے گی۔




