Dr Faiyaz Alam Humanitarian Work: A Journey of Service and Social Change

Dr. Faiyaz Alam

Dr Faiyaz Alam Humanitarian Work: A Journey of Service and Social Change

قسط 1: طب سے خدمتِ خلق تک کا سفر

انسانی ہمدردی کا آغاز

(Dr faiyaz Alam)  ڈاکٹر فیاض عالم  زندگی طب کے شعبے سے سماجی خدمت کی طرف منتقلی کی ایک متاثر کن داستان ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم  نے مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور اسلامی اداروں کے ساتھ مل کر عاجزی اور بے غرضی کے اصولوں پر مبنی انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔

 ایک معالج کا انسانی ہمدردی میں بدلتا سفر

(Dr faiyaz Alam) ڈاکٹر فیاض عالم انسانیت دوستی کا آغاز ان کے طبی کیریئر کے ابتدائی ایام میں ہی ہو گیا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ایک معالج کا کام صرف دوائیاں لکھنا نہیں بلکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے زخموں پر مرہم رکھنا بھی ہے۔ اسی جذبے نے انہیں کلینک کی محدود دنیا سے نکال کر خدمتِ خلق کے وسیع میدان میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا، جس کی مثال آج فلاحی دنیا میں دی جاتی ہے۔ یہ سفر محض ایک پیشے کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک عظیم مشن کی بنیاد تھی۔

 1971 کے تلخ حقائق اور اردو بولنے والوں کے مصائب

 (Dr faiyaz Alam)  ڈاکٹر فیاض عالم انسانیت دوستی اس وقت ایک کٹھن امتحان سے گزری جب انہوں نے 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس دوران اردو بولنے والی آبادی اور بہاری برادری جس بدترین تشدد اور سماجی بائیکاٹ کا شکار ہوئی، اس نے ڈاکٹر صاحب کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے ان مظالم کو دستاویزی شکل دی تاکہ تاریخ کے ان چھپے ہوئے پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ ان کے نزدیک ان مظلوموں کی آواز بننا بھی خدمتِ خلق کا ایک اہم حصہ تھا، جسے انہوں نے نہایت جرات کے ساتھ نبھایا۔

 قیادت کے لیے تاریخ سے آگاہی کی اہمیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی صرف موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر بھی زور دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی قوم کی قیادت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی تاریخ کے سیاہ و سفید سے واقف نہ ہو۔ انہوں نے نوجوان لیڈروں کو ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ عاجزی اور ٹیم ورک ہی وہ کلید ہے جو بڑے سے بڑے انسانی بحران کو حل کر سکتی ہے۔ تاریخ کا درست فہم ہی ہمیں مستقبل میں کسی بڑے سیاسی یا سماجی حادثے سے بچا سکتا ہے اور اتحاد کی راہ دکھا سکتا ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 1
1# From Healer to Humanitarian: Dr. Faiyaz Alam’s Journey & The 1971 Bangladesh War

قسط 2: مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور عوامی جدوجہد

سیاسی غلطیاں اور عسکری کارروائیاں

 مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچھے کارفرما سیاسی محرکات اور فوجی اقدامات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عالم ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو بالآخر ایک تحریکِ اسلامی سے وابستہ محبِ وطن بنگالی مسلمانوں اور اردو بولنے والے طبقے نے اس تقسیم کے دوران بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں۔ ان کے مصائب اور پاکستان سے ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات اور جانی ضیاع کا کوئی درست ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ دستاویزات کی اس کمی کی وجہ سے آج بھی تاریخ کے کئی پہلو تشنہ ہیں۔ بڑے قومی المیے کا سبب بنیں۔ وفاداری کی داستانیں تاریخ کا اہم حصہ ہیں ایوب خان کے دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی فرق اور اندرا گاندھی کی مداخلت نے حالات کو بگاڑا۔ جنگ کے بعد بہاری پناہ گزینوں کو جن امتیازی سلوک اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ آج بھی ایک حل طلب مسئلہ ہے۔

سیاسی لغزشیں اور انسانی المیے کا آغاز

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی  کا ایک اہم پہلو سیاسی شعور اور عوامی فلاح کا ملاپ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت ہونے والی سیاسی غلطیوں نے جو انسانی بحران پیدا کیا، ڈاکٹر صاحب نے اس کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح اقتدار کی رسہ کشی نے عام انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا اور ایک ہنستی بستی قوم تقسیم ہو گئی۔ ان کے نزدیک سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مفادات کی خاطر انسانیت کو داؤ پر لگانا۔ ان کی گفتگو ہمیں ان اسباب کی طرف لے جاتی ہے جو سقوطِ ڈھاکہ کا باعث بنے۔

بہاری مہاجرین کی قربانیاں اور موجودہ چیلنجز

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا محور ہمیشہ وہ لوگ رہے ہیں جنہیں معاشرے نے فراموش کر دیا۔ بہاری برادری کی پاکستان کے لیے دی گئی قربانیاں بے مثال ہیں، لیکن آج بھی وہ کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور دنیا کو باور کرایا کہ ان کی وفاداری کا صلہ انہیں باعزت شہریت کی صورت میں ملنا چاہیے۔ یہ محض ایک برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی اخلاقی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ ان کی جدوجہد ان مظلوموں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

قوم پرستی کا ابھار اور سماجی ہم آہنگی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی ہمیں سکھاتی ہے کہ انتہا پسندانہ قوم پرستی ہمیشہ تباہی کا باعث بنتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی قوم پرستی کے ابھار نے جس طرح نفرتوں کو جنم دیا، اس نے صدیوں کے بھائی چارے کو ختم کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں لسانی اور علاقائی بنیادوں کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے۔ آج کے پاکستان میں بھی ہمیں ان تلخ تجربات سے سیکھتے ہوئے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ہم دوبارہ کسی ایسے المیے کا شکار نہ ہوں۔ ان کا وژن ایک متحد اور پرامن معاشرے کی تشکیل ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 2
2# Dr. Faiyaz Alam: East Pakistan – Errors, Military Actions, & Unrecorded Tragedies

قسط 3: الخدمت فاؤنڈیشن اور ہسپتال کا قیام

سماجی کاموں کا آغاز (1992)

 ڈاکٹر فیاض عالم نے 1992 میں سماجی خدمت کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کا ابتدائی مقصد کراچی کے پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا، جو بعد میں ایک بڑے نیٹ ورک کی صورت اختیار کر گیا۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت کراچی میں الخدمت کے پہلے منظم آئی کیمپ کا انعقاد ایک سنگِ میل تھا۔ اس کیمپ نے ہزاروں مستحق افراد کو بینائی کی نعمت سے دوبارہ روشناس کرانے میں مدد دی۔ ہسپتال کے قیام میں شمس الدین خالد جیسے مخیر حضرات کا کردار کلیدی رہا۔ مقامی لوگوں کے تعاون اور مالی امداد نے نامساعد حالات کے باوجود اس طبی منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد فراہم کی۔ ہسپتال کے لیے بجلی کے حصول سے لے کر ایمبولینس اور الٹرا ساؤنڈ جیسی سہولیات کی فراہمی تک، ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ (جو خود گائناکالوجسٹ ہیں) اور پوری ٹیم نے انتھک محنت کی تاکہ غریب عوام کو معیاری علاج میسر آ سکے۔

 کا1992 آغاز اور فلاحی طبی کیمپ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے کراچی کے گلی کوچوں میں طبی سہولیات پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔ 1992 میں جب الخدمت کے پلیٹ فارم سے پہلے میڈیکل کیمپ کی بنیاد رکھی گئی، تو مقصد صرف غریبوں کو مفت علاج فراہم کرنا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ماہرانہ ٹیم کے ساتھ دن رات محنت کی تاکہ وہ لوگ جو مہنگے ہسپتالوں کا رخ نہیں کر سکتے، انہیں ان کی دہلیز پر علاج مل سکے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیمپ ہی تھے جنہوں نے بعد میں ایک عظیم الشان ہسپتال کی شکل اختیار کر لی۔ ان کی یہ محنت خدمتِ خلق کے جذبے کی ایک بہترین مثال ہے۔

 الخدمت ہسپتال کی تعمیر اور عوامی تعاون

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کی ایک بڑی کامیابی کراچی میں الخدمت کے پہلے بڑے ہسپتال کا قیام ہے۔ اس پراجیکٹ کے دوران انہیں بے شمار مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ عوامی تعاون اور مخیر حضرات کے بھروسے نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا، اور آج یہ ہسپتال ہزاروں مریضوں کو سستا اور معیاری علاج فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ماننا ہے کہ جب نیت مخلص ہو تو اللہ کی مدد شاملِ حال رہتی ہے اور ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ ہسپتال کی تعمیر ان کے عزم کی داستان ہے۔

 جدید سہولیات اور طبی عملے کی لگن

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا اثر ہسپتال کے ہر شعبے میں نظر آتا ہے، جہاں جدید ترین مشینیں اور ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہسپتال میں الٹراساؤنڈ، ایمبولینس اور لیبارٹری جیسی سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔ اس سفر میں ان کی اہلیہ نے بھی ایک معالج کی حیثیت سے بھرپور ساتھ دیا اور خواتین کے لیے مخصوص او پی ڈی کا آغاز کیا۔ طبی عملے کی تربیت اور مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک ڈاکٹر صاحب کی اولین ترجیح رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ ادارہ عوامی اعتماد کا مرکز بن چکا ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 3
3# Dr. Faiyaz Alam: From Doctor to Humanitarian with Al-Khidmat Foundation

قسط 4: تھرپارکر میں تعلیمی اور طبی اصلاحات

تھر کے قحط زدہ علاقوں میں پہلا قدم

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے انہیں 1998 میں تھرپارکر کے ریگستانوں تک پہنچا دیا، جہاں لوگ بھوک اور پیاس سے نبرد آزما تھے۔ نعمت اللہ خان کی سرپرستی میں انہوں نے وہاں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام شروع کیے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ تھر کے کٹھن حالات اور دشوار گزار راستے بھی ان کے قدم نہیں روک سکے، بلکہ ان مشکلات نے ان کے جذبے کو مزید جلا بخشی۔ وہاں کے باسیوں کے لیے وہ ایک مسیحا بن کر سامنے آئے جنہوں نے صرف راشن نہیں بلکہ جینے کی امید بھی بانٹی۔

 تعلیمی منصوبے اور پسماندہ بچوں کا مستقبل

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی صرف خوراک کی فراہمی تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے تھر کے بچوں کے لیے اسکولوں کا جال بچھا دیا۔ ان کا وژن تھا کہ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس کے ذریعے تھر کی غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ سخت موسم اور وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے اساتذہ کو متحرک کیا اور ریگستان کے دور افتادہ علاقوں میں علم کی شمع روشن کی۔ آج ان اسکولوں سے پڑھنے والے بچے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہیں، جو ڈاکٹر صاحب کی طویل جدوجہد اور تعلیمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 شفافیت اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی  میں شفافیت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے تھر کے منصوبوں کے لیے پاکستان کی پہلی فلاحی ویب سائٹ بنائی تاکہ ہر عطیہ دینے والا اپنے پیسے کا استعمال براہِ راست دیکھ سکے۔ اس نظام نے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ کیا بلکہ عالمی اداروں کو بھی ان کے ساتھ تعاون پر آمادہ کیا۔ شفافیت کے اسی ماڈل کی وجہ سے تھر میں واٹر پراجیکٹس اور ہیلتھ یونٹس کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ثابت کیا کہ ایمانداری اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے فلاحی کاموں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 4
4# From Desert Challenges to Healing Hands Dr Faiyaz Alam’s Tharparkar Transformation

قسط 5: نعمت اللہ خان کی قیادت اور کراچی کی ترقی

ایک عظیم مینٹور کی صحبت

ڈاکٹر فیاض عالم نے نعمت اللہ خان کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو اپنی زندگی کا بہترین دور قرار دیا۔ نعمت اللہ خان نے اپنی قیادت میں بلدیاتی نظام کو عوام کے لیے ایک فعال ذریعہ بنایا اور خدمت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس دور میں میڈیا آرگنائزیشنز کی بنیاد رکھنے اور ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذاتی فنڈز اور جدید حکمتِ عملی سے فلاحی کاموں کی تشہیر کو ممکن بنایا گیا۔نعمت اللہ خان کی قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے شہر میں جاری تنازعات کو حکمتِ عملی سے حل کیا اور کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا۔

 ایک عظیم رہنما کی صحبت اور تربیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کو نکھارنے میں سابق میئر کراچی نعمت اللہ خان کی صحبت کا بڑا دخل ہے۔ ڈاکٹر صاحب ان کے ساتھ مل کر شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں رہے اور ان سے سیکھا کہ کس طرح بڑے پیمانے پر انتظامی نظم و ضبط قائم کیا جاتا ہے۔ نعمت اللہ خان کی قیادت میں انہوں نے فلاحی کاموں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا اور عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر ادا کیا۔ یہ دور ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انہوں نے سیاسی دیانت اور سماجی خدمت کا حسین امتزاج دیکھا۔

 عباسی شہید ہسپتال میں انقلابی تبدیلیاں

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ایک بڑا نمونہ عباسی شہید ہسپتال کی حالتِ زار میں بہتری لانا تھا۔ نعمت اللہ خان کے دور میں ڈاکٹر صاحب نے اس ہسپتال کے انتظامی اور طبی شعبہ جات کی نگرانی کی اور وہاں نیورو سرجری جیسے اہم وارڈز کو دوبارہ فعال کیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ غریب مریضوں کو ادویات اور ٹیسٹ کی سہولیات ہسپتال کے اندر ہی میسر ہوں۔ ان کی ان تھک محنت سے ہسپتال کے عملے کا مورال بلند ہوا اور مریضوں کا سرکاری نظامِ صحت پر اعتماد بحال ہوا۔ یہ ہسپتال آج بھی ان کی خدمات کا گواہ ہے۔

 ٹیم سازی اور میڈیا مینجمنٹ کا ہنر

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی صرف میدانِ عمل تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے فلاحی منصوبوں کی تشہیر کے لیے ایک مضبوط میڈیا ٹیم بھی تشکیل دی۔ ان کا ماننا تھا کہ خیر کے کاموں کو دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس مشن کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے ذاتی وسائل اور محدود بجٹ کے باوجود ایک ایسا انفارمیشن سیل بنایا جو عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حل کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ ان کی اس حکمتِ عملی نے الخدمت اور سٹی گورنمنٹ کے منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر پہچان دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 5
5#Faiyaz Alam on Naimatullah Khan’s Legacy Transforming Karachi Governance,Healthcare

قسط 6: نرسنگ اور طبی تعلیم میں اصلاحات

نرسنگ کے شعبے کی زبوں حالی اور اصلاحات

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی  نے طبی عملے کے ان طبقوں پر توجہ دی جنہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نرسنگ کے شعبے میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور نرسنگ اسٹوڈنٹس کے وظائف میں خاطر خواہ اضافہ کروانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ ڈاکٹر صاحب کا موقف تھا کہ جب تک ہسپتال کا نچلا عملہ خوشحال اور مطمئن نہیں ہوگا، مریضوں کی بہتر نگہداشت ممکن نہیں ہو سکتی۔ ان کی کوششوں سے نرسنگ پروفیشن کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا اور کئی نوجوانوں نے اس پیشے کو اپنایا۔ انہوں نے اس شعبے میں تربیت کے جدید طریقے بھی متعارف کروائے۔

جدید طبی آلات کا حصول اور شفافیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے ہسپتالوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ انہوں نے عباسی شہید ہسپتال کے لیے کلر ڈوپلر الٹراساؤنڈ اور دیگر جدید مشینیں خریدنے میں مکمل شفافیت کو برقرار رکھا تاکہ عوامی پیسے کا صحیح استعمال ہو۔ ان کے دور میں مشینوں کی خریداری کے لیے ایسے معاہدے کیے گئے جن میں طویل مدتی دیکھ بھال اور وارنٹی شامل تھی، جس سے ہسپتال کے اخراجات میں کمی آئی۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایمانداری اور دیانت داری ہی فلاحی اداروں کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

 کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کا وژن

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ایک اور بڑا شاہکار کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے قیام کے لیے کی جانے والی انتظامی کوششیں ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ کراچی کے طلباء کو طبی تعلیم کے بہترین مواقع میسر ہوں اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت کے باوجود اس تعلیمی ادارے کی بنیادوں کو مضبوط کیا تاکہ یہاں سے نکلنے والے ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ تعلیم اور صحت کے اس سنگم نے کراچی کے تعلیمی نقشے پر ایک انمٹ نقش چھوڑا ہے، جو ڈاکٹر صاحب کی بصیرت کا عکاس ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 6
6# Dr. Faiyaz Alam: Healthcare Transformation at Abbasi Shaheed Hospital, Karachi

قسط 7: امراضِ قلب کے ہسپتال اور سفاری پارک کی بحالی

 کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کا قیام

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے کراچی کے شہریوں کے لیے دل کے امراض کے علاج کو آسان بنانے کا خواب دیکھا اور اسے پورا کیا۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز (KIHD) کا قیام ان کی انتھک محنت اور نعمت اللہ خان کے تعاون کا نتیجہ ہے، جہاں غریب مریضوں کو دل کے بائی پاس اور اینجیو پلاسٹی جیسی مہنگی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس ہسپتال کی تعمیر میں ایک ایک اینٹ کی نگرانی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ یہاں کا معیار نجی ہسپتالوں سے بہتر ہو۔ آج یہ ادارہ ہزاروں جانیں بچانے کا وسیلہ بن چکا ہے۔

سفاری پارک کی بحالی اور تجاوزات کا خاتمہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے شہریوں کو تفریح کے صحت مند مواقع فراہم کرنے کے لیے سفاری پارک کی بحالی کا ذمہ اٹھایا۔ انہوں نے پارک سے غیر قانونی قبضے ختم کروائے اور اس کی آمدن کو شفاف بنا کر پارک کی حالت کو بہتر کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جدید مشینری اور ٹیم ورک کے ذریعے پارک کی تزئین و آرائش کی، جس سے وہاں آنے والے شہریوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے کھیلوں کے میدان اور پارکس اتنے ہی ضروری ہیں جتنے کہ ہسپتال۔

 دیانت دارانہ خریداری اور قومی بچت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی  نے ہمیشہ سرکاری خزانے کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ ہسپتالوں اور پارکوں کے لیے سامان کی خریداری کے دوران انہوں نے سپلائرز کے ساتھ ایسے سودے کیے جن سے کروڑوں روپے کی بچت ہوئی۔ انہوں نے کمیشن مافیا کا راستہ روکا اور ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو کم بجٹ میں بھی بڑے بڑے منصوبے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی اس دیانت داری نے نہ صرف اداروں کو مالی طور پر مضبوط کیا بلکہ دوسرے افسران کے لیے بھی ایک مثال قائم کی کہ کس طرح عوامی پیسے کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 7
7# Dr. Faiyaz Alam: Integrity in Healthcare & Safari Park’s Revival

قسط 8: کراچی زو اور جنگلی حیات کا تحفظ

چڑیا گھر کے انتظام میں بہتری

کراچی زو اور سفاری پارک میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ڈاکٹر عالم نے اہم اصلاحات متعارف کرائیں۔ انہوں نے جانوروں کے پنجروں کی صفائی اور ان کی خوراک کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ لاہور چڑیا گھر کے ساتھ تعاون کر کے مختلف نایاب نسلوں کی افزائشِ نسل کے پروگرام شروع کیے گئے۔ اس کے علاوہ قانونی پیچیدگیوں کے باوجود چڑیا گھر کے لیے نئے جانوروں کے حصول کو ممکن بنایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب دلچسپ قصے سناتے ہیں کہ کس طرح عوام جانوروں کے بارے میں غلط فہمیاں رکھتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ اور ان کی قدرتی عادات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کی۔ شیروں اور دیگر بڑے جانوروں کے ریسکیو اور منتقلی کے دوران ٹیم کو جن خطرات کا سامنا کرنا پڑا، وہ ان کی پیشہ ورانہ لگن کا ثبوت ہے۔ ان کوششوں کا مقصد پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے نظام کو جدید بنانا تھا۔

 کراچی زو میں جانوروں کی بہتر نگہداشت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا دائرہ کار چرند پرند اور بے زبان جانوروں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ جب انہیں کراچی چڑیا گھر کی ذمہ داری سونپی گئی، تو انہوں نے جانوروں کی خوراک، رہائش اور طبی معائنے کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جانوروں کے پنجروں کو ان کے قدرتی ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور ان کی افزائشِ نسل کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔ ان کے نزدیک بے زبانوں کا خیال رکھنا بھی اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے اور یہی اصل انسانیت ہے۔

نایاب نسل کے جانوروں کا حصول اور تبادلہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی  نے چڑیا گھر میں نایاب جانوروں کی کمی کو دور کرنے کے لیے دوسرے شہروں اور ممالک کے ساتھ تعاون کیا۔ انہوں نے لاہور زو کے ساتھ جانوروں کے تبادلے کے کامیاب پروگرام شروع کیے اور شیروں و دیگر درندوں کی آمد کو ممکن بنایا۔ ڈاکٹر صاحب خود ان جانوروں کی منتقلی کی نگرانی کرتے تھے تاکہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ ان کی ان کوششوں سے کراچی زو کی رونقیں بحال ہوئیں اور بچوں کے لیے یہ مقام سیکھنے اور تفریح کا بہترین ذریعہ بن گیا۔

 وائلڈ لائف قوانین اور عوامی آگاہی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے عوام میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی۔ انہوں نے چڑیا گھر میں آنے والے زائرین کو جانوروں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے وائلڈ لائف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا اور جانوروں کی اسمگلنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کا وژن ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسا ماحول دے سکیں جہاں وہ قدرت اور اس کی تخلیقات سے محبت کرنا سیکھیں۔ یہ کام ان کی وسیع القلبی کا ثبوت ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 8
8# Dr. Faiyaz Alam: Wildlife Conservation at Karachi Zoo & Beyond

قسط 9: انتخابی شفافیت اور غربت کا خاتمہ

 کے 2005 بلدیاتی انتخابات اور دھاندلی کے اثرات

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی سیاسی میدان میں بھی ہمیشہ حق اور سچ کی داعی رہی ہے۔ 2005 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران جب عوامی مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش کی گئی، تو ڈاکٹر صاحب نے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح انتخابی عمل میں مداخلت نے شہر کی ترقی کو پیچھے دھکیل دیا اور دیانت دار قیادت کو کام کرنے سے روکا گیا۔ ان کے نزدیک ووٹ کی حرمت کا تحفظ بھی ایک سماجی خدمت ہے کیونکہ غلط قیادت کا انتخاب پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

 غربت کا خاتمہ اور ہنر مند معاشرہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستیکا ایک اہم ستون مستحقین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کی مخالفت کی کہ لوگوں کو صرف راشن کا عادی بنایا جائے، بلکہ انہوں نے چھوٹے کاروبار اور اسکل ڈویلپمنٹ پر زور دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے خواتین کے لیے دستکاری کے مراکز اور نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ کے پروگرام شروع کروائے تاکہ وہ عزتِ نفس کے ساتھ کما سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بھیک مانگنے والے ہاتھ جب کام کرنے والے ہاتھ بنتے ہیں، تو اصل سماجی انقلاب تب ہی آتا ہے۔

تنظیمی ریکارڈ اور آرکائیوز کی ضرورت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی مستقبل کی نسلوں کے لیے تاریخ کو محفوظ کرنے کی قائل ہے۔ انہوں نے فلاحی اداروں میں ریکارڈ کیپنگ اور آرکائیوز بنانے کے نظام پر خصوصی توجہ دی تاکہ ماضی کی خدمات سے سبق سیکھا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ جو قومیں اپنا ریکارڈ کھو دیتی ہیں، وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہیں۔ انہوں نے پرانے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈز کو ڈیجیٹلائز کرنے کی مہم چلائی تاکہ آنے والے محققین اور کارکنان ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ یہ دستاویزی کام ان کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 9
9# Dr. Faiyaz Alam on Jamaat-e-Islami’s Electoral Challenges & Humanitarian Work

قسط 10: مذہبی مکالمہ اور حج دستاویزی فلم

 مذہبی مباحث اور ریکارڈ کی اہمیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستیکا ایک پہلو علم کی ترویج اور درست مذہبی معلومات کی فراہمی ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں مذہبی گفتگو کو دستاویزی شکل دینا نہایت ضروری ہے تاکہ گمراہ کن خیالات کا سدِ باب ہو سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف اسکالرز کے ساتھ علمی نشستیں منعقد کیں اور ان کے ریکارڈ کو محفوظ بنایا تاکہ عام آدمی دین کی اصل روح کو سمجھ سکے۔ ان کی یہ علمی جدوجہد معاشرے میں اعتدال پسندی لانے کی ایک شعوری کوشش ہے۔

 فتنہ سازی کے خلاف جرات مندانہ موقف

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی صرف سماجی کاموں تک محدود نہیں بلکہ وہ فکری محاذ پر بھی سرگرم عمل رہتے ہیں۔ انہوں نے زید حامد جیسے متنازعہ کرداروں کے نظریات کی حقیقت کو بے نقاب کیا تاکہ نوجوان نسل کو فکری انتشار سے بچایا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کے ماضی اور بیانات کا گہرا مطالعہ کیا اور حقائق پر مبنی تنقید پیش کی، جس کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ سچائی کا دفاع کرنا تھا۔ ان کا یہ جرات مندانہ اقدام نوجوانوں کی فکری آبیاری کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔

حج ڈاکومنٹری: عازمینِ حج کے لیے عظیم تحفہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے ایک عالمی معیار کی دستاویزی فلم تیار کی۔ اس فلم میں حج کے مناسک کو اس قدر تفصیل اور آسانی سے سمجھایا گیا ہے کہ ایک عام حاجی بھی اسے دیکھ کر اپنی عبادات درست طریقے سے ادا کر سکتا ہے۔ یہ دستاویزی فلم کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور اسے دنیا بھر کے علماء نے سراہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کاوش نے لاکھوں مسلمانوں کو مناسکِ حج کی ادائیگی میں رہنمائی فراہم کی، جو کہ صدقہ جاریہ ہے۔

 تعلیم اور سماجی خدمت کا حسین امتزاج

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا مقصد ہمیشہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدمتِ خلق صرف کھانا کھلانے کا نام نہیں بلکہ انسانی ذہنوں کی تربیت بھی اسی کا حصہ ہے۔ ان کی تمام کاوشیں، چاہے وہ دستاویزی فلمیں ہوں یا تحریری مضامین، اسی وژن کی عکاسی کرتی ہیں کہ معاشرے کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا جائے۔ ڈاکٹر صاحب کی پوری زندگی اسی فلسفے کے گرد گھومتی ہے کہ دوسروں کے کام آنا ہی زندگی کا اصل حاصل ہے، خواہ وہ علمی ہو یا عملی۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 10
10# Dr. Faiyaz Alam: From Political Challenges to Exposing Fraud & Hajj Documentation

قسط 11: سندھی ترجمہ قرآن اور ڈیجیٹل خدمات

 قرآنِ پاک کی تلاوت اور ترجمے کی مقبولیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے کلامِ الٰہی کو عام فہم زبان میں ہر فرد تک پہنچانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ انہوں نے ایک منفرد اور خوبصورت آواز میں قرآنِ پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمے کو ریکارڈ کروایا جو کہ عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ قرآن کو نہ صرف پڑھیں بلکہ اس کے معنی و مفہوم کو بھی اپنی زندگیوں میں شامل کر سکیں۔ڈاکٹر فیاض عالم نے اس کام کے لیے بہترین صوتی معیار کو یقینی بنایا تاکہ سننے والے پر اس کا گہرا اثر ہو۔

 سندھی اور بلوچی تراجم کے چیلنجز

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے علاقائی زبانوں، بالخصوص سندھی اور بلوچی بولنے والے بھائیوں کے لیے قرآن کے تراجم کو آسان بنایا۔ ان زبانوں میں معیاری آواز کی ریکارڈنگ اور درست تلفظ کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج تھا جسے ڈاکٹر فیاض عالم نے ماہرینِ لسانیات کی مدد سے سرانجام دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر انسان کو اپنی مادری زبان میں اللہ کا پیغام سمجھنے کا حق حاصل ہے۔ ان کوششوں کی بدولت آج اندرونِ سندھ اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بھی قرآن کی تعلیمات عام ہو رہی ہیں۔

 سرچ قرآن سافٹ ویئر اور جدید ٹیکنالوجی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے “سرچ قرآن” نامی سافٹ ویئر اور موبائل ایپلی کیشنز متعارف کروائیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب کوئی بھی شخص قرآن کے کسی بھی موضوع کو ایک کلک پر تلاش کر سکتا ہے اور اس کی تفصیل پڑھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ ایپس مفت میسر ہوں تاکہ ہر خاص و عام اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قرآن کی رسائی کو آسان بنانا ان کا ایک بڑا تعلیمی اور مذہبی کارنامہ ہے۔

Miraculous Recovery اور دعا کی طاقت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کے پیچھے ان کا گہرا روحانی ایمان اور اللہ کی ذات پر بھروسہ بھی شامل ہے۔ وہ اپنے تجربات میں بتاتے ہیں کہ کس طرح مشکل حالات اور شدید بیماری میں دعا اور ایمان نے معجزاتی اثرات دکھائے۔ ان کے نزدیک خدمتِ خلق اور اللہ سے تعلق لازم و ملزوم ہیں، کیونکہ انسانوں کی خدمت ہی اللہ کو راضی کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ یقین انہیں ہر مشکل منصوبے کو شروع کرنے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کی ہمت دیتا ہے، جو دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 11
11# Dr. Faiyaz Alam: Quran Translation, Humanitarianism & Spreading Knowledge

قسط 12: دعا فاؤنڈیشن اور کینسر کا علاج

 کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی کرن

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے 2014 میں دعا فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جس کا ابتدائی مقصد کینسر کے غریب مریضوں کی مالی مدد کرنا تھا۔ کینسر کا علاج اتنا مہنگا ہے کہ متوسط طبقہ بھی اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا، ایسے میں ڈاکٹر فیاض عالم نے زکوٰۃ اور عطیات کے ذریعے سینکڑوں مریضوں کی جانیں بچائیں۔ انہوں نے نجی ہسپتالوں کے ساتھ معاہدے کیے تاکہ مستحق افراد کو کم سے کم قیمت پر علاج کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔ یہ ادارہ آج کینسر کے مریضوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن چکا ہے۔

 تھرپارکر میں زراعت اور پانی کا مشن

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے صحرائے تھر کی قسمت بدلنے کے لیے وہاں زراعت اور پانی کے طویل مدتی منصوبے شروع کیے۔ دعا فاؤنڈیشن کے تحت وہاں سینکڑوں کنویں کھدوائے گئے اور بنجر زمینوں کو سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے آباد کیا گیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم کا وژن تھا کہ تھر کے لوگوں کو صرف امداد پر نہ رکھا جائے بلکہ انہیں زراعت کے ذریعے خود کفیل بنایا جائے۔ آج ان کے لگائے گئے پودے اور باغات وہاں کے لوگوں کی معاشی زندگی میں بڑی تبدیلی لا رہے ہیں، جو ان کے مخلصانہ عزم کا ثبوت ہے۔

 محمود ہسپتال کا ماڈل اور سستی صحت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ایک اور مظہر محمود ہسپتال کا منفرد آپریشنل ماڈل ہے، جہاں سستا اور معیاری علاج ہر ایک کی پہنچ میں ہے۔ اس ہسپتال کو ایک ٹرسٹ کے تحت چلایا جاتا ہے تاکہ منافع کے بجائے انسانی خدمت کو ترجیح دی جا سکے۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے ہسپتال کے انتظام میں شفافیت اور دیانت داری کے ایسے معیارات قائم کیے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں آنے والے مریضوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی خیراتی ادارے میں ہیں، کیونکہ یہاں سہولیات اور عملے کا رویہ کسی بھی مہنگے نجی ہسپتال کے برابر ہے۔

 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی ہمیشہ اس بات کی داعی رہی ہے کہ حکومت اور فلاحی ادارے مل کر کام کریں تو نتائج کئی گنا بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کئی ایسے منصوبے شروع کیے جہاں حکومت نے زمین فراہم کی اور ڈاکٹر فیاض عالم کی ٹیم نے وہاں کے انتظامی معاملات کو سنبھالا۔ اس شراکت داری کی بدولت تھر اور کراچی کے کئی علاقوں میں صحت اور صفائی کے مسائل حل ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب سمجھتے ہیں کہ وسائل کی کمی کا حل باہمی اشتراک میں ہے، اور ان کی یہ حکمتِ عملی فلاحی کاموں کی کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 12
12# Dr. Faiyaz Alam: Dua Foundation’s Journey in Tharparkar – Cancer Care to Sustainable Development

قسط 13: تھرپارکر میں پانی اور زراعت کے منصوبے

 تھر کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیم کا فروغ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تھر کے ان دور دراز گاؤں میں تعلیم کی شمع روشن کی جہاں اسکول کا تصور بھی نہیں تھا۔ انہوں نے مقامی آبادی کو تعلیم کی اہمیت پر آمادہ کیا اور وہاں اساتذہ کو بھیجا تاکہ بچوں کا مستقبل سنور سکے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو تھر کے لوگوں کو صدیوں پرانی پسماندگی سے نکال سکتا ہے۔ ان اسکولوں میں مفت کتابیں اور بیگ فراہم کرنا ڈاکٹر صاحب کی ترجیحات میں شامل تھا تاکہ والدین پر بوجھ نہ پڑے۔

 واٹر پراجیکٹس کی وسعت اور معیارِ زندگی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تھرپارکر میں 700 سے زائد کنوؤں کی کھدائی کروا کر وہاں کی خواتین کو میلوں دور سے پانی لانے کی زحمت سے نجات دلائی۔ صاف پانی کی دستیابی سے علاقے میں بیماریوں کی شرح کم ہوئی اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے ان کنوؤں کی دیکھ بھال کے لیے مقامی کمیٹیاں بھی بنائیں تاکہ یہ منصوبے طویل عرصے تک چل سکیں۔ پانی کا ہر قطرہ جو وہاں کے باسیوں کو میسر آتا ہے، وہ ڈاکٹر صاحب کی انسانیت کے لیے تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لائیو اسٹاک کی تقسیم اور معاشی استحکام

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تھر کے غریب خاندانوں میں بکریاں اور دیگر مویشی تقسیم کیے تاکہ ان کی آمدنی کا مستقل ذریعہ بن سکے۔ یہ پراجیکٹ بیوہ خواتین اور معذور افراد کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا، جس سے وہ اب باعزت طریقے سے اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض عالم کا فلسفہ ہے کہ مچھلی پکڑ کر دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے تو غربت کا جڑ سے خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں خاندان اب معاشی طور پر خود کفیل ہو چکے ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بنا رہے ہیں۔

 تھر کے کلچر اور خوراک کی اہمیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی وہاں کے لوگوں کی ثقافت اور مخصوص خوراک کی ضروریات کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے تھر میں غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے مقامی اجناس کی کاشت کو فروغ دیا اور لوگوں کو بہتر غذا کے استعمال کی تربیت دی۔ ڈاکٹر صاحب نے تھر کی ثقافتی پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، جو ان کی وسیع القلبی کا مظہر ہے۔ ان کے نزدیک خدمت کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے جذبات اور روایات کا احترام کرتے ہوئے ان کی مدد کی جائے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 13
13# Dr.Faiyaz Alam: Transforming Tharparkar Through Collaboration & Sustainable Aid

قسط 14: صحرا میں مچھلی فارمنگ اور کھجور کی کاشت

 تھر کے ریگستان میں کھجور کے باغات

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا جب انہوں نے تھر کی تپتی ریت پر کھجور کے باغات اگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ ماہرین کے مشوروں اور جدید زرعی تکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے،ڈاکٹر فیاض عالم نے وہاں سینکڑوں درخت لگائے جو اب پھل دے رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف علاقے کی ہریالی میں اضافے کا سبب بنا بلکہ مقامی آبادی کے لیے آمدنی کا ایک نیا اور پائیدار ذریعہ بھی ثابت ہوا۔ ریگستان میں سبزے کی یہ لہر ان کے پختہ عزم کی گواہی دیتی ہے۔

 فش فارمنگ: پانی کا جدید اور متبادل استعمال

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تھر میں خوراک کی کمی دور کرنے کے لیے فش فارمنگ جیسے انوکھے منصوبے کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے مخصوص ٹینکوں میں مچھلیوں کی افزائش کا نظام متعارف کروایا، جس سے صحرائی علاقے میں پروٹین سے بھرپور غذا کی فراہمی ممکن ہوئی۔ اگرچہ اس پراجیکٹ میں کئی تکنیکی مشکلات پیش آئیں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہار نہیں مانی اور مسلسل تجربات سے اسے کامیاب بنایا۔ یہ منصوبہ ان کی “آؤٹ آف دی باکس” سوچ اور عوامی بہبود کے لیے تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 بنجر زمینوں کی آبادکاری اور جدید چارہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تھر کے مال مویشیوں کے لیے چارے کی قلت کا حل نکالنے کے لیے نئی اقسام کی گھاس متعارف کروائی۔ انہوں نے “روڈ گراس” اور “ایلیفینٹ گراس” کی کاشت کو فروغ دیا تاکہ قحط کے دنوں میں جانور بھوک سے نہ مریں۔ اس سے نہ صرف مویشی پالنے والے کسانوں کو معاشی تحفظ ملا بلکہ علاقے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ زرعی اصلاحات تھر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

 ٹیم ورک اور غیبی مدد پر یقین

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ جب انسان مخلص ہو کر اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے، تو غیبی مدد شاملِ حال ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا اپنی ٹیم کی محنت اور عوامی تعاون کو دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ماننا ہے کہ کوئی بھی بڑا منصوبہ تنہا مکمل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے مشترکہ جدوجہد اور مقصد سے لگن ضروری ہے۔ ان کا یہ تواضع اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ ہی انہیں ایک منفرد سماجی رہنما بناتا ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 14
14# Dr. Faiyaz Alam: Pioneering Agriculture in Tharparkar -Dates, and the Fish Farm

قسط 15: منصورہ ہالہ کی تعلیمی اور زرعی میراث

 دینی اور دنیاوی علوم کا حسین سنگم

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے منصورہ ہال جیسے عظیم ادارے کی تعلیمی بنیادوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا وژن تھا کہ ایسے علماء پیدا کیے جائیں جو قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتے ہوں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے نصاب میں اصلاحات اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی تاکہ فارغ التحصیل طلباء معاشرے کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ یہ تعلیمی ماڈل فکری جمود کو توڑنے اور روشن خیالی کو فروغ دینے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔

 زرعی خود کفالت: آم کے وسیع باغات

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے تعلیمی اداروں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے منصورہ کی زمین پر آم کے ہزاروں درخت لگوائے۔ آج یہ باغات نہ صرف ادارے کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے زراعت کو تعلیم کے ساتھ جوڑ کر یہ ثابت کیا کہ ادارے اپنے وسائل خود پیدا کر کے زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ آم کی نئی اقسام اور جدید آبپاشی کے نظام نے اس زرعی منصوبے کو مثالی بنا دیا ہے۔

 1972 کی نیشنلائزیشن اور ادارے کی بقاء

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری جب 1972 کی پالیسیوں کے تحت تعلیمی اداروں کو حکومتی تحویل میں لیا گیا جس سے تعلیمی تسلسل متاثر ہوا۔ ڈاکٹر فیاض عالم  نے ادارے کی علمی وراثت کو بچانے اور اساتذہ کے وقار کو بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔ ڈاکٹر صاحب کی ثابت قدمی کی بدولت منصورہ اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور آج بھی دین و دنیا کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز ہے۔ تاریخ کے مشکل موڑ پر ان کی قیادت نے ادارے کو بکھرنے سے بچایا۔

 مستقبل کے علماء اور معاصر چیلنجز

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ہدف ایسے محققین تیار کرنا ہے جو اسلام کے عالمگیر پیغام کو دورِ حاضر کی زبان میں پیش کر سکیں۔ ڈاکٹر فیاض عالم چاہتے ہیں کہ علماء صرف مساجد تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ ہسپتالوں، عدالتوں اور تعلیمی اداروں میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی میں منصورہ سے ایسے نوجوان تیار ہو رہے ہیں جو فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ علمی سرمایہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 15
15#Mansurah Halal: Islamic Education & Sustainable Innovation – Dr. Faiyaz Alam

قسط 16: اسلامک کلچر سینٹر کی واگزاری

 اسلامک کلچرل سینٹر کی تاریخی حیثیت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے کراچی کے ایک قدیم علمی و ثقافتی مرکز، اسلامک سینٹر کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے بھرپور تحریک چلائی۔ یہ مرکز دہائیوں سے علمی نشستوں اور تہذیبی سرگرمیوں کا محور رہا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اسے سیاسی مفادات کی نذر کر دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اور عوام کو باور کرایا کہ ایسے مراکز کا تحفظ ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ ان کی اس مہم نے شہر کے دانشوروں اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔

غیر قانونی قبضے کے خلاف قانونی جنگ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب انہوں نے بااثر مافیا کے خلاف عدالتوں میں اسلامک سینٹر کا مقدمہ لڑا۔ برسوں کی قانونی جدوجہد اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پیروی کے بعد بالآخر یہ مرکز واگزار کروا لیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ثابت کیا کہ اگر حق کے لیے ڈٹ جایا جائے تو قانون کی طاقت سے کسی بھی ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان کی یہ فتح نہ صرف ایک عمارت کی واپسی تھی بلکہ یہ حق و صداقت کی جیت کا پیغام تھا۔

 سوشل میڈیا کی طاقت اور عوامی بیداری

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے اسلامک سینٹر اور پارکوں پر قبضوں کے خلاف سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے ڈرون ویڈیوز اور دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے عوام کو دکھایا کہ کس طرح ان کے تفریحی مقامات کو چھینا جا رہا ہے۔ اس ڈیجیٹل مہم نے حکومت اور عدلیہ پر دباؤ بڑھایا اور ہزاروں شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی اس حکمتِ عملی نے ثابت کیا کہ جدید دور میں میڈیا کا صحیح استعمال سماجی تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

 عوامی مقامات کا تحفظ اور شہری ترقی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کے نزدیک شہر کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں میں نہیں بلکہ کھلے میدانوں اور علمی مراکز کی حفاظت میں ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے کراچی کے انفراسٹرکچر، پانی کے منصوبوں اور کچرے کے مسائل پر بھی آواز اٹھائی تاکہ شہریوں کو ایک باعزت ماحول میسر آ سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ عوامی مقامات پر قبضہ کرنا دراصل عوام کے مستقبل پر ڈاکہ ڈالنا ہے، اس لیے وہ ان کی حفاظت کے لیے ہمیشہ سینہ سپر رہے۔ ان کی یہ جدوجہد کراچی کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 16
16# The Islamic Center’s Fight: Dr. Faiyaz Alam & the Power of Social Media

قسط 17: کورونا وبا اور خدمتِ خلق

 عالمی وبا اور فرنٹ لائن ورکرز کی مدد

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کورونا وائرس کے مشکل ترین دور میں ایک مضبوط سہارے کے طور پر سامنے آئی۔ جب دنیا خوف زدہ تھی، ڈاکٹر فیاض عالم نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ہسپتالوں کو حفاظتی کٹس (PPE) فراہم کیں اور ڈاکٹروں کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے طبی عملے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مخیر حضرات سے رابطہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی ڈاکٹر وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان کی اس بروقت مداخلت نے کئی قیمتی جانوں کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 نئے انفیکشیس ڈیزیز ہسپتال کا قیام

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے وبا کے دوران کراچی میں متعدی امراض کے لیے ایک مخصوص ہسپتال کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کے قیام کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ انہوں نے ماہرین کی ٹیم کے ساتھ مل کر اس ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میں مدد دی تاکہ مریضوں کو الگ تھلگ رکھ کر بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کے مخلصانہ مشوروں اور تکنیکی تعاون کی بدولت یہ ہسپتال ریکارڈ مدت میں فعال ہوا، جو آج بھی شہر کے طبی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔

 مستحقین کی عزتِ نفس اور راشن کی تقسیم

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ایک سنہرا اصول یہ ہے کہ “دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں کو خبر نہ ہو”۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے، ڈاکٹر فیاض عالم نے راشن کی تقسیم کا ایسا نظام بنایا جس میں کسی کی غربت کی تشہیر نہیں کی گئی۔ انہوں نے تصویر کشی سے منع کیا اور وقار کے ساتھ لوگوں کی دہلیز پر امداد پہنچائی۔ ان کے نزدیک انسانی عزتِ نفس کا تحفظ روٹی فراہم کرنے سے زیادہ اہم ہے، اور یہی وہ طرزِ عمل ہے جو انہیں دوسرے فلاحی کارکنوں سے ممتاز کرتا ہے۔

 تعلیمی نقصان کی تلافی اور سماجی بحالی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے وبا کے بعد طلباء کے ہونے والے تعلیمی نقصان پر بھی توجہ دی۔ ڈاکٹر فیاض عالم  نے غریب بچوں کے لیے آن لائن تعلیم اور اسکول فیسوں میں رعایت کے لیے مہم چلائی تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی کے پروگرام شروع کیے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کا وژن ایک ایسا معاشرہ ہے جو بحرانوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنا جانتا ہو۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 17
17# Dr. Faiyaz Alam: A Doctor’s COVID Journey & Call for Collective Good

قسط 18: زیتون کی کاشت کا خاموش انقلاب

جنگلی زیتون کی پیوند کاری کا کامیاب تجربہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے پاکستان کے بنجر پہاڑوں کو زیتون کے ذریعے سونا اگلنے کے قابل بنا دیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم  نے کشمیر اور خیبر پختونخوا میں پائے جانے والے لاکھوں جنگلی زیتون کے درختوں پر خوردنی زیتون کی پیوند کاری کا منصوبہ شروع کیا، جس سے وہ درخت پھل دینے کے قابل ہو گئے۔ اس سائنسی اور زرعی انقلاب نے مقامی زمینداروں کی آمدنی میں اضافے کے نئے راستے کھول دیے۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کاوش نے ثابت کیا کہ قدرت کے دیے گئے وسائل کو تھوڑی سی توجہ سے معاشی طاقت میں بدلا جا سکتا ہے۔

خوردنی تیل کی درآمد میں کمی کا وژن

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا ایک بڑا مقصد پاکستان کو خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کے بوجھ سے نجات دلانا ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کا ماننا ہے کہ اگر ہم اپنے زیتون کے منصوبوں کو وسعت دیں، تو نہ صرف ہم خود کفیل ہو جائیں گے بلکہ زیتون کا تیل برآمد بھی کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کسانوں کو مفت پودے اور تکنیکی تربیت فراہم کی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ زیتون کاشت کریں۔ یہ قومی سطح کی ایک ایسی مہم ہے جو ملک کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

زیتون کے تیل کی مقامی پیداوار اور آگاہی

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے عوام میں زیتون کے تیل کے طبی فوائد کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے ماہرین کے ساتھ مل کر لوگوں کو بتایا کہ کس طرح مقامی زیتون کا تیل درآمدی تیل سے بہتر اور سستا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے چھوٹے پیمانے پر تیل نکالنے والی مشینیں (Extractors) لگانے کی ترغیب دی تاکہ کسان اپنی فصل کا پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کی اس تحریک کی بدولت آج پاکستان میں “اولیو آئل” کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور لوگوں کی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔

 بین الاقوامی تعاون اور جدید تحقیق

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے زیتون کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی ماہرین اور دوستوں کا تعاون حاصل کیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے جدید اطالوی اور ہسپانوی تکنیکوں کو پاکستان کے ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لیے تحقیق کروائی۔ ڈاکٹر صاحب کا وژن صرف درخت لگانا نہیں بلکہ ایک پورا سسٹم بنانا ہے جس میں نرسری سے لے کر مارکیٹ تک ہر مرحلہ منظم ہو۔ ان کی یہ دور اندیشی پاکستان کو زیتون پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن چکی ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 18
18# Dr. Faiyaz Alam: Olive Revolution – From Wild Roots to Economic Growth

قسط 19: کراچی کی ہریالی اور شہری زراعت

 شجرکاری مہم اور کلائمیٹ چینج کا مقابلہ

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کراچی کو دوبارہ “روشنیوں اور ہریالی کا شہر” بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ بڑھتی ہوئی تپش اور ہیٹ ویو جیسے خطرات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر فیاض عالم  نے شہر بھر میں لاکھوں درخت لگانے کی مہم شروع کی۔ ان کا وژن ہے کہ کراچی کے ہر گھر کے باہر کم از کم ایک درخت ضرور ہو تاکہ درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکے اور آلودگی کا خاتمہ ہو۔ وہ ذاتی طور پر پودوں کے انتخاب اور ان کی دیکھ بھال کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ شجرکاری صرف فوٹو سیشن تک محدود نہ رہے۔

 کچن گارڈننگ: گھر بیٹھے خالص غذا کا حصول

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے شہریوں کو اپنی چھتوں اور بالکونیوں میں سبزیاں اور پھل اگانے کی ترغیب دی جسے “کچن گارڈننگ” کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے لوگوں کو تربیت دی کہ کس طرح کم جگہ اور محدود پانی میں اپنی ضرورت کی خوراک خود پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف مہنگائی کا مقابلہ ممکن ہوا بلکہ لوگوں کو کیمیکل سے پاک خالص سبزیاں بھی میسر آئیں۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ مہم کراچی جیسے کنکریٹ کے جنگل میں زرعی انقلاب لانے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔

 شہری زراعت اور جدید آبپاشی کے طریقے

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی نے پانی کی قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے “ڈریپ ایریگیشن” اور “فوارہ آبپاشی” جیسے طریقے متعارف کروائے۔ ڈاکٹر فیاض عالم چاہتے ہیں کہ شہر کا ہر قطرہ پانی ضائع ہونے کے بجائے پودوں کی آبیاری کے کام آئے۔ انہوں نے اسکولوں اور دفاتر میں چھوٹے باغات بنوائے تاکہ نئی نسل میں قدرت سے محبت کا جذبہ پیدا ہو۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی تحفظ صرف ایک شوق نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے، جسے حل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 امتِ مسلمہ کی وحدت اور انسانی خدمت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا پیغام آفاقی ہے، جو سرحدوں اور مسالک سے بالاتر ہو کر پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بات کرتا ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم  سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے موجودہ مسائل کا حل باہمی نفرتوں کو ختم کر کے خدمتِ خلق کے جذبے کو اپنانے میں ہے۔ ان کی تقاریر اور تحاریر میں ہمیشہ یہ فکر نمایاں ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ بانٹ کر ہی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی پوری زندگی اسی وحدت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Faiyaz Alam 19
19#Dr. Faiyaz Alam: A Doctor’s Vision to Green Karachi & Unite the Ummah

قسط 20: فلسطین کا بحران اور پاکستان کی امید

فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی ضمیر

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستی کا دل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں ہونے والے انسانی المیے پر ہمیشہ آواز اٹھائی اور عالمی برادری کی خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر فیاض عالم  کا موقف ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے، جہاں معصوم بچوں اور عورتوں کی جانیں لی جا رہی ہیں۔ انہوں نے امدادی کاموں کے ذریعے بھی وہاں کے بھائیوں کی مدد کرنے کی کوشش کی اور دنیا کو باور کرایا کہ ظلم کے خلاف خاموشی خود ایک ظلم ہے۔

لبرل طبقے کا دوہرا معیار اور فکری دیانت

ڈاکٹر فیاض عالم کی انسانیت دوستیان لوگوں کو آئینہ دکھاتی ہے جو انسانی حقوق کے نام پر دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض عالم سوال اٹھاتے ہیں کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو نام نہاد روشن خیال طبقہ خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ظالم کو ظالم کہا جائے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا خطے سے ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ سچی اور کھری باتیں نوجوانوں کو فکری طور پر مضبوط کرتی ہیں اور انہیں سچائی کا ساتھ دینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

پاکستان کا روشن مستقبل اور نوجوانوں کی صلاحیتیں

(Dr faiyaz Alam)  ڈاکٹر فیاض عالم انسانیت دوستی مایوسی کے اس دور میں بھی پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے پرامید ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کا ماننا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، اگر انہیں درست سمت فراہم کی جائے تو وہ دنیا بدل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ مثبت سوچ کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک کی برائی کرنے کے بجائے اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ ڈاکٹر فیاض عالم  کی زندگی کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ محنت اور اخلاص سے ہر اندھیرا دور کیا جا سکتا ہے۔

کراچی کا معاشی استحکام اور دیانت دار قیادت

(Dr faiyaz Alam) ڈاکٹر فیاض عالم انسانیت دوستی کراچی کو پاکستان کی معیشت کی شہ رگ قرار دیتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کہتے ہیں کہ اگر کراچی میں امن ہو اور یہاں دیانت دار قیادت موجود ہو تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے ہمیشہ ایسی قیادت کی حمایت کی جو شہر کے مسائل کو اپنا سمجھے اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرے۔ ڈاکٹر صاحب کا وژن ہے کہ کراچی ایک ایسا مثالی شہر بنے جہاں ہر شہری کو انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہوں، اور یہی ان کی زندگی بھر کی جدوجہد کا خلاصہ ہے۔

مکمل قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پریس کریں

Dr. Faiyaz Alam
20# Dr. Faiyaz Alam: Palestine, Muslim Unity, and Pakistan’s Path to Prosperity