اردو صحافت کا درخشندہ ستارہ: الطاف حسن قریشی اور ان کا فکری سفر

الطاف

اردو صحافت کا درخشندہ ستارہ: الطاف حسن قریشی اور ان کا فکری سفر

الطاف حسن قریشی اردو صحافت کا وہ معتبر نام ہے جنہوں نے اپنی تحریر کی کاٹ، اسلوب کی شگفتگی اور فکر کی پختگی سے نصف صدی سے زائد عرصے تک قارئین کے دلوں پر راج کیا ہے۔ ان کی تصنیف “قافلے دل کے چلے” درحقیقت اسی طویل فکری سفر کا ایک روشن استعارہ ہے جو عقیدت، مشاہدے اور بصیرت کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔ یہ کتاب دراصل الطاف حسن قریشی صاحب کی ان تحریروں پر مشتمل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف جرائد، بالخصوص ‘اردو ڈائجسٹ’ کی زینت بنتی رہیں۔ ان تحریروں کو ان کے پوتے ایقان حسن قریشی نے بڑی محبت اور عرق ریزی سے مرتب کیا ہے، تاکہ نئی نسل ان تاریخی اور ادبی مشاہدات سے مستفید ہو سکے۔

ایک عہد ساز صحافی اور “اردو ڈائجسٹ” کی روایت

الطاف حسن قریشی صاحب کی شخصیت ایک ایسے عہد ساز صحافی کی ہے جس نے ڈائجسٹ نگاری کو محض تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے قومی شعور کی بیداری اور نظریاتی اساس کی مضبوطی کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے اپنے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے ساتھ مل کر “اردو ڈائجسٹ” کی بنیاد رکھی اور اسے پاکستان کا مقبول ترین رسالہ بنا دیا۔ اردو ڈائجسٹ محض ایک رسالہ نہیں تھا بلکہ یہ اردو زبان و ادب کی ترویج کا ایک مستقل ادارہ ثابت ہوا، جہاں انہوں نے ایک ایسی صحافتی روایت کی بنیاد رکھی جس میں الفاظ کی حرمت اور مقصدیت کو اولیت حاصل تھی۔ الطاف صاحب کی تحریروں میں جو متانت، گہرائی اور شائستگی پائی جاتی ہے وہ ان کے وسیع مطالعے اور برگزیدہ ہستیوں کی صحبت کا ثمر ہے، جس کا عکس اس مجموعے کے ہر صفحے پر دکھائی دیتا ہے۔

ارضِ مقدس کی حاضری اور روحانی تجربات

اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے مصنف کے اس روحانی تجربے کا احساس ہوتا ہے جو انہیں حج کی سعادت کے دوران نصیب ہوا اور جس کا ذکر انہوں نے اتنے والہانہ انداز میں کیا ہے کہ الفاظ بندگی کے نور میں نہائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ مارچ 1967ء کا وہ منظر جب انہیں شاہ فیصل کی دعوت پر پہلی بار ارضِ مقدس کی حاضری کا موقع ملا، ان کی زندگی کا وہ موڑ ثابت ہوا جہاں سے ان کی فکر کو ایک نئی جلا ملی۔ انہوں نے ناتجربہ کاری کے باوجود اس سفر کو ایک ایسی روحانی واردات میں بدل دیا جو آج بھی ان کے لفظوں میں سسکتی اور تڑپتی محسوس ہوتی ہے۔ روضہ رسول ﷺ کے اندر قدم رکھتے ہی ان پر جو لرزہ طاری ہوا اور ندامت کے جس احساس نے ان کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا، وہ محض ایک مسافر کا حال نہیں بلکہ ایک ایسے گناہ گار کا اعترافِ بندگی ہے جس کی زبان سے الفاظ کے بجائے آنسو گواہی دینے لگتے ہیں۔

میدانِ عرفات کا نقشہ اور صحافتی بصیرت

الطاف حسن قریشی صاحب نے میدانِ عرفات کی اس بستی کا نقشہ جس مہارت سے کھینچا ہے وہ ان کی مشاہداتی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں عالمِ اسلام کے چوٹی کے علما، دانشور اور اہل قلم ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ربِ کائنات کو پکار رہے تھے۔ جبلِ رحمت کی بلندیوں سے لے کر مزدلفہ کی آٹھ کلومیٹر طویل پیدل مسافت تک، انہوں نے انسانی رویوں، ایثار اور قربانی کے جو مناظر دیکھے انہیں قلمبند کر کے ایک تاریخی دستاویز بنا دیا ہے۔ ان کی تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف جذباتی وابستگی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک کھرے صحافی کی طرح ان خامیوں اور کوتاہیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو انتظامی سطح پر حجاج کو درپیش ہوتی ہیں۔ جیسا کہ 1997ء کے حج کے موقع پر منیٰ کے خیموں میں لگی آگ کے بعد انہوں نے نہ صرف اس المیے کو بیان کیا بلکہ باقاعدہ اصلاحات کی تجاویز دیں جو بعد ازاں سعودی حکومت کے لیے معاون ثابت ہوئیں۔

عالمی سفارت کاری اور اتحادِ عالمِ اسلام

کتاب کا ایک اور روشن پہلو وہ سفارتی اور بین الاقوامی تناظر ہے جو الطاف صاحب نے شاہ فیصل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور انٹرویوز کے حوالے سے بیان کیا ہے، جس سے اس دور میں پاکستان کی عالمی ساکھ اور عرب ممالک کی نظر میں ہماری اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کویت، اردن اور فلسطین کے کیمپوں میں پاکستانیوں کے لیے جو محبت اور تڑپ انہوں نے دیکھی وہ آج کے دور کے قاری کے لیے ایک خواب سی محسوس ہوتی ہے، لیکن الطاف صاحب کے قلم نے ان لمحوں کو منجمد کر کے ہمیں یہ باور کرایا ہے کہ ہماری جڑیں عالمِ اسلام کے ساتھ کتنی گہری جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے جس طرح فلسطینیوں کے جوش و جذبے اور پاکستانی قوم کے تئیں ان کی عقیدت کا نقشہ کھینچا ہے وہ دل کو گرما دینے والا ہے اور قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے ان سنہری رشتوں کو دوبارہ تلاش کرے۔

<بر>

رفقائے کار کا تعاون اور کتاب کی تیاری

<بر>

وہ خود لکھتے ہیں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے اور شرق اوسط کے ساتھ روابط میں بھی مدوجزر دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سفر نامے میں ان تمام پہلوؤں کا واقعاتی انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ اُردو ڈائجسٹ کے مضامین میرے پوتے ایقان حسن قریشی نے بڑی محنت سے یکجا کیے اور بہت قرینے سے ترتیب دیے ہیں۔ میرے دیرینہ رفیق کار سہیل ظفر نے بڑی احتیاط اور لگن سے کمپوزنگ کی ذمے داری نبھائی، جبکہ عزیزم خالد حسین نے کتاب کی نوک پلک سنواری۔ میں اپنے ناشر علامہ عبدالستار عاصم (قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل) کا بطور خاص شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے کتاب کو دیدہ زیب پیرہن عطا کیا۔ ’قافلے دل کے چلنے‘ کے مندرجات آج کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

کلاسیکی چاشنی اور نئی نسل کے لیے تحفہ

“قافلے دل کے چلے” محض ایک فرد کی یادداشتیں نہیں بلکہ یہ تاریخ کے ایک اہم باب کا تحفظ ہے۔ اس کتاب کی زبان و بیان میں وہ کلاسیکی چاشنی موجود ہے جو اب اردو صحافت سے رخصت ہوتی جا رہی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جب الطاف صاحب میر تقی میر کے مصرعوں کا سہارا لے کر آج کے حالات پر دعوتِ فکر دیتے ہیں تو قاری پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ تحریر ہمیں بتاتی ہے کہ صحافت اگر دیانت اور محبت کے ساتھ کی جائے تو وہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی یہ تصنیف ان کے طویل تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے جس میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کے مشاہدات، روحانی تجربات اور قومی و ملی فکر کو سمیٹ کر نئی نسل کے لیے ایک ایسا تحفہ پیش کیا ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

سیاسی بصیرت، قید و بند اور لازوال روایت

الطاف حسن قریشی کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی سیاسی بصیرت اور عالمِ اسلام سے گہری وابستگی ہے۔ متحدہ ہندوستان کے ضلع حصار میں پیدا ہونے والے الطاف صاحب قیامِ پاکستان کے بعد اس سرزمین کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے وقف ہو گئے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے اور ان کا بے لاگ تجزیہ کیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں لیکن ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ شاہ فیصل سے لے کر یاسر عرفات تک اور مولانا مودودی سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک، انہوں نے اپنے عہد کی تمام بڑی سیاسی و سماجی شخصیات کو بہت قریب سے دیکھا اور ان کے خاکے مرتب کیے۔ وہ ایک ایسے ادیب ہیں جنہوں نے کالم نگاری اور مضمون نویسی کو ادب کے درجے پر فائز کیا اور نئی نسل کے کئی صحافیوں کی تربیت کر کے انہیں لفظ کی حقیقی طاقت سے روشناس کرایا۔

ایک عہد کا خاتمہ: حرفِ آخر

آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی تحاریر ہمیشہ تاریخ میں امر رہیں گی کیونکہ ان کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ صرف کاغذ پر نقش نہیں ہوتے بلکہ قارئین کے شعور اور ضمیر پر

دستک دیتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں اور جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ آمین۔

  • Saulat Raza

    برگیڈئیر صولت رضا (ریٹائرڈ) نے ابتدائی تعلیم ڈی پی نیشنل ہائی اسکول ٹیونیشیا لائنز کراچی سے حاصل کی ۔ میٹرک ماڈل ہائی اسکول ماڈل ٹاؤن لاہور سے کیا ۔ انٹرمیڈیٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے معاشیات اور سیاسیات میں گریجویشن کی۔ ایم اے صحافت پنجاب یونیورسٹی سے کیا ۔ دسمبر 1971 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کمیشنڈ آفیسر کی تربیت کے لئے منتخب ہوئے ۔ تربیت کی تکمیل کے بعد رجمنٹ آف آرٹلری کی ایک یونٹ میں تعینات کئے گئے ۔ دو برس بعد ایم اے صحافت کی ڈگری کے باعث ان کی خدمات آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے حوالے کردی گئیں
    برگیڈئیر صولت رضا نے پی ایم اے کاکول میں زیر تربیت کیڈٹ کے شب و روز کے بارے میں "کاکولیات" تحریر کی ۔ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے پہلی کتاب ہے ۔ مصنف پہلے ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر کیپٹن تھے ۔ اب تک 35 کے لگ بھگ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ کاکولیات سدا بہار کتاب ہے جو عسکری مزاح کی علامت کے طور پر مقبول ہے برگیڈئیر صولت رضا کی دیگر کتب "غیر فوجی کالم" اور "پیچ و تاب زندگی"ہیں

    View all posts