“معاشِ نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ” مصنف مولانایاسین مظہر صدیقی | تبصرہ سید سجاد ابرھیم

صلیٰ اللہ علیہ وسلم

معاش نبوی صلی اللہ علیہ وسلم | مولانا یاسین مظہر صدیقی کی کتاب کا خلاصہ
تعارفِ کتاب و مصنف

مولانا یاسین مظہر صدیقی مرحوم عالم دین اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کی کتاب “معاش نبوی” تین مقالات پر مشتمل ہے جو رسالہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ میں  -1990 1989

-کے دوران شائع ہونے۔ مکی معاش نبوی پر مقالہ ایک قسط میں اور مدنی معاش نبوی پر مقالہ دو قسطوں میں شائع ہوا۔

صلی اللہ علیہ وسلم

کتاب کا مقدمہ اور روایتی سوچ پر تنقید

کتاب کے مقدمے میں مولانا یاسین لکھتے ہیں کہ روایتی علمائے کرام کا رویہ ان کے خالص فکری میلانات اور ذہنی رجحانات کا اسیر ہے اور وہ کسی طرح اصل معیشت کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ ان کے ذہنوں میں اور اس سے زیادہ دل کے نہاں خانوں میں یہ فکر فرسودہ حُکمرانی کرتی ہے کہ معیشت نبوی صرف غریبانہ تھی، اس میں فقر و فاقہ کا راج تھا۔

غنا و تمول سے اس کا علاقہ نہ تھا بلکہ وہ دونوں مردود تھے اور فقر و فاقہ مطلوب بھی تھا اور اصل دین بھی۔ ان کے خیال و فکر اور اس کا ساختہ و پرداختہ رویہ و وطیرہ صرف چند احادیث وروایات کا ناقص مطالعہ اور اس سے زیادہ ناقص تفہیم پر استوار ہے۔

صلی اللہ علیہ وسلم

صلی اللہ علیہ وسلم

اسی مقدمہ میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ طرفہ ستم یہ کہ فقر وفاقہ کا راگ الاپنے والے اور معیشت نبوی کے غریبانہ ہونے پر فکر کرنے والے اصحاب طریقت و دین اپنی اپنی معیشتوں میں غنائے دل سے زیادہ غنائے مال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کا شخصی رہن و سہن، منزل و مکان ، اسباب زیست، اکل و شرب اور دوسرے لوازم حیات مالداروں اور متمولوں کی سطح کے ہوتے ہیں اور بسا اوقات وہ ان کو بھی شرماتے ہیں۔

مزید لکھتے ہیں کہ “سیرتِ نبوی کی صحیح تناظر میں افہام و تفہیم ملت اسلامیہ کی فکری و دینی ضرورت ہے کیونکہ وہ عمل و اتباع کا صحیح ترین اسوہ پیش کرتی ہے۔”

مکی زندگی میں معاش نبوی اور مختلف نظریات

مقدمے کے بعد پہلے باب میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں معاشی گزر بسر کی تفصیل بیان کی ہے ۔ مولانا کے مطابق مکہ میں معاش نبوی کے بارے میں بالعموم دو نقطہ نظر سامنے آتے ہیں۔

مستشرقین کا نقطہ نظر

ایک نظریہ مستشرقین اور ان کے پیروکار و شاگرد جدید مورخین کا ہے جس کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ایک کمزور طبقہ سے تھا کیونکہ ان کے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنو ہاشم کے جس خاندان سے تعلق تھا وہ سماجی لحاظ سے بھی کمزور تھا۔

 روایتی مسلم سیرت نگاروں کا نقطہ نظر

دوسرا نقطہ نظر ہمارے بیشتر مسلمان اور مشرقی سیرت نگاروں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نسبی اور معاشرتی اعتبار سے اعلیٰ خاندان کے فرد تھے لیکن متعدد اسباب سے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی و یسیری کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی حالت بہتر نہ تھی۔

حاصل کلام: ان دونوں نظریات کا خالص نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی حالت شروع سے دگرگوں اور کمزور تھی اور وہ چند مراحل کے سوا فقر وفاقہ کی زندگی میں ڈھلتی گئی۔

عنفوانِ شباب تک معاشی حالت اور وسائلِ آمدنی

اس کے بعد مولانا یاسین نے مختصراً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی حالت کا جائزہ لیا ہے جس میں خاندانی ترکہ، جوانی کی عمر سے پہلے دادا اور چچاؤں کی طرف سے کفالت کی ذمہ داری کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے۔

خاندانی ترکہ اور والدین کی خوشحالی

انھوں نے واقدی کی روایت بیان کی ہے جس کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب نے اپنے انتقال کے وقت ایک باندی ام ایمن، پانچ اونٹ اور بکریوں کا ایک ریوڑ چھوڑا تھا جس کے وارث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ مولانا یاسین مذید لکھتے ہیں کہ اس کے علاؤہ والدین کی منقولہ جائداد ( یعنی ایک مکان) بھی ان کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب بھی کسی حد تک ایک خوشحال تاجر تھے جو مکہ والوں کا سامان تجارت لے کر شام اور دیگر علاقوں تک جاتے تھے۔ ان کا انتقال بھی تب ہوا جب وہ تاجروں کے قافلے کے ساتھ شام سامان تجارت لے کر گئے تھے اور واپسی میں انھوں نے راستہ میں رحلت فرمائی۔ ان کے اس آخری سفر تجارت کا مال اور نفع بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ اور ان کی والدہ کے حصہ میں آیا۔

بکریاں چرانا اور اجرت

بڑے ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں چرائیں۔ مولانا یاسین نے امام بخاری اور ابن ماجہ کی روایت سے استنباط کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چرانے کی اجرت بھی لیتے تھے۔

عنفوانِ شباب تک کے بنیادی ذرائع

عنفوان شباب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسائل آمدنی اور ذرائع معاش کا جائزہ لیا جائے تو وہ

والدین کا ترکہ

دادا کی کفالت و عطیہ

بکریاں چرانے کی خدمت جو اجرت پر قبول کی

جوانی کا دور، تجارت اور ازدواجی اخراجات

آزادانہ تجارت اور اصولِ مضاربت

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانان قریش کے مانند تجارت کا مشغلہ اپنایا۔ بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زبیر بن عبدالمطلب اور ابو طالب کے ساتھ یمن و شام کے کم از کم دو سفر کئے تھے۔ ان کے ذریعے تجارت و کاروبار سے ابتدائی تعارف حاصل کر لیا تھا۔

تاریخی روایات و شواہد کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ بیس سال کی عمر میں آزادانہ تجارت کا آغاز کر دیا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت بھی دوسرے قریشی نوجوان تاجروں کی طرح مضاربت کے اصولوں پر تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال تجارت کو شام لے جانے سے قبل آپ نے متعدد حضرات کے ساتھ تجارتی روابط قائم کر کے اپنی ساکھ بنا لی تھی۔

عام طور پر یہ تاثر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی اور نبوت کے بعد انہی کے مال و تجارت پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے تھے۔ لیکن بعض روایات سے واضح ہوتا ہے کہ بعثت سے ذرا قبل اور بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت میں فعال دلچسپی تھی جو مضاربت کے اصولوں پر تھی۔

مہر اور بیٹیوں کی شادی کے اخراجات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی تو کھانے پینے کے انتظام کے علاؤہ اپنے سسرالی رشتے داروں کو لباس پہنائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بیس اونٹنیاں مہر میں دیں۔ بعد میں ہجرت مدینہ کے قریب حضرت سودہ اور حضرت عائشہ سے نکاح کیا تو ان کو چار سو پانچ سو درہم مہر دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کی تھیں تو تینوں کے لیے سامان نکاح کا انتظام کیا تھا اور کھانا بھی کیا تھا۔

مکی زندگی کا خلاصہ

غرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ابتدا ہی سے افلاس و غربت کا شکار نہ تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اشراف مکہ کے چیدہ ترین اور معاشی لحاظ سے خاصے متمول گھرانے سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد مرحوم کے چھوڑے اثاثے اور ترکہ نے آپ کی زندگی کے سفر کی ابتدا کو خوشگوار بنانے میں کافی حصہ لیا تھا۔ سن شعور کو پہنچنے پر تجارت کا خاندانی اور قومی پیشہ اختیار کیا۔

مضاربت کے اصول پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تجارت کا آغاز کیا اور مقامی تجارت سے رفتہ رفتہ ترقی کر کے قومی تجارت کے دھارے میں شریک ہو گئے اور مکہ مکرمہ میں اپنی محنت، مہارت، امانت و صلابت کے سبب ایک ممتاز جگہ بنا لی اور ایک ابھرتے ہوئے خوشحال تاجر بن گئے۔

مدینہ منورہ میں معیشت نبوی

فقر و غنا کا اسلامی تصور

اس کا پہلا باب مولانا یاسین مظہر صدیقی نے “فقر و غنا کا اسلامی تصور” کے نام سے باندھا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے بھی اسلامی اصول ہیں۔ انسان کی معاشی زندگی کے لیے وسائل و ذرائع کا ایک مخصوص طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ بعض وسائل کا حصول لازمی اور فرض قرار دیا گیا ہے اور بعض کا جائز و مباح۔ باعزت اور با فراغت زندگی گزارنے کے لیے وسائل معاش کا حصول اکل حلال کے زمرہ میں آتا ہے

اس لیے لازمی اور دینی فریضہ ہے۔ دولت و مالداری کا حصول مباح و جائز ہے اور کسی طرح غیر اسلامی یا اسلام کے تصور تقوی کے خلاف نہیں ہے بلکہ بعض حالات میں جب کہ اسلامی معاشرہ کو ضرورت ہو دولت کا حصول لازمی اور ناگزیر درجہ میں آ جاتا ہے۔ اسی طرح انفرادی اور اجتماعی زندگی میں معاشی فارغ البالی اور فقر و فاقہ سے اجتناب و حفاظت اسلام میں پسندیدہ ہے۔

قرآن کریم اور احادیث نبوی میں جائز دولتمندی کو فضل الہٰی قرار دیا گیا ہے اور کہیں بھی فقر و فاقہ کو بطور اصول معاش ممدوح نہیں سمجھا گیا ۔

متاخرین کے خیالات اور اس کے اثرات

مولانا یاسین کے مطابق غیر اسلامی اثرات اور انسانی فطرت کے تجاوزات نے دولت کا حصول و استعمال خواہ صحیح دنیاوی و دینی مقاصد کے لیے ہو قابل نفریں اور فقر و فاقہ کی زندگی کو نصب العین گردانا گیا۔ متاخر مسلمانوں نے بھی فقیرانہ زندگی کو بھی مطلوب اسلام بنا کر اور سمجھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور قرون خیر کے مسلمانوں کی معاشی زندگی کو اسی پیمانہ غیر سے ناپنا شروع کیا اور اسلام کے کلاسیکی دور کو فقیری و درویشی کا اوج کمال سمجھ لیا۔

ان لوگوں نے معاشی فارغ البالی کو ناپسندیدہ، اقتصادی بہبود کو غیر مطلوب اور دولت مندی کے حصول کو ناجائز و غیر اسلامی سمجھ لیا۔ ان کے اس تصور و نظریہ کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں تھا اور نہ ہے۔

اس ذہنی رجحان اور عملی میلان کا یہ نتیجہ نکلا کہ چند روایات کی بنا پر یہ قطعی فیصلہ صادر کر دیا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالخصوص اور صدر اسلامی کے مسلمان بالعموم فقر و فاقہ کی زندگی گزارنا مطلوب اور عین تقاضائے اسلام سمجھتے تھے اور دولت مندی اور فارغ البالی سے عمدا اجتناب کرتے تھے۔ یہ عقیدہ و خیال ایسا دلوں میں راسخ ہوا کہ اس کے برعکس جو کثیر روایات ہیں ان کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا یا ان کی کوئی کمزور سی تاویل کر لی گئی۔

نبوی معیشت کے بنیادی وسائل اور طریقے

اس ابتدائی تمہید کے بعد مولانا یاسین نے پہلا باب معیشت نبوی کے وسائل پر باندھا ہے۔ ان کے مطابق نبوی معیشت کے وسائل کی فراہمی کے دو موٹے طریقے تھے: ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادی کوششوں پر مبنی تھا اور ان میں خریداری اہم ترین ذریعہ تھی۔ دوسرا طریقہ اجتماعی کوششوں پر مبنی تھا جس میں غنیمت اور فے اہم ترین وسیلہ تھا۔

صحابہ کی پرورش، قناعت اور مہمان داری

صحابہ کی نبوی دعوت و پرورش کے ضمنی باب میں دو نکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہدایائے طعام قبول کرنے کے بارے میں جو روایات مذکور ہوئی ہیں ان سے یہ تاثر ہرگز نہ لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاش کا انحصار ان ہی عطایا پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر و فاقہ دراصل قناعت و توکل تھا اور وہ اختیاری تھا نہ کہ اضطراری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جود و سخا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی معاش کا سبب تھا۔

پھر اس کے بعد انھوں نے کئی صحابہ کرام کی مثالیں دیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک طعام ہوتے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کھانے پینے کی اشیاء دیتے رہتے تھے خصوصاً اصحاب صفہ کو۔ باہر سے آنے والے تمام وفود اور ان کے اراکین کی بھی مہمان داری کیا کرتے تھے اور اس کے لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ باقاعدہ نگران افسر مقرر کیے گئے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گھروں کے لئے نہ صرف سودا سلف لاتے تھے بلکہ ان کے وسائل و ذرائع کا انتظام بھی کیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں

حضرت بلال رضی اللہ عنہ حوائج و ضروریاتِ نبوی کے لیے چاندی وغیرہ پر مشتمل ایک رقم ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ اشیاء ضرورت اور اسلحہ وغیرہ رہن رکھ کر سامان خوردونوش فراہم کیا کرتے تھے۔

سامانِ زیست کی خرید

معاش نبوی کے ضمن میں ایک اور باب ‘ سامان زیست کی نبوی خرید’ باندھا ہے۔ جس میں لکھتے ہیں کہ سامان زیست آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقد بھی خرید فرمایا اور بطور قرض بھی۔

اموالِ ازواجِ مطہرات

نبوی اخراجات و مصارف کا ایک ذریعہ ازواجِ مطہرات کا مال بھی تھا۔ تقریباً تمام ازواجِ مطہرات بہترین اور مالی لحاظ سے آسودہ خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والدین اور بھائی بہن دولت مند اور صاحب حثیت تھے جن سے ان کو ہدایا اور تحفوں کے علاوہ کبھی کبھی مال و جنس بھی ملا کرتی تھی۔ بعض ازدواج کو اپنے والدین یا سابق شوہروں کا ترکہ بھی ملا تھا اور وہ جائیداد و اراضی پر مشتمل تھا جن کی مستقل آمدنی اور پیداوار تھی۔

مثلاً حضرت ام سلمہ کو اپنی خاندانی جائیداد سے، جو طائف میں باغوں پر مشتمل تھی، مدینہ منورہ کے قیام کے زمانے میں برابر ان کی پیداوار پہنچا کرتی تھی۔ حضرت ماریہ قبطیہ مقوقس مصر سے کافی ہدایا اور تحفے بشکل نقد و جنس لے کر آئی تھیں۔ یہ وسیلہ حیات مستقل اور اہم نہیں تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی میں اس کے کردار و حصہ سے یکسر انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مویشی پالنا

احادیث و سیرت و تاریخ کے ماخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی کی ابتدا ہی سے دودھ دینے والے جانوروں بالخصوص عمدہ اونٹنیوں کو باقاعدہ پالا تھا اور ان کو کئی مقامات پر باڑوں رکھا تھا۔ ان کی دیکھ بھال کے لئے باقاعدہ چرواہے رکھے تھے اور ان کے چارہ کی فراہمی کے لیے چراگاہیں مخصوص کی تھیں۔

ابنِ عباس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سات اونٹنیاں تھیں جن کو حضرت ام ایمن چرایا کرتی تھیں۔ ازواجِ مطہرات فرماتی ہیں کہ ہمارا زیادہ تر کھانا ان اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کا دودھ ہوا کرتا تھا۔ اونٹنیوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیڑ بکریوں کا ایک ریوڑ بھی تھا۔

اموالِ غنیمت اور خمس کی تقسیم

نبوی معاشی وسائل و ذرائع میں ایک اہم ترین اور وسیع ترین ذریعہ جہاد اسلامی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اموال غنیمت تھے۔ وہ دو قسم کے تھے، اول منقولہ اموال و اسباب اور دوم غیر منقولہ جائیداد و اراضی۔ ان دونوں وسائل کی دستیابی سے نہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاش میں بہتری پیدا ہوئی تھی بلکہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی بالخصوص اور دوسرے مجاہدین کی بالعموم معاشی حالت سدھری تھی

غنائم میں حاصل ہونے والے اموال و اسباب منقولہ میں کھانے پینے کا سامان، روزمرّہ ضرورت کا اسباب، پہننے پچھانے اور اوڑھنے کے کپڑے، نقد میں سونے، چاندی یا اس کی بنی ہوئی اشیاء اور مختلف تجارتی سامان اور بہت سا دوسرا اسباب مسلمان مجاہدین کے ہاتھ لگتا تھا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بصورت شرکت جہاد ایک مجاہد کے حصہ رسدی کے علاؤہ صفی کا حق تھا اور ریاست و معاشرہ اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے خمس یا اموال غنیمت کا پانچواں حصہ ملتا تھا۔ خمس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تین حصوں میں تقسیم فرماتے تھے۔

ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال کی ضروریات کے لیے مخصوص تھا، دوسرا آپ کے خاندان بنو عبد المطلب و بنو ہاشم کے لئے اور تیسرا عام غریب مسلمانوں اور اسلامی ریاست کے باشندوں پر صرف ہوتا تھا۔۔۔۔ اس کے بعد مولانا یاسین مظہر صاحب نے کچھ سریہ اور غزوات کی مثالیں دیں جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کو اموال غنیمت حاصل ہوئے۔

لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خمس اور مال غنیمت کو اکثر و بیشتر پورا کا پورا صحابہ کرام میں بانٹ دیتے تھے اور اگر کبھی کچھ رکھ لیا کرتے تھے تو اس کی مقدار و تعداد بہت معمولی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ اسی طرح ملبوسات میں بھی زیادہ تر ہدیہ میں آئے ہوئے ملبوسات ہی استعمال میں رہے۔

اس کے علاؤہ سواری کے جانور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں خریدے اور بعض جانور صحابہ رضوان اللہ علیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کئے۔ مقوقس مصر نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گھوڑے تحفہ میں دینے کے علاؤہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے کنیزیں بھی بھیجی تھیں جن میں سے ایک ماریہ قبطیہ تھیں جن کو ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا۔

نبوی ملکیتِ اراضی اور باقاعدہ آمدنی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے بعد انصار کرام رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام افتادہ اراضی آپ کے حوالے کر دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنے، اپنی ازواجِ مطہرات اور صاحب زادیوں کے علاؤہ تمام مہاجرین میں تقسیم کر دی تھیں۔ جس پر انھوں نے اپنے گھر بنا لیے تھے یا ان پر پیداوار شروع کر دی تھی۔

بعض نے ان میں صنعت و حرفت / دستکاری کے کارخانے لگا لیے تھے۔ بعض صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنے بنائے مکانات بھی ہدیہ کئے تھے۔ حضرت حارثہ بن نعمان انصاری نے اپنے کئی مکانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نذر کئے تھے۔

حضرت انس کی روایت ہے کہ انصار میں سے کئی حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجوروں کے درخت مخصوص کر دیئے تھے یا ہدیہ کر دئیے تھے کہ ان کی پیداوار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامان زیست حاصل کریں۔

جس مدنی جائیداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متواتر پیداوار فراہم کی وہ 3 ہجری میں بنو نضیر کی مفتوحہ اراضی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، آپ کے اہل و عیال و ازواجِ مطہرات کو سال بھر کی روزی مل جاتی تھی۔ بنو نضیر کی جائیدادوں سے کھجور کے علاؤہ اناج و سبزی وغیرہ کی پیداوار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آتی تھی۔

کتاب کا اختتام اور نبوی معیشت کا لبِ لباب

اس کتاب کا اختتام کرتے ہوئے مولانا یاسین مظہر صدیقی لکھتے ہیں کہ ابتدائی دور ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی و اقتصادی ضروریات کی تکمیل کا سب سے بڑا ذریعہ مدنی صحابہ کرام کا بالخصوص اور صاحب حثیت مکی و مہاجر صحابہ کرام کا بالعموم ہدیہ و نذرانہ تھا۔ ترکہ و وراثت، ازواجِ مطہرات کے اپنے اموال، بیع و تجارت، کسی حد تک زراعت و باغبانی اور تھوڑی سی دستکاری دوسرے وسائل معاش تھے۔

ان سے جو سامان زیست حاصل ہوتا تھا وہ اتنا کافی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل و عیال عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ زہد و فقر کی وہ زندگی اختیار کی جو رہبانیت کی طرف لے جاتی ہے اور نہ عیش و عشرت کی جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتی ہے۔ نبوی معیشت اعتدال کے جادہ قرآنی پر مبنی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں سے لطف اندوزی کے ساتھ شکر گزاری کی زندگی اور فقر و فاقہ سے پناہ مانگنے کی دعائے نبوی کی زندگی۔۔

اس کتاب کو انٹرنیٹ پر پڑھنے کے لئے نیچے امیج پر کلک کریں

صلی اللہ علیہ وسلم