جنگ 1965 کی : وہ بحری ناکہ بندی جو پاکستان کر سکتا تھا، مگر نہ کر سکا

1965

آبنائے ہرمز سے 1965 کی جنگ تک

آبنائے ہرمز کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو سمندری ناکہ بندیوں کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محدود کرنے کے اعلانات، امریکی بحری بیڑوں کی غیر معمولی نقل و حرکت، اور اس پورے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ جنگوں میں سمندر پر کنٹرول کس قدر فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

لیکن اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بھی ایک ایسا موقع حاصل کر چکا تھا جب وہ اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف مؤثر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی پوزیشن میں تھا، مگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس واقعے کا تعلق 1965 کی پاک بھارت جنگ سے ہے۔

اس مکمل کالم کی ویڈیو دیکھنے کے لیئے  نیچے دی گئی امیج کو کلک کریں

 

 

تاریخی شواہد اور ایئر مارشل اصغر خان کی روایت

اس موضوع پر سب سے مستند حوالوں میں سے ایک پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان کی کتاب پہلا دور پاک و ہند جنگ 1965 ہے۔ اصغر خان اپنی مشاہداتی اور تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر لکھتے ہیں کہ جنگ سے قبل صدر فیلڈ مارشل ایوب خان بحری قوت کو وہ اہمیت نہیں دیتے تھے جس کی ایک دو حصوں پر مشتمل ریاست کو ضرورت تھی۔ ان کے نزدیک بحریہ پر زیادہ سرمایہ خرچ کرنا ترجیحات میں شامل نہیں تھا، حالانکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ہزار میل سے زائد فاصلے کو صرف سمندری راستے ہی جوڑتے تھے، اور انہی راستوں کے درمیان بھارت موجود تھا۔

بحریہ کی حکمتِ عملی اور پالیسی اختلافات

اصغر خان کے مطابق اسی پالیسی اختلاف کے باعث بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل ایچ۔ ایم۔ ایس۔ چوہدری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ بعد ازاں نئے عسکری انتظامات اور پالیسی فیصلوں نے بھی بحریہ کو جنگی منصوبہ بندی میں وہ مرکزی حیثیت نہ دی جس کی وہ مستحق تھی۔ نتیجتاً پاک بحریہ نے اپنی حکمت عملی خود مرتب کی اور محدود وسائل کے باوجود ایسے اقدامات کیے جنہوں نے بھارتی بحریہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

جنگ کے دوران بحری برتری

جنگ1965  کے دوران بھارتی بحریہ کا بڑا حصہ اپنی بندرگاہوں تک محدود رہا، جبکہ پاکستانی بحریہ نے بحیرۂ عرب میں مؤثر موجودگی قائم رکھی۔ اسی دوران دوارکا پر حملے نے بھی بھارتی بحری حکمت عملی پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کیے۔ مشرقی پاکستان میں بھی پاکستانی بحری حکام نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں اور متعدد بھارتی تجارتی جہازوں کو قیمتی سامان سمیت اپنی تحویل میں لیا۔

وہ موقع جب ناکہ بندی ممکن تھی

ان تمام حالات کے بعد ایک ایسا مرحلہ آیا جب پاکستان بھارت کے تجارتی اور رسدی بحری راستوں کی ناکہ بندی کرنے کی عملی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگر یہ اقدام کر لیا جاتا تو بھارت کی جنگی رسد، ایندھن اور تجارتی نقل و حمل شدید متاثر ہو سکتی تھی، جبکہ پاکستانی جہاز نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت جاری رکھ سکتے تھے۔

آخر یہ منصوبہ نافذ کیوں نہ ہو سکا؟

تاہم یہ منصوبہ کبھی عملی جامہ نہ پہن سکا۔ اصغر خان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ عسکری نہیں بلکہ سفارتی تھی۔ وزارتِ خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر ایسے پیچیدہ قانونی اور سفارتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔ اسی بنا پر اس تجویز کی منظوری نہیں دی گئی۔

ایک تاریخی سوال جو آج بھی باقی ہے

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس دور میں وزارتِ خارجہ کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھی۔ ممکن ہے اس وقت کے بین الاقوامی حالات، سفارتی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہو، لیکن عسکری تاریخ کے طالب علم آج بھی اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ اگر پاکستان اس وقت بحری ناکہ بندی نافذ کر دیتا تو کیا 1965 کی جنگ کا منظرنامہ مختلف ہو سکتا تھا؟

اختتامیہ

                          تاریخ ایسے ہی سوالات سے جنم لیتی ہے۔ بعض اوقات جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں بلکہ اُن فیصلوں میں بھی جیتی یا ہاری جاتی ہیں جو کبھی کیے ہی نہیں جاتے

رمضان بلوچ

  • Khalid Azim

    ممتاز اور کہنہ مشق صحافی خالد عظیم چوہدری 9 جولائی 1956ء کو کھاریاں میں پیدا ہوئے، جنہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے جرنلزم اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہیں عملی صحافت کا تین دہائیوں سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جس کے دوران انہوں نے قومی و بین الاقوامی اداروں میں ابلاغ، کارپوریٹ کمیونیکیشن اور تنظیمی قیادت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ سما ٹی وی اسلام آباد کے بیورو چیف کے عہدے پر بھی فائز رہے اور درست اردو تلفظ کی ادائیگی کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت کا ایک اہم اور قابلِ فخر حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ خالد عظیم صاحب کے پاس صحافت کی دنیا کی کئی ان کہی کہانیاں محفوظ ہیں، کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ہنگامہ خیز دور میں چیف جسٹس کی معزولی سے لے کر بحالی تک کی پوری تحریک کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس کے علاوہ، انہیں کارگل کی جنگ کے دوران محاذِ جنگ پر جا کر لائیو کوریج کرنے کا منفرد موقع ملا، جہاں انہوں نے ایک یادگار رات فوجی مورچے میں بھی گزاری۔ اپنی جدید انتظامی سوچ، پیشہ ورانہ دیانت اور متوازن طرزِ صحافت کے باعث وہ آج بھی صحافتی حلقوں میں ایک انتہائی باوقار اور قابلِ احترام نام سمجھے جاتے ہیں۔

    View all posts