غیر فوجی کالم: تاریخ سے مکالمہ

غیر فوجی کالم

غیر فوجی کالم: تاریخ سے مکالمہ

 

اخباری کالمز کے انتخاب پر مشتمل بریگیڈیئر صولت رضا کی دوسری کتاب غیر فوجی کالم پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ پر ایک  عینی شاہد کا فکری مکالمہ ہے۔ ملکی تاریخ کے بعض اہم اور آنکھوں دیکھے واقعات اس کتاب کی شکل میں محفوظ ہوگئے ہیں جو تاریخ بالخصوص معاصر تاریخ کے طالب علموں کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ 

 کتاب میں مشمولہ کالمز کا عمومی مزاج سنجیدہ، قدرے تلخ اور فکر انگیز ہے۔ کالم نگار بذاتِ خود جس نظام کا اہم حصہ رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد اسی نظام کے حوالے سے انہوں نے اپنے قلم کی مدد سے کچھ سوالات کا جواب دینے اور کچھ نئے سوال  اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب تاریخ کو جذبات کے بجائے تجربے، مشاہدے اور دلیل کی روشنی میں دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ 

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ غیر فوجی کالم اُن سوالوں کی فہرست ہے جو وردی میں رہتے ہوئے نہیں پوچھے جا سکتے تھے—اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جن کا پوچھنا آسان نہیں، مگر ناگزیر ہے۔ 

 

ایک قاری کے تاثرات

 

بریگیڈیئر صولت رضا  کی کتاب غیر فوجی کالم  2016 ء میں شائع ہوئی تھی۔ تاہم مجھے یہ کتاب پہلی بار 2018ء میں پڑھنے کا موقع ملا۔  اس میں شامل بیشتر کالم اہم  قومی اخبارات میں شائع ہو چکے تھے۔ اس لحاظ سے نہ یہ کتاب نئی ہے، نہ اسے کسی تعارف کی ضرورت ہے، اس پر متعدد تبصرے سامنے آ چکے ہیں، مگر ایک قاری کی حیثیت سے اس نے میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا کیے، کچھ غلط فہمیاں دور کیں، کچھ گتھیاں سلجھائیں اور بعض حقائق کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا۔ حاصلِ مطالعہ نوٹس کی صورت میں بکھرے ہوئے تاثرات کو بعد ازاں زیرِ نظر مضمون کی صورت میں قلم بند کیا۔ 

 

 غیر فوجی کالم ۔۔۔ کاکولیات سے مختلف سفر

 

 اخباری کالموں کایہ  مجموعہ دراصل ایک ایسے قلم کار کی فکری خودنوشت ہے جو فوجی زندگی گزارنے کے باوجود محض عسکری زاویۂ نظر تک محدود نہیں رہے۔ 
بریگیڈیئرصولت رضا کی پہلی معروف کتاب کاکولیات پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول میں فوجی تربیت کی یادداشتوں اور شگفتہ اسلوب کے باعث مقبول ہوئی، مگر غیر فوجی کالم بالکل مختلف مزاج کی کتاب ہے۔ یہاں یادوں کی نرمی و گرمی کے بجائے سیاسی و عسکری تاریخ، ریاستی اداروں، سول ملٹری تعلقات اور طاقت کے مراکز پر سنجیدہ غور و فکر نے لے لی ہے۔ 

یہ کالم قاری سے مسکراہٹ نہیں، مکالمے کے خواہاں ہیں—اور وہ بھی ایسے سوالوں پر جن کے آسان جواب موجود نہیں۔ مصنف نے اپنے کالموں کو  ’قاری کے نام خط‘ قرار دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات یہ خط، خط نہیں رہتا بلکہ ’تار‘ بن جاتا ہے، اور کبھی محض ایک پوسٹ کارڈ—مختصر، مگر چونکا دینے والا۔
کتاب میں شامل کالموں کے کے عنوانات ہی بتا دیتے ہیں کہ مصنف نے سہل موضوعات کا انتخاب نہیں کیا۔ فوجی تاریخ، عدالتی بحران، سول ملٹری تعلقات، کراچی کی سیاست و سلامتی، انٹیلی جنس اداروں کا کردار اور اقتدار کے مراکز کی داخلی حرکیات جیسے موضوعات محض واقعاتی بیان نہیں بنتے بلکہ تاریخی تناظر، ذاتی مشاہدے اور تجزیے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

’پہلی ناکام فوجی بغاوت‘، ’کہانی دو چیف صاحبان کی‘، ’سپریم کمانڈر غلام اسحاق خان‘، ’سکندر مرزا سے پرویز مشرف تک‘ اور ’بے نظیر شہید کے قاتل‘ جیسے کالم اس بات کے گواہ ہیں کہ صولت رضا تاریخ کو جذبات کے بجائے شواہد، تجربے اور دلیل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
مصنف کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر اس کتاب کو غیر معمولی اعتبار عطا کرتا ہے۔ پنجاب یونی ورسٹی سے جرنلزم میں ایم اے، فوجی زندگی، آئی ایس پی آر میں خدمات اور بطور بریگیڈیئر ریٹائرمنٹ، بعد ازاں نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز، اسلام آباد میں ماس کمونیکیشنز شعبے کے بنیاد گزار صدرِ شعبہ کی ذمے داریاں — یہ امتزاج کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

اسی لیے ان کی تحریر نہ محض صحافتی ہے اور نہ صرف فوجی؛ بلکہ دونوں کے درمیان ایک نادر توازن قائم کرتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، وارث میر اور بریگیڈیئر صدیق سالک جیسے اساتذہ اور سینیئرز سے نسبت بھی ان کی فکری تشکیل میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ’وارث میر صاحب کی یاد میں‘ اور ’صدیق سالک کی یاد میں‘ جیسے کالم اسی فکری رشتے کی گواہی دیتے ہیں۔ 

 

تاریخ، ریاست اور طاقت کا بیانیہ 

 

کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ صولت رضا واقعات کو محض بیان نہیں کرتے بلکہ ان کے پس منظر میں کارفرما ادارہ جاتی، سیاسی اور تاریخی عوامل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کالم وقتی تبصرے کے بجائے پاکستان کی معاصر تاریخ کی تفہیم میں مستقل اہمیت رکھتے ہیں۔ 

اس کی عمدہ مثال ’سرکار کے عوامی جلسے‘ ہے۔ کالم کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے لیاقت باغ، راول پنڈی کے جلسے سے ہوتا ہے اور پھر قاری کو ستر کی دہائی کے کوئٹہ لے جاتا ہے، جہاں اُس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایک جلسے میں مُصنف اپنے فرائضِ منصبی کی تکمیل کے سلسلے میں موجود تھے۔منظر اس وقت دل چسپ موڑ لیتا ہے جب اپنے نعروں سے کارکنوں کو جوش دلانے والے ایم پی اے صابر بلوچ پر یہ عقدہ کُھلتا ہے کہ جنہیں وہ سرگرم پارٹی کارکن سمجھ کر نعرے لگوا رہے تھے، وہ دراصل سیکیورٹی پر مامور ’سفید پوش‘ اہل کار تھے۔ 

اس ایک واقعے کے ذریعے کالم نگار صاحبانِ اقتدار کے عوامی جلسوں کی ایک دیرینہ روایت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ایسے اجتماعات میں ہجوم اکثر عوام سے زیادہ انتظامی ضرورت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 

’کہانی دو چیف صاحبان کی‘ میں جنرل پرویز مشرف اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے تصادم کو محض دو شخصیات کے اختلاف کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے بحران کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ مُصنف بعض فیصلوں کی توجیہات بیان کرنے کے باوجود یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا اقتدار کے ایوان زمینی حقائق سے کٹ چکے تھے؟

اختتام پر ان کی تشویش کسی ایک فریق کے لیے نہیں بلکہ ریاست اور اس کے اداروں کے مستقبل کے لیے ہے۔ اسی طرح ’انٹیلی جنس والے آئے تھے‘  اور ’عدالتی بحران کا آسان حل‘  جیسے کالم ذاتی مشاہدے سے شروع ہو کر طاقت کے غیر مرئی مراکز، ریاستی اداروں کے باہمی تعلق اور بحرانوں کی ساخت پر ایک وسیع تر بحث میں ڈھل جاتے ہیں۔ کالم نگار کسی آسان نسخے کی پیش کش نہیں کرتے بلکہ دکھاتے ہیں کہ ہمارے ہاں بحران اکثر اس وقت جنم لیتے ہیں جب مسائل کو ان کی اصل پیچیدگی جانے بغیر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

 

کراچی: ایک شہر، کئی استعارے

 

کتاب میں کراچی ایک مستقل استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے؛ ریاست، سیاست اور طاقت کے باہمی تصادم کا استعارہ۔
’کراچی کا جن‘، ’کراچی کی حکومت‘ اور ’کور کمانڈر کراچی کی سیکیورٹی‘  جیسے کالموں میں  جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار سے لے کر بالخصوص بارہ مئی 2007ء کے واقعات تک ایک فکری تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ صولت رضا شخصی اقتدار، اور سیاسی صف بندیوں کو ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں قرار دیتے ہیں۔ وہ جذباتی بیانیے سے گریز کرتے ہوئے  اختیارات کے ارتکاز  کی کم زوریوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ سیاسی جماعتوں کی تقسیم، لسانی سیاست کے فروغ اور کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات کو ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا زاویۂ نظر الزام تراشی نہیں بلکہ تجزیہ ہے، اور شاید اسی لیے زیادہ قائل بھی کرتا ہے۔

’میجر جنرل احتشام ضمیر کے آنسو‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ بظاہر یہ ایک جذباتی لمحے کا بیان ہے، مگر آگے چل کر صولت رضا اسے مشرف دور کی سیاسی صف بندیوں اور قاف لیگ کی تشکیل تک لے جاتے ہیں۔ ان کا سوال سادہ مگر بے حد اہم ہے: اگر ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں ہوگا تو تاریخ سے سبق کیسے سیکھا جائے گا؟ کالم کے اختتام پر ان کا طنز پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کاش یہ آنسو اس وقت بہتے جب سیاسی صف بندیاں تشکیل دی جا رہی تھیں۔

شخصیات اور اقتدار

 

غیر فوجی کالم پڑھنے سے معلوم ہوتا  ہے کہ شخصیات پر لکھتے ہوئے  مصنف تقدیس اور تضحیک، دونوں انتہاؤں سے بچتے ہیں۔ ’رحلت ایک جنرل کی‘ اور ’مائی ڈیئر جنرل مشرف‘ اس متوازن رویے کی عمدہ مثالیں ہیں۔ خصوصاً کالم ’مائی ڈیئر جنرل مشرف‘ جو دراصل ایک کھلا خط ہے جس میں وہ جنرل مشرف کو اقتدار، بالخصوص منصبِ صدارت، چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

یہ کالم محض تنقید نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی فکری اپیل ہے جو ریاست کے اندر رہ کر ریاستی نظام کو دیکھ چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ کالم جنرل مشرف کے استعفے (۱۸۔ اگست ۲۰۰۸) سے محض چند روز قبل (۱۴۔اگست ۲۰۰۸) کو شائع ہوا، اس لیے آج اسے پڑھتے ہوئے اس کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح ایک اہم کالم ’گڑھی خدا بخش جانے والے‘ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق چند ایسے ذاتی اور تاریخی نوعیت کے  چشم دید مشاہدات پر مشتمل ہے جو کتاب کی دستاویزی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ 


عنوان، تہذیب اور تاریخ


غیر فوجی کالم میں شامل کئی کالموں کے عنوانات اس وقت دل چسپی کا باعث بن جاتے ہیں جب عنوان سے کالم کے موضوع کا اندازہ لگانا دشوار ہو جاتا ہے۔ 
’موجِ ظرافت‘ دراصل ضیاء الحق قاسمی، منیر نیازی اور شوکت صدیقی کی یاد میں ایک سنجیدہ ادبی مرثیہ ہے، جبکہ ’قربانی دیاں کھلاں۔ ہائے ہائے‘ عیدالاضحیٰ کے ذکر سے آغاز کرکے اسلامیہ کالج لاہور کی یادوں تک جا پہنچتا ہے۔

اسی طرح ’ایک بھولی بسری قدرتی آفت کی داستان‘ 2005ء کے زلزلے سے آغاز کرکے 1970ء کے مشرقی پاکستان کے تباہ کن سمندری طوفان اور اس کے سیاسی نتائج تک پہنچتا ہے۔ کالم نگار کے نزدیک قدرتی آفت سے زیادہ ہول ناک چیز ناقص حکمرانی اور کمزور ابلاغ ہوتا ہے، جو بالآخر سیاسی بحران کو جنم دیتا ہے۔
’بسنت کے کوٹھے‘  اس کتاب کے یادگار کالموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ مصنف لاہور کی بسنت سے آغاز کرتے ہوئے  نواب درگاہ قلی خان کی کتاب مرقعِ دہلی تک جا پہنچتے ہیں اور پھر تاریخی روایت، تہذیبی حافظے اور موجودہ دور کی بسنت کا ایسا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہیں جس میں لطیف طنز بھی ہے اور تہذیبی خود احتسابی بھی۔ یہی صولت رضا کا امتیاز ہے کہ وہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والے موضوع کو بھی تاریخ اور معاشرے کے وسیع تر تناظر سے جوڑ دیتے ہیں۔

زبان اور اسلوب 

 

غیر فوجی کالم پڑھتے ہوئے  کاکولیات کی یادوں میں لپٹی شگفتہ نثر نہیں، بلکہ ایک نپی تلی، محتاط اور بسا اوقات ملفوف طنز سے مزین زبان سامنے آتی ہے۔ یہی اسلوب موضوعات کی سنجیدگی کا تقاضا بھی ہے۔ کالم نگار جانتے ہیں کہ بعض سوال مسکراہٹ کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، اس لیے وہ یہاں قاری کو ہنسانے کے بجائے متوجہ رکھتے ہیں۔
ان کی نثر کی ایک نمایاں خصوصیت پرانی تراکیب کو نئے مفہوم میں برتنا، نت نئی ترکیبیں وضع کرنا اور لفظی رعایتوں سے معنی میں تازگی پیدا کرنا ہے۔ عبارت میں شگفتگی کی ایک مدھم مگر مسلسل لہر جاری رہتی ہے جو تحریر کو موضوع کی سنجیدگی کے باوجود بوجھل ہونے نہیں دیتی۔ 

اسلوب کے اعتبار سے صولت رضا کی نثر صاف، متوازن اور استدلال پر قائم ہے۔ وہ بے جا لفاظی سے گریز کرتے ہیں، اگرچہ الفاظ سے کھیلنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی سنجیدہ تحریر میں بھی شگفتگی کی ایک ہلکی مگر مسلسل لہر موجود رہتی ہے جو سنجیدہ موضوعات کو خشک نہیں ہونے دیتی۔

بعض مقامات پر واوین میں بند الفاظ اور تراکیب طنز یا معنوی اشارے کا مؤثر وسیلہ بن جاتے ہیں، اگرچہ کہیں کہیں ان کا نسبتاً زیادہ استعمال عبارت کی روانی میں ہلکا سا توقف یا قدرے رکاوٹ اور بوجھل پن بھی پیدا کرتا ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ اسلوب مصنف کی انفرادی شناخت کا حصہ ہے۔ 

مصنف واقعات کے بیان میں فیصلے صادر کرنے کے بجائے سوال اٹھاتے ہیں، ماضی اور حال کو ایک دوسرے کے مقابل رکھتے ہیں اور اس موازنے کو استعمال کرتے ہوئے قاری کو خود نتیجہ اخذ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ آج کے بلند آہنگ کالمی منظرنامے میں یہ وصف کم یاب ہے۔ بعض مقامات پر ان کا لہجہ سخت ضرور ہو جاتا ہے، مگر یہ سختی تلخی نہیں بنتی؛ بلکہ کالم نگار کی دردمندی کا عکس بن جاتی ہے۔

غیر فوجی کالم ۔۔۔ ایک سنجیدہ فکری دستاویز 


غیر فوجی کالم ایک سنجیدہ ذہن کی کوشش ہے کہ ماضی کو سمجھ کر حال کی گرہیں کھولی جائیں۔ اسی لیے یہ کالم ہنگامی نوعیت سے بلند ہو کر  ایک اہم دستاویز کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان میں مشاہدہ بھی ہے، تجربہ بھی، اور بےشمار ایسے واقعات بھی جو صرف ایک عینی شاہد ہی بیان کر سکتا تھا۔

اگر کاکولیات نے صولت رضا کو ایک مقبول نثر نگار کے طور پر متعارف کرایا تھا تو غیر فوجی کالم انہیں ایک سنجیدہ فکری مبصر کی حیثیت سے منواتی ہے۔ یہ کتاب ان قارئین کے لیے  ہے جو پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کو نعروں، تقدیس اور نفرت سے ہٹ کر سمجھنا چاہتے ہیں۔ 

 معاصر پاکستانی تاریخ کو جاننے اور سمجھنے کے لیے غیر فوجی کالم ایک معتبر فکری دستاویز ہے۔ 

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *