پیڈرو پارامو ‘کا قاری کیسا ہونا چاہیے؟ 5 ۔ اہم خوبیاں’


’پیڈرو پارامو‘  کا قاری کیسا ہونا چاہیے؟ 5 ۔  اہم خوبیاں

خوآن رُلفو کا شاہکار ناول ’پیڈرو پارامو‘ غیر روایتی قاری کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا ادبی تجربہ ہے جس میں پڑھنے والے کو واقعات کا پیچھا کرنے کے بجائے متن کے ساتھ قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس ناول کا قاری کیسا ہونا چاہیے اور خوآن رُلفو کے اس پیچیدہ شاہ کار کو سمجھنے کے لیے اسے کن خصوصیات کی ضرورت ہے؟

ناول عام ڈگر سے ہٹ کر چلتا ہے اور اس کا قاری بھی چند خاص خوبیوں سے متصف ہونا چاہیے۔

کومالا میں داخل ہوتے ہی سیدھا راستہ ختم ہو جاتا ہے۔ آوازیں بدلتی ہیں، وقت آگے پیچھے ہوتا ہے، مردے بولتے ہیں اور زندہ لوگ بھی کبھی کبھی ایسے لگتے ہیں جیسے کسی پرانی یاد کی بازگشت ہوں۔

ایسے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ناول کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہ اسے پڑھنا کیسے چاہیے؟ یا پھر ’پیڈرو پارامو‘ کا قاری کیسا ہونا چاہیے؟

’پیڈرو پارامو‘ پڑھتا ہوا ایک غوروفکر میں ڈوبا قاری
’پیڈرو پارامو‘ پڑھتا ہوا ایک غوروفکر میں ڈوبا قاری

1۔ تماشائی نہیں، شریکِ سفر

 
’پیڈرو پارامو‘ کا پڑھنے والا ایسا نہیں ہو سکتا جو مصنف سے توقع رکھے کہ وہ اسے انگلی پکڑ کر کہانی کے آغاز سے انجام تک لے جائے گا۔

رُلفو نے واقعات کو بکھرے ہوئے ٹکڑوں، مکالموں، یادوں اور مختلف آوازوں میں پیش کیا ہے۔ پڑھنے والے کو ان ٹکڑوں کے درمیان رشتے تلاش کرنا، اشاروں کو ملانا اور خالی جگہیں پُر کرنا پڑتی ہیں۔

یہاں عام روش سے ہٹ کر قاری محض تماشائی نہیں رہتا بلکہ متن کی تشکیل میں شریک ہو جاتا ہے۔ یعنی یہاں وہ صرف کہانی پڑھتا نہیں، اسے دوبارہ تشکیل بھی دیتا ہے۔یہ محض ایک خوش گوار ادبی استعارہ نہیں۔ ’پیڈرو پارامو‘ پر ہونے والی علمی بحث میں فعال قاری کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تحقیقی مطالعہ تو ناول میں ’’سننے والے قاری‘‘ کی تشکیل پر توجہ دلاتا ہے۔ مردہ کرداروں کی آوازیں، ادھوری باتیں اور خطاب کے خلا، پڑھنے والے کو خاموش تماشائی بننے نہیں دیتے؛ اسے متن کے ساتھ فعال طور پر شریک ہونا پڑتا ہے۔

2۔ مانوس منطق کی گرفت سے آزاد قاری


کومالا میں زندہ اور مردہ، ماضی اور حال، حقیقت اور یادداشت کے درمیان وہ واضح سرحدیں نہیں جن کے ہم عموماً عادی ہیں۔اگر پڑھنے والا ہر چند صفحات بعد رک کر مثلاً یہ سوال اٹھائے کہ ’’مردہ شخص بول کیسے رہا ہے؟‘‘ تو وہ ناول کے بنیادی تجربے سے باہر نکل جائے گا۔

یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ دیر کے لیے اپنی مانوس منطقی توقعات معطل کر دی جائیں اور دیکھا جائے کہ کومالا اپنی کون سی منطق رکھتا ہے۔

3۔ الجھن کے ساتھ چلنے کا حوصلہ

’پیڈرو پارامو‘ پہلی قرأت میں الجھن پیدا کرتا ہے — اور شاید جان بوجھ کر۔

راوی بدل جاتا ہے، وقت اچانک پلٹ جاتا ہے، کردار کسی تعارف کے بغیر سامنے آتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ مگر ہر چیز کو اسی لمحے سمجھ لینا اس ناول کی شرط نہیں۔

اچھا قاری الجھن کو شکست نہیں سمجھتا۔ وہ کچھ دیر اس دھند میں چلتا ہے؛ بہت سے راستے خود بخود نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

4۔ لفظوں کے پیچھے چھپی آوازوں کا سامع

کومالا صرف کرداروں اور واقعات سے نہیں بنتا؛ اس کی فضا آوازوں، سرگوشیوں اور خاموشیوں سے بنتی ہے۔

رُلفو بعض باتیں کہنے کے بجائے چھوڑ دیتا ہے۔ جملوں کے درمیان موجود خلا، ادھوری گفتگو اور دور سے آتی آوازیں بھی کہانی کا حصہ ہیں۔

اسی لیے ناول خوانی کے لیے سننے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی پڑھنے کی۔

مردہ کرداروں کی آوازیں صرف فضا نہیں بناتیں؛ وہ قاری کو متن کے ان حصوں تک پہنچاتی ہیں جہاں معنی براہِ راست بیان نہیں کیے گئے۔

5۔ ایک قرأت پر اکتفا نہ کرنے والا قاری

اس ناول کو ایک بار پڑھ کر یہ فیصلہ کر لینا کہ ’’کہانی سمجھ میں نہیں آئی‘‘ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی بھول بھلیاں میں داخل ہو کر پہلے ہی موڑ پر نقشہ مانگ لیا جائے۔

یہ بات بھی محض پڑھنے والے کے ذوق کا مسئلہ نہیں۔ رُلفو پہلے قاری کو ایک نسبتاً روایتی قصہ سننے والے کی جگہ پر بٹھاتا ہے؛ پھر خوآن پریسیادو کی موت کے انکشاف سے اُس کی یہ پوزیشن ہی بدل دیتا ہے۔

اب اسے باہر بیٹھ کر کہانی سننے کے بجائے متن کے اندر موجود بکھرے ہوئے اشاروں کے ساتھ خود کام کرنا پڑتا ہے۔ یہی تجربہ اسے دوبارہ پڑھنے کی طرف دھکیلتا ہے۔ اسی لیے دوبارہ پڑھنا محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناول کے بکھرے ہوئے زمانی اور صوتی رشتوں کو سمجھنے کا اہم طریقہ بھی ہے۔

دوسری قرأت میں بہت سی آوازیں پہچانی جانے لگتی ہیں، کرداروں کے رشتے واضح ہوتے ہیں اور پہلے سے پڑھے ہوئے جملوں کے نئے معنی کھلتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ’پیڈرو پارامو‘ محض ایک ہی قرأت کی کتاب نہیں؛ یہ اگلی قرأت میں وہیں سے دوبارہ شروع ہوتی ہے۔

کیا آپ پیڈرو پارامو پڑھنے کے لیے تیار ہیں ؟

 

کومالا کی ویران اور پر اسرار گلیوں میں سرگرداں خوآن پریسیادو
کومالا کی ویران اور پر اسرار گلیوں میں سرگرداں خوآن پریسیادو
 
 ناول ’پیڈرو پارامو‘  کا تفصیلی تعارف یہاں ملاحظہ فرمائیں۔ 

سوال وہی ہے کہ آخر اس ناول کا پڑھنے والا کیسا ہونا چاہیے؟

جواب یہ ہے کہ ایسا قاری جو

فعال ہو، صابر ہو، ابہام سے نہ گھبرائے،خاموشیوں کو سن سکے اور اپنی پہلی قرأت پر آخری فیصلہ صادر نہ کرے۔

کیسا قاری ناول سے اُلجھ سکتا ہے ؟

وہ جو ہر واقعے کی فوری وضاحت، ہر کردار کا واضح تعارف اور ہر آواز کی قطعی شناخت چاہے،  جو بکھری ہوئی ساخت کو خرابی اور اُلجھن کو مصنف کی ناکامی سمجھ لے۔

’پیڈرو پارامو‘ ایسے قاری کو شاید مایوس کرے۔

لیکن اگر آپ کومالا میں کچھ دیر راستہ بھولنے پر آمادہ ہیں تو ممکن ہے یہی بھولنا اس ناول کو پڑھنے کا اصل راستہ ثابت ہو۔

کیونکہ اس بھول بھلیاں میں منزل سے زیادہ اہم شاید یہ ہے کہ آپ راستہ تلاش کرتے ہوئے کیا سنتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں اور کیا خود دریافت کرتے ہیں۔