کراچی میں اقلیتوں کی تاریخ: تعمیری سفر اور گمنام میراث

کراچی میں اقلیتوں کی تاریخ: پاکستان کے عظیم شہر کی تعمیر اور گمنام میراث

تحریر: یوسف ابن الحسن

کراچی میں اقلیتوں کی تاریخ دراصل اس شہر کی تعمیر، ترقی اور کثیر الثقافتی شناخت کی وہ بنیاد ہے جس پر آج کا مالیاتی اور تجارتی مرکز قائم ہے۔ ’’کسی شہر کی عظمت اس کی بلند و بالا عمارتوں سے نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے وژن، محنت، ہمت اور سخاوت سے ناپی جاتی ہے جو اسے تعمیر کرتے ہیں۔‘‘

کراچی محض پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں؛ یہ ملک کا مالیاتی مرکز، تجارتی دارالحکومت، اہم ترین بندرگاہ اور عالمی تجارت کا دروازہ ہے۔ مگر ایک خاموش حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک چھوٹی سی ساحلی بستی سے تقریباً آٹھ دہائیوں میں ایک عظیم شہر بننے کا یہ سفر کسی ایک قوم، مذہب یا برادری کا کارنامہ نہیں تھا۔ اس شہر کی تعمیر میں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور پس منظر رکھنے والے لوگوں نے اپنا بنیادی حصہ ڈالا۔

مشترکہ محنت اور کثیر الثقافتی ورثہ

کراچی کی تاریخ دراصل تقسیم کی نہیں، اشتراک کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ پارسی، ہندو، عیسائی، سکھ، یہودی، بہائی، میمن، بوہری، کھوجہ، گواں، آرمینیائی اور دیگر برادریوں نے اپنے علم، سرمایہ، تجارت، ہنر اور خدمت سے اس شہر کی بنیادیں مضبوط کیں۔ انہوں نے کاروبار، اسکول، اسپتال، فلاحی ادارے، صنعتیں اور شہری ادارے قائم کیے جن سے بلاامتیاز مذہب و نسل پورا معاشرہ مستفید ہوا۔ بقولِ مشہور، ’’مل جل کر کام کرنے سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔‘‘

انیسویں صدی کے وسط تک کراچی ایک نسبتاً چھوٹا ساحلی قصبہ تھا، مگر اس کی قدرتی گہری بندرگاہ نے اسے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارت کا اہم مرکز بنا دیا۔ مختلف برادریوں کے تاجر اور ماہرین یہاں آئے، سرمایہ لائے، علم لائے اور اپنے ساتھ کاروباری تجربہ اور جدت کا جذبہ بھی لائے۔ انہی مشترکہ کوششوں نے کراچی کو جنوبی ایشیا کے نمایاں تجارتی مراکز میں تبدیل کیا۔

پارسی برادری کا روشن باب

کراچی میں اقلیتوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے پارسیوں کا مقام خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تعداد میں کم ہونے کے باوجود شہر کی ترقی میں ان کا کردار غیر معمولی رہا۔ انہوں نے جہاز رانی، بینکاری، بیمہ، صنعت، تجارت اور بلدیاتی انتظامیہ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے نزدیک دولت کا مقصد صرف ذاتی منفعت نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی بھی تھا۔

پارسی خاندانوں نے اپنے خیراتی ٹرسٹوں اور عطیات کے ذریعے اسکول، اسپتال، زچہ خانے، کتب خانے، پارک، کمیونٹی ہال اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے رہائشی منصوبے قائم کیے۔ بی وی ایس پارسی ہائی اسکول اور ماما پارسی گرلز سیکنڈری اسکول جیسے اداروں نے ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک بلاامتیاز مذہب نسلوں کو تعلیم دی۔ ان اداروں سے ہزاروں پیشہ ور، سرکاری افسر، کاروباری شخصیات، جج اور اہلِ علم نکلے۔ یہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ علم کی کوئی مذہبی سرحد نہیں ہوتی۔

ہندو برادری اور کراچی کی تجارت

کراچی کو خطے کا تجارتی مرکز بنانے میں ہندو برادری کا کردار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے بہت پہلے ہندو تاجر تجارت، مالیات، جہاز رانی، کپڑے، ادویات اور تھوک کاروبار میں نمایاں تھے۔ ان کے تجارتی روابط کراچی کو بمبئی، کلکتہ، مسقط، بصرہ، زنجبار اور لندن تک لے گئے۔ خارا در، میٹھا در اور بولٹن مارکیٹ جیسے تاریخی تجارتی مراکز انہی تاجروں کی محنت اور کاروباری بصیرت سے پروان چڑھے۔

انہوں نے صرف دولت نہیں کمائی بلکہ اسکولوں، اسپتالوں، کمیونٹی مراکز اور فلاحی اداروں کے لیے بھی دل کھول کر عطیات دیے۔ ان کا عمل اس اصول کی ترجمانی کرتا تھا کہ خوش حالی اپنے ساتھ معاشرے کی خدمت کی اخلاقی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔

عیسائی برادری کی تعلیمی اور طبی خدمات

کراچی کی عیسائی برادری نے خصوصاً تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے میدان میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ ریاستی اداروں کے وسیع پیمانے پر وجود میں آنے سے بہت پہلے عیسائی مشنریوں نے اسکول، کالج، اسپتال اور نرسنگ ادارے قائم کیے، جو کراچی میں اقلیتوں کی تاریخ کا ایک درخشان باب ہے۔ ان اداروں کے دروازے کسی ایک مذہب کے لیے مخصوص نہیں تھے؛ ہر مذہب اور طبقے کے طالب علم اور مریض یہاں آتے تھے۔

سینٹ پیٹرک ہائی اسکول اور سینٹ جوزف کانونٹ اسکول نے پاکستان کے کئی ممتاز ججوں، فوجی افسران، سول سرونٹس، انجینئروں، ڈاکٹروں، صحافیوں، تاجروں اور سیاست دانوں کی تعلیم و تربیت میں کردار ادا کیا۔ ان اداروں نے صرف علم نہیں دیا بلکہ دیانت، نظم و ضبط، برداشت اور خدمتِ خلق کی تربیت بھی کی۔ اسی طرح عیسائی اسپتالوں اور نرسنگ اسکولوں نے کراچی میں جدید طبی خدمات کے معیار کو بلند کیا۔ ان کی خدمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رحمت، انسانیت اور خدمت کسی مذہب یا نسل کی محتاج نہیں۔

دیگر اقلیتی برادریوں کا قابلِ قدر حصہ

سکھ برادری اگرچہ تعداد میں نسبتاً کم تھی، لیکن اس کے افراد نے ٹرانسپورٹ، انجینئرنگ، تعمیرات، صنعت، زراعت اور تجارت میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ یہودی، بہائی، آرمینیائی اور گواں برادریوں نے بھی تجارت، پیشہ ورانہ خدمات، شہری معاملات اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے کراچی کے کثیرالثقافتی مزاج کو مزید مالا مال کیا۔

ان تمام برادریوں کا سب سے بڑا تحفہ شاید صرف دولت نہیں بلکہ خدمت اور سخاوت کی وہ روایت تھی جس نے کراچی کے شہری مزاج کو تشکیل دیا۔ پارسیوں کے ٹرسٹ، عیسائیوں کے فلاحی ادارے اور ہندو مخیر حضرات کی تعلیمی و طبی خدمات نے ایک ایسی روایت قائم کی جس میں عوامی خدمت کو کاروباری کامیابی ہی کی طرح باعثِ عزت سمجھا گیا۔ واقعی:

’’ایک چراغ دوسرے چراغ کو روشن کرنے سے اپنی روشنی نہیں کھوتا۔‘‘

اسلام اور اقلیتوں کے حقوق

یہاں ایک بنیادی سوال بھی ہمارے سامنے آتا ہے: اسلامی معاشرے میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق کیا ہیں؟

یہ موضوع حساس ضرور ہے، مگر اسلام نے اس معاملے میں اصولی اور واضح رہنمائی دی ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:

’’اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (الممتحنہ: 8)

رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلم شہریوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی:

’’جس نے کسی معاہد شخص پر ظلم کیا، یا اس کا حق کم کیا، یا اسے اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی، یا اس کی کوئی چیز اس کی رضامندی کے بغیر لے لی، قیامت کے دن میں اس کے خلاف خود مقدمہ پیش کروں گا۔‘‘

یہ تعلیم محض رواداری نہیں بلکہ عدل، امانت اور شہری حقوق کے تحفظ کا تقاضا کرتی ہے۔ اسلامی ریاست میں اقلیتیں محض برداشت کی جانے والی آبادی نہیں بلکہ معاشرے کا حصہ اور اپنے جائز حقوق کی مستحق شہری ہیں۔ کراچی کی تاریخ اس اسلامی اصول کی ایک عملی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ مختلف اقلیتوں نے مل کر اس شہر کی بندرگاہیں، بازار، صنعتیں، اسکول، اسپتال، خیراتی ادارے اور شہری ڈھانچہ تعمیر کیا۔

کراچی کا مستقبل اور درپیش چیلنجز

آج کراچی کو تیز رفتار شہری پھیلاؤ، بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی مسائل اور شہری بے توجہی جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ مگر شہر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کی سب سے بڑی کامیابیاں اس وقت حاصل ہوئیں جب لوگوں نے مذہب، نسل، زبان اور برادری کی حدوں سے بالاتر ہوکر مل کر کام کیا۔

کراچی کی تاریخ کسی ایک مذہب، برادری یا نسل کی تاریخ نہیں۔ یہ ان بے شمار انسانوں کی مشترکہ داستان ہے جنہوں نے سمجھا کہ فرد کی خوش حالی معاشرے کی خوش حالی سے جدا نہیں ہوسکتی۔ کراچی کے تاریخی مقامات—فریئر ہال، ایمپریس مارکیٹ، میری ویدر ٹاور، گرجا گھر، مندر، آتش کدے، کتب خانے، اسکول اور کمیونٹی ہال—محض عمارتیں نہیں؛ یہ اس مشترکہ ماضی کی خاموش گواہی ہیں جس میں مختلف برادریوں نے آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ چھوڑا۔

آخرکار تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ شہر صرف اینٹوں، پتھروں، سڑکوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتے۔ شہر خیال رکھنے والے لوگوں، دیانت دار قیادت، محنت، رواداری اور خدمتِ خلق سے بنتے ہیں۔ کراچی کی اصل دولت اس کی بلند عمارتیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسے تعمیر کیا۔ اس شہر کی اقلیتی برادریوں کی خدمات محض تاریخ کا ایک باب نہیں؛ یہ کراچی کی اجتماعی میراث ہیں، اور ان کا اعتراف صرف خراجِ تحسین نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا بھی ہے۔

اگر ہم کراچی کو دوبارہ عظمت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس شہر کی سب سے بڑی طاقت—اتحاد، رواداری، میرٹ، محنت اور مشترکہ ذمہ داری—کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ یہی کراچی کا ماضی بھی ہے اور اس کے روشن مستقبل کی امید بھی۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی

گئی امیج پر کلک کریں