پروفیسر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر
پاکستان کی معروف مؤرخ، محقق اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اسلام کی سابقہ صدر پروفیسر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر شفیق نے ان کے ساتھ “افسانہ زندگی کا” کے عنوان سے ایک طویل اور نہایت معلوماتی انٹرویو کیا ہے، جو چار قسطوں پر محیط ہے۔
یہ انٹرویو محض ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان میں علم و تحقیق کی تاریخ اور ایک خاتون کے علمی سفر کی زندہ جاوید داستان ہے۔ ذیل میں اس گفتگو کا تفصیلی خلاصہ پیش ہے:
بچپن کی یادیں اور تعلیمی بنیادیں
پہلی قسط میں ڈاکٹر نگار سجاد اپنی ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور اس دور کے کراچی کا نقشہ کھینچتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ایک علمی گھرانے نے ان کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔ اس قسط میں ان کی شخصیت کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جو عام طور پر علمی کتابوں کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔
دلچسپ اقتباس: “ہم جس دور میں پلے بڑھے، وہاں کتاب سے دوستی ہی سب سے بڑا مشغلہ تھا، اور اسی نے ہمیں دنیا کو دیکھنے کا زاویہ دیا۔”
ویڈیو کے امیج پر کلک کریں
جامعہ کراچی کا سفر اور علمی جنون
دوسری قسط میں گفتگو کا رخ ان کے تعلیمی سفر کی طرف مڑتا ہے۔ جامعہ کراچی (کراچی یونیورسٹی) میں ان کے داخلے، وہاں کے اساتذہ اور اس زمانے کے علمی ماحول کا تذکرہ نہایت سحر انگیز ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے تاریخِ اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور کن مشکلات کے باوجود تحقیق کا دامن نہیں چھوڑا۔
دلچسپ اقتباس: “تحقیق کوئی کام نہیں، یہ ایک عشق ہے؛ جب تک آپ کو اپنے موضوع سے محبت نہ ہو، آپ نیا سچ دریافت نہیں کر سکتے۔”
ویڈیو کے امیج پر کلک کریں
شعبہ تدریس اور خواتین کے لیے چیلنجز
تیسری قسط میں ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر ایک استاد اور انتظامی سربراہ کے طور پر اپنے تجربات شیئر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک خاتون کے لیے پاکستان کے علمی حلقوں میں اپنی جگہ بنانا کتنا کٹھن تھا، لیکن عزمِ صمیم ہو تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے شعبہ تاریخ اسلام کی ترقی کے لیے جو اقدامات کیے، وہ آج بھی مثال ہیں۔
دلچسپ اقتباس: “تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی سوچ کو آزاد کرنا اور معاشرے کے لیے سود مند بننا ہے۔”
ویڈیو کے امیج پر کلک کریں
تصنیف و تالیف اور مستقبل کا پیغام
آخری قسط ان کے علمی شاہکاروں اور مستقبل کی نسل کے نام پیغام پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تاریخ، خاص طور پر خلافتِ بنو امیہ اور بنو عباس پر جو گراں قدر کام کیا ہے، اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہ آج کے طالب علموں کو تحقیق کے جدید تقاضوں اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔
دلچسپ اقتباس: “تاریخ ہمیں صرف ماضی نہیں دکھاتی، بلکہ یہ مستقبل کے اندھیروں میں چراغ جلاتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتی ہے۔”
ویڈیو کے امیج پر کلک کریں
مختصر یہ کہ: یہ چاروں قسطیں پاکستان کے ہر اس طالب علم اور علم دوست انسان کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہیں جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایک سچا عالم (Scholar) کیسے بنتا ہے اور کن قربانیوں کے بعد علمی بلندی حاصل کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شفیق کی میزبانی نے ان گفتگوؤں میں چار چاند لگا دیے ہیں۔
اگر آپ تاریخ کے طالب علم ہیں یا زندگی میں کچھ بڑا کرنے کا عزم رکھتے ہیں، تو ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کی یہ داستانِ حیات آپ کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ آج ہی یہ پلے لسٹ دیکھیں






kaleem here