استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟

استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟

“خبر جب تصویر بن جائے تو ضمیر کو بھی جاگ جانا چاہیے۔”

ایک مہمان جو جانے کا نام نہیں لیتا

جب سے سماجی ذرائع ابلاغ ہماری زندگیوں میں داخل ہوا ہے، اس نے گویا ایک ایسے بن بلائے مہمان کی صورت اختیار کر لی ہے جو جانے کا نام ہی نہیں لیتا۔ شاید یہ اسی وقت رخصت ہوگا جب اس سے بھی زیادہ طاقتور اور مؤثر کوئی نیا ذریعہ ہماری زندگیوں میں آ جائے گا۔

تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ اس کے صرف نقصانات ہیں؛ اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں۔ آج کسی بھی خبر کو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ یہی پلیٹ فارم ہیں۔

“استاد اگر سایہ نہ رہے تو دھوپ بڑھ جاتی ہے۔”

جب معلم، معلم نہ رہے

بدقسمتی سے آج کل ہر چند روز بعد سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی ایسی دل دہلا دینے والی ویڈیو گردش کرتی نظر آتی ہے جس میں کوئی استاد، جو درحقیقت استاد کہلانے کے لائق نہیں بلکہ جلاد معلوم ہوتا ہے، کسی معصوم طالب علم پر وحشیانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے۔

ان ویڈیوز کے ساتھ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے تاکہ مجرم قانون کی گرفت میں آ سکے۔ اکثر ایسا ہوتا بھی ہے، لیکن بعض اوقات قانون حرکت میں آنے سے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ایک معصوم جان اس تشدد کی نذر ہو جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک معلم، جس کا کام کردار سازی اور تربیت ہے، آخر اس قدر سنگ دل کیوں ہو جاتا ہے؟ اور ریاست ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا مؤثر اقدامات کر سکتی ہے؟

“مار سے زیادہ اثر محبت کی نگاہ کا ہوتا ہے۔”

مولا بخش سے احترامِ استاد تک

ہم اور ہمارے بزرگ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کے اساتذہ کی شخصیت کا ایک لازمی جز “مولا بخش” ہوا کرتا تھا۔ آج کی نسل شاید اس نام سے بھی واقف نہ ہو۔ مولا بخش دراصل وہ چھڑی یا ڈنڈا ہوتا تھا جسے اساتذہ بسا اوقات نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں مولا بخش سے زیادہ استاد کی شفقت کا چرچا تھا۔ مار اصلاح کے لیے تھی، انتقام کے لیے نہیں۔ اسی لیے شاگرد اپنے استاد سے محبت بھی کرتے تھے اور احترام بھی۔

میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے افراد دیکھے ہیں جو کئی بچوں کے والد بن چکے تھے، مگر استاد کو دیکھتے ہی سگریٹ والا ہاتھ جیب میں چھپا لیتے تھے۔ استاد بھی دیکھ کر ان دیکھا کر دیتا تاکہ احترام کا رشتہ قائم رہے۔

“انتہائیں ہمیشہ توازن کو نگل جاتی ہیں۔”

زیرو ٹالرینس یا زیرو ڈسپلن؟

وقت کے ساتھ تعلیمی نظام بھی بدل گیا۔ جسمانی سزا کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی یقیناً ایک مثبت قدم تھا، لیکن بعض جگہوں پر اس کے ساتھ نظم و ضبط بھی کمزور ہوتا چلا گیا۔ بچوں کو “صارف” سمجھنے کی سوچ نے بعض اوقات استاد کی اخلاقی اتھارٹی کو بھی متاثر کیا۔

درحقیقت نہ تشدد قابلِ قبول ہے اور نہ بے لگام آزادی۔ درست راستہ ہمیشہ اعتدال کا ہوتا ہے۔

“جو دل اپنے غم نہ سہہ سکے، وہ دوسروں کو دکھ دینے لگتا ہے۔”

غصہ بچے پر کیوں اترتا ہے؟

میری رائے میں آج کا معاشرہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ معاشی مشکلات، بے یقینی اور مایوسی نے بہت سے لوگوں کو نفسیاتی طور پر کمزور کر دیا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معمولی سی شرارت بھی بعض اساتذہ کے لیے برداشت سے باہر ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ذاتی غصے کا نشانہ ایک معصوم بچے کو بنا دیتے ہیں۔

“بچوں کو محفوظ کرنا، قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔”

قانون کب جاگے گا؟

ترقی یافتہ ممالک میں ابتدائی جماعتوں کے اساتذہ صرف ڈگری کی بنیاد پر منتخب نہیں کیے جاتے بلکہ ان کے نفسیاتی، طبی اور شخصیتی جائزے بھی لیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی قانون سازی ہونی چاہیے کہ کم عمر بچوں کو پڑھانے والے ہر فرد کی باقاعدہ نفسیاتی اور طبی جانچ لازمی ہو، تاکہ صرف موزوں افراد ہی اس مقدس ذمہ داری کے اہل قرار پائیں۔

“خاموش خطرے سب سے زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔”

ایک خاموش ٹائم بم

جسمانی تشدد اپنی جگہ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر بچوں کا جنسی استحصال اس سے بھی زیادہ خطرناک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایسا ٹائم بم ہے جو کسی بھی وقت پورے معاشرے کو ہلا سکتا ہے۔

اس کے سدباب کے لیے مؤثر قانون سازی، فوری انصاف اور معاشرتی شعور ناگزیر ہیں۔

“قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ آج کے بچوں کے ساتھ اپنے رویّے سے کرتی ہیں۔”

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے

اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کی حفاظت نہ کی تو کل کی تباہی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہوگا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔

سوشل میڈیا پر باتیں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اس تحریر کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں، اس پر غور کرتے ہیں یا خاموشی سے “ڈیلیٹ” کا بٹن دبا دیتے ہیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟
استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟