کتابوں پر تبصرہ : کرانچی والا 2 مصنف اختر بلوچ

کراچی: جہاں دلوں کی دیواریں مذہب سے اونچی ہیں

آج کے دور میں جب دنیا فاصلوں اور نفرتوں کی لپیٹ میں ہے، “ذکرِ کتاب” کے پلیٹ فارم سے اختر بلوچ کی کتاب کراچی والا 2 پر ہونے والا تبصرہ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ یہ کتاب صرف ایک شہر کی تاریخ نہیں، بلکہ اس محبت اور مذہبی رواداری کا نوحہ اور جشن ہے جو کبھی کراچی کی فضاؤں کا خاصہ تھی۔

محبت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

کتاب میں درج ڈاکٹر گوردھن داس کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت اور اولاد کی خوشی تمام سماجی پابندیوں سے مقدم ہے۔ اپنی بیٹی منیشا کو مسلمان ہونے کی اجازت دینا اور اسے ایک مسلمان نوجوان کی دلہن بنا کر رخصت کرنا، اس دور کے کراچی کے اس “عروج” کی نشانی ہے جہاں دلوں میں تنگی نہیں تھی۔

خون کے رشتوں سے ماورا رشتے

اختر بلوچ صاحب نے 2010 کا وہ دلنشین واقعہ بھی قلمبند کیا ہے جب بھیم پورہ کے مندر میں ایک ہندو لڑکی ‘منگلا’ نے مسلمان فوٹو جرنلسٹ ماجد حسین کو راکھی باندھ کر اسے اپنا بھائی بنا لیا۔ ماتھے پر تلک، منہ میں پیڑا اور پھر معصومیت سے مانگی گئی وہ “عیدی”—یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ اس شہر کی اس تہذیب کا عکس ہے جہاں عید اور رکھشا بندھن سب کے سانجھے ہوا کرتے تھے۔

عقیدتوں کا سنگم

کراچی کی سڑکوں نے وہ مناظر بھی دیکھے ہیں جہاں نارا ئن پورہ کے مندر سے مسلمان اور غیر مسلم مل کر ذوالجناح کا جلوس نکالتے تھے۔ سکھ برادری کا امام حسینؑ کے نام پر سبیلیں لگانا اور صدر کے علاقے سے جگن ناتھ رتھ یاترا کا دھوم دھام سے نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے باسیوں نے کبھی ایک دوسرے کے عقیدے کو خطرہ نہیں سمجھا۔

حاجی نوشاد کی بگھیاں اور بھائی چارہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوؤں کی رتھ یاترا کے لیے مسلمان اپنی بگھیاں فراہم کرتے ہیں۔ کوچوان رحمت کا یہ کہنا کہ “ان ہندوؤں کی وجہ سے ہمارا کام چل رہا ہے”، اس شہر کی معاشی اور سماجی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ اسی طرح عبدالستار ایدھی صاحب کا اپنے گھر میں ہندو لڑکی کے لیے مندر بنوانا اس رواداری کی انتہا ہے جسے اختر بلوچ صاحب نے کراچی کا “تمغہ” قرار دیا ہے۔

حرفِ آخر

“کراچی والا 2” ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کراچی صرف بلند و بالا عمارتوں کا نہیں بلکہ کشادہ دلوں کا شہر ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں مندر میں امام حسینؑ کا تعزیہ ملتا ہے اور جہاں مسلمان اپنی بگھیاں رتھ یاترا کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ آج ہمیں اسی پرانے کراچی کی رواداری کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے اس تھمب نیل کو پریس کریں

Author