کتابوں پر تبصرہ : سرکاری اداروں کی اصلاح- مصنف ڈاکٹر عبدالوہاب

دیانت کی قیمت: ڈاکٹر عبدالوہاب اور سرکاری اداروں کی اصلاح کی داستان

آج کے دور میں جب کرپشن اور اقربا پروری کے سائے گہرے ہیں، “ذکرِ کتاب” کے پلیٹ فارم سے مشہور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عبدالوہاب کی آپ بیتی پر تبصرہ ایک مشعلِ راہ کی مانند ہے۔ یہ کتاب محض ایک سوانح عمری نہیں بلکہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ڈسپلن اور میرٹ کی بحالی کے لیے لڑی جانے والی ایک طویل اور لہو رنگ جنگ کی داستان ہے۔

ایک مردِ آہن کا سفر

ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب کی زندگی کا وہ دور جب وہ آئی بی اے (IBA) اور جامعہ کراچی میں انتظامی تبدیلیاں لا رہے تھے، کسی سنسنی خیز ناول سے کم نہیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں علم کی شمع روشن کی جب ادارے کرپشن، بدانتظامی اور مافیاز کے قبضے میں تھے۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ تنظیموں، سیاسی اشرافیہ اور بلڈر مافیا سے بیک وقت مورچہ لیا۔

ناقابلِ فراموش کارنامے

ڈاکٹر صاحب کے دورِ اقتدار کے چند سنہری اصول جنہوں نے اداروں کی کایا پلٹ دی

صرف میرٹ: آئی بی اے میں کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے صرف اور صرف قابلیت کی بنیاد پر داخلوں کو یقینی بنایا۔

سفارش کلچر کا خاتمہ: یہاں تک کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی سفارش کو بھی خاطر میں نہ لائے۔

شفافیت: امتحانی نظام سے نقل مافیا کا صفایا کیا اور وقت کی پابندی کو لازم قرار دیا۔

زمینوں کی واگزاری: بلڈر مافیا کے چنگل سے یونیورسٹی کی قیمتی زمینوں کو چھڑوایا۔

اصولوں کی بھاری قیمت

حق اور سچ کے اس راستے میں ڈاکٹر صاحب کو ایسی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا کہ پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ ان کے بیٹے کو جان بوجھ کر امتحان میں فیل کیا گیا، انہیں گھر پر کفن کا سامان بھیج کر دھمکایا گیا کہ “یا تو استعفیٰ دو یا بیٹے کی تدفین کی تیاری کرو”۔ یہاں تک کہ ایک ملازم نے جعلی بل پاس نہ کرنے پر ان پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں لہولہان کر دیا، مگر اس مردِ مجاہد کے قدم نہ ڈگمگائے۔

ایمانداری کے تین خطرات اور قرآنی رہنمائی

ڈاکٹر وہاب صاحب کا فلسفہ سادہ مگر بصیرت افروز تھا۔ وہ کہتے تھے کہ دیانتداری کے راستے میں تین بڑے خطرے ہیں: جان، عزت اور نوکری۔ ان تمام خطرات کے باوجود ان کا بھروسہ قرآن کی اس آیت پر تھا کہ “جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے”۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو اور اللہ پر توکل ہو تو کوئی بھی مافیا آپ کا راستہ نہیں روک سکتا۔

حرفِ آخر

سرکاری اداروں کی اصلاح” ہر اس شخص کے لیے لازم ہے جو پاکستان کے نظام میں بہتری کا خواہشمند ہے۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں بلکہ بے خوف ہو کر دیانتدارانہ فیصلے کرنے سے آتی ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

Author