کینیری جزائر: آتش فشانی چٹانوں میں سیاحت اور پاکستان کے لیے بھی مواقع

کینیری جزائر

کینیری جزائر: آتش فشانی چٹانوں میں سیاحت اور پاکستان کے لیے بھی مواقع

 سید طارق حسنی

کینیری جزائر کی ویران چٹانیں اور ایک نیا تجسس

چند دن پہلے میرے ایک عزیز نے کینیری جزائر سے اپنی چند تصاویر اور ویڈیوز بھیجیں۔ ان میں زیادہ تر کھلے میدان اور اونچی نیچی پہاڑیاں تھیں، جن پر کسی قسم کا سبزہ یا درخت وغیرہ نہیں تھا۔ پہلی نظر میں کچھ ویرانی سی لگی۔ میں حیران بھی تھا اور تجسس بھی کہ لوگ سیاحت کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب کیسے کرلیتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مقام سرسبز اور ٹھنڈا ہو، ورنہ وہ اسے سیاحت کے لائق تصور ہی نہیں کرتے۔

کینیری جزائر

جغرافیائی محل وقوع اور سات بڑے جزائر کا تعارف

چلیے، ہم پہلے اس علاقے کا تعارف کراتے ہیں کہ یہ جزائر کہاں ہیں اور وہاں خاص اور قابلِ دید کیا مقامات ہیں۔ کینیری جزائر بحر اوقیانوس میں واقع ہیں اور اسپین کا حصہ ہیں، مگر اسپین اور یورپ کی زمین سے بہت دور ہیں۔ یہ دارالحکومت میڈرڈ سے سولہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر اور مراکش کے ساحل سے چند سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہیں۔

یہ سات بڑے جزائر پر مشتمل ہیں، جن میں ٹینیرف، گران کنیریا اور فیورٹیوینچیورا نمایاں ہیں۔ تمام جزائر آتش فشاں سے نکلنے والے لاوے سے بنی چٹانوں پر مبنی ہیں۔ سب سے زیادہ بلند پہاڑ تقریباً تیرہ ہزار فٹ اونچا ہے، جس کی چوٹیوں پر برف پڑی ہوتی ہے۔ بیس لاکھ سے زیادہ نفوس پر مبنی یہ جزائر، جن کی آبادی سمندری ساحلوں، پہاڑوں اور وادیوں میں آباد ہے۔

بے آب و گیاہ زمین اور پانی کا متبادل انتظام

مگر میرے لیے سب سے زیادہ حیرانی کا باعث جزائر کا محل وقوع نہیں، بلکہ وہاں کی چٹانوں اور زمین کی ساخت ہے۔ زیادہ تر گہرے لال، سیاہ اور دیگر رنگوں پر مشتمل سخت چٹانیں ہیں، جن پر مٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لہٰذا کسی قسم کے سبزے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

کینیری جزائر

تقریباً تمام جزائر کی جغرافیائی اور ارضیاتی ہیئت یکساں ہے۔ یہ عموماً بے آب و گیاہ ہیں۔ آبادی کے لیے سمندری پانی کو بڑے اور طاقتور ڈی سیلینیشن پلانٹوں کے ذریعے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے، اور یہی پانی کا بڑا ذریعہ ہے۔ بہ الفاظ دیگر، یہ جزائر نہ سوئٹزرلینڈ کی طرح سرسبز ہیں اور نہ کیریبین یا انڈونیشیا کے جزائر کی مانند، بلکہ ان کی اپنی ہی الگ دنیا ہے۔

کینیری جزائر میں سالانہ کروڑوں سیاحوں کی آمد

اس کے باوجود دنیا بھر سے سیاح جوق در جوق آتے ہیں، چھٹیاں گزارتے ہیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ ماہانہ تقریباً ڈیڑھ ملین (پندرہ لاکھ) سیاح یہاں کا سفر کرتے ہیں، یعنی سالانہ پونے دو کروڑ سے بھی زیادہ۔

کینیری جزائر

تیمانفایا نیشنل پارک: آتش فشانی چٹانوں کا جادو

تیمانفایا نیشنل پارک (لانزاروٹے جزیرے میں) اسپین کا دوسرا بڑا جیولوجیکل نیشنل پارک ہے۔ یہاں سیاح جانور، دریا یا جھیلیں دیکھنے نہیں آتے، بلکہ آتش فشانی عمل سے بننے والی چٹانوں کا مشاہدہ کرنے آتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ کے سامنے ایسی زمین پڑی ہے جہاں نہ درخت، نہ گھاس، نہ جھیل، نہ دریا — پھر بھی یہ خطہ سیاحوں کی دلچسپی رکھتا ہے۔

زمین کی دراڑیں اور کھولتے ہوئے لاوے کا حیران کن عمل

یہاں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں زمین کی دراڑوں میں اگر ایک بالٹی پانی ڈالا جائے تو گہرائی میں موجود انتہائی گرم لاوا اسے بھاپ میں بدل دیتا ہے اور بھاپ تیزی سے اوپر آتی ہے۔ سیاح یہ دلچسپ عمل حیرانی سے دیکھتے ہیں۔

کینیری جزائر

ہسپانوی حکومت کی کامیاب تشہیر اور ٹیکس فری پالیسیاں

علاقہ بالکل خشک ہے، بارش بہت کم ہوتی ہے اور گرمیوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔ سیاحوں کی جوق در جوق آمد ظاہر کرتی ہے کہ ہسپانوی سیاحتی اداروں اور حکومت نے اس خطے کی موثر اور کامیاب انداز میں تشہیر کی ہے۔ بظاہر یہ جزائر افریقہ کے زیادہ قریب ہیں، مگر ان پر اسپین کا کنٹرول ہے۔

کینیری جزائر کے کئی حصوں کو یونیسکو نے ورلڈ ہیریٹیج قرار دیا ہے، جس سے ان کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہاں جانا آسان نہیں — یا تو بحری جہاز کے ذریعے آئیں یا ہوائی جہاز سے — تاہم یورپ کی بجٹ ایئر لائنز اور ہسپانوی حکومت کی ٹیکس فری پالیسی نے سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر وہاں فیملی سیاحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس کی ایک وجہ حکومت کا فیملی تفریحی و رہائشی مراکز کا قیام ہے۔

کینیری جزائر

پاکستان میں سیاحت کا روایتی تصور اور پوشیدہ قدرتی حسن

اب میں آپ کو ایک دوسری کہانی سنانا چاہتا ہوں — ہمارے پاکستان کی — اور چند مثالوں کے ساتھ۔ ہمارے ملک میں بھی ایسی بیش بہا قدرتی خوب صورتیاں موجود ہیں، مگر عوام اور حکام کی نظروں سے کوسوں دور ہیں۔ اگر انہیں دنیا کے سامنے دلنشیں اور موثر انداز میں پیش کیا جائے تو نہ صرف ملکی و بین الاقوامی سیاحت فروغ پائے گی بلکہ پاکستان کی معیشت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

عام طور پر پاکستان میں سیاحت کا تصور یہ ہے کہ شمالی علاقوں جیسے گلگت، سکردو، گلیات یا ہنزہ وغیرہ میں جایا جائے، جہاں سرسبز و شاداب پہاڑ، خوبصورت بہتے دریا اور بلند و بالا برف پوش چوٹیاں ہوں۔ گرم علاقوں (کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد، حیدرآباد وغیرہ) کے لوگ عموماً گرمی کی چھٹیوں میں ٹھنڈے مقامات کا رخ کرتے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے شہر کے قریب موجود انتہائی دلچسپ اور خوبصورت علاقوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔

پہلی مثال: چندرا گپ — مٹی کا عظیم الشان آتش فشاں

پہلی مثال: چندرا گپ (چکنی مٹی کا آتش فشاں) یہ کراچی سے تقریباً پونے دو سو کلومیٹر دور (مکران ساحلی پٹی پر، کراچی سے ایران جانے والی کوسٹل ہائی وے پر) ایک عظیم الشان مٹی کا آتش فشاں موجود ہے جسے چندرا گپ کہتے ہیں۔ یہ بالکل سپاٹ میدان میں تقریباً سو فٹ اونچا پہاڑ ہے۔ آدمی ششدر رہ جاتا ہے کہ سپاٹ میدان میں یہ بلند پہاڑ کہاں سے اور کیسے نمودار ہوگیا۔

اسے آتش فشاں اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں سے وقفے وقفے سے کافی تیز دباؤ سے چکنی مٹی, سمندری پانی اور قدرتی گیس نکلتی رہتی ہے، بالکل جیسے آتش فشاں پہاڑ میں ہوتا ہے، مگر رفتار قدرے مدھم ہوتی ہے۔ گیس کو دیا سلائی دکھائی جائے تو آگ لگ جاتی ہے۔ مدتوں سے پانی اور مٹی کے باہر بہنے سے اس نے آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

آپ با آسانی کراچی سے صبح روانہ ہو کر شام تک گھوم پھر کر واپس آ سکتے ہیں۔ کوسٹل ہائی وے بننے کے بعد جانا بہت سہل ہو گیا ہے۔ مگر افسوس کہ نہ کراچی والوں کو اس جگہ کا خاطر خواہ علم ہے، نہ حکومت نے وہاں کوئی سہولتیں مہیا کی ہیں۔ البتہ آپ اس پہاڑی پر اوپر چڑھ سکتے ہیں — کچھ مقامی افراد نے اوپر تک سیڑھیاں بنا دی ہیں۔ اس کے لیے آپ کا صحت مند ہونا اور اچھا اسٹیمنا ہونا ضروری ہے۔ میرے خیال میں مرد اور خواتین تھوڑی جدوجہد کے بعد آرام سے اوپر پہنچ سکتے ہیں۔ وہاں سے اس پاس کا نظارہ ایک منفرد تجربہ ہے۔

دوسری مثال: ہنگول نیشنل پارک کی دیومالائی چٹانیں

دوسری مثال: ہنگول نیشنل پارک (مکران کوسٹل ایریا) یہی کوسٹل ہائی وے کے ساتھ سینکڑوں کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہنگول نیشنل پارک ہے۔ یہاں جو ہلکے بھورے اور گرے رنگ کی چٹانیں موجود ہیں جو حد نظر تک پھیلی ہوئی ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں بھی چکنی مٹی نے ہی پہاڑ بنا دیے ہیں۔

یہ تمام چٹانیں لاکھوں سال پہلے انتہائی گہرے سمندروں میں وجود میں آئی تھیں، جنہیں ارضیاتی حرکات و سکنات نے باہر نکال کھڑا کیا اور اب وہ زمین پر نمودار ہو گئی ہیں۔ ہوا اور پانی کے قدرتی اثرات نے ان کی کچھ ایسی خوبصورت کانٹ چھانٹ کی ہے کہ عجیب مسحور کن دیومالائی انسانی شکلیں بن گئی ہیں، اور کہیں کہیں ان چٹانوں میں کسی جانور کا گمان ہوتا ہے۔

کینیری جزائر اور اس جگہ میں قدر مشترک یہ ہے کہ نہ سبزہ ہے، نہ پانی۔ مسافر اور سیاح جب کنڈ ملیر، گوادر یا پسنی کی طرف جاتے ہیں تو یہاں رک کر قدرت کے اس آرٹ کو دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت کے مستقبل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت

کینیری جزائر میں سیاحت کے کامیاب تجربے نے ہمیں یہ باور کرایا ہے کہ صرف پہاڑوں، دریاؤں اور سرسبز میدانوں ہی کو لائق توجہ نہیں سمجھا جاتا کہ جہاں سیاحت کی جائے، بلکہ کچھ مختلف قسم کی جگہیں بھی دیکھنے کے لائق ہوتی ہیں تاکہ آپ ایک بالکل اچھوتا تجربہ کر سکیں۔ پاکستان میں سیاحت کے ان علاقوں میں بھی اگر مناسب توجہ دی جائے تو سیاحوں کے لیے سہولتیں (پرامن ماحول، ہوٹلیں، سڑکیں، تشہیر) فراہم کی جا سکتی ہیں۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں سیاحت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمارے پاس ایک طرف بلند و بالا شمالی علاقے ہیں، تو دوسری طرف یہ منفرد آتش فشانی اور چٹانی مناظر بھی ہیں۔ ملک میں صرف یہ دو ہی مقامات نہیں، بے شمار جگہیں توجہ کی طالب ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان مقامات کو تلاش کیا جائے، توجہ اور بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ پُراعتماد انداز میں دنیا کو یہاں آنے کی دعوت دی جائے۔

  • Tariq Hasany

    سید طارق حسنی ایک تجربہ کار پٹرولیم جیولوجسٹ ہیں جنہوں نے 36 سال سے زائد عرصہ پاکستان اور دیگر ممالک میں عالمی تیل اور گیس کی تلاش (exploration) میں گزارے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی کمپنیوں جیسے پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (POL) اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، وہ معروف بین الاقوامی اداروں بیکر ہیوز، شلمبرگر، پیٹروناس اور جیو سروسز سے بھی منسلک رہے۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر ملائیشیا، اٹلی، قازقستان اور سعودی عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ اب وہ ریٹائرڈ کنسلٹنٹ جیولوجسٹ ہیں، جن کی دلچسپی پٹرولیم کی تلاش میں اب بھی قائم ہے، جبکہ ان کی حالیہ تحریریں سیاحت، تاریخ اور جیو اسٹریٹجک موضوعات پر مرکوز ہیں۔

    View all posts