“تصور کیجیے! کراچی کے ایک چھوٹے سے دو کمروں کے کوارٹر میں سامان سڑک تک بکھرا ہوا ہے، بجلی اور پانی کا نام و نشان نہیں، مگر اسی برآمدے کے ایک کونے میں ‘ساقی’ کا دفتر قائم ہے جہاں اردو ادب کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ یہ کہانی اس مردِ آہن کی ہے جس نے نامساعد حالات کے باوجود اردو کو ‘تاریخِ ادبِ اردو’ جیسا عظیم شاہکار عطا کیا۔”

ڈاکٹر جمیل جالبی محض ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ اردو تحقیق اور تنقید کے ایک پورے عہد کا عنوان ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ارادے بلند ہوں تو وسائل کی کمی کبھی منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی
ڈاکٹر جمیل جالبی (پیدائشی نام محمد جمیل خان) کا تعلق میرٹھ کے ایک علمی اور خوشحال گھرانے سے تھا۔ ان کے دادا، مولانا میر جالب دہلوی، اپنے عہد کے نامور ادیب اور صحافی تھے جنہیں علم کا “زندہ انسائیکلو پیڈیا” کہا جاتا تھا۔ ان کے والد کا میرٹھ میں ٹرانسپورٹ کا وسیع کاروبار تھا، مگر گھر کا ماحول نہایت مذہبی اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔
جالبی صاحب نے بچپن میرٹھ کی علمی فضاؤں میں گزارا۔ 1943ء میں ماڈل ہائی اسکول سے میٹرک اور 1945ء میں میرٹھ کالج سے انٹر کیا۔
ہجرت اور آزمائش کے دن
تقسیمِ ہند کے کڑے وقت میں وہ اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عقیل کے ہمراہ، والدین سے پہلے ہجرت کر کے پاکستان پہنچ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب زندگی نے ان کا کڑا امتحان لینا شروع کر دیا۔ پاکستان آمد کے بعد معاشی تنگی کا سامنا رہا، مگر انہوں نے تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ انہوں نے کراچی سے ایم اے (اردو) اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔
علمی و تحقیقی سفر: سنگِ میل
جالبی صاحب کا اصل علمی جوہر اس وقت کھلا جب انہوں نے تحقیق کی وادی میں قدم رکھا۔ ان کی علمی پیاس نے انہیں دو بڑی اسناد تک پہنچایا
پی ایچ ڈی (1971)
کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ڈی لٹ (D.Litt) 1972
“قدیم اردو ادب” پر ان کے گراں قدر کام کی بدولت انہیں اس باوقار ڈگری سے نوازا گیا، جو ان کی علمی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پیشہ ورانہ سفر: بیوروکریسی سے وائس چانسلر تک
جالبی صاحب کا کیریئر علم اور انتظام کا ایک حسین امتزاج تھا۔
تعلیم
آغاز میں انہوں نے بہادر یار جنگ ہائی اسکول کراچی میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
بیوروکریسی
آپ نے سی ایس ایس (CSS) کا امتحان پاس کیا اور انکم ٹیکس آفیسر مقرر ہوئے، جہاں سے ریٹائرمنٹ تک آپ کمشنر انکم ٹیکس کے عہدے پر فائز رہے۔
انتظامی عروج
ان کی علمی قابلیت کی بنا پر انہیں جامعہ کراچی کا وائس چانسلر (1983-1987) مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقتدرہ قومی زبان (اردو لغت بورڈ) کے چیئرمین کے طور پر بھی تاریخی اقدامات کیے۔
معرکتہ الآرا تصانیف: ‘تاریخِ ادبِ اردو’
جمیل جالبی صاحب بیک وقت ایک بہترین مورخ، نقاد اور مترجم تھے۔
تاریخِ ادبِ اردو
یہ ان کا وہ کارنامہ ہے جس نے انہیں امر کر دیا۔ چار جلدوں پر مشتمل یہ تاریخ اردو ادب کا سب سے مستند ماخذ مانی جاتی ہے۔
تنقید و تحقیق
انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے افکار کو اردو میں متعارف کرایا اور “ارسطو سے ایلیٹ تک” جیسی کتاب لکھی۔
پاکستانی کلچر
اس کتاب میں انہوں نے پاکستانی معاشرت اور ثقافت کی بنیادوں پر سیر حاصل بحث کی۔
قومی اعزازات
ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ملک کے بلند ترین شہری اعزازات نشانِ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری: ایک علمی ورثہ
جالبی صاحب کی زندگی بھر کی کمائی ان کی کتابیں تھیں۔ ان کا خواب تھا کہ یہ علمی ذخیرہ آنے والی نسلوں کے کام آئے۔ ان کی وفات کے بعد سندھ حکومت اور جامعہ کراچی کے اشتراک سے ان کی نجی لائبریری کو ایک جدید ریسرچ سینٹر میں بدل دیا گیا۔


نایاب علمی خزانہ: اس لائبریری میں ایک لاکھ سے زائد کتب کے علاوہ انڈیا آفس لائبریری سے حاصل کردہ 250 نایاب مائیکرو فلمز موجود ہیں۔
جدید سہولیات: لائبریری میں محققین کے لیے انفرادی کیوبیکلز، نسیم شاہین آڈیٹوریم، اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جدید اسکیننگ کی سہولتیں میسر ہیں۔

حرفِ آخر
“ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزاری اور علم کے اجالے بانٹے۔ آج ان کی لائبریری کی خاموشی میں بھی علم کی وہ بازگشت سنائی دیتی ہے جو ہر نئے آنے والے محقق سے کہتی ہے: ‘تحقیق کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ تو ایک مسلسل سفر ہے’۔“
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے کی امیج کو پریس کریں





