اکتوبر27، 1958: پاکستان کی تاریخ کا وہ دن جس نے اقتدار، آئین اور جمہوریت کا رخ بدل دیا
پاکستان کی تاریخ میں بعض تاریخیں ایسی ہیں جنہیں محض کیلنڈر کے ایک دن کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان تاریخوں کے ساتھ ایسے فیصلے وابستہ ہوتے ہیں جن کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ 27 اکتوبر 1958 بھی ایک ایسا ہی دن ہے۔
اس روز جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کرکے پاکستان کی حکومت مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یہ محض ایک حکمران کی جگہ دوسرے حکمران کے آنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سیاسی عمل کی تکمیل تھی جس کا آغاز بیس دن پہلے، 7 اکتوبر کو، ملک کے پہلے آئین کی منسوخی اور مارشل لا کے نفاذ سے ہوا تھا۔
اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ہمیں پاکستان کے ابتدائی گیارہ برسوں کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگی۔ ان برسوں میں جو کچھ ہوا، اس نے نہ صرف فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی بلکہ ریاست کے آئینی اور سیاسی نظام میں ایسی کمزوریاں پیدا کردیں جن کے نتائج بعد کے عشروں میں بار بار سامنے آتے رہے۔
آزادی کے بعد اقتدار کی کشمکش
اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالا۔ لیکن نئی مملکت کو ابھی ایک سال ہی گزرا تھا کہ ستمبر 1948 میں قائداعظم کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان ملک کی سیاسی قیادت کا سب سے نمایاں چہرہ تھے۔ اکتوبر 1951 میں انہیں بھی راولپنڈی میں قتل کردیا گیا۔
یوں پاکستان اپنی آزادی کے ابتدائی چار برسوں ہی میں اپنے دو اہم ترین رہنماؤں سے محروم ہوگیا۔
اس کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں ایک ایسا کھیل شروع ہوا جس میں وزارتِ عظمیٰ، گورنر جنرل اور دوسرے اعلیٰ مناصب سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز بن گئے۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے کو اقتدار سے ہٹانے میں مصروف رہے اور ریاست کا مستقل آئین بنانے کا کام مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔
ایک ایسی مملکت جس کی بنیاد عوام کی سیاسی جدوجہد پر رکھی گئی تھی، اسے اپنا پہلا آئین بنانے میں تقریباً نو سال لگ گئے۔
بالآخر 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا۔ ملک اسلامی جمہوریہ قرار پایا اور پارلیمانی نظامِ حکومت اختیار کیا گیا۔ اس آئین میں یقیناً خامیاں ہوسکتی تھیں، لیکن ایک نوزائیدہ ریاست کے لیے اپنا متفقہ آئینی ڈھانچہ قائم ہونا بذاتِ خود ایک اہم کامیابی تھی۔
بدقسمتی سے یہ آئین ڈھائی سال بھی نہ چل سکا۔
پہلی قسط دیکھنے کے لئے نیچے امیج پر کلک کریں
اسکندر مرزا اور انتخابات کا خوف
سال 1956 کے آئین کے تحت ملک میں عام انتخابات ہونا تھے۔ انتخابات مسلسل ملتوی ہوتے رہے، یہاں تک کہ فروری 1959 میں ان کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔
یہ اعلان صدر اسکندر مرزا کے لیے خوش خبری نہیں تھا۔
اسکندر مرزا ایک تجربہ کار انتظامی اور سیاسی شخصیت ضرور تھے، لیکن ان کی طاقت عوامی مقبولیت یا کسی منظم سیاسی جماعت کی حمایت پر قائم نہیں تھی۔ وہ ریاستی عہدوں اور اقتدار کے مراکز میں اپنے تعلقات کے ذریعے آگے بڑھے تھے۔
انتخابات کے نتیجے میں نئی پارلیمان وجود میں آتی تو صدر کے منصب پر ان کی موجودگی غیر یقینی ہوسکتی تھی۔ آئین کے تحت صدر کے انتخاب کا اپنا طریقہ تھا اور اسکندر مرزا کے لیے اقتدار پر برقرار رہنے کا کوئی یقینی راستہ موجود نہیں تھا۔
اس صورتِ حال میں انہوں نے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے روکنے کا راستہ اختیار کیا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں ایک فرد کے اقتدار کو ریاست کے آئین اور عوام کے حقِ حکمرانی پر فوقیت دے دی گئی۔
7 اکتوبر 1958 : آئین کا خاتمہ
اکتوبر7, 1958 کو صدر اسکندر مرزا نے 1956 کا آئین منسوخ کردیا، مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردیں، حکومتیں برطرف کردیں اور پورے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔
فوج کے کمانڈر اِن چیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔
اس وقت پاکستان کے وزیراعظم فیروز خان نون تھے۔
اسکندر مرزا نے اپنے اقدامات کا جواز ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئینی نظام کی ناکامی کو قرار دیا۔ وزیراعظم فیروز خان نون کے نام اپنے خط میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ آئین کے تحت پاکستان میں استحکام پیدا نہیں ہوسکتا، اس لیے ریاست کے اختیارات براہِ راست سنبھالنا ضروری ہوگیا ہے۔
یہ ایک عجیب منطق تھی۔
جس آئین کے تحت صدر نے اپنے منصب کا حلف اٹھایا تھا، اسی آئین کو انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر ختم کردیا۔
اگر کسی آئین میں خامیاں ہوں تو ان کی اصلاح پارلیمان، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی ترامیم کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہاں آئینی مشکلات کا علاج خود آئین کو ختم کرنے میں تلاش کیا گیا۔
اسکندر مرزا سمجھ رہے تھے کہ فوج ان کے اقتدار کی محافظ بنے گی۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو غیرمعمولی اختیارات دے کر اپنی صدارت محفوظ بنانے کی کوشش کی۔
مگر وہ ایک بنیادی حقیقت نظرانداز کرگئے۔
جب اقتدار کا سرچشمہ آئین کے بجائے طاقت بن جائے تو فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس کے پاس زیادہ طاقت ہو۔
فیروز خان نون اور گوادر کی پاکستان میں شمولیت
یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جس وزیراعظم کی حکومت ختم کی گئی، اسی کے دور میں پاکستان نے ایک اہم علاقائی کامیابی حاصل کی تھی۔
گوادر، جو طویل عرصے سے سلطنتِ عمان کے زیرِ انتظام تھا، 1958 میں پاکستان کا حصہ بنا۔
فیروز خان نون نے اس معاملے کو غیرمعمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک پاکستان کی ساحلی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کا انتظامی اختیار برقرار رہنا مستقبل میں قومی سلامتی کے لیے مسائل پیدا کرسکتا تھا۔
گوادر کے حصول کے لیے سفارتی مذاکرات ہوئے۔ اس سلسلے میں بیگم وقارالنساء نون کی کوششوں اور آغا خان کی معاونت کا بھی ذکر ملتا ہے۔
گوادر کا پاکستان میں شامل ہونا محض زمین کے ایک ٹکڑے کا حصول نہیں تھا۔ یہ مستقبل کی بندرگاہ، ساحلی دفاع اور بحیرۂ عرب میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے ایک دور رس پیش رفت تھی۔
لیکن جس حکومت کے دور میں یہ کامیابی حاصل ہوئی، وہ چند ہی ہفتوں بعد ختم کردی گئی۔
اقتدار کی کشمکش میں کسی حکومت کی کارکردگی، آئینی حیثیت اور قومی خدمات کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ طاقت کا فیصلہ ان سب پر غالب آجاتا ہے۔
دوسری قسط دیکھنے کے لئے نیچے امیج پر کلک کریں
27 اکتوبر 1958: اسکندر مرزا کی رخصتی
مارشل لا کے نفاذ کے بعد اسکندر مرزا اور ایوب خان کے درمیان اقتدار کی شراکت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
اسکندر مرزا صدر ضرور تھے، لیکن عملی اختیارات تیزی سے فوجی قیادت کے ہاتھوں میں منتقل ہورہے تھے۔ انہیں احساس ہونے لگا کہ جس طاقت کو انہوں نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا تھا، وہی اب ان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
دونوں کے درمیان بداعتمادی بڑھتی گئی۔
اکتوبر27 , 1958 کی شام فوج کے تین اعلیٰ افسر، جنرل شیخ، جنرل اعظم خان اور جنرل واجد برکی، اسکندر مرزا کے پاس پہنچے۔ انہوں نے انہیں واضح کردیا کہ اب اقتدار چھوڑنے کا وقت آگیا ہے۔
اسکندر مرزا کے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی مؤثر راستہ باقی نہیں رہا۔
وہ اقتدار سے الگ ہوئے اور بعد میں انہیں پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا۔
یوں صرف بیس دن پہلے جس شخص نے آئین منسوخ کرکے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تھا، وہ خود اپنے بنائے ہوئے نظام کے ہاتھوں بے اختیار ہوگیا۔
اسکندر مرزا نے آئینی حکومت ختم کرکے فوج کو اقتدار میں شریک کیا تھا۔ جنرل ایوب خان نے اسی طاقت کے ذریعے اسکندر مرزا کو بھی راستے سے ہٹا دیا۔
یہ واقعہ ایک بنیادی سیاسی حقیقت واضح کرتا ہے: طاقت کے ذریعے قائم کیا گیا اقتدار طاقت کے ذریعے ہی چھینا جاسکتا ہے۔
اسکندر مرزا نے اپنی باقی زندگی جلاوطنی میں گزاری۔ 1969 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا۔
اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے کے بعد ان کی زندگی اس حقیقت کی ایک عبرت ناک مثال بن گئی کہ سیاسی طاقت کتنی عارضی اور غیر یقینی ہوسکتی ہے۔
ایوانِ اقتدار کی چکاچوند اور حکمرانوں کی نجی دنیا
پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں کی تاریخ صرف سرکاری فیصلوں اور آئینی بحرانوں تک محدود نہیں۔ اقتدار کے مراکز میں پیدا ہونے والا ماحول بھی اس دور کی سیاست کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ، ایم بی خالد کی ایوانِ صدر میں سولہ سال اور فخر عالم زبیری کی تحریروں میں گورنر جنرل ہاؤس اور ایوانِ صدر کی زندگی کے متعدد واقعات ملتے ہیں۔
ان میں سرکاری دعوتوں، سماجی تقریبات، حکمرانوں کے ذاتی تعلقات اور اعلیٰ سرکاری حلقوں کے طرزِ زندگی کا ذکر ہے۔
اسکندر مرزا اور بیگم ناہید مرزا کی زندگی بھی ان روایات کا حصہ ہے۔
سرکاری رہائش گاہوں میں دعوتوں اور تقریبات کا اہتمام ہوتا تھا۔ حکمرانوں کے گرد ایسے لوگوں کا حلقہ قائم ہوجاتا تھا جو اقتدار سے قربت کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔
یہ صرف تفریح یا سماجی زندگی کا معاملہ نہیں تھا۔ اصل مسئلہ وہ ماحول تھا جس میں حکمران کی پسند و ناپسند ریاستی معاملات پر اثرانداز ہونے لگتی ہے۔
اقتدار جب جواب دہی سے آزاد ہوجائے تو سرکاری اور ذاتی مفادات کے درمیان حدیں دھندلی ہونے لگتی ہیں۔
غلام محمد کے دور کی بعض شخصیات اور ان کے ذاتی تعلقات کے بارے میں بھی اس زمانے کی یادداشتوں میں تفصیلات ملتی ہیں۔ ان روایات میں مبالغے اور شخصی پسند و ناپسند کا امکان اپنی جگہ موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ ایک ایسے حکومتی ماحول کی تصویر پیش کرتی ہیں جس میں طاقتور شخصیات کی نجی ترجیحات بھی غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگئی تھیں۔
جنرل ایوب خان اور اقتدار کی مرکزیت
اسکندر مرزا کی رخصتی کے بعد جنرل ایوب خان پاکستان کے صدر بن گئے۔
اب حکومت کے تمام اہم اختیارات ایک فوجی حکمران کے ہاتھ میں تھے۔
فوجی حکومت نے اپنے اقتدار کے لیے نظم و ضبط، سیاسی استحکام اور ترقی کے دلائل پیش کیے۔ بعد کے برسوں میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام قائم کیا گیا اور 1962 کا نیا آئین نافذ ہوا۔
لیکن اس نظام کی بنیاد عوام کے آزادانہ انتخاب کے بجائے اقتدار کے اوپر سے نیچے منتقل ہونے والے تصور پر رکھی گئی تھی۔
حکمران کی طاقت بڑھتی گئی اور سیاسی اداروں کی آزادی محدود ہوتی گئی۔
فوجی حکومتوں کے گرد خوشامد کرنے والوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ بعض اہلِ قلم، سرکاری افسر اور بااثر شخصیات حکمران کی ہر بات کو قومی مفاد اور ہر فیصلے کو غیرمعمولی دانش مندی کا ثبوت قرار دینے لگتے ہیں۔
ایوب خان کے دور میں بھی یہی ماحول پیدا ہوا۔
فیلڈ مارشل کا منصب اور خوشامد کی سیاست
اکتوبر 1959 میں جنرل ایوب خان کو فیلڈ مارشل کا اعزازی فوجی رتبہ دیا گیا۔
یہ فیصلہ خود فوجی حکومت کے زیرِ اثر قائم کابینہ نے کیا۔
ایک ایسے حکمران کو، جس نے فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا تھا، غیرمعمولی فوجی اعزاز سے نوازنا اس سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقتور شخصیت کی عظمت ثابت کرنے کے لیے سرکاری ادارے استعمال ہونے لگتے ہیں۔
کسی فوجی اعزاز کی اصل قدر پیشہ ورانہ خدمات، عسکری کامیابیوں اور مسلمہ معیار سے متعین ہونی چاہیے۔ جب حکمران خود ہی ریاستی طاقت کا مرکز ہو اور اسی کے ماتحت ادارے اسے غیرمعمولی اعزازات دینے لگیں تو ان فیصلوں کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
اقتدار کے گرد پیدا ہونے والی خوشامد کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ حکمران تک اختلافی رائے پہنچنا بند ہوجاتی ہے۔
اسے ہر طرف کامیابی، مقبولیت اور غیرمعمولی عظمت دکھائی دینے لگتی ہے، خواہ ملک کے اندر سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہو۔
غلام احمد پرویز اور پیر علی محمد راشدی کا کردار
ایوب خان کے دور میں بعض اہلِ قلم اور مذہبی و سیاسی شخصیات نے بھی فوجی حکومت کی حمایت کی۔
الطاف گوہر کی تحریروں میں غلام احمد پرویز کے ان خطوط کا ذکر ملتا ہے جن میں انہوں نے ایوب خان کے سیاسی اقدامات کی تائید کی اور 1956 کے آئین پر تنقید کی۔
غلام احمد پرویز مذہبی اور فکری مباحث میں ایک معروف نام تھے۔ ان کے اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے درمیان مختلف موضوعات پر قلمی اختلافات بھی رہے۔
یہاں اصل سوال کسی شخصیت کے مذہبی یا فکری نظریات کا نہیں بلکہ اس سیاسی رویے کا ہے جس میں ایک غیرمنتخب حکومت کو قومی نجات کا واحد راستہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
پیرعلی محمد راشدی کے خطوط بھی اسی حوالے سے قابلِ توجہ ہیں۔
راشدی نے ایوب خان کو ایسے سیاسی بندوبست کے مشورے دیے جن میں مضبوط مرکزی شخصیت اور تقریباً شاہانہ اختیار کا تصور نمایاں تھا۔
جب اہلِ قلم، دانش ور اور سرکاری مشیر آئینی اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے حکمران کی ذات کو ریاستی استحکام کا مرکز قرار دینے لگیں تو سیاسی نظام شخصی حکمرانی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
یہ رویہ کسی ایک زمانے تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان کی بعد کی سیاسی تاریخ میں بھی طاقتور حکمرانوں کے گرد ایسے حلقے بنتے رہے جو ہر نئے صاحبِ اقتدار کو ملک کا نجات دہندہ قرار دیتے تھے۔
تیسری قسط دیکھنے کے لئے نیچے امیج پر کلک کریں
فوجی سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور تاریخ کا رخ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اعلیٰ فوجی عہدوں پر مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
جون 1958 میں جنرل ایوب خان کی بطور کمانڈر اِن چیف مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی گئی۔
یہ فیصلہ اسکندر مرزا اور اس وقت کی حکومت کے لیے بظاہر ایک انتظامی معاملہ تھا، لیکن چند ہی ماہ بعد ایوب خان پاکستان کے سب سے طاقتور حکمران بن چکے تھے۔
اس واقعے سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر جون 1958 میں فوجی قیادت کی معمول کے مطابق تبدیلی ہوجاتی تو کیا اکتوبر کے واقعات اسی انداز میں پیش آتے؟
تاریخ میں ایسے سوالات کا قطعی جواب دینا ممکن نہیں، لیکن اس فیصلے کی سیاسی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔
کسی بھی ریاست میں اداروں کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ عہدوں کی مدت، تقرری اور سبک دوشی کا نظام واضح اصولوں کے تابع ہو۔
جب حکمران اپنی سیاسی ضرورت کے تحت اعلیٰ عہدوں کی مدت میں توسیع کرتے ہیں تو وہ بسا اوقات وقتی فائدے کے لیے ادارہ جاتی توازن کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف 1958 تک محدود نہیں رہا۔
بعد کے ادوار میں بھی فوجی سربراہوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے فیصلے ہوتے رہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی۔ اس فیصلے پر عمران خان نے حزبِ اختلاف کے رہنما کی حیثیت سے تنقید کی۔ لیکن بعد میں جب وہ خود وزیراعظم بنے تو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی حمایت کی۔
یہ تضاد پاکستان کی سیاست کے ایک مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے جن اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، اقتدار میں آنے کے بعد اکثر انہی اصولوں کی نئی تشریح شروع ہوجاتی ہے۔
اقتدار کی اپنی مجبوریاں ہوسکتی ہیں، لیکن ریاستی اداروں کا نظام کسی حکمران کی فوری سیاسی ضرورت کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔
پشاور کا فضائی اڈہ اور امریکہ کی عالمی سیاست
ایوب خان کے دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بعض فیصلوں نے ملک کو عالمی طاقتوں کی کشمکش میں براہِ راست شامل کردیا۔
اس سلسلے کا سب سے نمایاں واقعہ یکم مئی 1960 کو پیش آیا۔
اس روز سوویت یونین نے امریکہ کا ایک U-2 جاسوس طیارہ مار گرایا۔ طیارے کا پائلٹ فرانسس گیری پاورز گرفتار ہوگیا۔
یہ طیارہ پشاور کے قریب واقع اس فضائی مرکز سے روانہ ہوا تھا جسے امریکی خفیہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد سوویت قیادت نے پاکستان کے کردار پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
سوال یہ تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین کسی عالمی طاقت کی ایسی کارروائیوں کے لیے کیوں فراہم کرنی چاہیے تھی جو دوسری طاقت کے خلاف جاسوسی سے متعلق تھیں؟
پاکستان ایک آزاد ملک تھا۔ اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے تھا۔
لیکن سرد جنگ کے ماحول میں امریکی اتحاد کا حصہ بننے کے نتیجے میں پاکستان ایسے تنازعات میں بھی ملوث ہوتا گیا جن سے اس کی اپنی سلامتی متاثر ہوسکتی تھی۔
U-2 واقعے نے پاکستان اور سوویت یونین کے تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
بعد کے برسوں میں سوویت یونین اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے پاکستان کے لیے مزید سفارتی مشکلات پیدا کیں۔
اس پوری صورتِ حال سے یہ سبق ملتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ضرور رکھے جائیں، لیکن اپنی سرزمین اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے انتہائی احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں۔
دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی
ایوب خان کے دور کا ایک اور اہم فیصلہ پاکستان کے دارالحکومت کی کراچی سے منتقلی تھا۔
کراچی قیامِ پاکستان کے وقت سے ملک کا دارالحکومت تھا۔ یہاں مرکزی حکومت، سفارتی مشن اور ریاستی انتظامیہ کے اہم دفاتر موجود تھے۔
فوجی حکومت نے دارالحکومت کی منتقلی کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جس نے مختلف جغرافیائی، انتظامی اور دفاعی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
بعد میں اسلام آباد کو نیا دارالحکومت بنایا گیا۔
اس فیصلے کے حق میں مختلف دلائل پیش کیے گئے، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود تھا۔
کیا اتنا بڑا قومی فیصلہ عوام کی منتخب پارلیمان اور صوبوں کی مؤثر نمائندگی کے بغیر ہونا چاہیے تھا؟
مشرقی پاکستان میں پہلے ہی یہ احساس موجود تھا کہ ملک کے اہم فیصلے مغربی پاکستان کے حکمران طبقے کے ہاتھ میں ہیں۔
دارالحکومت کی منتقلی نے اقتدار کے جغرافیائی مرکز کو بھی تبدیل کردیا۔
یہ معاملہ محض ایک شہر سے دوسرے شہر سرکاری دفاتر منتقل کرنے کا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ملک میں طاقت، نمائندگی اور انتظامی ترجیحات کے سوالات بھی وابستہ تھے۔
مشرقی پاکستان اور بڑھتی ہوئی محرومیاں
پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا سب سے المناک پہلو مشرقی پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والی سیاسی اور معاشی ناانصافیاں تھیں۔
مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، لیکن ریاستی اقتدار، فوجی قیادت، انتظامی اداروں اور وسائل کی تقسیم میں اس کی نمائندگی کے بارے میں مسلسل شکایات موجود رہیں۔
بنگالی عوام اپنے سیاسی حقوق، معاشی حصے اور قومی فیصلوں میں مؤثر شرکت کا مطالبہ کرتے رہے۔
لیکن مغربی پاکستان کے حکمران حلقوں میں ان مطالبات کو اکثر شک اور بے اعتمادی کی نظر سے دیکھا گیا۔
الطاف گوہر نے ایوب خان کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں مشرقی پاکستان کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔
اس گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایوب خان کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں تشویش تھی۔
1962 کے آئین میں ڈھاکہ کو دوسرے دارالحکومت کی حیثیت دی گئی، لیکن عملی طور پر مرکزی قانون سازی اور ریاستی فیصلوں کا بڑا حصہ اسلام آباد ہی میں ہوتا رہا۔
صرف کاغذ پر کسی شہر کو دوسرا دارالحکومت قرار دینے سے وہاں کے عوام کے سیاسی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
اگر کسی آبادی کو یہ احساس ہو کہ اس کے ووٹ، اس کی زبان، اس کے وسائل اور اس کے مطالبات کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جس کی وہ مستحق ہے تو محض انتظامی اعلانات سے اس احساسِ محرومی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔
مشرقی پاکستان کے مسائل وقت کے ساتھ بڑھتے گئے۔
ان مسائل کے اسباب میں سیاسی نمائندگی، معاشی عدم مساوات، لسانی تنازعات، فوجی کارروائیاں اور قومی قیادت کے فیصلے شامل تھے۔
بالآخر 1971 میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔
یہ سانحہ کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا، لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ عوامی نمائندگی اور سیاسی حقوق کو مسلسل محدود کرنے سے قومی اتحاد کمزور ہوتا ہے۔
1965 کی جنگ اور فوجی فیصلوں کے نتائج
ایوب خان کے دور میں 1965 کی جنگ بھی پیش آئی۔
اس جنگ نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ دونوں ممالک کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اور بالآخر تاشقند معاہدے کے ذریعے جنگ کے بعد کی صورتِ حال کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی۔
جنگ کے دوران قومی جذبہ اور فوجی قربانیاں اپنی جگہ اہم تھیں، لیکن کسی جنگ کے نتائج کا جائزہ لیتے وقت سیاسی اور عسکری فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔
قومی سلامتی کے فیصلے محض عسکری طاقت کا معاملہ نہیں ہوتے۔ ان میں سفارت کاری، معاشی وسائل، سیاسی قیادت اور عالمی حالات بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
جب قومی فیصلوں کا اختیار محدود حلقوں میں مرتکز ہوجائے تو غلطیوں کی اصلاح کے مواقع کم ہوجاتے ہیں۔
کارگل اور سول و فوجی قیادت کے تعلقات
پاکستان کی بعد کی تاریخ میں 1999 کی کارگل مہم بھی اسی نوعیت کے سوالات پیدا کرتی ہے۔
کارگل میں ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ بالآخر پاکستانی افواج کی واپسی عمل میں آئی۔
اس واقعے کے بارے میں سیاسی اور فوجی قیادت کے بیانات میں اختلافات رہے ہیں، خصوصاً اس سوال پر کہ وزیراعظم نواز شریف کو منصوبے کی نوعیت اور ممکنہ نتائج سے کس حد تک آگاہ رکھا گیا تھا۔
لیکن اس اختلاف سے قطع نظر، کارگل نے ایک بنیادی مسئلہ نمایاں کردیا۔
جب ریاست کے سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان اعتماد اور جواب دہی کا واضح نظام موجود نہ ہو تو قومی سلامتی کے فیصلے سنگین بحران پیدا کرسکتے ہیں۔
فوج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اپنی جگہ ہیں اور منتخب حکومت کی آئینی ذمہ داریاں اپنی جگہ۔
دونوں کے درمیان آئینی حدود کا احترام قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
عدلیہ کا کردار اور مولوی تمیزالدین مقدمہ
پاکستان میں غیرآئینی اقتدار کے فروغ کو سمجھنے کے لیے عدلیہ کے کردار کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کردی۔
یہ ایک غیرمعمولی اقدام تھا۔
اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین خان نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔
سندھ چیف کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، لیکن فیڈرل کورٹ نے قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر اس فیصلے کو برقرار نہیں رکھا۔
یہ مقدمہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
اگر اس موقع پر دستور ساز اسمبلی کی آئینی حیثیت کو مؤثر تحفظ مل جاتا تو ممکن ہے ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کا توازن مختلف صورت اختیار کرتا۔
عدالتی فیصلوں کی قانونی بنیادیں اپنی جگہ، لیکن ان کے سیاسی اور آئینی نتائج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
جب کسی ریاست میں غیرمنتخب حکمران منتخب یا نمائندہ اداروں کو ختم کردیں اور عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں ان اقدامات کو مؤثر تحفظ مل جائے تو مستقبل میں اسی نوعیت کی مداخلتوں کے لیے راستہ آسان ہوسکتا ہے۔
ڈوسو کیس: کامیاب انقلاب اور قانون کا سوال
1958 کے مارشل لا کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے سامنے State v. Dosso کا مقدمہ آیا۔
چیف جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں عدالت نے قانونی فلسفی ہانس کیلسن کے نظریات سے استدلال کرتے ہوئے کامیاب انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والے نئے قانونی نظام کو تسلیم کیا۔
اس فیصلے کی بنیادی بحث یہ تھی کہ جب کوئی انقلاب یا طاقت کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کامیاب ہوجائے اور نیا نظام مؤثر طور پر قائم ہوجائے تو اس کی قانونی حیثیت کو کس بنیاد پر پرکھا جائے۔
یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
کیا کسی اقدام کی کامیابی ہی اس کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے؟
اگر کوئی شخص یا ادارہ طاقت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرلے اور اس قبضے کو محض کامیابی کی بنیاد پر قانونی حیثیت مل جائے تو پھر آئین کی بالادستی کا کیا مفہوم باقی رہ جاتا ہے؟
قانون کا مقصد صرف طاقتور کے اقتدار کو تسلیم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کو طاقت کے استعمال کی حدود بھی متعین کرنی ہوتی ہیں۔
ڈوسو کیس پر بعد کے برسوں میں شدید تنقید ہوئی۔
1972 میں سپریم کورٹ نے اسماء جیلانی کیس میں ڈوسو کے نظریے کو مسترد کردیا۔
لیکن اس وقت تک پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوجی مداخلت اور عدالتی جواز کا ایک خطرناک تجربہ ہوچکا تھا۔
نظریۂ ضرورت اور آئینی بالادستی
پاکستان کی تاریخ میں نظریۂ ضرورت کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔
اس تصور کو مختلف ادوار میں غیرمعمولی حالات اور ریاستی ضرورتوں کے نام پر غیرآئینی اقدامات کے جواز کے لیے استعمال کیا گیا۔
اگرچہ مولوی تمیزالدین مقدمے، ڈوسو کیس اور بعد کے نظریۂ ضرورت سے متعلق فیصلوں کی قانونی بنیادیں ایک جیسی نہیں تھیں، لیکن ان سب کے گرد ایک بنیادی سوال موجود رہا۔
کیا ریاستی ضرورت کے نام پر آئینی اصولوں کو معطل کیا جاسکتا ہے؟
اگر ہر طاقتور حکمران اپنے اقدام کو قومی ضرورت قرار دے کر آئین سے بالاتر ہوجائے تو پھر آئین کی حیثیت ایک ایسی دستاویز کی رہ جاتی ہے جسے ضرورت کے مطابق استعمال یا نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
ایسی صورت میں عوام کی حاکمیت اور منتخب اداروں کی بالادستی محض نعرے بن کر رہ جاتی ہے۔
1973 کا آئین اور فوجی مداخلت کی ممانعت
1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 کے ذریعے آئین کو غیرآئینی طریقے سے ختم کرنے یا اس کے خلاف طاقت استعمال کرنے جیسے اقدامات کے خلاف سنگین غداری کا اصول متعارف کرایا گیا۔ بعد کی آئینی ترامیم میں اس دفعہ کی عبارت میں مزید تبدیلیاں ہوئیں۔
اس کا مقصد ریاست کے آئینی نظام کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے سے محفوظ رکھنا تھا۔
لیکن 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی۔
بعد میں 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا۔
ان واقعات نے ثابت کیا کہ صرف آئین میں کسی اقدام کی ممانعت لکھ دینا کافی نہیں۔
آئین کی اصل طاقت اس کے نفاذ، اداروں کی وفاداری اور ریاستی عہدے داروں کے رویے میں ہوتی ہے۔
اگر طاقتور ادارے آئینی حدود کو تسلیم نہ کریں تو بہترین آئینی دفعات بھی غیرمؤثر ہوسکتی ہیں۔
فوجی مداخلت اور سیاسی نظام کی کمزوری
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بار بار ایک ہی مسئلہ سامنے آتا رہا ہے۔
جب سیاسی حکومتیں کمزور ہوئیں تو طاقتور غیرمنتخب اداروں نے اپنے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی۔ بعض سیاست دانوں نے اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے انہی اداروں کی مدد حاصل کی۔
یہ رویہ وقتی طور پر کسی جماعت یا شخصیت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، لیکن اس سے مجموعی طور پر جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔
جب سیاسی اختلافات کا فیصلہ عوام کے ووٹ، پارلیمان اور آئینی اداروں کے بجائے طاقت کے مراکز میں ہونے لگے تو جمہوری عمل اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں اور منتخب حکومتیں غلطیاں کرتی ہیں۔ ان میں بدعنوانی، نااہلی، ذاتی مفادات اور اقتدار کی کشمکش جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
لیکن ان مسائل کا علاج جمہوری نظام ختم کرنا نہیں۔
جمہوریت کی خامیوں کا حل زیادہ جواب دہی، آزاد انتخابات، مؤثر پارلیمان، آزاد عدلیہ اور مضبوط آئینی اداروں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
کسی ایک ادارے یا شخصیت کو قومی مفاد کا واحد محافظ قرار دینے سے ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔
اقتدار، خوشامد اور قومی مفاد
پاکستان کی تاریخ میں اقتدار کے گرد خوشامد کا رویہ بھی ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔
حکمران بدلتے رہے، لیکن ان کے گرد جمع ہونے والے بہت سے لوگ ہمیشہ نئے اقتدار کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
کل جو کسی حکمران کو قوم کا نجات دہندہ قرار دے رہے تھے، آج وہی کسی دوسرے حکمران کی عظمت کے قصیدے پڑھنے لگتے ہیں۔
اس ماحول میں سچ بولنا مشکل ہوجاتا ہے۔
حکمران کو وہی بات سنائی جاتی ہے جو وہ سننا چاہتا ہے۔ اختلاف کرنے والے لوگ رفتہ رفتہ اقتدار کے مراکز سے دور ہوجاتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غلط فیصلوں کی بروقت نشاندہی نہیں ہوپاتی۔
ریاستی اداروں میں اختلافِ رائے، تنقید اور احتساب کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھا جانا چاہیے۔
جو حکمران صرف تعریف سننا چاہتا ہے، وہ بالآخر اپنے اردگرد حقیقت سے کٹا ہوا ماحول پیدا کرلیتا ہے۔
27 اکتوبر 1958 کا اصل سبق
27 اکتوبر 1958 کو اسکندر مرزا کی اقتدار سے بے دخلی ایک فرد کی سیاسی شکست سے کہیں بڑا واقعہ تھا۔
اس روز اس حقیقت کی عملی مثال سامنے آئی کہ آئین کو ختم کرکے اقتدار محفوظ بنانے کی کوشش خود اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسکندر مرزا نے فوجی طاقت کے ذریعے اپنی صدارت برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن فوجی طاقت ہی ان کی رخصتی کا سبب بن گئی۔
جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان ایک ایسے سیاسی راستے پر چل پڑا جس کے اثرات آنے والے کئی عشروں تک محسوس کیے گئے۔
ملک نے مزید فوجی حکومتیں دیکھیں، آئین معطل ہوئے، منتخب حکومتیں ختم کی گئیں، عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھے اور سیاسی نظام بار بار عدم استحکام کا شکار ہوا۔
اس تاریخ سے سب سے اہم سبق یہی ملتا ہے کہ ریاست کسی ایک شخصیت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں ہوتی۔
ریاست عوام کی ہوتی ہے اور اس کے تمام ادارے آئین کے تابع ہوتے ہیں۔
فوج کا احترام اس کے دفاعی کردار اور پیشہ ورانہ خدمات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عدلیہ کی عزت اس کی آزادی اور انصاف سے وابستہ ہے۔ پارلیمان کی حیثیت عوام کی نمائندگی سے قائم ہوتی ہے اور حکومت کی قانونی طاقت آئین سے حاصل ہوتی ہے۔
جب یہ حدود برقرار رہتی ہیں تو ریاستی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
جب کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھتا ہے تو طاقت کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی رہی ہے، لیکن ہم نے اسے پوری طرح نہیں سیکھا۔
اختتامیہ: تاریخ سے سبق کب سیکھیں گے؟
27 اکتوبر 1958 کو گزرے کئی عشرے بیت چکے ہیں، لیکن اس دن سے وابستہ سوالات آج بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔
کیا سیاسی عدم استحکام کا علاج آئین کی منسوخی ہوسکتا ہے؟
کیا کسی حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں کو استعمال کرے؟
کیا قومی مفاد کی تشریح صرف طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے؟
اور کیا ہم نے اپنی تاریخ کے ان تجربات سے واقعی کچھ سیکھا ہے؟
پاکستان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے، لیکن اسے اتنی ہی ضرورت ایک مضبوط پارلیمان، آزاد عدلیہ، بااختیار آئینی اداروں اور عوام کے اعتماد سے قائم ہونے والی حکومت کی بھی ہے۔
ریاست کی طاقت اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب اس کے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کریں۔
امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان میں آئندہ کبھی کسی سیاسی بحران کو آئین ختم کرنے یا عوامی نمائندگی معطل کرنے کا جواز نہیں بنایا جائے گا۔
فوج اپنی پیشہ ورانہ دفاعی ذمہ داریاں انجام دے، سیاسی حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ رہیں اور ریاست کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود کا احترام کریں۔
یہی پاکستان کے استحکام، قومی یکجہتی اور جمہوری مستقبل کا راستہ ہے۔
اکتوبر27، 1958 کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ اقتدار کی اصل طاقت بندوق نہیں، آئین اور عوام کا اعتماد ہونا چاہیے۔
تاریخی حوالے
اس مضمون میں زیرِ بحث تاریخی واقعات کے حوالے سے درج ذیل تصانیف اور مقدمات اہم ہیں:
- قدرت اللہ شہاب — شہاب نامہ
- ایم بی خالد — ایوانِ صدر میں سولہ سال
- الطاف گوہر — ایوب خان: فوجی راج کے پہلے دس سال
- فخر عالم زبیری — گورنر جنرل ہاؤس سے آرمی ہاؤس تک
- Federation of Pakistan v. Maulvi Tamizuddin Khan (1955)
- State v. Dosso (1958)
- Asma Jilani v. Government of Punjab (1972)
- آئینِ پاکستان 1973، آرٹیکل 6




