تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان: قوموں کی تاریخ کا حیران کن واقعہ : دوسری قسط

Partition of India-Facebook debate

اقوامِ عالم کی تاریخ کا حیران کن واقعہ: تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان

سوشل میڈیا پر ایک تاریخی مکالمہ

جب میں نے فیس بک پر متعلقہ مضمون کی پوسٹنگ کی تو قارئین نے بڑھ چڑھ کر اس مکالمے میں اپنا حصہ ڈالا۔ یوں تو کئی طرح کےتبصرے سامنے آئے تاہم میں نے ذیل میں انتہائی متعلقہ تبصروں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔

شرکاء محفل

اس تاریخی مکالمے میں حصہ لینے والے منتخب شرکاء اور متعلقہ پوسٹ کا فیس بک لنک ذیل میں دیا جارہا ہے۔

Public Debate at Facebook

Asadullah Talib Muhammad Mashhood Amjed Saleem Alvi Sultan Ahmed
DrAbdul Ahad Abid Hussain Khan Naseer Akhter Irfan Mirza
Rizwan Tahir Mubeen Salam A. Jamal Qadri Salman Zeervi
Junaid Krachvi Azmat Shahab Hafiz Safwan Khawajamuhammad Zakariya
Zafar Mahmood Fayyaz Bedaar    

 

Asadullah Talib

تاریخ اپنی جگہ لیکن موجودہ حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں سے پاکستان کے مسلمان اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان باتوں کا اعتراف آج خود ہندوستان کے حکمران بھی کر چکے ہیں۔

Muhammad Mashhood

تقسیم کی جدوجہد میں حصہ لینے والے مسلمانوں میں جو پاکستان نہیں آئے ان میں کچھ مسلم لیگ کے انتہائی سرکرہ لیڈران بھی شامل تھے۔ سب سے نمایاں نام نواب محمد اسماعیل خان کا تھا جو آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اور قائدِ اعظم کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔

اسی طرح مسلم لیگ مدراس کے صدر محمد اسماعیل بھی تھے جنہوں نے پاکستان نہ جانے کا فیصلہ کیا اور مقامی مسلم لیگ پارٹی چلاتے رہے۔ بہت سے مسلمان قائدین نے تقسیم کے بعد وہاں کی مین اسٹریم پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرلی۔

Asadullah Talib

آپ لوگ اب کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں

Amjed Saleem Alvi

لوگوں کی راۓ مختلف ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے اکثریت کی رائے چلے گی۔ میرا خیال ہے اکثریت جمہوری پاکستان چاہتی ہے۔

Sultan Ahmed

قیام پاکستان کے چند سالوں بعد ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ گھاٹے کا سودہ ہو گیا۔ پہلی بات جیسا کہ آپ نے لکھا کہ ہندو مہاسبھا کے رہنما لالہ راجپت رائے نے تقسیم کی تجویز 1923 میں  دی تھی۔ دوسرے فرزند علامہ اقبال جسٹس جاوید اقبال نے بھی اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں قیام پاکستان کا ذمہ دار ہندوؤں کو ہی قرار دیا ہے۔  تیسری پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کا ایک ملک ہونا غیر فطری عمل تھا جو ثابت بھی ہو گیا۔ مشرقی حصہ افسوسناک اور شرمناک طریقے سے الگ ہو گیا۔ چوتھے تقسیم ہند کی وجہ سے برصغیر کے مسلمان پہلے دو اور قیام پاکستان کے 24 سال بعد ہی تین حصوں میں تقسیم ہو گئے اور ہندو یکجا ہو گئے۔  پانچویں نہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان سکون سے ہیں اور نہ ہم۔ چھٹے اس وقت بھی پاکستان کے حالات ابتر ہیں اور بہتری کی کوئی امید نہیں آگے خدا جانے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ یوپی بہار وغیرہ کے مسلمان صورتحال کو سمجھنے میں ناکام ہو گئے اور سیاسی فیصلہ جذباتی انداز میں کیا۔

Dr. Abdul Ahad

میرا خیال ہے کہ مسلمان ہندو اور سکھ پورے ہندوستان میں اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ کوئی بھی حل عملاً ناکافی تھا. بہت سے لوگوں کی طرح میرا بھی خیال ہے کہ تقسیم ایک بہتر حل تھا اور اکثر اوقات بہتر حل ہی درست حل کہلاتا ہے. افسوس صرف ایک ہے تبادلہ آبادی کے ساتھ خونریزی اور قتل کے واقعات بہت زیادہ ہوے اور سنا ہے کہ تقسیم کے بعد کچھ عرصے تک یہ الزام دونوں طرف سے لگتا رہا کہ فریق مخالف نے زیادہ قتل کیے. مسلمانوں کی حالت زار کی صورت گری میں البتہ سنا ہے کہ صحافیانہ منافقت کا بھی دخل ہے. واللہ اعلم

Muhammad Mashhood

جی یقیناً تقسیم ہی بہتر حل تھا، مگر ہم بات کررہے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک تہائی آبادی کو اس بہتر حل میں شامل کرنے پر کوئی کام کیوں نہیں ہوا جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔

Dr. Abdul Ahad

میرے سننے میں یہ آیا ہے کہ یوپی وغیرہ کے مسلمان خوشحال تھے. انہیں ایسے معاشی اور سماجی مسائل نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ منتقلی پر مجبور ہوتےپنجاب میں مسلمانوں کے پاس چھوٹی چھوٹی زمین داریاں تھیں اور سکھ فیکٹر. دونوں نے انہیں منتقلی پر آمادہ کیا. ورنہ مسائل کے حل کا کوئی پروگرام مسلم لیگ کے پاس تھا ہی نہیں. جو کچھ ہوا خود بخود ہوا

Muhammad Mashhood

ایک بات تو یہ کہ صرف یوپی نہیں بلکہ پورے ہندوستان سے ہی سوائے صوبہ سرحد کے مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کی، دوسرے یہ کہ یوپی کا مسلمان اگر مطمئن تھا اور اسے ہجرت نہیں کرنی تھی تو پھر اس نے اتنی بھرپور تحریک کیوں چلائی اور ہندوؤں کو اپنا دشمن کیوں بنایا؟ آپ نے صحیح کہا، مگر یوپی، سی پی، بہار وغیرہ کے مسلمانوں نے اگر ہجرت نہیں کرنی تھی تو اتنا بڑھ چڑھ کر تحریک میں حصہ کیوں لیا۔

Dr. Abdul Ahad

لیکن آپ یہ بھی دیکھیں کہ جو آبادیاں مغربی پاکستان کی سرحد سے زیادہ دور تھیں ان کی نقل مکانی بھی کم ہوئی. شاید ایک خوف راستے کے عدم تحفظ کا بھی تھا

Abid Hussain Khan

مسلم اقلیتی علاقوں کے سیاستدان بلکہ نواب خاندان تحریک پاکستان میں زیادہ متحرک تھے جس کی وجہ شاید برطانیہ کے جانے کے بعد برٹش سیاسی ماڈل کے اندر ان علاقوں میں پڑنے والا سیاسی و سماجی دباؤ تھا جس کا سامنامسلم اکثریتی علاقوں کے سیاستدانوں کو نہیں تھا اور شاید متحد رہنے کی صورت میں بھی ان کے اثرو رسوخ میں زیادہ فرق نہیں پڑنا تھا اسی لیے مسلم اقلیتی علاقوں کے سیاستدان جن کا مسلم لیگ میں مضبوط ہولڈ بھی تھا تقسیم پہ زیادہ زور دے رہے تھے۔ یہاں یہ بھی تو ممکن کہ جیسا مسلم لیگ دستوری تحفظ مانگ رہی تھی اس سے ان کے مفادات کا تحفظ ہو جاتا لیکن بہر حال تقسیم ہو گئی۔شاید وہ ایکسپیکٹ نہ کر رہے ہوں کہ تقسیم ہو پائے گی

Naseer Akhter

محترم عابد حسین صاحب کے کمنٹس میں آپ کےاس سوال کا تسلی بخش جواب موجود ہے کہ مسلم اقلیتی علاقوں میں تحریک پاکستان کی اتنی سرگرم حمایت کیوں کار فرما تھی۔

Muhammad Mashhood

مسلم اقلیتی علاقوں کے نواب یا مراعات یافتہ طبقہ کبھی کوئی تحریک برپا نہیں کرسکا اور نہ ہی 1940ء سے پہلے اس طبقے نے تقسیم کا مطالبہ کیا۔ قراردادِ لاہور سے پہلے صرف صوبہ سندھ کے مسلم لیگی رہنماؤں نے حاجی عبداللہ ہارون کی قیادت میں اس حوالے سے کام کیا تھا اور وہی 1940ء کی قرارداد کی بنیاد بنا۔

In 1938, Sir Abdullah Haroon was not only Chairman of the Reception Committee of the Sindh Provincial Muslim League Conference at Karachi but was the brains behind the resolution on partition moved by Shaikh Abdul Majid Sindhi. It envisaged “the federation of Muslim States and the federation of non-Muslim States.” Jinnah disapproved of it. With his tacit consent, Haroon’s draft was passed as modified on 9 October. It mentioned “two nations” but merely asked the League “to review and revise the entire question of what should be a suitable Constitution of India” and “to devise a scheme of Constitution under which Muslims may attain independence.”[2] In 1965, Shaikh Abdul Majid said in a press interview that he was prepared for a Centre with limited powers including safeguards for minorities.

Sir Abdullah’s ardor was not dampened. He wrote to the Aga Khan on 7 November 1938, “We are seriously considering the possibility of having a separate federation of Muslim states and Provinces.” [3]

The League Council took a fateful step. On 4 December 1938 it set up the Foreign Committee with Sir Abdullah as Chairman. Its objective was the propagation of the League’s policies and programme in India and abroad. Later in the month, the League’s 26th Session at Patna authorized the President “to adopt such a course as may be necessary with a view to exploring the possibility of a suitable alternative” to the federation set up by the Government of India Act, 1935.

Ref: [2] Ahmed, Jamiluddin, ed.; Historic Documents of the Muslim Freedom Movement; Publishers United Ltd., Lahore, 1970p.257. Vide also Moore, R.J.; Endgames of Empire; Oxford University Press, 1988. P.113.

[3] Vide also Haroon, Daulat; Haji Sir Abdullah Haroon Hidayatullah; Oxford University Press, Karachi, 2006.

https://www.dawn.com/news/1478674/the-haroon-story

Irfan Mirza

برصغیر میں صدیوں سے بستے چلے آنے والے مسلمانوں کو استعمار کے قبضے کے بعد، پہلی مرتبہ ہندو اکثریت کا دباؤ محسوس ہوا جس نے رفتہ رفتہ محاذ آرائی کی کیفیت بھی اختیار کرنا شروع کر دی۔ اسکا سب سے شدید احساس یو پی کی مسلم اشرافیہ کو تھا جو مسلمان حکمرانوں کے درباری رہتے چلے آنے کی وجہ سے بہت مراعات یافتہ تھے۔ سیاسی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش بھی اسی وجہ سے ان ہی میں زیادہ شدت سے سر اٹھا رہی تھی۔

رہے مسلم اکثریتی صوبے تو وہاں مسلمان بہت حد تک با اختیار بھی تھے صاحب اختیار بھی اور پھر ہندو بالا دستی کے خوف سے یکسر آزاد۔ پاکستان ان مسلئہ تھا ہی نہیں۔

Muhammad Mashhood

متفق۔ مگر 1940ء سے پہلے مذکورہ اشرافیہ کی طرف سے تقسیم کا مطالبہ سامنے نہیں آیاتھا۔

Abid Hussain Khan

تجاویز آتی رہیں اقلیتی صوبوں کے راہنماؤں کی طرف سے بھی۔ ہاں البتہ باقاعدہ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے پہلی بار تھی جس میں اقلیتی صوبوں کا کردار اہم تھایہاں کانگریسی وزارتوں کا ان صوبوں میں کردار بھی قابل توجہ ہے جس نے ان لوگوں کو تھوڑی بعد کے دورکی جھلک دکھائی

Irfan Mirza

یو پی کی اشرافیہ کی طرف سے برٹش انڈیا کی تقسیم کا مطالبہ آنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ چاروں طرف سے ہندو اکثریت میں مقید اس مسلم اقلیت نے تقسیم ہو کر آخر کہاں جانا تھا؟ مسلم لیگ دراصل انہیں لوگوں کی نمائیندہ جماعت تھی۔ پنجاب، سندھ و بلوچستان اور سرحد میں اسکو پہلے کون پوچھتا تھا؟

تاریخ تو انیس سو چالیس کے بعد کی بھی ایسے شواہد پیش کرتی ہے جس سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں ہے کہ برٹش انڈیا کی تقسیم جناب جناح کی پہلی ترجیح نہیں تھی۔ ترجیح ہوتی بھی کیسے؟ یو پی اور بہار کے مسلمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر شمال میں جا بسنا آخر کس قسم کے سیاسی دانشمندی ہوتی؟

Dr. Abdul Ahad

میرا خیال ہے کہ مسلمان ہندو اور سکھ پورے ہندوستان میں اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ کوئی بھی حل عملاً ناکافی تھا. بہت سے لوگوں کی طرح میرا بھی خیال ہے کہ تقسیم ایک بہتر حل تھا اور اکثر اوقات بہتر حل ہی درست حل کہلاتا ہے. افسوس صرف ایک ہے تبادلہ آبادی کے ساتھ خونریزی اور قتل کے واقعات بہت زیادہ ہوے اور سنا ہے کہ تقسیم کے بعد کچھ عرصے تک یہ الزام دونوں طرف سے لگتا رہا کہ فریق مخالف نے زیادہ قتل کیے. مسلمانوں کی حالت زار کی صورت گری میں البتہ سنا ہے کہ صحافیانہ منافقت کا بھی دخل ہے. واللہ اعلم

(اس مکالمے کا سلسلہ ابھی جاری ہے)

قارئین کے تبصروں پر مبنی اس مکالمے کے لئے تیسری قسط کا انتظار فرمائیے۔