* عظمت انصاری کی یادداشتوں کا جادوئی سفر –
تصور کیجیے کہ آپ ایک پرانے، پھٹے ہوئے ڈائری کے صفحے کھولتے ہیں۔ ہوا میں قدیم اخباروں کی سیاہی کی بو، صحافتی مشینوں کی گڑگڑاہٹ، اور ادب کی وہ خوشبو جو وقت کے ساتھ مزید گہری ہو جاتی ہے۔ *عظمت انصاری* کی کتاب یادوں کے دریچے بالکل یہی کرتی ہے – دریچے کھولتی ہے، نہ صرف ماضی کے، بلکہ ان دریچوں سے جھانکتے ہوئے آپ کو اپنی زندگی کے کچھ کھوئے ہوئے لمحات بھی یاد دلاتی ہے۔
ذکر کتاب چینل پر اس کتاب پر یہ ویڈیو تبصرہ آج سے کئی سال قبل آیا تھا جس میں ۔ تبصرہ نگار نے کتاب کو صرف “یادداشتوں کا مجموعہ” کہہ کر نہیں چھوڑا، بلکہ اسے صحافت، ادب اور زندگی کے ایک زندہ دستاویز کی طرح پیش کیا۔ قند مکرر کے طور پر اب یہ تبصرہ ایک بلاگ کی صورت میں پیش خدمت ہے یہ نہ صرف ویڈیو کا خلاصہ نہیں ، بلکہ اس سے آگے کا سفر – جہاں عظمت انصاری کی قلم سے نکلنے والی ہر لائن ایک چھوٹی سی فلم بن جاتی ہے۔
صحافت کا وہ عظیم الشان سفر جو تین ہزار آرٹیکلز سے شروع ہوتا ہے
عظمت انصاری صاحب صحافت کے میدان میں کوئی عام نام نہیں۔ ویڈیو میں تبصرہ نگار نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے تقریباً *تین ہزار آرٹیکلز* لکھے، چار مشہور ناولوں کا ترجمہ کیا، اور پھر بھی اپنی یادوں کو کاغذ پر اتارنے کا وقت نکال لیا۔ کتاب پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے ایک پرانا براڈکاسٹر مائیک اٹھا کر بیٹھ گیا ہو اور کہانی سنا رہا ہو۔ ان کی یادوں میں کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی مصنوعی سنسنی نہیں۔ بس سادہ، سیدھا، لیکن دل کو چھو لینے والا بیان۔ جیسے وہ لکھتے ہیں کہ صحافت میں رہتے ہوئے کتنے لوگوں سے ملے، کتنے واقعات دیکھے، اور کتنے خواب دیکھے جو آج بھی ادھورے ہیں۔ ویڈیو ریویو میں یہ بات خوب اجاگر کی گئی کہ یہ کتاب “آپ بیتی” نہیں، بلکہ “ہم بیتی” ہے – یعنی پڑھنے والے کو بھی اپنی یادوں سے جوڑ دیتی ہے۔
ادب اور شاعری کا وہ دریچہ جو کبھی نہیں بند ہوتا
عظمت انصاری صرف صحافی نہیں، اداکار بھی ہیں، شاعر بھی۔ کتاب میں جہاں صحافتی تجربات ہیں، وہاں ادبی محفلوں کی خوشبو بھی ہے۔ ایک جگہ وہ اپنے ترجمہ شدہ ناولوں کا ذکر کرتے ہیں تو لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہے ہوں: “میں نے دوسروں کی کہانیاں تو ترجمہ کر دیں، اب اپنی سنو۔”
تبصرہ نگار نے ویڈیو میں یہ خوب کہا کہ کتاب کا اسلوب “دریچے” کی طرح ہے – ہلکا پھلکا، ہوا دار، لیکن اندر سے گہرا۔ آپ ایک صفحہ پڑھتے ہیں تو دوسرا خود بخود کھل جاتا ہے۔ کوئی زبردستی نہیں، بس ایک قدرتی بہاؤ۔
کیوں یہ کتاب آج کے دور میں بھی “لازمی” ہے؟
آج جب ہر کوئی “مموریز” لکھ رہا ہے، انسٹاگرام پر فلٹر لگا کر پرانی تصویروں کو پوسٹ کر رہا ہے، تو یادوں کے دریچے ایک مختلف ذائقہ دیتی ہے۔ یہ فلٹر فری ہے۔ یہ سچ ہے۔ یہ درد ہے، یہ مسکراہٹ ہے، یہ صحافتی جدوجہد ہے، یہ ادبی محبت ہے۔
ویڈیو دیکھ کر سب سے زیادہ جو بات دل کو لگی وہ یہ تھی کہ تبصرہ نگار نے کتاب کو “انعام یافتہ” قرار دیا (یو پی ایل انعام بھی ملا تھا) لیکن اسے صرف انعام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی سادگی اور صداقت کی وجہ سے سراہا۔ آج کے فوری مواد کے دور میں یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اچھی تحریر وقت لیتی ہے، یادوں کو سجانے میں بھی وقت لگتا ہے۔
تبصرہ نگار بتاتے ہیں کہ یہ کتاب محض یاداشتیں نہیں بلکہ ایک عہد کی تاریخ ہے، جس میں مصنف نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو انتہائی سادہ اور دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ عظمت صاحب لکھتے ہیں کہ صحافت میں رہتے ہوئے انہوں نے جو کچھ دیکھا، اس سب کی جھلک ہمیں “یادوں کے دریچے” میں نظر آتی ہے
تبصرے کے چیدہ چیدہ حصے
اس کتاب کو“دل کی کھڑکی” کہناس بہتر ہو گا میں اسے “روح کا آئینہ” کہوں گا۔ کیونکہ جب آپ کتاب بند کرتے ہیں تو لگتا ہے آپ نے نہ صرف انصاری صاحب کی یادوں میں گھوم لیا، بلکہ اپنی کچھ یادوں کو بھی تازہ کر لیا
. اس کتاب میں عظمت انصاری نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے ان ایام کا نقشہ کھینچا ہے جو قیامِ پاکستان سے قبل اور فوراً بعد کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے اس دور کی سماجی قدروں کا پتہ چلتا ہے۔
جو اس وقت کے میڈیا اور کام کرنے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ . مصنف نے اس کتاب ییں اپنے صحافتی سفر اور ریڈیو پاکستان سے وابستگی کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات کو کتاب کا حصہ بنایا ہہے۔
ہے تبصرے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ کتاب میں ان شخصیات کا بھی ذکر موجود ہے جنہوں نے مصنف کی زندگی اور سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے، اور ان کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات کو بڑی محبت سے قلمبند کیا گیا
. تبصرہ نگار کے مطابق اس تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے اپنی ناکامیوں اور تلخ تجربات کو بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ انہیں ایک سبق کے طور پر قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
تبصرہ نگار بتاتے ہیں کہ کتاب میں ایک نہایت سنسنی خیز واقعے کا ذکر ہے جب ایک ڈپٹی کمشنر کی اہلیہ نے پاکستان کے چیف جسٹس کو سرِ عام تھپڑ مار دیا تھا۔ اس واقعے نے اس وقت کے سرکاری حلقوں میں کھلبلی مچا دی تھی۔ تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ بیوروکریسی نے اس خبر کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی اور اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے اس خبر کو میڈیا اور عوامی حلقوں میں پھیلنے سے روکنے کی کامیاب حکمت عملی اپنائی۔
گورکھ ہل کی دریافت اور مشکل حالات
تبصرے کے مطابق اس کتاب میں ذکر ہے کہ عظمت انصاری صاحب نے سندھ کے بلند ترین مقام ‘گورکھ ہل’ کو دریافت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انصاری صاحب ان دشوار گزار راستوں پر گئے جہاں اس وقت پہنچنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ وہ شدید سردی، پانی کی کمی اور بنیادی سہولیات سے محروم ایسے مشکل حالات سے گزرے جہاں جان کا خطرہ بھی موجود تھا، لیکن ان کے تجسس اور ہمت نے سندھ کے اس خوبصورت مقام کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا۔
کراچی میں چیتوں کا وجود اور کاغان ناران کی دریافت
کراچی کے چیتے: تبصرہ نگار بتاتے ہیں کہ عظمت انصاری صاحب نے اپنی تحریروں میں اس حیرت انگیز حقیقت کا انکشاف کیا کہ کسی دور میں کراچی کے علاقے (جو اب گنجان آباد ہیں) چیتوں کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ شہر کی جغرافیائی تبدیلیوں اور جنگلی حیات کی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے۔
کاغان ناران کی دریافت: اسی طرح تبصرہ نگار کے مطابق اس کتاب میں انصاری صاحب کے ان اسفار کا بھی تذکرہ ہے جس میں انہوں نے کاغان اور ناران کی وادیوں کے ان پوشیدہ گوشوں کو دریافت کیا جو اس وقت تک عام سیاحوں کی نظروں سے اوجھل تھے۔ انہوں نے ان علاقوں کے قدرتی حسن کو اپنی تحریروں کے ذریعے متعارف کروایا
تبصرہ نگار بتاتے ہیں کہ کتاب کا اسلوب اتنا رواں ہے کہ قاری خود کو ان واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے، خاص طور پر وہ حصے جہاں قدیم دہلی اور پھر نئے وطن میں آبادکاری کے ابتدائی ایام کا ذکر ہے۔
آخری بات – کیوں آپ کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے؟
اگر آپ صحافت، ادب، یا بس زندگی کے سادہ مگر گہرے لمحات سے محبت کرتے ہیں تو یادوں کے دریچے آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ جس ویڈیو تبصرے کا ذکر کیا ہے آپ وہ : ویڈیو بھی دیکھیںاور کتاب بھی پڑھیں، اور پھر اپنے “یادوں کے دریچے” بھی کھولیں۔ آپ نے کتاب پڑھی ہے؟ یا ویڈیو دیکھی ہے؟ کمنٹس میں اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں۔ یادوں کا دریچہ سب کے لیے کھلا ہے
http://youtube.com/watch?v=ddcOS6-n7to&feature=youtu.be


