افکارِ پریشاں جسٹس(ر) ایم آر کیانی

ایم آر کیانی کے قلم سے – طنز و مزاح کا ایک شاہکار

کتاب: افکارِ پریشاں مصنف: جسٹس (ر) ایم آر کیانی

اردو ادب میں طنز و مزاح کی جب بھی بات ہو گی، جسٹس ایم آر کیانی کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔ ان کی تحریریں نہ صرف ہنساتی ہیں بلکہ معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو نہایت خوبصورت اور شائستہ پیرائے میں بیان کرتی ہیں۔ “ذکرِ کتاب” کے چینل پر ان کی مشہور کتاب افکارِ پریشاں کے حوالے سے” ایک کتاب ایک اقتباس ” ذکر کیا گیا ہے۔ جس میں ان کے منفرد اسلوب اور عدالتی و سماجی زندگی کے تجربات کو بڑے دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

عدالتی زندگی اور طنز و مزاح

ویڈیو میں ایم آر کیانی کے اس دور کا ذکر کیا گیا ہے جب وہ سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح سرکاری میٹنگز، کانفرنسز اور تصاویر بنوانے کے عمل میں ایک مصنوعی پن چھایا رہتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ “ہم گول میزوں پر ہاتھ پھیلا کر ایسے بیٹھتے تھے جیسے بہت سنجیدہ کام کر رہے ہوں، حالانکہ وہ سب ایک دکھاوا ہوتا تھا۔” ان کا یہ مشاہدہ آج کے دور کے سرکاری پروٹوکولز پر بھی صادق آتا ہے۔

اخبارات کی آزادی اور قانونی پیچیدگیاں

ایک جگہ وہ اخبارات پر پابندی اور ضمانت ضبطی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ جب ان سے مشورہ لیا گیا کہ کیا کسی اخبار کی ضمانت ضبط کر لی جائے؟ تو ان کا جواب طنز سے بھرپور تھا: “ایسا نہ کریں کہ ہائی کورٹ سے یہ فیصلہ منسوخ ہو جائے، بلکہ ایسا راستہ نکالیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔” یہ جملہ ان کی ذہانت اور قانونی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

گھریلو زندگی اور خواتین کے حقوق پر دلچسپ گفتگو

ویڈیو کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جہاں ایک خاتون اپنے شوہر کے چال چلن کے حوالے سے قانونی مشورہ لیتی ہیں۔ اس مکالمے میں کیانی صاحب نے مردوں کی بے وفائی اور عورت کے ردعمل کو جس شگفتگی سے بیان کیا ہے، وہ پڑھنے اور سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے شوہر کو مارنے کے سوال پر نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا کہ “قانون عورت کو ایسی اجازت نہیں دیتا، لیکن اگر شوہر ایسی حرکت کرے تو اسے تھپڑ ضرور رسید کرنا چاہیے

“افکارِ پریشاں” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد کی داستان ہے جو ہنسی ہنسی میں ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر آپ اردو ادب، خاص طور پر طنز و مزاح سے لگاؤ رکھتے ہیں، تو ایم آر کیانی کی یہ کتاب آپ کے مطالعے کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے

Author