فضلی سنز کی کہانی طارق رحمان فضلی کی زبانی

مکمل ویڈیو یو ٹیوب پر دیکحنے کے لیئے اس  لنک کو پریس کریں

https://youtu.be/lkG2c9pX5Rc

دہلی سے کراچی تک: فضلی سنز کی 75 سالہ علمی و صنعتی داستان

علم و ادب کی دنیا میں جہاں کتابوں کی اہمیت مسلم ہے، وہاں ان کتابوں کو خوبصورت پیکر عطا کرنے والوں کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ “ذکرِ کتاب” کے پلیٹ فارم پر طارق رحمان فضلی صاحب کا یہ انٹرویو محض ایک کاروباری سفر کی کہانی نہیں، بلکہ ہجرت، محنت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے اخلاص کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آئیے اس 120 منٹ کی طویل گفتگو کا خلاصہ مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔

پہلا مرحلہ (0 سے 25 منٹ): بنیاد اور ہجرت کی یادیں

اس حصے میں طارق صاحب نے اپنے دادا، محترم فضل الٰہی صاحب کے دہلی سے کراچی آنے کے سفر کا ذکر کیا ہے۔

تاریخی پس منظر: 1948 میں جب ان کے دادا کراچی آئے، تو موجودہ اردو بازار کی جگہ ایک نالے کی شکل میں تھا، اس سے متصل انہوں نے طباعت اور جلد سازی  کے کام کی بنیاد رکھی۔

ورثے کی منتقلی: وہ اپنے ساتھ دہلی سے نہ صرف تجربہ لائے بلکہ اپنے شاگرد اور وہ اوزار بھی لائے جو آج بھی فضلی سنز کے پاس ایک تبرک کے طور پر محفوظ ہیں۔

اہم نکتہ: “کاروبار صرف پیسے سے نہیں، بلکہ ان اوزاروں اور ان لوگوں سے بنتا ہے جو آپ کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔”

دوسرا مرحلہ (25 سے 50 منٹ): عروج اور خاندانی جدوجہد

یہ دور فضلی سنز کے پھیلاؤ اور طباعتی اور اشاعتی صنعت میں اپنی جگہ بنانے کا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی کا امتزاج: کس طرح روایتی بائنڈنگ سے نکل کر جدید پرنٹنگ کی طرف قدم بڑھایا گیا۔

والد کی محنت: طارق صاحب اپنے والد فضل الرحمن  کی انتھک محنت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے نامساعد حالات میں بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اقتباس: “ہم نے کبھی شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈا، کیونکہ دیرپا کامیابی محنت اور لگن  سے ممکن ہے۔”

تیسرا مرحلہ (50 سے 75 منٹ): مشکلات اور چیلنجز کا سامنا

اس حصے میں ان چیلنجز کا ذکر ہے جب پاکستان میں پرنٹنگ کے بڑے بڑے ادارے بند ہو رہے تھے۔

بحران میں بقا: جب انڈسٹری زوال کا شکار تھی، فضلی سنز نے جدت اور دیانتداری کے ذریعے خود کو نہ صرف بچایا بلکہ ترقی کی۔

سماجی ذمہ داری: انٹرویو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک بزنس مین کو صرف اپنے منافع کا نہیں، بلکہ معاشرے کی تعلیمی حالت کا بھی سوچنا چاہیے۔

چوتھا مرحلہ (75 سے 100 منٹ): کامیابی کی حکمتِ عملی

یہاں طارق صاحب نے اپنی کامیابی کے گُر اور نوجوان نسل کے لیے مشورے شیئر کیے ہیں۔

چوتھی نسل کی تیاری: وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ اب اپنی چوتھی نسل کو اس کام میں شامل کر رہے ہیں تاکہ یہ علمی ورثہ جاری رہے۔

مشاہدہ: “کامیا


بی کا کوئی خفیہ راستہ نہیں، یہ صرف مسلسل محنت اوراپنے  کام سے محبت  کا نام ہے

پانچواں مرحلہ (100

سے 120 منٹ): چین کا سفر اور مستقبل کا وژن

انٹرویو کے آخری حصے میں چین کے تعلیمی اور صنعتی ماڈل سے سیکھے گئے اسباق کا تذکرہ ہے۔

تعلیم اور ہنر: طارق صاحب کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راز ہنرمندی اور تعلیم میں چھپا ہے۔

اختتامی پیغام: انہوں نے حکومت اور مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دیا کہ بھکاری بنانے کے بجائے قوم کو ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی سکے

یہ انٹرویو ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور بزرگوں کی دعائیں شاملِ حال ہوں، تو ایک چھوٹی سی دکان سے شروع ہونے والا سفر ایک عظیم الشان ادارے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ فضلی سنز کی کہانی پاکستان کی صنعت و حرفت کا ایک روشن باب ہے۔

Author