معاشی غارت گری: عالمی طاقتوں کے ہولناک کھیل کے اعترافات
دنیا میں جنگیں صرف بارود اور گولیوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ بعض اوقات قلم کی ایک جنبش، قرضوں کے بوجھ اور معاشی جال کے ذریعے پورے ملکوں کا مستقبل گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ جان پرکنز کی کتاب “Confessions of an Economic Hit Man” ایک ایسی ہی لرزہ خیز آپ بیتی ہے جو ان پردہ نشینوں کے چہروں سے نقاب ہٹاتی ہے جو ترقی پذیر ممالک کو امداد کے نام پر غلامی کی زنجیریں پہناتے ہیں۔
معاشی غارت گرکون ہے؟ (Economic Hit Man)
جان پرکنز خود ایک ایسا ہی “معاشی غارت گر” تھا جس کا کام مختلف ممالک کو ایسے بڑے منصوبوں کے لیے قرض لینے پر آمادہ کرنا تھا جن کی حقیقت میں ان ملکوں کو ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ان کا مقصد کھربوں ڈالر کے اثاثے اور مستقبل کی آمدنی بین الاقوامی کارپوریشنز کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔
حصولِ مقاصد کے لیے شرمناک حربے
کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ غارت گر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ رشوت، اقتدار کا لالچ، اور یہاں تک کہ عورتوں کا استعمال ان کے معمول کے حربے ہیں۔ ان کا سادہ سا اصول ہے
پہلا قدم
لیڈر کو خریدنے کی کوشش کرو۔
دوسرا قدم
اگر وہ نہ بکے تو اسے “گیدڑوں” (سی آئی اے کے کارندوں) کے ذریعے قتل کروا دو یا بغاوت کے ذریعے اقتدار سے الگ کر دو۔
سعودی منی لانڈرنگ اور تیل کا معاہدہ
کتاب کا ایک اہم حصہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے پر مبنی ہے جس نے عالمی معیشت کا رخ بدل دیا۔ آلِ سعود کی حکومت کے تسلسل کی ضمانت کے بدلے سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ:
تیل صرف امریکہ کو فروخت کیا جائے گا۔
تیل سے حاصل ہونے والی رقم کو امریکی حکومت کے بانڈز میں سرمایہ کاری کیا جائے گا۔
اس سرمایہ کاری کا منافع امریکی کارپوریشنز کو انفراسٹرکچر کی تعمیر کے نام پر واپس ملے گا۔
اخلاقی گراوٹ کی داستان
اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جان پرکنز نے انکشاف کیا کہ ایک بااثر سعودی شہزادے “و” کو خوش کرنے کے لیے اس کی فرمائش پر ایک امریکی پائلٹ کی اہلیہ کو شہزادے کی رکھیل بننے پر آمادہ کیا گیا تاکہ وہ معاہدے پر دستخط کر دے۔ یہ واقعہ اس نظام کی اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انڈونیشیا کا کٹھ پتلی تماشہ اور پاکستان کے لیے پیشگوئی
پچاس سال قبل انڈونیشیا میں ایک کٹھ پتلی تماشے کے دوران جان پرکنز کو ایک بوڑھے نے بتایا تھا کہ تم لوگ یہاں جو کر رہے ہو، وہ صرف انڈونیشیا تک محدود نہیں رہے گا۔ اس نے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے بارے میں جو پیشگوئی کی تھی، آج وہ بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔ آج ہم اپنے ملک میں قرضوں کا جو بوجھ اور معاشی بدحالی دیکھ رہے ہیں، یہ اسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر پرکنز نے دہائیوں پہلے کیا تھا۔
یہ کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟
اگر آپ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ
دنیا کے امیر ترین قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک غریب کیوں ہیں؟
قرضوں کا جال کیسے بننا جاتا ہے؟
کیوں کچھ لیڈر اچانک طیاروں کے حادثوں یا بغاوتوں کا شکار ہو جاتے ہیں؟
تو یہ کتاب آپ کی آنکھیں کھول دے گی۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ عالمی معاشی نظام کے پیچھے چھپے جرائم کی فردِ جرم ہے۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں


Author
-
شہیرالحق بی ایس ایم ٹی کے طالب علم ہیں اور کلینیکل لیبارٹری سائنس میں تخصیص کا ارادہ رکھتے ہیں، مطالعے کا بہت شوق ہے، جاسوسی ناول اور اسلامی تاریخ پر کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا شوق اور مشغلہ کمپیوٹر گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور اے آئی ٹولز ہیں۔ ان شعبوں میں آپ ذکر کتاب کے ٹیم میں اعزازی خدمات انجام دیتے ہیں۔


