تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان: قوموں کی تاریخ کا حیران کن واقعہ : پہلی قسط

تقسیمِ ہند

تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان: اقوامِ عالم کی تاریخ کا انوکھا واقعہ

1947 ء میں وقوع پزیر ہونے والی تقسیمِ ہند کے نتیجے میں بھارتی حصے میں رہنے والے مسلمانوں کا سیاسی کردار قوموں کی تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ ہے۔ یوپی، بہار، سی پی، برار، بمبئی، اور کرالہ میں بسنے والے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ پاکستان وہاں نہیں بن رہا ہے۔ مگر انہوں نے پاکستان کیلئے جدوجہد کی اور پاکستان حاصل کرلیا۔ تقسیم کی جدوجہد میں سب سے بڑھ چڑھ کر جنہوں نے حصہ لیا۔یہ یوپی میں رہنے والے مسلمان تھےجنہوں نے نعرہ دیا،

بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔ لے کے رہیں گے پاکستان
حالانکہ تحریک میں پیش پیش یہ مسلمان جانتے تھے کہ پاکستان یوپی میں نہیں بن رہا۔

 

آل انڈیا مسلم لیگ کی بھرپور کامیابی

یوں تو 1940ء کی قراردادِ لاہور کے بعدمسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے حصول کی جدوجہد تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہوگئی تھی مگر اس کا عروج 1945ء کے مرکزی انتخابات اور 1946ء کے صوبائی انتخابات تھے جن میں پورے ہندوستان سے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کو بھرپور پزیرائی بخشی۔ مرکز میں مسلمانوں کیلئےمخصوص 30 کی 30 سیٹیں اور صوبائی اسمبلیوں کی 492 میں سے 429 سیٹیں مسلم لیگ کے حصے میں آئیں۔ مسلم لیگ نے تقریباً نوے فیصد ووٹ حاصل کئے جب کہ کانگریس محض چار فیصد مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرپائی۔ باوجود ان حقائق کے کہ گاندھی جی کا تشخص ہندوستان میں بسنے والی تمام اقوام کے باپو کا تھا، مولانا ابولکلام آزاد جو 1940 سے 1946ء تک کانگریس کے صدر رہے تھے انہوں نے تقسیم کے خلاف بھرپور کوششیں کی تھیں، جمیت العلمائے ہند اور دیگر مسلمان تنظیمیں کانگریس کی ہمنوا یا کم از کم تقسیم کے خلاف تھیں۔ ایسے میں آل انڈیا مسلم لیگ کی اس قدر بھرپور کامیابی جمہوری تاریخ کا ایک ایسا باب تھا جس کا حتمی جواب آج بھی بہت سے مؤرخین تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں۔ مزید حیران کن بات تقسیم کے بعد ان مسلمانوں کا عمل تھا جنہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ان کی اکثریت نے پاکستان جانے کے بجائے بھارت میں رہنے کو ترجیح دی۔

1946ء کے انتخابات: اہم اعدادو شمار

Results of Elections in 1946

Votes Polled by; Congress and other Parties in Assembly Elections (1946)
(Table does not include votes of uncontested seats, Unopposed returns, Congress: 303 and Muslim League: 40)

  1. N. Mitra “The Indian Annual General, July-December 1945 Vol.II,” p: 229

1946 کے انتخابات
*Out of 151 seats reserved for the Scheduled Castes the Congress Scheduled Castes candidates won 36 seats unopposed and 105 seats contested with 2182.2 (thousand) Vote,—Votes of unopposed seats not included.
N.B. The Congress polled more than 190 lakhs or 19 million votes. The Muslim League polled about 45 lakhs or 4.5 million—75% Muslim votes.
The Non-League Parties polled more than 15 lakhs or 1.5 Million—25% Muslim votes.
The Scheduled Castes Federation polled more than 5 lakhs or 0.5 million votes, The Communist Party polled more than 6 lakhs or 0.6 million votes.
As the Muslim League Stands VIS-VIS other Parties in the Provincial Legislative Assemblies (1946) after the Elections
1946 میں سوبائی اسمبلیوں کے انتخابات
1Including 4 Muslims. 2Including 19 Muslim members.
3Including 3 Europeans. 4Incinding one Muslim seat
ABBREVIATIONS:-

N. M. —Nationalist Muslim.
H. M.—Hindu Mahasabbs.
R.D.P.—Radical Democratic Party.
J—Jamiat-UI-Ulema.
M. L.-u-Syed.Muslim L. under Syed.
M. L.—Muslim League.
S.C.F.—Scheduled Caste Federation
Com.—Communist. Ind. Pro. Con.—Indepen. Pro. Congress
N.L.M.P.Non-League Mus۔ Party.

بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا کردار

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ 1984ء کے عروج میں اندرا گاندھی کی کانگریس پارٹی کو ڈالے گئے ووٹوں کا 49 فیصد حاصل ہوا تھا۔ بھارت کے آخری انتخابات منعقدہ 2019 ء میں مودی کی بی جے پی تنہا 37 فیصد ووٹ لے پائی اور اتحاد ی ووٹوں کو ملا کر بھی ان کے ووٹ 45 فیصد سے نہیں بڑھ پائے۔ اس طرح آل انڈیا مسلم لیگ کے 89 فیصد سے زائد ووٹ ایک حیران کن کامیابی تھی۔ (گو کہ یہ انتخابات ”ون مین ون ووٹ“ کی بنیاد پر نہیں تھےاور طریقہ کار بہت پیچیدہ تھا، تاہم ووٹ کےتناسب کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے )یہ حیرانی اس وقت دو چند ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے نام پر ووٹ ڈالنے والے ان مسلمانوں کی کثیر اکثریت پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کے بجائے بھارت میں ہی رہنا پسند کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 80 فیصد مسلمانوں نے بھارت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

چند بہت اہم سوالات

اب یہاں کچھ اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

      • کیا بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اپنے فیصلے پر مطمئن تھے؟
      • کیا قیامِ پاکستان کی تحریک کے وقت انہیں پوری طرح اندازہ تھا کہ جس تحریک میں وہ حصہ لے رہے ہیں اس کا پھل انہیں نہیں ملنا ہے؟
      • کیا یہ مسلمان قائدین کی غلطی تھی کہ وہ ان مسلمانوں کی آزادی کیلئے کوئی لایحۂ عمل ترتیب نہیں دے سکے؟ (یاد رہے کہ تقسیم اس لئے ضروری سمجھی جاتی تھی کہ ہندو اکثریت والے ملک میں مسلمانوں کی شناخت مٹ جانے کے خدشات ظاہر کئے جاتے تھے۔ تو جب یہ خدشات موجود تھے تو پھر ان مسلمانوں کے مستقبل کیلئے کیوں نہیں سوچا گیا جنہیں تحریک کیلئے استعمال کیا گیا؟)
      • جن مسلمانوں نے سب سے بڑھ چڑھ کر تحریک میں حصہ لیا انکے لئے ایک مخصوص وقت کے بعد پاکستان کے دروازے بند کیوں کردیئے گئے؟
      • یہ صحیح ہے کہ جس نقشے کے مطابق ممالک کی تقسیم ہو رہی تھی اس میں تبادلہ آبادی ناممکن تھا ۔اگر اس حقیقت کو مان لیا جائے کہ جس خطے میں پاکستان بن رہا تھا وہاں ہندوستان کے تمام مسلمانوں کیلئے جگہ نہیں تھی تو پھر اس کا متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

تاریخی تناظر

    • یاد رہے کہ ہندو مہاسبھا کے ممتاز ترین لیڈر لالہ لاجپت رائے نے 1923ء میں تبادلہ آبادی کے ساتھ تقسیم کی تجویز پیش کی تھی.
    • پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چودھری رحمت علی کی دستاویزات میں ہندوستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کیلئے ان کا تفصیلی جائزہ اور تجاویز بمع نقشہ جات ملتی ہیں۔ انکی کچھ تجاویز کو ناممکن قرار دیا جاسکتا ہے اور ایک دیوانے کا خواب قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک تنہا شخص جب اتنا کام کرسکتا تھا تو اجتماعی طور پر آل انڈیا مسلم لیگ نے اس سلسلے میں کوئی ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟

Public Debate at Facebook

عوامی مباحثہ

جب میں نےسوشل میڈیا پر یہ استفسارات قارئین کے سامنے رکھے تو ایک زبردست علمی بحث کا آغاز ہوا۔ یوں تو کئی طرح کےتبصرے سامنے آئے تاہم میں نے ذیل میں انتہائی متعلقہ تبصروں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔

انتہائی اہم تاریخی مکالمہ

قارئین کے تبصروں پر مبنی اس مکالمے کے لئے دوسری قسط کا انتظار فرمائیے۔