تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان: قوموں کی تاریخ کا حیران کن واقعہ : تیسری قسط

اقوامِ عالم کی تاریخ کا حیران کن واقعہ: تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان

اقوامِ عالم کی تاریخ کا حیران کن واقعہ: تقسیمِ ہند اور بھارت میں رہ جانے والے مسلمان

ایک تاریخی مکالمے کا آخری حصہ


Irfan Mirza

ان سوالوں کے پیچھے ایک ایسا تخیل ہے جس کی کثیر الجہت تعبیریں ہمیں کسی ایک جواب پر متفق نہیں ہونے دیں گی۔ جناب قائداعظم محمد علی جناح نے اس تخیل کو، جسے ہم پاکستان کا نام دیتے ہیں، کبھی اسطرح سے بیان نہیں کیا کہ اسکی فقط ایک ہی تعبیر کی جا سکے۔ یہ ابہام دانستہ لگتا ہے کیونکہ وہ کمزور پاؤں پر کھڑے ہوتے ہوئے، برصغیر کے مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ یا مراعات حاصل کرنے کے لیے بیک وقت تین فریقوں (انگریزوں، ہندؤوں اور مسلمان سیاسی مخالفین) سے معاملہ کر رہے تھے۔ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنی مٹھی کو بند رکھنا یا اپنے پتے چھپا کر کھیلنا از حد ضروری ہوتا ہے۔ (میرے خیال میں) یہی وجہ ہے کہ جب خواجہ ناظم الدین سے پوچھا گیا کہ آخر پاکستان سے آپ کی مراد کیا ہے تو انہوں نے (جھلا کر، یا نہایت معصومیت سے) جواب دیا تھا کہ اس کا مطلب تو صرف جناب جناح کو معلوم ہے۔

Amjed Saleem Alvi

مشہود بھائی سوال یہ ہے کہ اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں، خاص طور پر یو پی کے مسلمانوں کی سوچ کیا تھی؟؟ کیا وہ صرف اپنے مفادات کے متعلق سوچ رہے تھے خواہ باقی ہندوستان کے مسلمان جہنم واصل ہو جائیں؟؟ آپ میثاقِ لکھنؤ دیکھیں، تو دو صوبوں میں مسلمان اکثریت میں تھے، پنجاب اور بنگال میں، دونوں صوبوں میں مسلم اکثریت ذبح کر دی گئی تاکہ یو پی والوں کو جہاں سو میں سے 20 نشستیں حاصل ہیں، وہ چوبیس ہو جائیں۔ یعنی ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، لیکن نہایت بے تکلفی سے پنجاب اور بنگال کی اکثریت مستقل طور پر تباہ کر دی گئی۔ جب پاکستان بننے کا وقت آیا، تو کیوں کہ مسلم لیگ کی قیادت پر یو پی والے ہی مسلط تھے، انھوں نے کوئی محنت نہ کی کہ پنجاب اور بنگال کے صوبے متحد ہو کر پاکستان میں شامل ہوں۔ بنگال کو پاکستان سے الگ کرنے پر لیگی قیادت رضامند تھی، اس پر کانگرس کا یو پی کا لیڈر نہرو رضامند نہیں تھا۔ اس کی نظر میں پاکستان کو کمزور کرنے کا طریقہ ہی یہ تھا کہ مسلم بنگال کو ہندو بنگال سے الگ کر لیا جاۓ اور کلکتہ کی بندرگاہ ان سے چھین لی جاۓ۔ مسلم بنگال ہر وقت ہندو بھارت کے نرغے میں رہتا، اور رہا۔ اتنی دور اندیشی ہماری قیادت میں کیوں نہ تھی کہ نتائج کا اندازہ کر سکتی؟ خالی ایک بیان دے کر، کہ ہمیں “دیمک زدہ پاکستان” دیا گیا ہے، قیادت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو نہ ہوشیار کیا گیا کہ صوبہ اسی بنیاد پر تقسیم ہو سکتا ہے جس بنیاد پر ہم ہندوستان کی تقسیم چاہتے ہیں، اور نہ تیار ہی کیا گیا کہ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے، لیکن انتہائی بے تکلفی سے اور نتائج سے بے پروا ہو کر مغربی پنجاب سے ہندوؤں اور سکھوں کے بھگانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کے انھوں نے سارا غصہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں پر نکالا اور وہ جانی و مالی طور پر برباد ہو گئے۔ بنگال کے پاس سہروردی جیسا دانشمند رہنما موجود تھا جس نے بنگالیوں کو خون خرابے سے باز رکھا، حالاں کہ 1946 کے راست اقدام میں مسلم لیگی قیادت کے فیصلے کے مطابق جو کھیل سہروردی حکومت کی سرپرستی میں کلکتہ میں کھیلا گیا، اس کے خوف ناک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ پنجاب کے پاس سہروردی کے پاۓ کا کوئی لیڈر نہ تھا۔ مسلم لیگی قیادت نے یہاں جن بونوں کو اقتدار عطا فرمایا، وہ اتنے منہ زور ہو گئے کہ گورنر جنرل قائدِ اعظم کے احکامات کو پرِ کاہ کی حیثیت نہ دیتے تھے۔ مسلم لیگی قیادت نے صوبہ سرحد میں وہ ہیرا چنا جو ڈیڑھ دو سال پہلے کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوا اور جس نے پورا اہتمام کیا کہ سرخ پوش جو جھکنے پر آمادہ تھے، ان سے قائدِ اعظم کا صلح نامہ نہ ہو جاۓ۔ کراچی میں قائدِ اعظم سے باچہ خان ملے اور قائدِ اعظم نے ان سے سرحد کے دورے پر ان کے مرکز میں آ کر ملنے کا وعدہ کیا، لیکن با اصول قائدِ اعظم ڈبل بیرل خان کے دباؤ میں آ کر طے شدہ پروگرام منسوخ کرنے پر آمادہ ہو گئیے۔ معاف کیجیے، میری بات تلخ ہے، لیکن مردم شناسی میں لیگی قیادت نے اسی سطح کا مظاہرہ کیا جیسا مظاہرہ سلیکٹڈ نے بزدار کے انتخاب میں کیا ہے۔

Rizwan Tahir Mubeen

دو صوبوں میں مسلمان اکثریت میں تھے، پنجاب اور بنگال میں، دونوں صوبوں میں مسلم اکثریت ذبح کر دی گئی تاکہ یو پی والوں کو جہاں سو میں سے 20 نشستیں حاصل ہیں، وہ چوبیس ہو جائیں۔

Amjed Saleem Alvi

کانگرس اور مسلم لیگ کے درمیان ایک معاہدہ  1916 میں طے پایا تھا۔ اس وقت دو صوبوں میں مسلمان اکثریت میں تھے، بنگال اور پنجاب۔ سندھ بمبئی کا حصہ تھا، بلوچستان اور سرحد مرکز کے تحت تھے۔ میثاقِ لکھنؤ میں دونوں جماعتوں نے طے کیا کہ یو پی اور دوسرے صوبوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، مسلمانوں کی نشستیں بڑھا دی جائیں، اور پنجاب اور بنگال میں کم کر دی جائیں۔ ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمان اتنے کم تھے کہ دو چار نشستیں بڑھنے سے بھی کوئی فرق نہ پڑا، لیکن پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کر دی گئی۔ انتہائی افسوسناک عمل تھا۔ دستخط کرنے والوں میں ایک طرف قائدِ اعظم تھے جو کانگرس اور لیگ دونوں کے مشترکہ نمائندے تھے، دوسری طرف پنجاب کے شہ دماغ سر فضلِ حسین بھی تھے۔ میرے والد کی صحافت کا آغاز نومبر 1921 سے ہوا تھا اور انھوں نے مسلسل اس کے خلاف لکھا۔ 1928 میں تو باقائدہ چھپن فیصدی تحریک بھی چلائی۔ لاہور میں بلدیات میں بھی مسلمانوں کو صرف 40 فیصد نمائندگی طے ہوئی اور عملا” ہندو وہ بھی دینے پر آمادہ نہ تھے۔ یہ تھا تحفہ میثاقِ لکھنؤ کا جس پر یو پی اور دیگر صوبوں کے مسلمان خوش تھے کہ ہندو کی 80 نشستوں کے مقابلے میں اب ہماری 20 سے 23 ہو گئی ہیں۔ اس کو عقلمندی کہیں گے؟؟

Rizwan Tahir Mubeen

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ صرف صوبائی اسمبلیوں کی تعداد میں بڑھوتری کی گئی یا مرکزی نشستوں میں بھی ایسا ہوا کیوں کہ مرکز میں پنجاب اور بنگال کے ساتھ یوپی کی بھی مسلم نشستیں چھ ہی تھیں۔۔۔

Amjed Saleem Alvi

مشہود بھائی مجھ سے حقائق بیان کرنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو ضرور نشان دہی کریں۔

Muhammad Mashhood

میثاقِ لکھنؤ کے حوالے سے ایک بات یہ بتائیں کہ مسلمانوں کی جداگانہ نشستوں کا معاملہ اس معاہدے سے جڑا ہؤا تھا۔ اگر جداگانہ نشستیں چھوڑنی پڑتیں تو ہم کہاں کھڑے ہوتے۔

Rizwan Tahir Mubeen

جداگانہ نشستوں کے لیے دو صوبوں میں اپنی اکثریت کو ختم کرنا نہ تو اچھی وکالت مانی جائے گی اور نہ ہی اچھی مدبرانہ کوشش۔ میرا اشارہ قائدِ اعظم کی وکالت اور سر فضلِ حسین کی مدبرانہ سیاست کی طرف ہے۔ آپ نے بھٹو صاحب کا انٹرویو پڑھا تھا جو اوریانہ فلاسی نے لیا تھا؟ بھٹو صاحب نے مدبر کی تعریف یہ کی تھی کہ پرندے کے نیچے سے انڈے نکال لے اور اسے پتہ نہ چلنے دے۔

Muhammad Mashhood

آپ کی منطق اور بھٹو صاحب کا حوالہ دونوں قابلِ قدر ہیں۔ لیکن جداگانہ نشستیں نہ ہوتیں تو 1945۔ 1946ء کے الیکشنز کا کیا نتیجہ رہتا؟

Amjed Saleem Alvi

کون کہتا ہے کہ جداگانہ نشتیں چھوڑ دیتے؟؟ وہی تو مقام تھا جہاں دونوں نامیوں کی قابلیت کی آزمائش ہوئی۔ ان کو یہی تو کرنا تھا کہ اپنی اکثریت بچاتے ہوے جداگانہ انتخاب پر رضامند کرتے۔ دونوں ناکام ہوے۔ میرے ابا جی نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے سر فضل سے پوچھا کہ آپ نے میثاقِ لکھنؤ میں اکثریت کھونے کا معاہدہ کیوں کیا؟ سر فضل اس وقت بھی اپنے فیصلے کو درست سمجھتے تھے۔ میں اخباروں میں پڑھتا ہوں کہ لاہور کارپوریشن میں مسلمانوں کی 40 فیصد نشستیں دینے پر بھی ہندو ہنگامہ مچاتے رہے۔ جب آپ معاہدے پر عمل در آمد ہی نہ کرا سکے تو فائدہ کیا ہوا؟ نقصان البتہ واضح ہے اور 1946 کے انتخابات تک ہماری اکثریت بحال نہ ہوئی تھی۔

Amjed Saleem Alvi

یہ مت بھولیے کہ ایک فریق انگریز بھی تھا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہر موقع پر ہندو فائدہ اٹھاتے رہے۔ ہمارے شہ دماغ کیوں فائدہ نہ اٹھا سکے؟؟ کیا عصمت انونو مسلمان نہیں تھا؟ اس نے ترک مسلمانوں کے لیے انگریزوں سے لوزان میں فوائد صرف اپنی سیاسی قابلیت کی بنا پر حاصل نہیں کیے؟؟

جوہر کمال  / Johar Kamal

1۔ بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اپنے فیصلے پر مطمئن تھے یا نہیں یہ میرے خیال میں اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ کیا پاکستان آجانا سب کے لیے ممکن تھا؟ اور کیا ریاست پاکستان کے لیے اس انسانی دباؤ کا سنبھالنا ممکن ہوتا؟ میرا خیال ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ سب پاکستان ہجرت کر جاتے اور نوزائیدہ ریاست پاکستان اس دباؤ کو سنبھال بھی پاتی۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے اس وقت در حقیقت درست فیصلہ کیا ہونا چاہیے تھا۔

ہم نے اپنے ان بزرگوں کو جو ہجرت کر کے آئے تھے بے چین ہی پایا۔ ان کے ذہن سے متحدہ بھارت کبھی نہیں نکل سکا کیونکہ ان کے خاندان اس ہجرت میں تقسیم ہو گئے تھے، اس کی تہ میں ایک بڑا انسانی المیہ موجود ہے۔

بھارت میں پچھلے کچھ عرصے سے سکھوں کی طرف سے پنجاب کے تقسیم ہونے کا ماتم کیا جاتا ہے لیکن سکھ بھول جاتے ہیں کہ یہ تقسیم ماسٹر تارا سنگھ کے پٹیل جیسے کانگرسی رہنماؤں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی وجہ سے رونما ہوئی تھی۔ اور اس سے پنجاب تقسیم ہوا تھا سکھ تقسیم نہیں ہوے تھے۔ مگر متحدہ ہندوستان کی تقسیم سے اصل میں ہندوستان نہیں صرف مسلمان تقسیم ہوا تھا۔ ہندوستان یا بھارت کبھی ایک متحد جغرافیائئ، قومی، نسلی یا لسانی اکائی نہیں تھا، اشوک، ہرش، علاؤالدین یا اورنگزیب کے دور میں اس کو ریاستی طاقت سے متحد رکھنے کی کوشش ہوئی مگر ہر مرتبہ ناکامی ہوئی۔ ایسے میں متحدہ بھارت یا متحدہ ہندوستان ایک الوژن سے زیادہ کچھ نہیں نظر آتا (یہ ایک دوسری بحث ہے کہ جس پاکستان کا وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی الوژن ہی ثابت ہوا)۔ مگر اس کی اصل قیمت ہندوؤں یا سکھوں نے نہیں مسلمانوں نے ادا کی۔ ان کے خاندان تقسیم ہوئے، ان کی پوزیشن سیاسی اور معاشی دونوں بری طرح مجروح ہوئیں، ان کو اپنے صدیوں کے مسکن سے ہجرت کرنا پڑی وہ بھی سکھوں یا ہندوؤں کی طرح مکمل نہیں بلکہ آدھے خاندان ادھر رہ گئے آدھے ادھر آ گئے۔ سیاسیات سے ہٹ کر یا مذہبی نعروں سے ہٹ کر اس تقسیم کا اصل المیہ یہ ہے کہ یہ تقسیم ایک ایسا زخم لگا گئی جس کا درد میری اور آپ کی نسل بھی آج تک محسوس کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ آنے والے مطمئن ہوئے نہ رہنے والے مطمئن رہ پائے۔

2۔ کم سے کم لیڈر شپ کی حد تک اس کا ادراک ضرور تھا کہ یو پی، بہار جو شمالی ہندوستان کے اصل سیاسی مراکز تھے پاکستان میں شامل نہیں ہو پائیں گے۔ یہاں ہمیں ایک اور المیے کا سامنا ہے۔ پاکستان کا نعرہ ان مسلمانوں کے منھ میں ڈالا گیا جن کے علاقے پاکستان کی حدود سے بھی بہت دور تھے۔ قسطنطنیہ سے سہارنپور تک کی مسلمان پٹی کا زمینی راستہ سہارنپور سے لکھنوء، بریلی، رامپور، یا الہ آباد تک نہیں جاتا تھا، نہ سلہٹ سے پٹنہ تک کوئی مسلم پٹی موجود تھی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہی علاقوں کے مسلمان پاکستان کے نعرے کے ساتھ میدان میں لائے گئے۔

اس سے بڑا مسلہ ہمیں تب درپیش ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جناح صاحب کیبنٹ مشن پلان قبول کر لیتے ہیں جو ہندوستان کو متحد رکھنے کی آخری کوشش ہے۔  جب کہ نہرو اس پلان کو ماننے کے بعد انکار کر دیتے ہیں آخر کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی  جس تقسیم کا ذمہ دار جناح صاحب کو ٹھہرایا جاتا ہے  وہ تقسیم اور اس سے جڑے مظالم نہرو اور پٹیل کے ذمہ آتے ہیں۔ (اگرچہ میں نظریاتی طور پر جمیعۃ علماء اسلام سے ہوں لیکن اس خاص نکتے پر میں جمیعۃ علماء ہند کے ان بزرگوں کی جناح مخالف رائے سے اختلاف کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں کہ ”تقسیم جناح صاحب کی سیاسی بے بصیرتی کی بنیاد پر نہیں نہرو کی تنگ نظری اور پٹیل کی تنگ دلی کی بنیاد پر ہوئی تھی“) بہر حال ان  رہنماؤں کو معلوم تھا کہ پاکستان ان علاقوں میں  نہیں بننا جہاں اس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے بلکہ ان علاقوں میں  بننا ہے جہاں اس کا مطالبہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ نہ پنجاب، نہ سندھ نہ سرحد نہ ہی بلوچستان یعنی آج کا پاکستان اس مطالبے میں شریک ہی نہیں تھا۔ بنگال ضرور اس مطالبے میں شریک تھا مگر بنگال پاکستان سے جس طرح الگ ہوا وہ بجائے خود ایک بہت بڑا المیہ ہے وہ پھر کبھی۔

3۔ جی نہیں یہ مسلمان قائدین کی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ انگریز کی وہ چال تھی جس کے ذریعے دونوں ریاستوں میں عدم اعتماد اور نفرت کا بیج بویا جانا مقصود تھا۔ اسی لیے وقت اتنا کم دیا گیا کہ دوبارہ سے کوئی منصوبہ بندی اور تحریک کو نئے خطوط پر استوار کرنا ممکن ہی نہیں تھا نہ مسلمانوں کے لیے نہ ہندوؤں کے لیے نہ کانگرس کے لیے اور نہ ہی یونینسٹ اور دیگر انگریز کے حمایتی طبقات کے لیے۔ انگریز ہر صورت میں ہندوستان کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنا چاہتے تھے اور وہ اتنی جلدی میں تھے کہ کسی جامع منصوبہ بندی اور قتل و خون کی روک تھام کے بچاؤ کے بغیر ہی تقسیم کا منصوبہ رو بہ عمل لے آئے۔ اس کے پیچھے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مستقل نفرت قائم رکھنے کی خواہش کارفرما تھی جو پوری ہو کر رہی۔ ایک اور وجہ جو اندلس کی تاریخ پڑھنے کے بعد مجھے سمجھ آئی وہ ری کونکوئسٹا تھی۔ یعنی مسلمان مفتوح علاقوں کو ان کے قبضے سے نکالنا، اور ان کی قوت کو تقسیم کرنا، یہ ایک الگ موضوع ہے کہ کس طرح مسلمانوں کی ثقافتی، معاشرتی، تہذیبی ، لسانی اور وجودی شناخت کو اندلس سے ختم کیا گیا اور کیسے اب ہندوستان سے اسی طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا تقسیم سے کیا تعلق ہے۔

4۔ یہ کسی نہ کسی سطح پر آ کر ہونا ہی تھا کہ پاکستان کو اپنے دروازے ہجرت کرنے والوں کے لیے بند کرنا ہی تھے۔ پاکستان کے اندر کی لسانی، علاقائی، اکائیوں کے درمیان میں کوئی یگانگت موجود نہیں تھی مہاجرین کا استقبال اور ایثار و قربانی وقتی جذبات کے تحت تھی کسی تربیت کا تقاضا نہیں تھی جب بات معاشی مفادات پر آنے لگی اور خود پاکستان کی اشرافیہ کو یہ لگا کہ یہ یگانگت ان کےمفادات کو نگل لے گی تو انہی طبقات کو آپس میں ٹکرا کر دشمن بنا دیا گیا ایسے میں بھارت سے مزید آنے والوں کی گنجائش ہی کہاں نکلتی۔

5۔  یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پورے ہندوستان کی مسلمان آبادی کو پاکستان منتقل کر لیا جائے، یہ جناح صاحب کی سیاست کا المیہ ہے کہ ان کے پاس پاکستان تو تھا مگر جنھوں نے پاکستان دلوایا ان کو جناح صاحب ہندوستان چھوڑ آئے۔  نہ یونینسٹ، نہ سندھ مسلم لیگ، نہ سرحد مسلم لیگ نہ بلوچستان کے سردار کوئی بھی اپنے اپنے  علاقوں میں مہاجرین کو برداشت نہیں کر رہا تھا کہ ان کا سیاسی نظام مکمل طور پر تبدیل ہو رہا تھا نئے کھلاڑی داخل ہو رہے تھے،  نئے لوگ ابھر رہے تھے۔ ایسے میں یہ سوچنا اور اس پر عمل کرنا آسان نہیں تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنی صدیوں کی جائے رہائش کو چھوڑنے کے کیے بھی تیار نہیں تھی۔ خاص طور پر پنجابی مہاجرین کی اکثریت اس دباؤ کی وجہ سے پاکستان آئی جو وہاں پر سکھوں اور ہندوؤں کے حملوں کی وجہ سے ان پر پڑ گیا تھا ۔ اس کے بر عکس مسلمان جاٹوں کی اکثریت نے اپنی جگہ چھوڑنا بھی گوارا نہیں کی اور ان کو وہاں کے ہندو جاٹوں کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ یہی حال گوجروں میں ہوا۔ یہ سوال کم از کم میرے لیے لاینحل ہی رہے گا کہ اگر سارے مسلمان پاکستان آ جاتے تو کیا ہوتا؟

محمد مشہودقاسمی / اختتامی کلمات

میں کئی دیگر تبصرے چھوڑ کر یہاں اس سلسلۂ مضامین کا اختتام کررہا ہوں۔ تمام تبصرے فیس بک پوسٹ پر موجود ہیں۔ آخری تبصرہ محترم جوہر کمال صاحب کا ہے جنہوں نے میرے تمام سوالات کا کماحقہ احاطہ کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ” نہ پنجاب، نہ سندھ نہ سرحد نہ ہی بلوچستان یعنی آج کا پاکستان اس مطالبے میں شریک ہی نہیں تھا۔“ اس سے مجھے ذاتی طور پر اختلاف ہے۔ اس حوالے سے ایک علیحدہ مضمون پھر کسی وقت ضرور لکھوں گا۔  قارئین اپنا زاویۂ نگاہ پیش کرسکتے ہیں کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔ بہت شکریہ