یاد رفتگاں – سید عماد الدین قادری

یاد رفتگان سید عماد الدین قادری

سید عماد الدین قادری: ایک عہد ساز شخصیت کی علمی و روحانی داستان

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان ان کے وہ خاموش خدمت گزار ہوتے ہیں جو تشہیر کے بغیر علم کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ سید عماد الدین قادری مرحوم ایک ایسی ہی قد آور شخصیت تھے، جن کی زندگی علم کی جستجو، کتب سے عشق اور نئی نسل کی آبیاری سے عبارت تھی۔ حال ہی میں عاصم قادری صاحب کے ساتھ ہونے والی خصوصی گفتگو “ذکرِ کتاب” میں بابا (سید عماد الدین قادری) کی زندگی کے مختلف گوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

 ہجرت، خاندانی روایات اور تربیت کا منفرد اسلوب

اس افتتاحی حصے میں بابا کے ابتدائی حالاتِ زندگی اور ان کی شخصیت کے سحر کو بیان کیا گیا ہے۔ 1936 میں مدراس میں پیدائش سے لے کر 1952 میں پاکستان ہجرت تک کا سفر جدوجہد اور علمی پیاس سے بھرپور رہا۔ عاصم صاحب بتاتے ہیں کہ بابا کا بچوں کی تربیت کا انداز روایتی سختی کے بجائے حد درجہ مشفقانہ تھا۔ وہ مشکل ترین کتابوں کو قصے کہانیوں کی صورت میں آسان بنا کر بچوں کے ذہنوں میں اتار دیتے تھے۔ ان کے ہاں تعلیمی نمبروں سے زیادہ اخلاقی اقدار اور کردار سازی کی اہمیت تھی۔ ریاضی کے امتحان میں ناکامی پر ڈانٹنے کے بجائے ان کا حوصلہ افزا رویہ آج کے والدین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اس قسط میں مدراس کی شرحِ خواندگی اور اساتذہ کے احترام کے ان جذباتی واقعات کا ذکر        ہے جو انسانیت کا اصل جوہر ہیں۔

روحانی سفر، کتب کی تقسیم اور ٹیکنالوجی کا وژن

بابا محض ایک روایتی مطالعہ کرنے والے انسان نہیں تھے، بلکہ وہ اسلام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ اس قسط میں ان کے روحانی سفر اور مرشدین، خاص طور پر سید فصیح الدین قادری کے ساتھ ان کے گہرے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بابا نے خاموشی سے پسِ پردہ رہ کر سینکڑوں علمی کتب کی اصلاح اور ایڈیٹنگ کی تاکہ صحیح پیغام لوگوں تک پہنچے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دنیا بھر میں 23 ہزار سے زائد نایاب کتابوں کی مفت تقسیم تھی، جسے انہوں نے ایک مشن بنا لیا تھا۔ انہوں نے 90 کی دہائی میں اس وقت پاکستان کی بڑی لائبریریوں کو کمپیوٹرائز کرنے کی بنیاد رکھی جب لوگ ڈیجیٹل دور سے ناواقف تھے۔ ان کا وژن یہ تھا کہ مدارس کے طلباء کو سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس ہونا چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔

ویڈیو لنک: قسط نمبر 2 – 

قسط 3: ترکی سے قلبی لگاؤ اور “قرآن لٹریسی” کی تحریک

بابا کا ترکی کے ساتھ ایک خاص روحانی اور جذباتی تعلق تھا، جہاں ان کے بے شمار شاگرد آج بھی ان کی یادیں سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اس قسط میں ان کے ترکی کے اسفار، مولانا روم کے مزار کی حاضری اور انبیاء کرام سے منسوب مقامات کے مشاہدات کا ذکر ہے۔ عاصم صاحب بتاتے ہیں کہ بابا کے انتقال پر ترک دوستوں کا تعزیت کے لیے پاکستان آنا ان کی بین الاقوامی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گفتگو کا ایک اہم رخ “قرآن لٹریسی” کی طرف مڑتا ہے، جہاں بابا اس بات پر فکر مند تھے کہ مسلمان اپنی اصل کتاب سے کٹ کر صرف رسومات تک محدود ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آئی بی اے  جیسے اداروں کے ذریعے قرآن فہمی کی کلاسز کا آغاز کیا تاکہ لوگ براہِ راست قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں۔

 علمی میراث، بیت الخیر لائبریری اور مستقبل کا لائحہ عمل

سیریز کے آخری حصے میں بابا کی قائم کردہ “بیت الخیر لائبریری” کا ذکر ہے، جو ان کی علمی لگن کا عظیم الشان شاہکار ہے۔ اس لائبریری میں 90 سے زائد زبانوں میں قرآن کے تراجم اور 9 ہزار سے زائد ایسی کتب موجود ہیں جو دنیا کے کسی اور نجی ذخیرے میں ملنا مشکل ہیں۔ عاصم صاحب گفتگو کو سمیٹتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بابا کے نزدیک قرآن محض ایک تبرک نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل کوڈ آف کنڈکٹ تھا۔ وہ نوجوانوں میں مطالعہ کے گرتے ہوئے رجحانات اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر فکر مند رہتے تھے، اسی لیے انہوں نے نسلِ نو کی فکری آبیاری پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ ایک سچے مسلمان کو دنیا اور آخرت (Here and After) دونوں میں توازن پیدا کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔

 

zikrekitab.com/imaduddinqadri

Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *