پیڈرو پارامو‘ ۔۔۔ پڑھنے کا انوکھا تجربہ’

پیڈرو پارامو‘پڑھنے کا انوکھا تجربہ’

 

ایک ناول، ایک فضا، ایک معمہ

 

کبھی کبھی آندھی ایک عجیب منظر پیدا کرتی ہے۔ فضا میں مٹی کے باریک ذرات معلق ہو جاتے ہیں، آسمان کا رنگ بھورا، مائل بہ سرخی ہو جاتا ہے، دُور ونزدیک کی چیزیں دُھندلا جاتی ہیں اور سانس لینا دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے لمحوں میں دنیا کسی ویران خواب کی مانند لگتی ہے؛ گویا زندگی موجود تو ہے مگر پوری طرح نہیں۔

’پیڈرو پارامو‘ کا موسم بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اِس ناول کو پڑھتے ہوئے بار بار یہی احساس ہوا کہ اگرچہ کردار چلتے پھرتے ہیں، یادوں کو دہراتے ہیں، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں لیکن پھر بھی کہیں کوئی کمی ہے، زندگی ان سے یا وہ زندگی سے روٹھے ہوئے ہیں۔ یہی معمہ ہے جو پہلی بار ناول پڑھنے والے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آندھی کے فضا میں ہی ٹھہر جانے اور گرد کے فضا میں معلق ہوجانے کی سی کیفیت اس متن کو پڑھتے ہوئے میرے ساتھ رہی۔ 

 

میکسیکن ادب کا شاہ کار ’’پیڈرو پارامو‘‘ ۔۔۔ ناول یا ناولا؟ 

 

میکسیکن ادیب خُوآن رُلفو کا بظاہر مختصر دکھائی دینے والا ناول لاطینی امریکی ادب کی نادر تخلیقات میں سے ہے، ایک ایسا شاہ کارجسے ادب کے بعض نقاد ناول کے بجائے ناولا کہنے پر زوردیتے ہیں۔ تیکنیکی طور پردیکھا جائے تو یہی درست نظر آتا ہے، 50,000 الفاظ سے کم کی تخلیقات ناولا کہلاتی ہیں اور ’پیڈرو پارامو‘ کے مختلف ایڈیشن 128 سے 144 صفحات پر مشتمل ہیں جو اسے زیادہ سے زیادہ 30,000 الفاظ کی طوالت عطا کرتے ہیں۔ لیکن بات اتنی سادہ نہیں، ضخامت یا الفاظ کا شماراس کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہونے دیتا، لہٰذا یہ پیمانہ یہاں کام نہیں کرے گا۔ تو پھر کیسے طے کیا جائے کہ یہ تخلیق ناول ہے یا ناولا ؟ خُوآن رُلفو الفاظ کی کفایت اورمختصر لکھنے پریقین رکھتے تھے لیکن مختصر لکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی تحریر بالکل سادہ اورگہرائی سے عاری ہے۔ ان کے ہاں لفظ ایک پورے جملے کا نمائندہ ہے، پیرا گراف ایک مکمل باب کا قائم مقام ہے، اور متن اختصار کے باوجودانتہائی پیچیدہ، تہہ در تہہ، معنی کی دبیز پرتیں لیے ہوئے۔۔۔۔ یہی خوبیاں رُلفو کی تخلیق کو ایک مکمل ناول کادرجہ عطا کرتی ہیں۔ 

اس شاہ کار نے لاطینی امریکا میں ناول نگاری کی کایا پلٹ دی اوربے شمار اہم اور بڑے ادیبوں پر دیرپا اورانمٹ اثرات مرتب کیے۔ اس کی بے پناہ اثر پذیری کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہی ناول ’لاطینی امریکی بُوم‘ (بیسویں صدی کی چَھٹی اور ساتویں دہائی کی ایک انقلابی ادبی تحریک) کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس تحریک نے لاطینی امریکی ناول نگاروں کو عالمی سطح پر روشناس کرایا اور اس میں دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک نمایاں تھی۔ ناول میں رُلفو نے بیانیے کی جدید تکنیک استعمال کی اور فکشن نگاری کے روایتی خطی بیانیے کے بجائے فلیش بیک، وقت کا ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہونا، بکھرے ہوئے مکالموں اور مختلف زاویوں اور نقطہ ہائے نظر سے کہانی بیان کرنے کا جدید طریقہ استعمال کیا، جو بعد کے ’بُوم‘ مصنفین (گیبرئل گارشیا مارکیز، ماریو ورگس یُوسا، خولیو کورتاسار، کارلوس فوئنتیس ) کا خاصہ بنا۔

 

ایک شہر۔۔۔۔۔ جو زندہ نہیں

 

ناول کی کہانی نظر بظاہر سادہ ہے۔ خُوآن پریسیادو اپنی ماں ڈولورس پریسیادو کی موت کے بعد اس کی آخری خواہش پر اپنے باپ پیڈرو پارامو کی تلاش میں ’کومالا‘ پہنچتا ہے۔ لیکن ناول پڑھتے ہوئے جلد ہی محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ سفر کسی شہر یا بستی کی طرف نہیں بلکہ یادداشت کے ایک تاریک غار کی جانب ہے، جس کا رخ گہرائی کی جانب اترتا ہوا ہے۔

یوں کہنے کو ’کومالا‘ ایک شہر ہے، مگرکیا اسے صرف ’ایک شہر‘ کہہ دینا درست ہے؟ ڈولورس کے لیے یادداشت میں بسا شہر ہے، خُوآن پریسیادو اور سوسانا سان خُوآن دونوں کے لیے ایک زخم کا ہم معنی ہے۔ جبکہ ناول کے جُملہ کرداروں کے لیے ایک اجتماعی پچھتاوا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، رفتہ رفتہ کھلتا ہے کہ یہ کوئی عام لوگوں کی بستی نہیں، کم و بیش ہومر کے رزمیہ ’اوڈیسی‘ کے ’عالم ارواح‘ یا ’ہیدیز‘ کے مماثل ہے۔۔۔اعراف یا برزخ۔۔۔ 

 

سایوں کی آوازیں ۔۔۔ آوازوں کے سائے

 

 

 

ناول کے کرداروں کے ہمراہ اس کی گلیوں میں چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر دیوار کے پیچھے کوئی ادھوری کہانی دفن ہو۔ لوگ موجود ہیں اور چلتے پھرتے، بولتے دکھائی دیتے ہیں تاہم قاری کو بہت دیر تک معلوم نہیں ہوپاتا کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔ یہی نہیں ایک آواز کو دوسری آواز سے الگ کرنا اور کرداروں کی شناخت بھی اچھا خاصا ذہنی مشقت کا کام ہے۔

آوازیں آتی ہیں مگر ان کا منبع دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔سائے،خواب اور سراب۔۔۔ پڑھنے والا ’کومالا‘ نامی توہم کے کارخانے میں گھومتے پھرتے ہوئے چیزوں کی اصل جاننے کی کوشش میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہےکہ کیا ۔۔۔

 ؏   یاں وہی ہے جو اعتبار کیا ؟

رفتہ رفتہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ کسی عام بستی میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہے جنہیں موت بھی ختم یا خاموش  نہیں کر سکی۔ یہ جگہ ایک انتظار گاہ یا پھر برزخ یا اعراف کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ یہاں ایک ناختم ہونے والا خلا ہے جس میں روحیں مُقَیَّد ہیں اور اپنے پچھتاووں، احساسِ جُرم اور گناہوں کے ساتھ اُس وقت تک رہنے پر مجبور ہیں جب تک ان کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ رُلفو نے کیتھولک عقائد اور قدیم ایزٹیک روایات کو کمال مہارت سے فکشن کا حصہ بنایا ہے۔

 

وقت ۔۔۔۔ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تصویر

 

روایتی ناولوں میں وقت عموماً ایک واضح ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتا ہے: ابتدا، وسط اور اختتام۔ لیکن اس غیر روایتی ناول میں وقت اس خطی ترتیب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہاں وقت شکستہ ہے، بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں سامنے آتا ہے، اور ہر ٹکڑا کسی دوسرے منظر، کسی اور زمانے یا کسی اور آواز کی طرف لے جاتا ہے۔ ماضی اور حال اس طرح ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں کہ ان کی سرحدیں دُھندلا جاتی ہیں۔

مُردے، زندوں سے گفتگو کرتے ہیں، یادیں واقعات سے زیادہ حقیقی محسوس ہوتی ہیں، اور وقت و مقام دونوں ایک خواب ناک ابہام میں لپٹے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اور طلسم کی حدیں ایک دوسرے سے ملنے لگتی ہیں۔ بعض اوقات حقیقت پر جادو کا گمان ہوتا ہے اور کبھی جادو خود حقیقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

رُلفو کا کمال یہ ہے کہ وہ ان غیر معمولی واقعات کو خالص سادگی اورمکمل بے نیازی سے بیان کرتے ہیں، گویا دنیا کا فطری نظام ہی یہی ہے اور ازل سے واقعات یونہی وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں۔ وہ قاری کو نہ کوئی وضاحت دیتے ہیں، نہ کسی غیر معمولی واقعےسے پہلےکوئی اشارہ دیتے ہیں، بلکہ اُسے اِسی کائنات کے اصولوں کے ساتھ  جینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

 

یادداشت کے تابع وقت

 

ناول نگار کی فنی مہارت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ وقت کو گھڑی کے تابع نہیں رکھتے بلکہ انسانی یادداشت کے تابع کر دیتے ہیں۔ یادداشت کبھی سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی؛ وہ اچانک بند دروازے کھولتی ہے، گزرے ہوئے لمحوں کو حال میں لے آتی ہے اور پرانے زخموں کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔ ناول کی پوری دنیا اِسی یادداشتی منطق پر قائم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جادوئی حقیقت نگاری کو جس پختگی اور فنی اعتماد کے ساتھ مصنف نے برتا، وہ قابلِ تقلید ٹھہری اور بعدازاں لاطینی امریکی فکشن کی عالمی شناخت بن گئی۔

 

پیڈرو پارامو ۔۔۔ طاقت کا ویران چہرہ

 

اگر اِس ناول (پیڈرو پارامو)کو صرف ایک سفّاک جاگیردار کی کہانی سمجھا جائے تو شاید اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ 

 نام میں پوشیدہ معنی

 

پہلے ناول(پیڈرو پارامو) اور مرکزی کردار کے نام کے حوالے سے بات ہو جائے۔ ہسپانوی زبان کے ان الفاظ کا مفہوم نہ صرف ناول کی کہانی اور فضا کے بارے میں اطلاع دیتا ہے بلکہ مرکزی کردار ۔۔۔جسے ہم اسی نام سے جانتے ہیں۔۔۔ اس کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

’پیڈرو‘ کا مفہوم ہے۔۔۔ چٹان یا پتھر جبکہ ’پارامو‘ کا مطلب ہے۔۔ بنجر میدان۔۔ دونوں الفاظ بحیثیت مجموعی ’پتھریلی بنجر زمین یا ویران علاقہ‘ کے ہم معنی ہیں۔ یہ نام ناول کے مرکزی کردار کی شخصیت کا مکمل آئینہ دار ہے جو پتھر کی طرح سخت اور غیر لچک دار ہے۔ اپنی بے لوچ شخصیت اور سخت گیری و مطلق العنانی کے سبب اپنی بستی اور اس میں بسنے والوں کو روحانی اور جذباتی طور پر ویرانی اور بنجر پن سے دوچار کردیتا ہے۔

 

طاقت اور محرومی کا المیہ

 

ڈون پیڈرو  طاقت کا نمائندہ ہے۔ زمین، دولت، اثر و رسوخ اور خوف کا ہتھیار—سب اس کے پاس ہیں اور منتقم المزاج ہونا اس پہ مستزاد۔ اس کی مرضی علاقے بھرکی تقدیر بن جاتی ہے، وہ اپنی طاقت اور اس کے بے دریغ، سفّاکانہ استعمال سے بخوبی واقف ہے اور پدرسری نظام میں یہ بات کوئی عجوبہ نہیں۔

لیکن یہاں اصل کمال اس سفّاک اور بے رحم کردار کی وحشیانہ طاقت کو فتح کی صورت میں نہیں بلکہ زوال کی صورت میں دکھانا ہے جو بظاہر دوسروں کو شکست دیتے دیتے انجام کار اپنی ہی خواہشات سے ہار جاتا ہے۔ اس کے پاس سب کچھ ہے، سوائےایک دیرینہ خواہش کی تکمیل کے۔

اپنی تمام تر طاقت، مرتبے اور رسوخ کے باوصف وہ آخر کار محروم تمنا رہ جاتا ہے۔ یہ انسانی المیے کی سب سے قدیم شکل ہے، رُلفو نے اسی قدیم المیے کو بیانیے اور تیکنیک کی بھرپُور مہارت بروئے کار لاتے ہوئے پیش کیا ہے۔

 

 ناول کا سب سے پُراَسرار سایہ ۔۔۔ سوسانا سان خُوآن

 

داخلی آزادی کی علامت

 

سوسانا سان خُوآن ناول کے اہم ترین کرداروں میں شمار ہوتی ہے اگرچہ اس کی موجودگی کسی خواب یا سائے جیسی ہے، موجود ہوتے ہوئے بھی وہ پوری طرح گرفت میں نہیں آتی۔ اس کی گفتگو، اس کی یادیں اور ذہنی کیفیت اسے دوسرے کرداروں سے الگ کر دیتی ہے۔ اُسے ڈون پیڈرو کی زندگی میں ایک منفرد اور انتہائی اہم حیثیت حاصل ہے اور یہ سوسانا ہی ہے جو اپنے طرزِ عمل سے اُس کی طاقت کے لیے چیلنج بن جاتی ہے ۔۔۔

محبت، یادداشت اور مزاحمت

 

سوسانا مادی طاقت اور سماجی جبر کے مقابلے میں داخلی آزادی اور انفرادی شعور کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اگرچہ دوسرے کردار اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس کی باطنی دنیا اپنی خودمختاری برقرار رکھتی ہے۔ اس کی پیچیدہ ذہنی کیفیت اور یادوں میں پناہ لینا محض ذاتی المیہ نہیں بلکہ اس معاشرے کے خلاف ایک خاموش ردِعمل بھی محسوس ہوتا ہے جس میں وہ زندہ ہے۔

وہ مذہبی اور معاشرتی توقعات سے ہٹ کر اپنے فیصلے کرتی ہے، جس سے اس کے کردار کی انفرادیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔ ناول میں اس کی موجودگی محض ایک شخصی کہانی تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ محبت، یادداشت، تنہائی اور مزاحمت جیسے بڑے موضوعات کوقطعاََ غیرروایتی اندازمیں معنویت بخشتی ہے۔ یہاں ایک یاد رکھے جانے والا نکتہ یہ ہے کہ ’کومالا‘ کی تقدیر بھی سوسانا سے جڑی ہوئی ہے۔ 

موت بطور گونج

 

فکشن کے قاری کی حیثیت سے آپ نےدیکھا ہو گا کہ بہت سے ناول موت پر ختم ہوتے ہیں۔ دل چسپ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس میکسیکن شاہ کارکا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں اکثر کہانیوں کا اختتام ہوتا ہے۔ اگر نقاد ’کومالا‘ کو بھوتوں کی بستی، مُردوں کا شہر یا قبرستان سے تشبیہہ دیتے ہیں تو بجا کہ اس شہر میں موت ہی کا راج ہے۔

مرنے والے اپنے گناہوں، غلط کاریوں اور جرائم کے بوجھ تلے دبی روحیں لیے گلی کوچوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔ ناول کو ’برزخ‘ یا ’اعراف‘ قرار دینے کی وجہ بھی یہی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں مرنے والے رخصت ہو جانے کے بجائے یہیں رہ جاتے ہیں اور مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

 

یادداشت کی حقیقت یا جادوئی حقیقت نگاری؟

 

رُلفو کی تخلیق کا شمار جادوئی حقیقت نگاری کے اہم متون میں کیا جاتا ہے، مگر اس درجہ بندی سے اس کی معنوی وسعت مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔ ناول کی اصل قوت محض غیر معمولی واقعات یا ماورائی فضا میں نہیں، بلکہ یادداشت کی اس تہہ دار ساخت میں ہے جو حقیقت کو مسلسل دوبارہ تشکیل دیتی رہتی ہے۔

’کومالا‘ میں بھٹکتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک قصبہ نہیں بلکہ اجتماعی تجربے کی علامت ہے— ایسا مقام جہاں وقت ایک لکیر کی صورت میں آگے نہیں بڑھتا بلکہ بکھر کر، ٹکڑوں میں منقسم ہو کر اپنے ہی اِردگرد گردش کرتا رہتا ہے۔ یہاں آوازیں مٹنے کے بجائے ماضی کی صورت میں مسلسل موجود رہتی ہیں۔ 

 

تاریخ، اجتماعی صدمہ اور کومالا

 

یہ ناول عموماً جادوئی حقیقت نگاری کے تناظر میں پڑھا جاتا ہے ، لیکن نقادوں کی ایک بڑی تعداد اس کی اہمیت کو یادداشت، تاریخ اور اجتماعی صدمے کی نمائندگی میں دیکھتی ہے۔ اس کی اوّلین اشاعت 1955ء میں ہوئی، جب میکسیکو 1910ء کے میکسیکن انقلاب اور 1926ء تا 1929ء کی کریستیرو جنگ کے سماجی اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلا تھا۔ خُوآن رُلفو نے ان تاریخی زخموں کو براہِ راست روایتی دستاویزی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ایک ویران اور نیم مردہ فضا —’کومالا‘— میں منتقل کر دیا، جہاں زندہ اور مردہ، ماضی اور حال ایک ہی بیانیہ سطح پر آ کر مدغم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کے بھٹکتے ہوئے کردار محض ماورائی مظاہر نہیں بلکہ تاریخ کے وہ نقوش محسوس ہوتے ہیں جو اجتماعی یادداشت سے مٹنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ناول کو یادداشت، فراموشی اور تاریخی بقا کے بیانیے کے طور پر پڑھنا زیادہ بامعنی معلوم ہوتا ہے۔

 

 ‘‘ناول کا’’شریک مُصنف

 

بظاہر یہ ایک مختصر ناول(پیڈرو پارامو) ہے جسے ایک ہی نشست میں پڑھ لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ ان کتابوں میں سے نہیں جنہیں ایک بار پڑھ کر بند کر دیا جائے اور شیلف کی زینت بنا دیا جائے۔ اس کے تہہ در تہہ متن، بکھری ہوئی آوازوں اور پوشیدہ معنوی رشتوں تک رسائی کے لیے اسے دوبارہ، سہ بارہ بلکہ بارہا پڑھنا پڑتا ہے۔ ہر بار کچھ نئے اَسرار کُھلتے ہیں، کسی نئی جہت کا انکشاف ہوتا ہے، کوئی اُلجھا ہوا دھاگا سُلجھتا ہے اور کسی گُم شدہ کڑی کا سُراغ ملتا ہے۔ رُلفو نے جتنا لکھا ہے، جتنا بیان کیا ہے اس سے کہیں زیادہ اَن کہا اور اَن لکھا چھوڑ دیا ہے۔ گُم شدہ کڑیاں ڈھونڈنا اور کہانی میں جہاں تہاں موجود خالی جگہوں کو پُر کرنا قاری کے حصے کا کام ہے۔ خُوآن رُلفو نے قاری کو ’شریک مُصنف‘ بنا دیا ہے۔ 

 

کتاب بند کرنے کے بعد

 

یہ مختصر مگر پیچیدہ ناول، کتاب ختم ہونے پر ختم نہیں ہو جاتا، دیر تک قاری کے ہم قدم چلتا رہتا ہے۔ اس کے کرداروں کے بے چین پھرتے سائے اور سرسراتی ہوئی سرگوشیاں، ’کومالا‘ کی تپتی ہوئی فضا کی گھٹن اور ویرانی۔۔۔ یہ سب اتنا گہرا اور دیرپا اثر رکھتے ہیں کہ انہیں بآسانی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی رُلفو کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اُس نے محض ایک قصہ نہیں سنایا, بلکہ ایک ایسی فضا تخلیق کردی ہےجس میں کتاب بند ہونے کے بعد بھی سوچ کے دروازوں پر پیہم دستکوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 

پیڈرو

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *