ایک پرسکون ٹھکانہ اور زندگی کی بیتیاں
اتوار کا پیغام: ایک خوشگوار شروعات
اچھا سا ناشتہ بناو۔ پھر گھر کی صفائ کرو۔ مالکن کی طرح۔ ماسی کی طرح نہیں۔ نہ چوروں کی طرح! آج کوئ کتاب کھول کے دیکھو۔ اس میں ادیب نے کیا لکھا ہے۔ کوئ بزرگ اگر گھر میں ہے۔ تو ذرا انکا دل بہلاو ! انکے ساتھ بیٹھو لطیفے سناو۔ تیار کرکے کہیں گھمانے یا ملانے لیجاو۔
ارے بیبیوں کچھ عاقبت سنوار لو۔ بن ٹھن کے سنگھار کرکے میاں کو لبھاو آج اتوار ہے مسکراو گنگناو۔ محلے والوں کو کچھ اچھا پکا کرکھلاو۔ پاکستان کے لئے اچھا کرو اچھا سوچو۔ اس لئے کہ !! موج بڑھے یا آندھی آئے۔ دیا جلائے رکھنا ہے۔ گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے۔ گھر تو آخر اپنا ہے۔ پاکستان زندہ باد ! دعایئں اور ڈھیروں دعایئں ! اہل وطن نیا سال مبارک ہو سب کو!
ایک پرسکون ٹھکانہ اور سب کا گھر اور زندگی کی بیتیاں
میری بچیوں، بھانجیوں، بھتیجیوں اور قاری بیٹیوں کی فرمائش ہے کہ میں زندگی کی بیتیاں جاری رکھوں کیونکہ جو جیسے، تیسے،جب اور جہاں میں نے زندگی بتائ ہے وہ ذرا ہٹ کے ہے۔ نہ وہ خاص ہے نہ ہی وہ عام پہلے ذکر کرچکی ہوں کہ ہمارا یہ کراچی والا گھر کوئ عام گھر نہیں تھا بلکہ جہاں بھی ہم رہے وہ سب کا گھر ہی ہوتا تھا۔
اس گھر کو تو کچھ لوگ سرائے کہتے تھے کچھ اسکو لنگر خانہ کہتے تو کچھ آستانہ بھی کہتے۔ مطلب یہ کہ نہ کوئ رکاوٹ تھی، نہ کسی کو دعوت نہ تبلیغ نہ بے راہ روی بس وہ سب کا ایک پرسکون ٹھکانہ
ہم امیر تو دور دور تک نہیں تھے مگر دل ہر ایک کا مسکن تھا۔ جو کچھ بھی ہوتا سب خوش ہوکر کھاتے۔ کوئ نخرہ، بناوٹ اعتراض نہ ہوتا۔ کچھ تو ایسے بھی تھے جو اپنے کاموں سے تھک جاتے وہ دس بجے رات کو بھی آجاتے کہ چائے پلاتدیں بہت تھکن ہوگئ ہے۔ دو چار مرتبہ کے بعد انکو عادت ہوگئ۔ ایسا نہ ہوا کہ چائے کے ساتھ کچھ لیتے بھی آجاتے۔ مگر نہ انکو احاس تھا نہ ہمیں شکوہ۔ میری چھوٹی بیٹی سب کی تواضع کرتی۔ چاہے اسکا اگلے دن کتنا ہی مشکل پیپر کیوں نہ ہو۔ وہ مشین کی طرح سب کام بھی کرتی اور پڑھائی بھی۔
سادگی اور بے تکلفی کے قصے اور زندگی کی بیتیاں
ایک دفعہ رات کو دستر خواں لگا ہوا تھا۔ دوپہر کا قیمہ بچا تھا اور تازی مونگ کی دال تھی۔ اتفاق سے محلے کی کچھ خواتین بھی آگیئں تو انکو بھی دستر خوان پر مدعو کرلیا۔ A657 Block H تو سب کا گھر تھا۔ ایک فیملی بہت ہی بے تکلف تھی ۔ اتفاق سے وہ بھی اسی وقت آگئے تھے۔
بلا تکلف وہ بھی دستر خواں پر بیٹھ گیئں اور بلا تکلف کسی کا انتظار کئے بغیر اور پوچھے بغیر قیمہ اپنی پلیٹ میں نکال کر روکھا کھانے لگیں۔ قیمہ تو دوپہر کا بچا ہوا تھا۔ سب بہت سلیقے سے کھا رہے تھے تا کہ سب کو تھوڑا تھوڑا مل جائے ۔ ان خاتون کی بے حسی دیکھ کر سب خاموش تھے۔
کس کی مجال تھی کہ کچھ کہتا۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ وہ بولیں کہ یہ دال تو میں صرف ثابت کال مرچ سے بھگارتی ہوں۔ میں پیاز کے تڑکے والی دال تو نہیں کھا سکتی۔ میری بیٹی نے ان کے لئے دوبارہ دال پکائ کالی مرچ سے بھگارا تو انہوں نے کھایا۔
زندگی کی بیتیاں
ایک دفعہ رات کو ہمیں ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ میاں بیوی کھانا کھا رہے تھے۔ میاں نے اصرار کرکے مجھے اور میرے بیٹے کو بھی دسترخوان میں شامل کرلیا۔ خاتون نے ہم ماں بیٹے سے پوچھا کتنی روٹی کھایئں گے۔ ہم نے ایک ایک روٹی بتادی۔ چپاتی تو ہوتی ہی پتلی ہے۔
میرے بیٹے نے دوسری چپاتی لینے کے ہاتھ بڑھایا تو وہ بولیں کہ تم نے تو ایک بولی تھی اب دوسری بھی لے رہے ہو۔ بیٹے نے ایکدم ہاتھ کھینچ لیا۔ کھانے کے بعد کوک کی ایک بوتل مجھے دی اور کہا آپ دونوں آدھی آدھی پی لیں۔ میں نے بیٹے کو دے دی۔
گھر آکر ہم خوب ہنسے انکی سادگی پر۔ اب بھی اکثر انکی ایسی کئ باتیں یاد آجاتی ہیں تو بےساختہ ہنسی آجاتی ہے۔ کتنے سچے پیارے صاف گو لوگ ہوتے ہیں۔ جو دل میں وہ زبان پر۔ کوئ لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ زمانہ ہوگیا ملاقات نہیں۔ نا معلوم کہاں ہیں کیسے ہیں وہ سب۔ دعا ہے کہ جہاں بھی ہوں خوش ہوں۔ آمین
امریکہ کا سفر: ایک یادگار تجربہ اور زندگی کی بیتیاں
Aالسلام علیکم میرے پیاروں ! ابھی ہم
۔657 سے گلستان جوہر اپنے فلیٹ میں شفٹ نہیں ہوے تھے۔ بلکہ ابھی تو بلاک ایچ کی مزید کہانیاں باقی ہیں۔ سعدیہ اور بلال کی شادی ہوچکی تھی۔ میری بھابی، بھتیجوں بھتیجیوں کی مجھ سے محبت بہت گہری ہے الحمدللہ۔ وہ سب امریکہ میں ہیں۔ مجھے بہت بلاتے مگر ذمہ داریاں اور وسائل کی کمی کی وجہ سے جا نہیں پائ۔
امریکہ جانے کی خواہش اور سفر کی تیاری
نادیہ کو اندازہ تھا کہ مجھے کتنی خواہش ہے وہاں جانے اور ان سب سے ملنے کی جن کے ساتھ میں بچپن سے رہی ہوں۔ پھر میرے بڑے بھتیجے نے میرے آنے جانے کا انتظام کردیا۔ ویزہ الحمدللہ حاصل کرنے میں مجھے کبھی انکار نہیں ہوا اور نہ میرے بچوں کو انکار ہوا۔ نادیہ نے حوصلہ دیا کہ وہ اور علی بھائ بھابی کے ساتھ رہ لیں گے میں اطمینان سے جاوں۔ بس پھر تیاری پکڑی اور امریکہ کا سفر اختیار کیا۔
جہاز کا دلچسپ سفر اور سفید فام ہمسفر
ہاں جہاز میں سیٹ درمیان والی ملی۔ دایئں بایئں دو سفید فام مرد تھے ڈر تو ہمیں علاوہ اپنے اللہ کے کسی سے نہیں لگتا۔ لہذا اپنی سست کاہل طبیعت کو بروئے کار لاتے ہوے بایئں طرف والے گورے سے کہا کہ میری جیکٹ اوپر رکھ دیں۔ اتنی اونچائ پر خود رکھ نہیں سکتی تھے پھر انکو سیٹ سے ہٹانا بھی معیوب تھا۔
جیکٹ پہلے کیوں نہ اتاری اچھا سوال ہے مگر یاد کس کو تھا بھئ۔ کوئ یاد دلانے والا بھی تو ضروری تھا نا۔ یاد دلاتا کون؟ بچے پیچھے رہ گئے شوہر صاحب بھی نا ختم ہونے والے سفر پر گامزن تھے تو اسی سفید فام سے ہی مدد لینی تھی۔ ہوسٹس ہماری شکل دیکھ کر کونسا آجاتی بھلا۔ چلو جی جیکٹ تو گئ اوپر۔ اب خالی بیٹھی کیا کروں۔
دونوں نہ تو ہم زبان نہ ہم مزاج۔ ان سے صرف کام ہی لیا جاسکتا تھا آنکھ مٹکا نہیں ہوسکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر اس فرمانبردار سے کہا اوپر سے جیکٹ اتار دے۔ بلا چوں چرا وہ حکم بجا لایا۔جیب سے چشمہ نکالا اور پنجسورہ ہینڈ بیگ سے نکالا اور پڑھنے لگی۔پھر اس۔ سے کہا جیکٹ کو دوبارہ جہاز کے اوپر والے بکسے میں رکھ دے۔
اگر وہ ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا۔ جہاز سے چھلانگ لگانے کی ہمت کہاں سے لاتا۔ یہ اسکا برا دن تھا جو اسکو ہمسفر بھی ملی تو میں ملی۔ جہاز کی انتظامیہ کو اپنی زبان میں فہش ترین گالیاں دیتا ہوگا۔ سانوں کی ۔ سانوں تے آرام سی ۔ دایئں طرف والا ہمسفر خوش قسمت تھا۔
کھڑکی سے باہر ہی دیکھتا رہا حالانکہ بلندی پر تو کچھ بھی نظر نہیں آتا مگر اسنے سوچا ہوگا مجھے دیکھنے سے بہتر ہے آسماں دیکھ لے۔ گھر جاکر میرا گمان ہے کہ اسکی گردن ایک طرف ہی اکڑ گئ ہوگی۔ کافی عرصہ غریب نے فزیو تھراپی کرائ ہوگی۔ جہاز میں میرا فرمابردار ہم سفر بھی سائکٹریسٹ کے پاس اعصاب نارمل کراتا رہا ہوگا کہ سفید فام ہوتے ہوے سیاہ فام کے حکم بجا لاتا رہا۔
امریکہ پہنچنے کے بعد پہلا تاثر
امریکہ کی سر زمین پر قدم پڑے تو گھنٹوں بیٹھے رہنے سے پاوں جلال سے سوج گئے تھےانگلیاں اٹھائے نہ اٹھیں۔ وہاں نہ کوئ کسی کو دیکھتا ہے نہ مدد کرتا ہے۔ قیامت کا سماں۔بس اے شیخ اپنی اپنی۔ دیکھ! بہت مشکل سے سامان بیلٹ سے اتارا ٹرالی۔ پرخود رکھا۔ اس مسافر کی بد دعا لگی ہوگی کہ بیٹا بہت شوق تھا امریکہ آنے نا تو اب بھگتو یہاں کوئ نہیں آئے گا۔ ائر پورٹ سے باہر نکلنے کی طویل راہ داری۔ رینگتے خود کو گھسیٹتے، کوستے باہر نکلے تو بھابی بھتیجے انکی بیویاں ملیں۔ میری سب تھکن کوفت خوشی میں بدل گئ۔
وسیع سڑکیں، خاموش ماحول اور نیا احساس
وسیع صاف ستھری۔ زمیں۔ سڑکیں ایسی کہ بتانا بھی نہیں آرہا۔ نا ہارن کی پی پاں نا دھواں نا ہل چل ۔ نا پیچھے والی گاڑی ہم سے آگے نکلنے کی کوشش میں ۔ سب سکوں سے اپنے رستے پر رواں دواں۔ گاڑی میں مجھے آگے بٹھایا۔ یا اللہ میری اتنی عزت! سبحان اللہ! بڑا سا گھر سلیقے سے سجا ہوا ۔
بڑے گھر، گیراج اور پہلی حیرت
گھر کےباہر احاتے میں ایک اور گھر۔ سوچا چھٹکارا پن لگتا ہے ایکدم کریدنا۔ اس لئے خاموش رہی۔ بھتیجے کا آٹھ ماہ کا صحتمند پیارا بچہ فائز ۔ امریکہ میں میرے بھائ کے تین بیٹے ایک بڑی نند کا بیٹا۔ اپنی فیملی کے ساتھ ۔ تھکن دور ہوئ تو ذرا گھر کے باہر نکلے۔ میں نے عامر سے پوچھا یہ سامنے کس کا گھر ہے۔ بولا یہ گھر نہیں گاڑی کا گیراج ہے۔ اتنا بڑا گیراج۔ ایک فیملی آرام سے رہ سکتی ہے۔




