استاد کا احترام اور تربیت: محبت، عزت، ادب اور تہذیب کا ایک یادگار واقعہ
برسوں بعد طالبہ کا پیغام اور ماضی کی یادیں
برسوں بعد ایک معصوم سی لڑکی کا میسنجر پر پیغام ملا کہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ اس عمر میں کوی جوان ملنے کی خواہش کرے اور وہ بھی وہ طالبہ جس کو اس کے بچپن میں دیکھا تھا۔ استاد کے سامنے تو ہزاروں بچے ہوتے ہیں اسکول میں۔ اس وقت استاد وہ بھی اگر انتظامیہ میں ہو تو اسکو سب بچے یونی فارم میں بالکل ایک جیسے لگتے ہیں۔
انتظامی مصروفیات اور بے نیازی کے دلچسپ قصے
میں تو خیر ہوں ہی بے نیاز۔ مجھے تو اپنی بچیاں بھی پہچان میں نہیں آتی تھیں۔ وہ میرے آفس میں آتیں بریک میں تو میں پوچھتی جی بیٹا بتائیں کیا بات ہے۔ تو وہ کہتیں” امی کچھ پیسے دے دیں کچھ لینا ہے” چھٹی کے بعد میری چھوٹی بیٹی پوچھتی،
” میڈم اب ہم آپکو امی کہہ لیں”
خیر یہ الگ بات بیچ میں آگئ۔ مجھے تو بچے بہت ہی پیارے لگتے ہیں۔ میں نے اپنا ایڈریس دیا۔ شام چار بجے کا وقت طے ہوا۔
طالبہ کی آمد اور اخلاق و انکسار کا مظہر
ٹھیک چار بجے گھنٹی بجی اور وہ بچی میرے سامنے تھی جو اب ماشاءاللہ خود ماں بن چکی ہے اور بہت اہم عہدے پر فائز ہے۔ اسکی آنکھوں کی چمک چہرے پر پھیلی معصوم مسکراہٹ تو آنکھوں سے اتر کر دل میں بس گئ! اسکا ادب، انداز گفتگو اور نشست و برخواست میں تہذیب ادب اخلاق اور انکسار اسکے خاندان کے علم و دانش، اخلاص اور استاد کا احترام اور تربیت کا مظہر تھا۔ وہ کرسی پر سیدھی ہوکر بھی نہیں بیٹھ رہی تھی۔ بار بار جب کہا کہ بیٹی کمر تھک جائے گی سیدھی ہو کر بیٹھو تو بولی،
” استاد کے سامنے کیسے کرسی پر پیٹھ لگا کر بیٹھ سکتی ہوں”
خاندانی پس منظر اور عمدہ گفتگو کا انداز
اسکو کہتے خاندان کا پتہ دینا۔ گھر کی تربیت ، گفتگو کا انداز۔ کوئ یہ نہ سمجھے کہ میں خوشامد کر رہی ہوں یا مبالغہ۔ اس لئے بتا رہی ہوں کہ یہ روشن۔ مثال ہے۔ آج کی نسل پڑھے تو اسکو اور والدین کو معلوم ہو کہ تربیت کتنی اہم ہے اور کیا روشنی۔ چھوڑتی ہے۔
ہمدرد پبلک اسکول کے اساتذہ کی محفل اور باہمی روابط
یہ صرف میرے ساتھ اسکا رویہ ایسا نہیں تھا بلکہ میرے دولت کدہ میں تین اور ہمدرد پبلک اسکول کے اساتزہ موجود تھے۔ صبیحہ قیصر اسلام آباد سے آئ ہوی ہیں، تسنیم اور فریدہ یہیں کراچی میں ہی رہتی ہیں ہم سب نے ساتھ کام کیا ہے۔ چھوڑے ہوے زمانہ گزر چکا ہے مگر دل آج بھی جڑے ہوے ہیں۔ دکھ سکھ میں بند مٹھی کی طرح ایک اور مضبوط! الحمدللہ۔
کل کی شام بہت خوبصورت گزری۔ دل مسرور اور شاد ہوئے۔
حکیم سعید شہید کے لگائے ہوئے پودوں کے لیے دلی دعا
اللہ پاک حکیم سعید شہید کے ملائے ہوے سب اساتذہ اور طالب علموں جو اب خود شجر سایہ دار بن چکے ہیں انکو شاد و آباد رکھنا۔ آمین۔




