مکاتیب علامہ محمد اسد: ایک نومسلم دانشور کا نادر و قیمتی مجموعۂ مکاتیب
خطوط و مکاتیب کی علمی و تحقیقی اہمیت
خط یا خطوط و مکاتیب بظاہر تو ذاتی وسیلۂ اظہار ہوتے ہیں، لیکن یہی وسیلہ اگربطور ماخذ استعمال کیاجائے تو یہ معلومات ایک اہم ذریعہ بن جاتے ہیں اور تصنیف و تحقیق میں ایک ایسے ماخذ کی حیثیت بھی اختیار کرلیتے ہیں، جو استناد کے لحاظ سے تصنیف و تحقیق کو اعتبار بھی بخشتے ہیں، چنانچہ ہماری ہی علمی و تحقیقی دنیا میں خط یا مکتوب نویسی نے ہماری تصنیف وتحقیق کو ایک اعتبار بھی بخشاہے اور ہماری تاریخ کے متعدد موضوعات کو نمایاں اور مستند بھی بنایا ہے۔
پھر یہی مکتوب نویسی ایک انسان کو بھی استناد بخشتی ہے اور ہم اس کے مکاتیب کو ایک ماخذ بنا کر اس کی شخصیت، حیات و فکر اور زندگی اور اس کے متعلقات و ربط و رشتوں کو بآسانی اپنے مطالعے کا موضوع بنا کر اس شخص کے بارے میں ایک واضح رائے قایم کرسکتے ہیں، لہٰذا ہماری تاریخ کے متعدد ادوار اور افراد کے مطالعات کے لیے متعلقہ ادوار و افراد کے مکاتیب نے ہماری حد درجے مدد کی ہے اور بے پناہ قیمتی مآخذ کا کردار ادا کیا ہے۔
تحقیقی دستاویز کے طور پر ‘مکاتیب علامہ محمد اسد’ کا مقام
آج اس وقت ایک تازہ تر اوربہترین و منفرد مثال ‘مکاتیب علامہ محمد اسد‘ کی ہے جنھیں ایک ممتاز مصنف و محقق ڈاکٹر خالد ندیم نے محض ایک مجموعہ خطوط کے طور پر نہیں، بلکہ ایک وسیع تر اور بڑے منفرد مقصد سے مرتب کیا ہے
ترتیب و تحقیق کے بنیادی و مسلمہ اصول اختیار کیے ہیں، جن سے یہ مجموعہ یا ان کی یہ کوشش ایک استناد و حوالہ جاتی کوشش کے زمرے میں شامل ہوسکے اور یہ امتیاز بھی اسے حاصل ہوسکے کہ یہ خطوط جس شخص و اشخاص اور دور و عہد سے تعلق رکھتے ہیں ان کی ایک مستند و جامع تاریخ و تصنیف قرار پائیں اور اس کے موضوعات و مباحث ہماری معاشرت و تاریخ کے لیے معلومات بھی فراہم کریں۔
مجموعے کے مندرجات اور علامہ اسد کے روابط
یہ مجموعہ جن مکاتیب پر مشتمل ہے، وہ تمام مکاتیب معروف و ممتاز مفکر و دانشور اور اپنے وقت کے عالمِ اسلام کے نامور اسکالر علامہ محمد اسد(۱۹۰۰ء۔۱۹۹۲ء) کے لکھے ہوئے ہیں اور جو ان کے معاصرین اور دوست احباب کو لکھے گئےتھے۔ یہ مجموعہ نہایت اہم اس اعتبار سے ہے کہ بظاہر یہ ایسے مکاتیب پر مشتمل ہے، جو ذاتی حالات و احوال کو پیش کرتے ہیں اور ان میں اس دوران ان کے حال احوال اور مصروفیات کو بھی پیش کرتے ہیں
ساتھ ہی ان کے سفر و اسفار بھی ان سے معلوم ہوتے ہیں اور یہ بھی پتا چلتاہے کہ ان کے روابط اس سارے عرصے میں کن کن افراد سے رہے اور وہ کہاں کہاں آتے جاتے اور کن کن سے ملتے ملاتے رہے۔ ان ساری معلومات کے لیے بظاہر کسی مستقل تصنیف یا سوانح عمری کی ضرورت نہیں کہ ان کے موجودہ زیر ِنظر مکاتیب میں یہ سب معلومات منتشر اور جزوی صورت میں بھی موجود ہیں۔
ہندوستان کا سفر، علامہ اقبال سے قربت اور قیامِ پاکستان میں کردار
یہ دور، جس میں علامہ اپنی بھرپور زندگی گزار رہے تھے اور اپنے علمی وتصنیفی مقاصد کے تحت متعدد ممالک کے سفر و اسفار میں مصروف بھی تھے، ہندوستان بھی ان کی توجہ میں رہا اور وہ ہندوستان کے سفر اور یہاں قیام کے لیے بھی آمادہ رہے اور یہاں کے متعدد اسکالرز، علما و مجاہدین اوردانشوروں سے مستقل رابطے میں رہے اور ان کے زیر نظر مکاتیب بھی ان کے ان روابط و تعلقات کی خوب گواہی دے رہے ہیں اور ان کے باہمی روابط کے شاہد و گواہ بھی ہیں۔
اپنی چھبیس سال کی عمر میں انھوں نے اسلام قبول کیاتھا اور پھر اس وقت سے پانچ سال تک حجاز مقدس میں قیام کیا اور پھر وہاں سے ہندوستان چلے آئے اور علامہ اقبال سے قرب اختیار کر کے، بقول ڈاکٹر خالد ندیم، انھوں نے مجوزہ مسلم ریاست کے قیام کے لیے بھی کام کیا، جس کےنتیجے میں حکومت پاکستان نے انھیں بعض اہم متعلقہ ذمے دار مناصب پر فائز کیا، جنھیں علامہ نے بڑی خوش دلی سے قبول بھی کیا اور بحسن و خوبی سرانجام بھی دیا۔
اس طرح کی مصروفیات عمر کے آخر تک ان کے ساتھ رہیں اور وہ ان کی ادائیگی کے لیے متعدد ملکوں کے سفر اختیار کرتے رہے، لیکن اسی مسافرت کے دوران اسپین کے قیام کے دوران وہ رحلت پاگئے، چنانچہ وہاں غرناطہ ہی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
علامہ محمد اسد کی شہرہ آفاق تصانیف
ساری زندگی انھوں نے سفر و اسفار اور حد درجے مصروفیات میں گزاری، لیکن علمی وتصنیفی کام بھی منفرد انداز کے انجام دیتے رہے، جنھیں ان کے معاصرین قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں۔ ان کی درج ذیل تصانیف بالعموم بطور حوالہ تذکروں میں آتی ہیں:
(1)Sahi al Bukhari, (2) The Road to Mecca, (3) Islam at the Cross Road, (4) The Principles of State and Government in Islam, (5) The Message of the Quran.
ڈاکٹر خالد ندیم کا اسلوبِ نگارش اور علمی کاوش کا اعتراف
معنوی اور فکری لحاظ سے یہ ساری تصانیف نہایت اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں اور گہرے غور و فکر اور مطالعات کی وسعت کی مدد سے لکھی گئی ہیں۔ ڈاکٹر خالد ندیم نے انھیں مناسب اہمیت دی ہے اور مسلمانوں پر ان کے اثرات کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ان کی اس تصنیف کی زبان اور بیان ہر اعتبار سے بہت موزوں و مناسب اور پُر اثر ہے اور سلیس و سادہ زبان ایسی استعمال کی ہے کہ قاری اسے پڑھتے ہوئے کہیں کسی اکتاہٹ یا بیزارگی یا کسی طرح کی گنجلاہٹ محسوس نہیں کرتا اور جو کچھ موضوع اور بیان کا تقاضا ہے
ڈاکٹر خالد ندیم نے اسے عمدگی سے بیان کیا ہے کہ قاری سہولت و آسانی سے اور کسی رکاوٹ کے بغیر تحریر کے لبِ لباب تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر متن اور اس کے لوازمات کو اس سلیقے سے جگہ دی گئی ہے کہ ایک حسین سا تاثر ابھرتا ہے اور قاری ایک اچھے اور دل نشیں احساس سے گزرتے ہیں۔
ترتیب و تعلیق کا معیار اور علمی خلا کا خاتمہ
مَیں نےقبل ازیں ڈاکٹر خالد ندیم کی کوئی ایسی تصنیف شاید کبھی نہیں دیکھی ،پھر تصنیف بھی ایسی، جو ترجمہ ہو اور ترتیب و تعلیق کے عمل سے بھی گزری ہو۔ دیکھ کر خوش ہوں کہ موصوف نے اس زیر نظر تصنیف کو ایک بہت ہی معیاری اور پُر اثر صورت میں پیش کیا ہے کہ ان کی یہ کاوش ہمیشہ یاد گار رہے گی۔
پھر یہ بھی ان کا کمال ہے کہ اپنے موضوع کے لیے انھوں نے اپنے وقت کے ممتاز اور منفرد دانشور اور اسلامی فکر و تاریخ کے نامور ماہر کا انتخاب کیا اور ان کی فکر و دانش پر مشتمل ان کے افکار و خیالات کو انھوں نے اس طرح موضوع بنایا کہ حقیقتاً انھوں نے اس طرح ایک خلا کو بھی پُر کیا ہے، جس کی طرف معاصرین کی راے اس طرح متوجہ نہ ہوئی تھی، جس طرح ڈاکٹر خالد ندیم نے توجہ دی ہے اور اس کا بلاشبہ حق ادا کیا ہے۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں





