میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا

وکیل

ایک کامیاب مگر ناکام انسان کی کہانی

کچھ عرصہ قبل سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں ایک کامیاب وکیل کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ وہ اپنے شہر کے نہایت قابل، ذہین اور کامیاب وکیل سمجھے جاتے تھے۔ ان کی شہرت یہ تھی کہ قتلِ عمد کے مقدمات میں نہ صرف ملزم بلکہ بسا اوقات مجرم کو بھی اپنی قانونی مہارت، چالاکی اور غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے بری کروا دیتے تھے۔

اسی مہارت کی بنیاد پر وہ منہ مانگی فیس وصول کرتے اور ان کی گنتی شہر کے کامیاب ترین وکلاء میں ہوتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، دولت بڑھتی گئی، جائیدادیں بنتی گئیں، اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے جوان ہوگئی، اور ایک دن وہ خود بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر گھر کی چار دیواری تک محدود ہوگئے۔

جب دولت ساتھ نہ دے سکی

آخرکار ساری جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگئی۔ تمام بچے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جا بسے اور بوڑھے باپ کو ایک چھوٹے سے گھر میں ملازمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد کی کہانی نہ صرف دردناک بلکہ عبرت انگیز ہے۔

بڑھاپے اور بیماری نے انہیں اس حال تک پہنچا دیا کہ وہ خود چل کر بیت الخلا بھی نہ جا سکتے تھے۔ رات کے وقت ملازم سو جاتے اور بے بسی کے عالم میں ان کا بستر ہی ان کی مجبوری کا گواہ بن جاتا۔

اولاد سامنے تھی، مگر ساتھ نہ تھی

ایک دن ان کا ایک بیٹا اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ آیا۔ محلے والوں نے اصرار کیا کہ اپنے والد سے ضرور مل کر جائے۔ لیکن جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا، شدید بدبو کی وجہ سے فوراً باہر نکل آیا۔ وہ شاید چند لمحے بھی اس ماحول کو برداشت نہ کرسکا۔

محلے والوں نے بتایا کہ ہم نے آپ کے والد کو اطلاع دے دی ہے کہ آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آئے ہیں۔ چونکہ وکیل صاحب کی بینائی بھی تقریباً جا چکی تھی، اس لیے ایک ملازم کو اچھے کپڑے پہنا کر ان کا بیٹا بنا کر ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ ملازم کی بیوی کو بہو اور اس کے بچوں کو پوتے پوتیاں بنا دیا گیا۔

وکیل صاحب نے انہیں اپنا خاندان سمجھ کر سینے سے لگایا، ڈھیروں دعائیں دیں، خوشی سے ان کی آنکھیں بھیگ گئیں، جبکہ ان کا اصل بیٹا، بہو اور پوتے پوتیاں فاصلے سے یہ منظر دیکھتے رہے اور کچھ دیر بعد ہمیشہ کے لیے واپس چلے گئے۔

“انسان دوسروں کی کہانیوں سے کم اور اپنی غلطیوں سے زیادہ سیکھتا ہے، لیکن بعض اوقات اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا وقت بھی گزر چکا ہوتا ہے۔”

اصل سوال: غلطی کہاں ہوئی؟

اس واقعے کے بعد تحریر میں کئی نصیحتیں درج تھیں؛ مثلاً یہ کہ اولاد کی پرورش ہمیشہ حلال رزق سے کرنی چاہیے، ان کی تربیت پر صرف مال نہیں بلکہ وقت بھی خرچ کرنا چاہیے، اور انہیں صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باکردار انسان بنانا چاہیے۔

لیکن میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ایسی نصیحتیں ہم پر اثر کرتی ہیں؟ کیا ہم میں سے ہر شخص یہ نہیں سوچتا کہ “وکیل صاحب سے ضرور کوئی غلطی ہوئی ہوگی، لیکن میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔”
حقیقت یہ ہے کہ شاید وکیل صاحب کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ بھی یہی سمجھتے رہے کہ ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
ان کی دوسری غلطی یہ تھی کہ انہوں نے دولت تو بہت کمائی، لیکن اس کی پاکیزگی کی فکر نہ کی۔

اولاد کو اعلیٰ تعلیم تو دی، مگر تربیت نہ دے سکے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کی اپنی تربیت نہ ہوئی ہو، وہ دوسروں کی تربیت کی اہمیت بھی پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔
اگر آج ان سے پوچھا جائے کہ کیا وہ اپنی کمائی کے ہر ذریعے کو جائز سمجھتے ہیں تو شاید وہ خود بھی اپنی بعض کمائیوں پر ندامت کا اظہار کریں۔ مگر افسوس! اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

"اب پچھتائے کیا ہوتا، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔"

تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے

ہمارے معاشرے میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔ کتنے ہی صاحبِ اقتدار، صاحبِ حیثیت اور صاحبِ دولت لوگ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ ان کے جنازے بھی اپنوں کے انتظار میں رہے۔ انسان ساری زندگی لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کی کوشش کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ کے ہاں عزت کا معیار کچھ اور ہے۔

قرآن: جسے ہم نے سجا کر سب سے اونچی جگہ پر رکھ دیا ہے

قدرت کا ایک اٹل نظام ہے، اور اسی نظام کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ مجید عطا فرمایا۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس کتاب کو زندگی کی رہنمائی کے بجائے صرف احترام کی علامت بنا دیا ہے۔ اسے سب سے اونچی جگہ تو رکھ دیا، مگر اپنی زندگی میں سب سے نیچے کر دیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگوں نے قرآنِ کریم کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھا ہے؟ دنیاوی تعلیم کے لیے ہم ہزاروں بلکہ لاکھوں صفحات پڑھ لیتے ہیں، ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، لیکن وہ کتاب، جو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی ضامن ہے، اسے سمجھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔

کل قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہم سے یہ سوال کریں کہ دنیا بنانے کے لیے تو تمہارے پاس وقت تھا، لیکن اپنی آخرت بنانے کے لیے کیوں نہ تھا؟ تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟

ابھی بھی وقت ہے

جو لوگ آج زندہ ہیں، وہ خوش نصیب ہیں، کیونکہ ان کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں اور اپنی اولاد کو صرف آسائشیں نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، حلال رزق اور بہترین تربیت کا سرمایہ بھی دے جائیں۔

میرا مقصد کیا ہے؟

آخر میں ایک سوال۔
آپ کے خیال میں مجھے اس تحریر سے کیا امید وابستہ ہے؟
کیا یہ کہ اسے پڑھتے ہی لوگ اگلے دن سے اپنی زندگی بدل ڈالیں گے؟

ہرگز نہیں۔

ہدایت دینا میرا کام نہیں، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ میرا فرض صرف حق بات پہنچانا اور اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتے رہنا ہے۔

مجھے ہے حکمِ اذاں، لا إله إلا اللہ۔

اگر اس تحریر کے ذریعے ایک بھی انسان اپنے اعمال پر غور کرنے لگے، ایک بھی شخص حلال رزق اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی طرف متوجہ ہو جائے، تو میں سمجھوں گا کہ میری یہ کوشش رائیگاں نہیں گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، اپنی اولاد کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کرنے، اور قرآنِ کریم کو سمجھ کر اپنی زندگی کا دستور بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

وکیل