نوآبادیاتی ورثہ اور کراچی کے تاریخی پولیس مراکز

وکیل

کراچی کی تاریخ اور قدیم نوآبادیاتی ورثہ

کراچی کی تاریخ صرف اس کی بندرگاہوں، بازاروں اور تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ اس شہر کے قدیم پولیس اسٹیشنز بھی اس کے نوآبادیاتی ماضی کی زندہ یادگار ہیں۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ عمارتیں آج بھی موسمی تغیرات، وقت کی سختیوں اور شہری پھیلاؤ کے دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے اندر تاریخ کے ان گنت باب سموئے کھڑی ہیں۔ 17 فروری 1839 کو کراچی پر میروں کی چالیس سالہ حکمرانی کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم ہونے کے بعد کراچی برصغیر کا پہلا اور دنیا کا دوسرا شہر تھا جس کو ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں سلطنت برطانیہ میں شامل کیا گیا تھا۔

انگریزوں نے کراچی پر مکمل قبضے کے بعد تالپور دور کے گورنرز کو ہٹاکر فوری طور پر برطانوی فوج کے جنرل چارلس نیپئیر کو سندھ فتح کرنے کے صلے میں گورنر نامزد کیا تھا اور انھیں کراچی کا انتظامی کنٹرول سونپا تھا۔ چارلس نیپئیر چار سال تک سندھ کے گورنر رہے، 25 اگست 1847 کو ان کے مستعفی ہونے کے بعد سندھ کی ایک علیحدہ صوبہ کی حیثیت ختم کرکے اسے بمبئی میں ضم کردیا گیا تھا۔ چارلس نیپئیر کے بعد سندھ کا جو بھی سربراہ مقرر ہوا وہ گورنر کے بجائے کمشنر سندھ کہلایا۔

محکمہ پولیس کا قیام اور تاریخی پس منظر

سر چارلس نیپئیر نے اپنے دور اقتدار میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے 1847 میں یورپی طرز پر ازسرنو پولیس کا محکمہ قائم کیا اور لفظ پولیس کو متعارف کرایا تھا جو

P for Polite (نرم خو)، O for Obedient (فرما بردار)، L for Loyal (وفادار)، I for Intelligent (ذہین)، C for Courageous (باہمت) اور E for Efficient (مستعد)

کا مخفف ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق بنگال، مدراس اور ممبئی کے بعد سندھ پولیس برطانوی راج کی چوتھی پولیس سروس تھی، اسے رائل آئرش کانسٹیبلری کی طرز پر اس ریجن میں پہلی ماڈرن پولیس فورس کہا جاتا تھا۔

سندھ پولیس کا پہلا سربراہ کیپٹن براؤن تھا جو کیپٹن آف پولیس کہلاتا تھا، اس کے ماتحت تین لیفٹیننٹ آف پولیس تھے جو سندھ کے دیگر اضلاع میں تعینات کئے گئے۔ برطانوی دور میں پولیس کا ہیڈ کوارٹر میشام لی روڈ موجودہ گارڈن ہیڈ کوارٹر کراچی میں بنایا گیا تھا جو اب تک قائم ہے۔ 1847 میں سندھ پولیس کے کل عملے کی تعداد 2210 افراد پر مشتمل تھی، اس میں 838 گھڑ سوار سپاہی تھے۔ چارلس نیپئیر نے اونٹ سوار دستہ بھی ترتیب دیا تھا جو شاہراہوں پر تجارتی قافلوں کی نگرانی کیا کرتا تھا جبکہ دریائے سندھ میں پولیس کے کشتی دستے بھی گشت کرکے تجارتی جہازوں کی حفاظت کرتے تھے۔

کراچی کے پہلے پولیس چیف اور انتظامی تبدیلیاں

یکم مئی 1843ء کو ایڈورڈ چارلس مارسٹن کو کراچی کا پہلا پولیس چیف مقرر کیا گیا۔ کراچی پولیس کا محکمہ ان دنوں کراچی میونسپلٹی کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ کراچی پولیس اپنے قیام کے دنوں میں ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر اور کچھ کانسٹیبل پر مشتمل تھی، تاہم کراچی کی آبادی میں ہونے والے اضافے کے ساتھ ساتھ پولیس نفری میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ کراچی پولیس میں زیادہ تر تعداد ان دنوں بلوچ سپاہیوں کی تھی۔

(W. H. Havelock)سال 1867  میں کمشنر سندھ مسٹر ہیولاک 

 کے دور میں پولیس کے عملے کے فارسی القاب جو تالپور دور سے چلے آرہے تھے انھیں تبدیل کردیا گیا تھا۔ تالپور دور میں پولیس اہلکاروں کو صوبیدار، رسالدار، حوالدار، جمعدار، سپاہی اور سوار کے ناموں سے پکارا جاتا تھا جبکہ نئے انتظام کے تحت عہدیداروں کو انسپکٹر، سب انسپکٹر، چیف کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔ 1887-88 میں کراچی پولیس کے عملے کی تعداد 298 پر مشتمل تھی جس میں 1 انسپکٹر اور 9 کانسٹیبل یورپی باسی تھے۔ کراچی میں سب سے پہلا پولیس تھانہ بولٹن مارکیٹ کے سامنے اس جگہ پر قائم تھا جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پرانی عمارت واقع ہے۔

قیامِ پاکستان اور نئے انتظامی ڈھانچے کا ارتقا

پاکستان کے قیام کے دوران انڈین پولیس سروس کے سینئر آفیسر جے جے رائے انسپکٹر جنرل آف پولیس تعینات تھے جنھوں نے 28 فروری 1947 تک خدمات انجام دیں، ان کے بعد اے ڈبلیو پرائڈ کو انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا گیا جو قیام پاکستان کے وقت آئی جی پولیس تعینات تھے۔ اے ڈبلیو پرائڈ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ نو تشکیل شدہ مملکت پاکستان کے پہلے انسپکٹر جنرل آف پولیس ہیں۔

اے ڈبلیو پرائڈ 13 جولائی 1951 تک اس منصب پر فائز رہے، ان کے بعد پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے سینئر پولیس آفیسر محمد شریف خان کو تعینات کیا گیا۔ سندھ پولیس کی جانب سے قائد اعظم محمد علی جناح کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد انڈین پولیس سے تقریباً ایک درجن سے زائد سینئر پولیس افسران پاکستان چلے آئے تھے اور یہاں پاکستان پولیس سروس میں شامل ہوگئے تھے۔ 1955 میں محکمہ کو انتظامی بنیادوں پر ایسٹ پاکستان اور ویسٹ پاکستان دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، چونکہ سندھ اور کراچی ویسٹ پاکستان کا حصہ تھا، لہذا پاکستان پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے سینئر پولیس آفیسر محمد انور علی انسپکٹر جنرل ویسٹ پاکستان تعینات کئے گئے۔

ان کے بعد اے بی اعوان، محمد شریف خان، شاہ نظیر عالم، ایس ڈی قریشی، میاں بشیر احمد اور میاں انور آفریدی آئی جی ویسٹ پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، تاہم جولائی 1970 میں پولیس کے محکمے کو مزید چار صوبوں میں تقسیم کردیا گیا۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والوں میں پاکستان پولیس سروس کے خواجہ مسرور حسن، محمد یوسف اورکزئی، چوہدری فضل حق، میاں محمد اسلم حیات، حبیب الرحمن خان، ارباب ہدایت اللہ، دلشاد نجم الدین، بشیر احمد خان، سید سعادت علی شاہ، سید سلمان خالق، محمد نواز ملک، محمد عباس خان، خاور زمان، محسن منظور، جی معین الدین، قمر عالم، افضل علی شکری، محمد سعید خان، سید محب اسد، اسد جہانگیر خان، آفتاب نبی اور سید کمال شاہ شامل تھے۔

جیکسن پولیس اسٹیشن: کیماڑی کا تاریخی مرکز

اگرچہ ابتدائی پولیس چوکیوں کے آثار وقت کی گرد میں گم ہو چکے ہیں، تاہم آج کراچی کا قدیم ترین فعال پولیس اسٹیشن جیکسن پولیس اسٹیشن تصور کیا جاتا ہے، جو کیماڑی کے ساحلی علاقے میں واقع ہے۔ برطانوی حکومت نے اسے 1924ء میں بندرگاہ کے حساس اور مصروف ترین علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے تعمیر کیا تھا۔ اس تاریخی عمارت پر آج بھی اس دور کی یادگار تختی نصب ہے جو اس کے قیام کی گواہی دیتی ہے۔

جیکسن پولیس اسٹیشن کی عمارت کا اصل فن تعمیر برقرار ہے، 1,000 مربع گز پر پھیلی ہوئی عمارت میں پہلی منزل پر لکڑی کی الگ سیڑھیاں اور تاریخی سامان موجود ہے۔ موجودہ لاک اپ کیماڑی بندرگاہ سے اس کی حساس قربت کو دیکھتے ہوئے، اب اسمگلنگ، تیل کی چوری، غیر قانونی ماہی گیری، قتل، اور بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ سمیت اعلی درجے کے جرائم میں ملوث مشتبہ افراد کو رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں کراچی کی بندرگاہ نوآبادیاتی تجارت کا ایک اہم مرکز بن چکی تھی۔ بحیرۂ عرب کے ساحل پر واقع اس بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے شہری اور سمندری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہمیت میں اضافہ کر دیا تھا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر جیکسن پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا تاکہ ساحلی علاقوں، جہاز رانی اور تجارتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق سابقہ نیپئر مول روڈ پر واقع جیکسن پولیس اسٹیشن اور اس کے قریب موجود جیکسن مارکیٹ کا نام کراچی کی معروف شخصیات میں شمار ہونے والے دو جیکسن صاحبان میں سے کسی ایک کے نام پر رکھا گیا۔ ایک مسٹر جیکسن ڈی جے کالج کے پرنسپل تھے جبکہ دوسرے شہر کے معروف فارماسسٹ اور کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

گارڈن پولیس اسٹیشن اور نوآبادیاتی طرزِ تعمیر

اسی طرح گارڈن اسٹیشن بھی کراچی کی تاریخی عمارتوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گارڈن (گذر آباد) کے علاقے میں واقع یہ پولیس اسٹیشن 1926ء میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ تقریباً ایک صدی مکمل کرنے والی یہ عمارت آج بھی اپنی اصل شناخت اور تاریخی وقار کے ساتھ موجود ہے۔ اس کی دیواروں پر کندہ تاریخ اس کے نوآبادیاتی پس منظر اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ان تاریخی پولیس اسٹیشنز کی عمارتوں میں برطانوی فنِ تعمیر کی نمایاں جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بلند و بالا چھتیں، کشادہ برآمدے، محرابی دروازے، موٹی دیواریں اور سرخ پتھر کا استعمال ان عمارتوں کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اس طرزِ تعمیر کا مقصد صرف خوبصورتی نہیں تھا بلکہ کراچی کی شدید گرمی اور مرطوب موسم کے باوجود عمارتوں کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنا بھی تھا۔

آج جیکسن اور گارڈن پولیس اسٹیشن سمیت کراچی کی کئی تاریخی پولیس عمارتیں شہر کے نوآبادیاتی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ یہ عمارتیں محض پولیس دفاتر نہیں بلکہ کراچی کی ڈیڑھ صدی پر محیط انتظامی, سماجی اور شہری تاریخ کی خاموش گواہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تاریخی ورثوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف کراچی کی تعمیر و ترقی کی داستان سے آگاہ رہیں بلکہ اس شہر کے ادارہ جاتی ارتقا کو بھی سمجھ سکیں۔

مکاتیب