ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878 – 2026): حصہ اول
تعارف اور پس منظر
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن سندھ کا ایک اہم اور تاریخی ریلوے جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن ٹنڈو آدم شہر کے قلب میں واقع ہے۔ ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن برطانوی دورِ حکومت میں 1878 تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ ریلوے اسٹیشن پاکستان کی اہم ترین ریلوے لائن “کراچی-پشاور مین لائن (ML-1)” پر واقع ہے۔ 1988 تک اس ریلوے اسٹیشن کو جنکشن کی حیثیت حاصل تھی۔
تعمیر کے بنیادی مقاصد

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن اور اس روٹ (انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے) کی تعمیر کے پیچھے برطانوی راج کے تین بڑے بنیادی مقاصد تھے:
اسٹریٹجک اور دفاعی مقصد (Military Defense) برطانوی حکومت کو اس وقت شمال مغربی سرحدوں (موجودہ افغانستان اور روس کی طرف سے ممکنہ خطرہ) کی فکر تھی۔ ریلوے کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جنگ کی صورت میں فوجی دستوں، اسلحہ اور رسد کو کراچی کی بندرگاہ سے پنجاب اور پھر سرحدوں تک تیزی سے پہنچایا جا سکے کیا۔ ٹنڈو آدم اس راستے کا ایک اہم پڑاؤ تھا۔
تجارتی فائدہ اور خام مال کی منتقلی (Trade & Cotton Export) ٹنڈو آدم اور اس کے ارد گرد کا علاقہ زرعی پیدوار کے لیے زرخیز ہے، خاص طور پر کپاس (Cotton) کے لیے۔ انگریزوں کا مقصد یہاں کی اعلیٰ کوالٹی کی کپاس اور دیگر اناج کو سستی اور تیز رفتار ٹرانسپورٹ کے ذریعے کراچی پہنچانا تھا، جہاں سے اسے سمندری جہازوں کے ذریعے انگلینڈ (مانچستر اور لنکاشائر کی ملوں) بھیجا جا سکے۔
انتظامی کنٹرول (Administrative Control) صوبہ سندھ پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مواصلات کا بہتر ہونا ضروری تھا۔ ریلوے نے برطانوی افسران، ڈاک اور سرکاری احکامات کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے، اور دور دراز کے علاقوں کو مرکزی شہروں سے جوڑ کر “نوآبادیاتی نظم و ضبط” کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔
تاریخی پس منظر اور
ارتقا

مارچ 1855 میں لندن میں سندھ ریلوے کمپنی قائم ہوئی اور کام کا 1858 میں سر ہنری ایڈورڈ فریر (کمشنر آف سندھ) کے سروے سے ہوا۔
1861ء: کراچی سے کوٹری کے درمیان پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی۔
1870 میں کوٹری سے ٹنڈو آدم لائن بچھانے کا کام شروع ہوا۔
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن بنیادی طور پر 1878ء سے 1880ء کے درمیانی عرصے میں فعال ہوا، جب “انڈس ویلی سٹیٹ ریلوے” (Indus Valley State Railway) نے کوٹری اور روہڑی کے درمیان رابطہ مکمل کیا۔
اس وقت یہ اسٹیشن “نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے” (North Western State Railway) کا حصہ تھا۔
ریلوے کے لیے اراضی کا حصول

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کا کل رقبہ اور اس سے وابستہ زمین کافی وسیع ہے، کیونکہ یہ محض ایک اسٹیشن نہیں بلکہ ایک اہم جنکشن اور لاجسٹک مرکز ہے۔
مفت اراضی کا حصول (Land Grants) برطانوی ہند میں جب ریلوے لائنیں بچھائی جا رہی تھیں، تو حکومتِ برطانیہ نے ایک قانون بنایا، جس کے تحت ریلوے کمپنیوں کو مفت زمین فراہم کی گئی۔
سرکاری زمین: ٹنڈو آدم کے آس پاس جو زمینیں سرکاری ملکیت (Crown Land) تھیں، وہ ریلوے کو منتقل کر دی گئیں۔

مقامی زمینداروں کا تعاون: اس وقت کے مقامی زمینداروں نے بھی ریلوے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اپنی زمینوں کے بڑے حصے ریلوے کو تحفے میں یا بہت معمولی قیمت پر دے دیے تاکہ ان کے علاقے میں ترقی آئے۔
لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (Land Acquisition Act 1894) اگر زمین کسی نجی مالک کی ہوتی اور وہ دینے پر راضی نہ ہوتا، تو حکومت “لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894” کا استعمال کرتی تھی۔
اراضی کی وسعت (The Railway Strip) ریلوے نے صرف اتنی زمین نہیں لی تھی جتنی پر پٹری بچھانی تھی۔ پٹری کے دونوں طرف تقریباً 100 سے 200 فٹ چوڑی پٹی حاصل کی گئی تاکہ مستقبل میں لائن کو دوہرا (Double Track) کیا جا سکے جب کہ اس ریلوے اسٹیشن کی اپنی تاریخی اہمیت برقرار رہے۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

-
View all postsشیخ عاطف علی
مورخ، محقق اور مٹی کے نبض شناس
ٹنڈو آدم (ضلع سانگھڑ) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیخ عاطف علی تاریخِ سندھ کے ایک معتبر محقق ہیں۔ آپ نے سندھ کے قدیم دارالحکومت 'المنصورہ' اور وہاں کے تاریخی سکوں پر گراں قدر تحقیق کی ہے، جس پر آپ کے 5 سے زائد مستند مقالات شائع ہو چکے ہیں۔
سرزمینِ سندھ کی عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے کے لیے آپ آج کل ٹنڈو آدم کی تاریخ کو یکجا کرنے کے مشن پر ہیں، اور اس موضوع پر آپ کی 50 سے زائد تحقیقی اقساط سوشل میڈیا پر قارئین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ آپ کا قلم وقت کی دھول میں کھو جانے والے تاریخی خزانوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کا ہنر جانتا ہے۔



