ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878–2026): حصہ سوئم
ٹنڈو آدم ایک اہم جنکشن رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے ٹنڈو آدم میں دو مختلف اقسام کی پٹریاں (Gauges) بچھائی گئی تھی۔ اس کے علاؤہ برطانوی حکومت نے یہاں کی صنعتوں (Factories) کو ریلوے لائن سے منسلک کیا گیا ۔
ریلوے کے مختلف گیجز اور صنعتی ٹریک کا جال
براڈ گیج Broad Gauge( گیج سے مراد پٹری کے دو متوازی لوہے کے پیڑیوں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔)۔ اس کی چوڑائی 5 فٹ 6 انچ ہوتی ہے۔ یہ پاکستان ریلوے کا مین ٹریک ہے (جیسے کراچی سے لاہور والی لائن)۔ ٹنڈو آدم کا مین پلیٹ فارم اسی پر مشتمل ہے۔
نیرو گیج (Narrow Gauge): اس کی چوڑائی 2 فٹ 6 انچ یا 2 فٹ ہوتی تھی۔ ٹنڈو آدم سے محراب پور جانے یہی ٹریک تھا۔اس کو “چھوٹی لائن” بھی کہتے تھے۔ لیکن اب یہ ٹریک بند ہوچکا ہے ۔
ٹنڈو آدم میں صنعتی ٹریک (Industrial Track) یا “سائڈنگز” (Sidings) کا ایک باقاعدہ جال بچھایا گیا تھا، جو اس شہر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔
ٹنڈو آدم برطانوی دور سے کپاس (Cotton) اور جننگ فیکٹریوں کا بہت بڑا مرکز ہے ، اور ان فیکٹریوں کو ریلوے کے مین ٹریک سے جوڑنا انگریزوں کی تجارتی اہم ضرورت تھی
کاٹن جننگ فیکٹری سائڈنگز
ٹنڈو آدم کے اسٹیشن سے ایک چھوٹی پٹری نکلتی تھی جو براہِ راست رلی کاٹن فیکٹری ( سلمان روشن ہاؤسنگ سوسائٹی)اور صوفی کاٹن فیکٹری کے اندر جاتی تھی
ان میں براہِ راست لوڈنگ ٹریکس کا مقصد یہ تھا کہ کپاس کی گانٹھیں (Bales) فیکٹری سے نکلتے ہی سیدھی مال گاڑی (Wagons) میں لوڈ ہو جائیں۔ اس سے بیل گاڑیوں پر مال لاد کر اسٹیشن تک لانے کا خرچہ اور وقت بچ جائے ۔
وزن کا کانٹا (Weigh Bridge): ان صنعتی ٹریکس پر ا ریلوے ناکہ اور ایک بڑا “ترازو” یا وزن کرنے والا پلیٹ فارم ہوتا تھا، جہاں پوری کی پوری مال گاڑی کا وزن کیا جاتا تھا۔اس کے علاؤ ٹنڈو آدم سے گندم اور دیگر اجناس کو پورے ملک میں سپلائی کرنے کے لیے ان خصوصی ٹریکس پر مال بردار ڈبے (Goods Wagons) کئی کئی دن کھڑے رہتے تھے جب تک وہ مکمل بھر نہ جائیں۔
صنعتی ٹریک کی بناوٹ
یہ صنعتی ٹریک مین لائن سے تھوڑا مختلف ہوتے تھے:
رفتار کی حد: ان پٹریوں پر ٹرین کی رفتار بہت کم (تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ) رکھی جاتی تھی۔
شینٹنگ (Shunting): یہاں بڑے انجن کے بجائے چھوٹے انجن یا کبھی کبھی صرف “شینٹنگ انجن” استعمال ہوتے تھے جو ڈبوں کو جوڑنے یا الگ کرنے کا کام کرتے تھے۔
ٹنڈو آدم کا “آئل ڈپو” ٹریک
ٹنڈو آدم پارو پلانٹ کے لیے مٹی کے تیل یا ایندھن کی سپلائی کے لیے بھی ایک مخصوص ٹریک ہوتا تھا جہاں ٹینک ویگنیں (Tank Wagons) کھڑی کی جاتی
اس کے علاؤہ لوپ لائن (Loop Line): یہ اسٹیشن پر مین لائن کے برابر میں بچھائی گئی اضافی پٹری ہوتی ہے تاکہ ایک ٹرین کو کھڑا کر کے دوسری “تھرو” (بغیر رکے) گاڑی کو گزارا جا سکے ۔
ٹریک کے اہم اجزاء اور تکنیکی خصوصیات
ٹریک کا ڈھانچہ ان اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے:
ریلز (Rails): اسٹیل کی وہ سلاخیں جن پر ٹرین کے پہیے چلتے ہیں۔
سلیپرز (Sleepers): وہ تختے (لکڑی، لوہے یا کنکریٹ کے) جو پٹریوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔
بیلسٹ (Ballast): وہ پتھر جو سلیپرز کے نیچے بچھائے جاتے ہیں تاکہ وزن برابر تقسیم ہو اور پانی کی نکاسی ہو سکے۔
پٹریوں کو جوڑنے والے پیچ (Bolts) اور نٹ (Nuts) بظاہر چھوٹی چیزیں لگتے ہیں، لیکن ریلوے کی حفاظت میں ان کا کردار سب سے اہم ہے ۔ ان کے لیے استعمال ہونے والی دھات اور ڈیزائن بھی بہت خاص ہے
مچھلی کے پیچ (Fishbolts) کی دھات
پٹریوں کو آپس میں جوڑنے والے ان پیچوں کو “فش بولٹس” کہا جاتا ہے۔ یہ عام لوہے کے نہیں ہوتے تھے:
ہائی ٹینسائل اسٹیل (High Tensile Steel): ان پیچوں کو ایسے اسٹیل سے بنایا جاتا تھا جس میں کھنچاؤ برداشت کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہو۔
وجہ: جب ٹرین پٹری کے جوڑ (Fishplate) کے اوپر سے گزرتی ہے، تو جوڑ پر بہت زیادہ دباؤ اور ارتعاش (Vibration) پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ پیچ عام لوہے کے ہوتے تو وہ فوراً ٹوٹ جاتے یا ڈھیلے ہو جاتےے۔
ڈیزائن کی خصوصیت (Square Neck)
اگر آپ ان پرانے پیچوں کو دیکھیں، تو ان کا سر گول ہوتا ہے لیکن اس کے نیچے کا حصہ چورس (Square) ہوتا ہے:
خفیہ مقصد: مچھلی (Fishplate) کے سوراخ بھی چورس بنے ہوئے تھے۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ پیچ لگانے کے بعد اسے دوسری طرف سے پکڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، وہ خود بخود سوراخ میں پھنس جاتا تھا۔ ملازم صرف ایک طرف سے چابی (Wrench) لگا کر اسے کس دیتا تھا۔
ڈاگ اسپائکس (Dog Spikes) کا خام مال
پٹری کو لکڑی کے سلیپر کے ساتھ جکڑنے والی ان بڑی کیلوں (Spikes) کے لیے نرم لوہا (Mild Steel) استعمال کیا جاتا تھا۔
وجہ: اسے تھوڑا لچکدار رکھا جاتا تھا تاکہ جب ہتھوڑا مارا جائے تو یہ ٹوٹنے کے بجائے لکڑی کے ریشوں کے اندر جگہ بنا لے۔
ریلوے کی “چابی” (The Railway Spanner)
ان بھاری پیچوں کو کَسنے کے لیے گینگ مین کے پاس ایک بہت لمبی اور وزنی چابی ہوتی تھی۔ اس کی لمبائی تقریباً 2 سے 3 فٹ ہوتی تھی تاکہ مزدور اپنا پورا وزن ڈال کر پیچ کو اتنی مضبوطی سے بند کرے کہ وہ ٹرین کے جھٹکوں سے بھی نہ کھلے۔
تاریخی پس منظر اور زنگ سے بچاؤ کے اقدامات
حر تحریک کے دوران:- حر تحریک کے دوران برطانوی حکومت نے پٹریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے ۔
“کی مین” (Keyman): ہر گینگ کا ایک خاص بندہ جسے “کی مین” کہا جاتا تھا، وہ روزانہ صبح سویرے ٹنڈو آدم اسٹیشن سے نکل کر اپنے حصے کی پٹری پر پیدل چلتا تھا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا اور ایک جھولا ہوتا تھا جس میں فالتو پیچ اور نٹ ہوتے تھے۔ اس کا کام ہر ایک جوڑ کو چیک کرنا اور ڈھیلے پیچوں کو کَسنا تھا۔ اگر کوئی پیچ ٹوٹا ہوا ملتا اور وہ اسے نہ بدلتا، تو اسے سنگین غفلت سمجھا جاتا تھا۔
زنگ سے بچاؤ کا طریقہ
ان پیچوں کو لگانے سے پہلے انہیں تیل اور گریس کے آمیزے میں ڈبویا جاتا تھا تاکہ نمی کی وجہ سے یہ جام نہ ہو جائیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں آسانی سے کھولا جا سکےے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کا یہ شاندار ماضی ہم سب کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے۔
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کی اس تاریخی داستان نے ہمارے دلوں میں اپنے شہر کی مٹی کی محبت کو اور بھی زیادہ روشن کر دیا ہے۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

-
View all postsشیخ عاطف علی
مورخ، محقق اور مٹی کے نبض شناس
ٹنڈو آدم (ضلع سانگھڑ) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیخ عاطف علی تاریخِ سندھ کے ایک معتبر محقق ہیں۔ آپ نے سندھ کے قدیم دارالحکومت 'المنصورہ' اور وہاں کے تاریخی سکوں پر گراں قدر تحقیق کی ہے، جس پر آپ کے 5 سے زائد مستند مقالات شائع ہو چکے ہیں۔
سرزمینِ سندھ کی عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے کے لیے آپ آج کل ٹنڈو آدم کی تاریخ کو یکجا کرنے کے مشن پر ہیں، اور اس موضوع پر آپ کی 50 سے زائد تحقیقی اقساط سوشل میڈیا پر قارئین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ آپ کا قلم وقت کی دھول میں کھو جانے والے تاریخی خزانوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کا ہنر جانتا ہے۔Recent Posts






