میڈیا، تہذیبی اقدار اور معاشرتی ذمہ داری

میڈیا

میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر اور ثقافتی چیلنجز

پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ثقافتی شناخت، اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام کو متعدد نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ذرائع ابلاغ، خصوصاً الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، انسانی زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

میڈیا جہاں شعور بیدار کرنے، تعلیم و تربیت اور مثبت سماجی رویوں کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں اگر اس کی ترجیحات صرف تفریح، سنسنی اور تجارتی مفادات تک محدود ہو جائیں تو اس کے اثرات معاشرے کی فکری اور اخلاقی ساخت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ایسے رجحانات نمایاں ہوئے ہیں

جن میں شرم و حیا، وقار اور تہذیبی حدود کو جدیدیت اور آزادیِ اظہار کے نام پر ثانوی حیثیت دی جانے لگی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا مفہوم واقعی اپنی تہذیبی شناخت اور اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جانا ہے، یا پھر حقیقی ترقی وہ ہے جو جدید تقاضوں کے ساتھ اپنی دینی اور ثقافتی بنیادوں کو بھی محفوظ رکھے؟

اسلامی تعلیمات اور خاندانی نظام کی اہمیت

اسلام نے مرد و عورت کے تعلقات کے بارے میں واضح اصول وضع کیے ہیں۔ ان حدود کا مقصد کسی کی آزادی محدود کرنا نہیں بلکہ انسانی وقار، خاندانی استحکام اور معاشرتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہی وصف فرد کی شخصیت میں وقار پیدا کرتا اور معاشرے میں احترامِ باہمی کو فروغ دیتا ہے۔

یہی اصول خاندان کے ادارے کو مضبوط بناتے اور معاشرتی انتشار سے حفاظت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں اور مشرقی تہذیبی روایات پر رکھی گئی تھی۔

ہمارے ہاں میاں بیوی کا تعلق محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ احترام، اعتماد، محبت اور وقار پر قائم ایک مقدس رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ اس رشتے کی خوبصورتی اس کی نجی حیثیت میں ہے، نہ کہ اسے عوامی نمائش یا تفریح کا ذریعہ بنا دینے میں۔

ذرائع ابلاغ اور بدلتے ہوئے رجحانات

بدقسمتی سے ہمارے بعض ٹیلی وژن پروگراموں میں ایسے مناظر اور طرزِ اظہار کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے جو نہ صرف ہماری تہذیبی روایت سے ہم آہنگ نہیں بلکہ خاندانی اقدار کے بارے میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ایک لائیو پروگرام میں پیش آنے والے ایک واقعے کو تفریح کے نام پر نمایاں انداز سے نشر کیا گیا۔

اصل سوال کسی ایک واقعے یا شخصیت کا نہیں بلکہ اس عمومی رجحان کا ہے کہ آیا ریٹنگ اور مقبولیت کے حصول کے لیے ہر قسم کی نجی یا جذباتی کیفیت کو عوامی نمائش کا حصہ بنا دینا درست طرزِ عمل ہے؟ یہ مسئلہ کسی ایک پروگرام تک محدود نہیں۔ متعدد ڈراموں میں غیر ذمہ دارانہ تعلقات کو رومانویت کا رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے،

اشتہارات میں عورت کی شخصیت کو اکثر محض تجارتی کشش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بعض تفریحی پروگراموں میں گلیمر اور شور شرابے کو اصل مقصد بنا دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایسے مناظر عام خاندانوں کے لیے اجتماعی طور پر دیکھنا مشکل محسوس ہوتے ہیں، اور والدین کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ نئی نسل کن اقدار کے زیرِ اثر پروان چڑھ رہی ہے۔

کبھی ہم بھارتی فلموں اور وہاں کے میڈیا پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ اپنی تہذیبی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں، لیکن افسوس کہ آج ہمارے بعض ذرائع ابلاغ میں بھی ایسے رجحانات دکھائی دیتے ہیں جو اسی طرزِ فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ صورتحال محض ثقافتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری سوال بھی ہے کہ کیا ہم اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کر رہے ہیں، یا غیر محسوس انداز میں اپنی تہذیبی اساس کو کمزور کر رہے ہیں؟

مارننگ شوز اور ڈرامہ نگاری کے منفی اثرات

مارننگ شوز، جو کبھی تعلیم، صحت، گھریلو تربیت، سماجی آگہی اور دینی رہنمائی جیسے موضوعات کے لیے پہچانے جاتے تھے، رفتہ رفتہ ایسی نمائشی فضا اختیار کرتے جا رہے ہیں جہاں معلوماتی گفتگو کے بجائے غیر ضروری گلیمر، شور شرابا اور وقتی تفریح کو ترجیح دی جاتی ہے۔

شادی بیاہ کی تقریبات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا زندگی کا اصل مقصد مہندی، موسیقی، لباس اور پرتعیش رسومات ہی رہ گئی ہوں۔ اسراف اور نمود و نمائش کو غیر محسوس انداز میں قابلِ تقلید بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے متوسط طبقے کے گھروں میں غیر حقیقی توقعات جنم لیتی ہیں۔

جب حقیقی زندگی ان مصنوعی تصویروں سے مطابقت نہیں رکھتی تو مایوسی، احساسِ محرومی اور گھریلو تنازعات پیدا ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ اسی طرح ڈرامہ نگاری ایک نہایت بااثر ذریعہ ہے، مگر اس میدان میں بھی بعض اوقات خاندانی مسائل کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ طلاق، علیحدگی یا رشتوں کا ٹوٹ جانا ایک معمولی اور فوری حل محسوس ہونے لگتا ہے۔

صبر، برداشت، گفت و شنید اور مفاہمت جیسے اوصاف، جو مضبوط خاندانوں کی بنیاد ہوتے ہیں، پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ معاشرے کی پائیداری کا انحصار صرف قوانین پر نہیں بلکہ مضبوط خاندانی رشتوں، باہمی اعتماد اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔

آزادیِ اظہار اور اخلاقی ذمہ داری

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میڈیا ایک بے پناہ قوت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو قوم کے فکری افق کو بلند کر سکتا ہے، علمی شعور کو فروغ دے سکتا ہے، نوجوان نسل میں اخلاق، برداشت، رواداری اور خدمتِ خلق کے جذبات پیدا کر سکتا ہے، اور چاہے تو محض تجارتی مفادات کی خاطر وقتی تفریح کو سب کچھ بنا کر معاشرتی ترجیحات کو تبدیل بھی کر سکتا ہے۔

آزادیِ اظہار کسی بھی مہذب معاشرے کی اہم قدر ہے، لیکن آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ جب آزادی، اخلاقی ذمہ داری اور معاشرتی حساسیت سے خالی ہو جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ آزادی اور بے لگام رویے کے درمیان ایک باریک مگر واضح حد موجود ہے، اور اسی حد کا احترام کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔

اصلاحِ احوال اور بحیثیت قوم ہمارا فیصلہ

وقت کا تقاضا ہے کہ میڈیا کے مالکان، پروڈیوسرز، ہدایت کار، فنکار، ادیب، دانشور، پیمرا سمیت متعلقہ ادارے اور خود ناظرین بھی اپنے اپنے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ تفریح یقیناً انسانی ضرورت ہے، مگر ایسی تفریح جو ذہنی بالیدگی، اخلاقی تربیت، خاندانی استحکام اور تہذیبی شعور کو بھی تقویت دے۔

اگر ہمارے ڈرامے، مارننگ شوز اور دیگر پروگرام اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لائیں تو یہی میڈیا معاشرے کی تعمیر، قومی یکجہتی اور اخلاقی بیداری کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج فیصلہ صرف میڈیا نے نہیں بلکہ پوری قوم نے کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں۔

ایسا معاشرہ جو اپنی اسلامی اقدار، خاندانی نظام اور مشرقی تہذیب پر فخر کرے، یا ایسا ماحول جہاں وقتی مقبولیت اور تجارتی مفادات کی خاطر وقار، حیا اور اخلاقی حدود کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔

قوموں کی شناخت محض ترقی یافتہ عمارتوں سے نہیں بلکہ ان کی اخلاقی بنیادوں، تہذیبی شعور اور مضبوط خاندانی نظام سے قائم رہتی ہے۔ اگر ان بنیادوں کو کمزور ہونے دیا گیا تو آنے والی نسلیں صرف ثقافتی ہی نہیں بلکہ فکری شناخت کے بحران سے بھی دوچار ہو سکتی ہیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

میڈیا