غازی پور کی تاریخ اور حفیظ منزل کا پس منظر

غازی پور

غازی پور کا تاریخی پس منظر اور جغرافیائی اہمیت

بھارت کے شہر غازی پورکو آباد ہوئے سات سو برس ہوچکے ہیں اس کی بنیاد 730ہجری میں غازی ملت امیر مسعود سالار غازی رحمتہ اللہ علیہ نے ڈالی ہے۔ اس شہر کو فنون لطیفہ، ثقافت، نفاست اور خوبصورتی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ غازی پور مشرقی اتر پردیش (یوپی) کا ایک ضلع ہے

اس کے شمال مشرق میں بلیا شمال مغرب میں مئو اعظم گڑھ اور جونپور،جنوب مغرب میں بنارس اور جنوب مشرقی میں بہار کا ضلع شاہ آباد ہے، غازی پور یوپی اور بہار کے سنگھم پر واقع ہے اس شہر کو دریا ئے گنگا اور دریائے کرمناسا بہار سے دریائے سر جو مئو اور بلیا سے اور دریائے گنگا گومتی بنارس اور جونپورسے علیحدہ کرتی ہے ،ضلع غازی پور مشرق اور مغرب لمبائی میں ہے

جبکہ شمال جنوب میں چوڑائی میں ہے اس کی لمبائی 56میل اور چورائی 37 میل کے قریب ہے سمندر 265 فٹ بلند ہے 1818میں غازی پور کو بنارس سے علیحدہ کرکے ضلع کا درجہ دیا گیا تھا

حضرت سید شاہ جنید قادری کی غازی پور آمد

ہمارے جد امجد قطب الااقطاب سید شاہ جنید قادری( رح) کی غازی پور آمد کا بھی ایک عجیب واقعہ ہے جس کا ذکرمختلف کتابوں اور تاریخ میں ملتاہے آپ مخدوم شاہ ابوالفتح چشتی ( بابا فرید گنج شکر کے اولاد ) کے آخری ایام میں آئے یہ بادشاہ ہمایوں کا دور تھا

جب شہر غازی پور کے محلہ نورالدین پورہ میں قطب وقت حضرت مخدوم ابوالفتح چشتی رحمتہ اللہ علیہ ابن مخدوم شہاب الدین چشتی اپنی خانقاہ کے ہجرہ میں بستر مرگ پر لیٹے عقیدت مندوں کو ارشاد وتلقین میں مشغول تھے اسی درمیان آپ کے ایک خلیفہ نے پوچھا حضور آپ کے بعد ہم لوگ کیا کریں

مخدوم صاحب نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں ایک بزرگ جوروشن چراغ کے نام سے ملقب ہوکر اس علاقے میں آئیں گے اور قطبیت کا عہدہ سنبھالیں گے ان کی اتباع کرنا آگے پیشن گوئی بھی کی کہ وہ اس شکل وصورت کے ہوں گے وہ کشتی کے ذریعے دریائے گنگا کےکنارے قدم رکھیں گے ،نہایت احترام سے ان سے عرض کرنا کہ میری نماز جنازہ پڑھائیں اورمیری عبا ان کو دے دینا

کچھ دن بعد آپ کا وصال ہوگیا آپ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ، تذکرہ مشائخ غازی پور کے مطابق حضرت سید شاہ جنید قادری کی کشتی غازی پور میں گنگا کے کنارے آکر لگی اور آپ نے ابوالفتح چشتی کی نمازہ جنازہ پڑھائی شاہ جنید قادری نے جس مقام پر قدم رکھا وہیں قیام کیا اور اسی جگہ مسجد و آستانہ قائم کیا ۔

شیر شاہ سوری کی عقیدت اور میاں پورہ محلہ

ہرصغیر کی اسلامی تاریخ کے عظیم رہنما، فاتح اور مصلح شیر شاہ سوری کو حضرت سید شاہ جنید قادری سے بیعت وارادت حاصل تھی وہ اکثر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آستانہ کی مسجد میں حضرت سید شاہ جنید قادری رح کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔

شاہ صاحب اور انکی اولاد کے قیام کی وجہ سے آستانہ کی مسجد کے اطراف کا محلہ آج بھی میاں پورہ کے نام سے مشہور ہے یہان اب بھی حسنی حسینی سادات کے کئی گھرانے آباد ہیں

برطانوی عہد اور شاہ خاندان کے قانونی خدمات

میرےچھوٹے چچا شاہ محمد مصباح کراچی میں مقیم ہیں ان کا شمار ملک کے نامور ٹاون پلانر میں ہوتا ہے وہ ڈائریکٹر جنرل ٹاون پلاننگ سندھ اور ادارہ ترقیات کراچی میں ڈائریکٹر جنرل اور چیف کنٹرولر بلڈنگ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد تصنیف و تالیف کے کاموں میں مگن ہیں رواں سال ان کے سفر نامے شہر شہر نگر نگرکا اجرا ہوا ہے

جس میں چچا صاحب قبلہ نے غازی پورکے سفر کی روداد اور شاہ خاندان کے بزرگوں کے حوالے سے تفصیل سے بیان کیا ہے وہ رقم طراز ہیں کہ برطانوی عہد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے بعد غازی پور کو مرکزی حیثیت حاصل تھی ،اس عہد میں حضرت سید شاہ جنید قادری کی آستانہ کی مسجد میں ہمارے خاندان کے اس وقت کےبزرگ شاہ ظہور عالم صاحب مسجد میں قیام کیا کرتے تھے

زیادہ وقت ان کا عبادت وریاضت میں گزرتا ،ایک انگریز جج جو ان دنوں غازی پور میں تعینات تھا وہ آپ کا معتقد ہوگیا تھا اور آپ کی خدمت میں صبح شام حاضری دیا کرتا تھا اس نے استدعا کی حضرت اپنے ایک صاحبزادے کو مجھے دیں تاکہ میں ان کو قانون کی تعلیم سے آراستہ کرسکوں

جس پر شاہ صاحب نے اپنے صاحبزادے شاہ منصور عالم کو انگریز جج کی خدمت میں بھیجا تاکہ قانون کی تعلیم حاصل کرلیں ،،وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شاہ منصور عالم غازی پورکے ممتاز وکیل کہلائے انھوں نے غازی پور اور اس کے اطراف میں متعدد جائیدادیں بنائیں اور ساتھ ہی اپنے چچا زاد بھائی شاہ اسد علی کو بھی وکالت کی تعلیم دلوائی وہ بھی بہت پائے کے وکیل کہلائے

اسد علی صاحب نے بھی زمینیں خریدیں اور مکان بنایا جو آج ڈھائی سو سال بعد بھی غازی پور شہر میں اسد منزل کے نام سے قائم ہے اور ہمارے خاندان کے افراد نہ صرف یہاں مقیم ہیں بلکہ اسد منزل میں شاہ فیض میموریل ہائی اسکول بھی قائم ہے

شاہ اسد علی کی اولاد اور نمایاں شخصیات

الغرض شاہ اسد علی کے تین صاحبزادے جن میں شاہ ظہیر عالم ،شاہ جنید عالم اور شاہ بدر عالم تھے بڑے صاحبزادے شاہ ظہیر عالم نے دو شادیاں کیئں پہلی اہلیہ سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں

بیٹوں میں شاہ ضمیر عالم، شاہ فخر عالم، اور شاہ افتخار عالم، جبکہ دو صاحبزادیوں کے نام زہرۃ الفاظمہ اور شہر النسا فاطمہ تھا ،زہرۃ الفاطمہ کی شادی میرے دادا حضور سید شاہ حفیظ اللہ ولد شاہ احسان اللہ مرحوم سے ہوئی جو انڈین پولیس میں ایس پی کے عہدہ پر تعینات تھے

جبکہ شہر النسا فاطمہ کی شادی سرشاہ سلیمان پہلے مسلمان چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ ، وائس چانسلر علیگڑھ یونیورسٹی انڈیا سے ہوئی جو شادی کے بعد لیڈی سلیمان کہلاتی تھیں شاہ ظہیر عالم کی دوسری بیوی سے چھ بیٹے شاہ شبیر عالم ،شاہ غیاث عالم (جج)، شاہ بشیر عالم (ماہر قانون ) شاہ نظیر عالم آئی جی پولیس ویسٹ پاکستان شاہ جمیل عالم ڈُپٹی اٹارنی جنرل سندھ اور شاہ صغیر عالم شامل ہیں

شاہ اسد علی کے دوسرے صاحبزادے شاہ جنید عالم تھے ،ان کے بیٹوں میں شاہ محمد شبلی صاحب جنھیں ہم لوگ حکیم دادا کہا کرتے تھے وہ حکمت کے شعبے سے وابستہ تھے قیام پاکستان سے قبل غازی پور سے ہجرت کرکے پنجاب کے شہر لائلپور جو اب فیصل آباد کہلاتا ہے چلے گئے تھے

جبکہ دوسرے صاحبزادے شاہ محمد اویس تھے اورتیسرےشاہ ابوالفیض صاحب جن کا شمار بھارت میں جدوجہد آزادی کے رہنماوں میں ہوتا ہے وہ غازی پور سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور مزدورں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے

شاہ اسد علی صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے شاہ بدر عالم تھے جو غازی پور میونسپل کمیٹی کے چئیرمین اور کونسل کے ممبر کی حیثیت سماجی خدمات انجام دیتے رہے شاہ خاندان کا رعب ودبدبہ اور نام غازی پور شہر میں آپ ہی کے مرہون منت ہے آپ کا انتقال 1929میں ہوا،،

غازی پور میں حفیظ منزل کی تعمیر اور تاریخی حیثیت

اسی طرح غازی پور میں واقع حفیظ منزل میرے دادا سید شاہ محمد حفیط اللہ مرحوم جوانڈین پولیس میں ایس پی کے عہدے پر تعینات تھے ان کے نام سے موسوم ہے گمان غالب ہے کہ اس مکان کو میرے دادا مرحوم نے 1912میں تعمیر کروایا تھا اسی گھر میں 1931میں میرے والد بزرگوار سید شاہ محمدخلیل اللہ جنیدی قادری مرحوم پیدا ہوئے

ہجرت، پاکستان منتقلی اور حفیظ منزل کا موجودہ حال

برصفیر کی تقسیم کے بعد ہمارے خاندان کے بیشتر افراد جن میں سابق آئی جی پولیس ویسٹ پاکستان شاہ نظیر عالم ،،شاہ افتخار عالم ممتاز قانوں دان شاہ بشیرعالم، شاہ جمیل عالم ڈُپٹی اٹارنی جنرل سندھ اور شاہ صغیر عالم سمیت خاندان کے دیگر افراد پاکستان چلے آئے تھے میرے والد بزرگوارسید شاہ محمدخلیل اللہ جنیدی بھی اپنے بزرگون کے حکم پر بھارت سے کراچی منتقل ہوگئے

یہان درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے اور سرکاری ملازمت اختیار کی والد صاحب قبلہ نے پاکستان ہجرت کرنے کے باوجود بھارت کے شہر غازی پور میں اپنے والدین کی جائیداد کا کوئی کلیم داخل نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین کی نشانی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور آج یہی وجہ ہے حفیظ منزل قائم و دائم ہے تاہم اس کے ایک حصے پرسکھ سردار جی نے قبضہ کرلیا ہے

اس میں اسلحہ بنانے کی فیکٹری قائم کی ہوئی ہے ،حفیظ منزل پر قبضے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جبکہ دوسرے حصے میں میری چھوٹی پھوپھی خدیجتہ الکبری مرحومہ جن کی شادی صوبہ بہار کے مخدوم جہانیاں کے سادات خاندان کے سید قمر الدین مرحوم سے ہوئی تھی ان کی اولادیں رہائش پزیر ہیں

حفیظ منزل کو1980میں پہلی مرتبہ مجھےاپنے والد مرحوم کے ہمراہ دیکھنے کا موقع ملا تھا اس وقت میرے والد کے چھوٹے ماموں شاہ ابوالفیض غازی پور سے ممبر پارلیمنٹ تھے شاہ ابوالفیض مرحوم کی اہلیہ ممتاز ماہر تعلیم سیدہ فیض نے آبائی مکان اسد منزل میں شاہ فیض میموریل پبلک ہائی اسکول و انٹر کالج قائم کیا جو اب بھی موجود ہے ۔

گزشتہ دنوں حفیظ منزل کی یہ تصاویرمیرے پھوپھی زاد بھائی شاہ پرویز احمد کے بیٹے سیف قمر نے ارسال کی ہیں میں ان کا ممنون و مشکور ہوں

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں