ہاں، یہ میری غلطی ہے
یہ جملہ پڑھنے میں جتنا آسان ہے، بولنے میں اتنا ہی مشکل، بلکہ بعض اوقات انتہائی پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ اس پیچیدگی کی جڑیں خاندانی تفاخر، سماجی برتری، عہدوں کے غرور، انا کے بتوں اور خود پسندی میں پیوست ہوتی ہیں۔ آخر ہر شخص تو بت شکن نہیں ہوسکتا۔
ہم اپنی غلطی کیوں نہیں مانتے؟
کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا ہمارے لیے اتنا دشوار کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور گھروں میں غلطی ماننے کی تربیت تقریباً ناپید ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو اس کے جذبۂ صداقت کی حوصلہ افزائی کی جائے
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں غلطی ماننے کو ہی اقبالِ جرم سمجھ لیا جاتا ہے اور اکثر سزا بھی دوگنی ملتی ہے۔ نتیجتاً بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں میں یہ تصور بیٹھ جاتا ہے کہ سزا سے بچنے کے لیے، خواہ جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے، غلطی ہرگز نہیں ماننی۔ بعض اوقات یہی رویہ معمولی اختلاف کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
تربیت کا وہ خلا جسے ہم نے نظر انداز کردیا
بدقسمتی سے اخلاقیات، سماجی آداب، کھانے پینے کے آداب، ٹریفک کا شعور، قطار میں کھڑے ہونے کی تہذیب، حتیٰ کہ سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کے بنیادی اصول بھی ہمارے تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ نہیں ہیں۔ پطرس بخاری کا مشہور مضمون “کتے” پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مغربی معاشروں میں ان اصولوں کی تربیت صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ کتوں تک کو بھی دے دی گئی ہو۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ حقوق العباد پر جتنا زور ہمارے دین نے دیا ہے، شاید ہی دنیا کے کسی اور نظام میں اس کی مثال ملتی ہو۔ مگر عملی زندگی میں ہماری صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
کرپشن نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے، حالانکہ ہماری کرنسی پر آج بھی لکھا ہے: “رزقِ حلال عین عبادت ہے۔” افسوس کہ ہم نے رزق کو عبادت سے الگ کردیا ہے، پھر رزق میں برکت اور عبادت میں سکون تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
روزمرہ زندگی ہماری تربیت کا آئینہ
ہماری سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، ہر اس جگہ ہجوم جہاں قطار ہونی چاہیے، دعوتوں میں کھانے کا غیر مہذب انداز، یہ سب ہماری اجتماعی تربیت کا عکس ہیں۔
سیڑھیوں پر پیش آنے والا منظر تو گویا ہماری نفسیات کی علامت بن چکا ہے۔ اوپر جانے والا اور نیچے آنے والا آمنے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دونوں اپنے آپ کو درست اور دوسرے کو غلط سمجھتے ہیں، حالانکہ اصول نہایت سادہ ہے: اگر دونوں اپنی بائیں جانب رہیں تو نہ راستہ رکے گا اور نہ تصادم ہوگا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ سمجھائے کون اور سمجھے کون؟
غلطی مان لینا کمزوری نہیں، طاقت ہے
غلطی تسلیم کرلینے سے نہ صرف مسئلہ حل ہوجاتا ہے بلکہ انسان کی طبیعت میں سختی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی انا قابو میں رہتی ہے اور تعلقات محفوظ رہتے ہیں۔
آج ہمارے گھروں کے بیشتر تنازعات کی بنیاد انا، ضد اور اپنی بات پر اڑے رہنے کی عادت ہے۔ ان تمام رویوں کی جڑ دراصل غلطی نہ ماننے کی اسی پرانی سوچ میں پیوست ہے۔
دو کردار، دو انجام
غلطی نہ ماننے کی سب سے بڑی مثال ابلیس ہے۔ اسے حقیقت معلوم تھی، مگر انا اور تکبر نے اسے جھکنے نہ دیا اور وہ ہمیشہ کے لیے مردود قرار پایا۔ اس تباہی کی ابتدا صرف ایک غلطی نہ ماننے سے ہوئی تھی۔
اس کے برعکس حضرت آدمؑ کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی لغزش کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگی اور اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے نواز دیا۔
یوں ایک راستہ تکبر، انکار اور تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا عاجزی، اعتراف اور کامیابی کی طرف۔
عدل کا ایک سادہ اصول
اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ اس کے بندوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں وہ سنہری اصول عطا فرمایا کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
اگر ہم صرف اس ایک اصول کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرلیں تو بے شمار معاشرتی مسائل خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، جب کسی شخص کو جائیداد یا کسی چیز کی تقسیم کی ذمہ داری دی جائے تو عموماً وہ بہتر حصہ اپنے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نہایت آسان حل یہ ہے کہ تقسیم کرنے کا اختیار ایک شخص کو دیا جائے، لیکن حصہ پہلے منتخب کرنے کا حق دوسرے فریق کو دے دیا جائے۔ یقین جانیے، تقسیم خود بخود منصفانہ ہوجائے گی۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے
آج ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ انا، ضد، انکار اور خود پسندی کا ہے، جبکہ دوسرا عاجزی، انصاف، اعترافِ غلطی اور اخلاق کا۔
فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنے لیے کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں، اور دوسروں کے لیے بھی وہی چاہتے ہیں یا نہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔
غلطی کرنا انسان کی فطرت ہے، مگر غلطی مان لینا اس کے کردار کی عظمت ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے، عدل پر قائم رہنے اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائےجو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔(آمین)




