مشرقی پاکستان انجام آخر کار

مشرقی پاکستان

 

مشرقی پاکستان: انجامِ کار — ایک چشم دید گواہ کی ڈائری (1969-1971)

پیش لفظ: المیے کی دستک اور کتاب کا تعارف

برگیڈیئر اے آر صدیقی کی تصنیف “مشرقی پاکستان: انجامِ کار” محض ایک عسکری افسر کی یادداشتیں نہیں بلکہ ایک عظیم ریاست کے ٹوٹنے کا نوحہ اور ان تزویراتی لغزشوں کی دستاویزی شہادت ہے جنہوں نے برصغیر کا جغرافیہ بدل دیا۔ یہ کتاب اقتدار کے ان ایوانوں کی کہانی بیان کرتی ہے جہاں فیصلے جذبوں سے نہیں بلکہ ہوسِ اقتدار اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر کیے گئے۔

مصنف، جو اس دورِ آشوب میں فوج کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ (DPR) کے حساس منصب پر فائز تھے، ایک منفرد مقام کے حامل تھے۔ ان کی معروضی نظر ایک طرف فوجی قیادت کی بند کمروں میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی، تو دوسری طرف ان کے بنگالی دانشوروں اور صحافیوں کے ساتھ قریبی روابط انہیں اس “نفسیاتی خلیج” کو سمجھنے میں مدد دے رہے تھے جو دونوں بازوؤں کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔

یہ کتاب ایوب خان کے دس سالہ دورِ اقتدار کے ڈھلتے سورج اور ایک نئی عسکری سحر کے درمیان معلق سیاسی بے یقینی سے اپنا سفر شروع کرتی ہے۔

ایوب خان کا غروب اور سیاسی بے یقینی (فروری 1969)

فروری 1969 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں فیلڈ مارشل ایوب خان کا آہنی اقتدار عوامی لہر کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہا تھا۔ اگرتلہ سازش کیس کی واپسی اور شیخ مجیب الرحمن کی غیر مشروط رہائی نے مشرقی پاکستان میں قوم پرستی کے شعلوں کو ہوا دی۔

راولپنڈی میں بلائی گئی گول میز کانفرنس (RTC) فریقین کے سخت موقف کے باعث سیاسی بند گلی میں داخل ہو گئی۔ اسی دوران مجیب نے لاہور میں جنرل یحییٰ خان سے خفیہ ملاقات کی، جہاں یحییٰ نے اسے فوج کی مکمل “غیر جانبداری” کا یقین دلایا۔ یہ دراصل ایوب خان کے سیاسی بستر کو گول کرنے کی خاموش تیاری تھی۔

ایوب خان کے زوال کے بنیادی محرکات

سماجی ردِعمل کی شدت: سارجنٹ ظہور الحق کے قتل نے مشرقی پاکستان میں اشتعال کو نقطۂ عروج پر پہنچا دیا۔

سیاسی بائیکاٹ: ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا بھاشانی کی طرف سے گول میز کانفرنس سے علیحدگی نے ایوب خان کو تنہا کر دیا۔

عسکری حکمتِ عملی: جنرل یحییٰ خان کا “سلیکٹیو مارشل لا” کے بجائے مکمل اقتدار کا مطالبہ، جس نے ایوب خان کو استعفیٰ پر مجبور کیا۔

یحییٰ خان کی آمد اور نئے مارشل لا کا نفاذ (مارچ 1969)

25 مارچ 1969 کو جنرل یحییٰ خان نے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں نیا مارشل لا نافذ کیا اور آئین کو “معطل” (Held in Abeyance) رکھنے کا اعلان کیا۔

برگیڈیئر صدیقی، جنہوں نے یحییٰ کے پہلے خطاب کا مسودہ تیار کیا، مشاہدہ کرتے ہیں کہ فوجی قیادت کی نظر میں یہ محض ایک “عارضی نظم و نسق” تھا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ “گھڑ سوار حاکم” (Man on Horseback) جب ایک بار زین پر بیٹھ جائے تو اسے اپنی فوقیت کا گمان ہونے لگتا ہے۔

یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالتے ہی مارشل لا ریگولیشن نمبر 50 کے تحت 303 کرپٹ سول سرونٹس کو فارغ کیا، جسے عوامی سطح پر یحییٰ کی “انصاف پسندی کی پہلی مثال” قرار دے کر خوب سراہا گیا۔ تاہم، یہ “سرجیکل آپریشن” کی خواہش رفتہ رفتہ سیاسی الجھنوں میں بدلنے لگی۔

لیگل فریم ورک آرڈر اور انتخابات کی بساط (1970)

یحییٰ خان نے سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) جاری کیا، جس کے تحت ون یونٹ کا خاتمہ کیا گیا اور “ایک شخص، ایک ووٹ” کا اصول نافذ ہوا۔

یہ اقدامات بظاہر جمہوری تھے، لیکن ان کے پیچھے یہ عسکری مفروضہ کارفرما تھا کہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی اور فوج ایک “ثالث” کے طور پر اقتدار کی کلید اپنے پاس رکھے گی۔

لیگل فریم ورک آرڈر  اہم نکات اور ممکنہ اثرات

ون یونٹ کا خاتمہ

صوبائی عصبیتوں کا احیاء اور مغربی پاکستان کی سیاسی وحدت کی تحلیل۔

120 دن کی مدت

آئین سازی کے لیے ایک “ٹک ٹاک” کرتا ٹائم بم، جس نے اسمبلی کو شدید دباؤ میں رکھا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان

ریاست کی نظریاتی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش۔

صدر کا حقِ توثیق

اسمبلی کی خود مختاری پر عسکری قدغن اور حتمی اختیار کی بقا۔

فطرت کا قہر اور سیاسی رخ کی تبدیلی (نومبر 1970)

نومبر 1970 میں مشرقی پاکستان کی ساحلی پٹی پر آنے والے ہولناک سمندری طوفان نے انسانی بستیوں کے ساتھ ساتھ وفاق کی جڑوں کو بھی ہلا دیا۔ وفاقی حکومت کی “سرد مہری” نے بنگالیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی۔

مصنف بتاتے ہیں کہ جب تباہی کے مناظر دیکھنے کے لیے یحییٰ خان نے طوفان زدہ علاقوں کے اوپر سے پرواز کی، تو وہ طیارے میں “بیئر” پینے میں مصروف تھے اور ان کا رویہ ہمدردی سے عاری تھا۔

ہٹیا اور بھولا کے ساحلوں پر بکھری لاشیں مرکز کی بے حسی کا نوحہ پڑھ رہی تھیں۔ اس واقعے نے بنگالی قوم پرستی کو وہ جذباتی ایندھن فراہم کیا جس نے انتخابات کے نتائج کو عوامی لیگ کے حق میں یکطرفہ کر دیا۔

  انتخابات 1970  کے  عوامی مینڈیٹ اور تقسیم کی لکیر

دسمبر 1970 کے انتخابی نتائج نے عسکری انٹیلی جنس کے تمام تخمینوں کو خاک میں ملا دیا۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستیں جیت کر مرکز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ 3 جنوری 1971 کو پلٹن میدان میں مجیب نے اپنے اراکین سے چھ نکات پر وفاداری کا حلف لیا، جس نے سمجھوتے کی گنجائش ختم کر دی۔

عسکری قیادت اب ایک “نفسیاتی تذبذب” کا شکار تھی۔ وہ بھٹو کو “اپنا آدمی” (Nearer Home) سمجھتے تھے کیونکہ وہ فوج کے حجم میں کٹوتی نہیں چاہتا تھا، جبکہ مجیب انہیں ایک “علیحدگی پسند” معلوم ہوتا تھا۔ بھٹو نے سندھ اور پنجاب کو “اقتدار کا قلعہ” (Bastions of Power) قرار دے کر “دو اکثریتوں” کے خطرناک تصور کو جنم دیا۔

انجامِ کار: مذاکرات کا ڈھونگ اور کریک ڈاؤن کا آغاز (مارچ 1971)

جنوری 1971 میں بھارتی طیارے “گنگا” کے اغوا نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا، جس کے نتیجے میں بھارت نے پاکستانی پروازوں پر پابندی لگا دی اور دونوں بازوؤں کا درمیانی فاصلہ تین گنا بڑھ گیا۔

مارچ 1971 کے ایام پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن تھے۔ ڈھاکہ میں سول نافرمانی کی تحریک نے وفاق کی رٹ ختم کر دی۔ یحییٰ، مجیب اور بھٹو کے درمیان مذاکرات محض ایک سراب ثابت ہوئے۔

جنرل یعقوب خان، جو خونریزی کے خلاف تھے، نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ نئے فوجی کمانڈرز نے “گولیوں کی بو” (Whiff of Grapeshot) سے سیاسی مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

25 مارچ کی شام 7:30 بجے صدر یحییٰ خاموشی سے ڈھاکہ سے روانہ ہوئے، جو اس طوفان سے پہلے کا سکوت تھا جس نے چند گھنٹوں بعد آپریشن سرچ لائٹ کی صورت میں شہر کو آگ و خون میں نہلا دیا۔

مذاکرات کی ناکامی کے بنیادی اسباب

چھ نکات پر اصرار: شیخ مجیب کا عوامی مینڈیٹ کے دباؤ میں کسی بھی سمجھوتے سے انکار۔

نفسیاتی تعطل: بھٹو اور مجیب کا ایک دوسرے سے بات کرنے تک سے گریز، جس کے باعث یحییٰ کو ان کی نقلیں اتار کر مذاکرات کرنے پڑے۔

اقتدار کی شراکت کا تنازع: بھٹو کا “ادھر ہم، ادھر تم” کا فارمولا اور مرکز میں شراکت داری کا مطالبہ۔

عسکری حل پر بھروسہ: جرنیلوں کا  یہ پختہ یقین کہ طاقت کا استعمال ہی ریاست کی بقا کا واحد راستہ ہے۔

تبصرہ و حاصلِ مطالعہ: ایک عظیم المیے کا تذکرہ

برگیڈیئر اے آر صدیقی کی یہ ڈائری محض تاریخ کے خشک حقائق کا مجموعہ نہیں بلکہ اس نفسیاتی ہزیمت کا آئینہ ہے جو ایک ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ڈھاکہ کی اس آخری رات، جب راکٹ لانچروں کے دھماکوں اور مشین گنوں کے شور نے خاموشی کو چیر ڈالا، تو مصنف نے محسوس کیا کہ یہ صرف گولیوں کی آواز نہیں بلکہ ایک ریاست کے ڈھانچے کے تڑخنے کی صدائیں ہیں۔

مصنف کا یہ مشورہ کہ “اگر اس ملک کو ٹوٹنا ہی ہے تو مجیب الرحمن کو اس کے ٹوٹنے کی صدارت کرنے دیں، فوج کو اس سے دور رکھیں”، وہ بصیرت افروز حقیقت تھی جسے ہوسِ اقتدار نے نظر انداز کر دیا۔

انجامِ کار، جب ریاستیں سیاسی مسائل کا حل گولیوں کی بو میں تلاش کرتی ہیں، تو جغرافیے تڑخ جاتے ہیں اور تاریخ صرف خون اور آنسوؤں سے لکھی جاتی ہے۔ یہ کتاب ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ عوامی امنگوں اور حکمرانوں کے درمیان حائل خلیج جب گہری ہو جائے، تو اس کا انجام المیے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

مشرقی پاکستان