اسلامی بینکاری اصلاح کے وعدے، نظام کی ضد
سچ پوچھیں تو دہائیوں سے اسلامی بینکاری سننے کے باوجود عام آدمی آج بھی ایک ہی سوال کرتا ہے، یہ واقعی اسلامی بینکاری ہے یا صرف بنکاری پر اسلامی لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، ہونٹوں اور پیالی کے درمیان بہت کچھ گر جاتا ہے اور جدید مالی زبان میں کہا جائے تو، کام بہت ہے، مگر منزل تک پہنچنے والی رفتار کم ہے
بڑا سوال کیا ہے؟
ہم اسلامی بینکاری پر بات تو بہت کرتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی اسے سمجھ بھی رہے ہیں؟ یا پھر معاملہ وہی ہے کہ، بہت سی اجلاس، بہت سیمینار، بہت سے اجتماعات، بہت سے پاورپوائنٹ عرضِ حال یعنی پریزنٹیشنز لیکن نتیجہ؟ پھر بھی وضاحت کی کمی- یوں لگتا ہے جیسے باورچی تو بہت ہیں، مگر یخنی پھر بھی ٹھنڈی_
ایک مختصر تاریخی یاد دہانی یہ ہے کہ اسلامی مالیات کا آغاز آج کے پاورپوائنٹس سے نہیں ہوا۔ ١٩٥٨ میں مصر میں ڈاکٹر احمد النجار نے اس کا تصور پیش کیا، اور پھر ١٩٦٢ میں “مٹگمر سیونگ بینک” کی صورت میں عملی شکل ملی۔ اصل مقصد سادہ تھا یعنی اخلاقی بینکاری، حقیقی معیشت سے جڑاؤ، سماجی فائدہ، نہ کہ بنکاری عمل میں صرف سود کا نام بدل کر منافع رکھ دینا۔
اسلامی بینکاری کی اصل روح
نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے ہے، الصادق اور الامین، دیانت دار تاجر، شفاف کاروبار، تو بنکاری کا مطلب بھی یہی ہونا چاہیے یعنی اعتماد، شفافیت، حقیقی تجارت اور حقیقی نقصان و خطرہ بانٹنا یعنی رسک شیئرنگ نہ کہ وہی نظام، بس نیا عمل۔
میری 47 سالہ بنکاری اور تربیتی تجربے کی حقیقت یہ ہے کہ ایک بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے، اسلامی بنکاری و مالییات پر گفتگو زیادہ ہے، عمل کم ہے۔ سادہ الفاظ میں مثال یہ ہے کہ ہم عمارتیں بنا رہے ہیں… مگر زیادہ تر ہوا میں- بنیادی الجھنیں آج بھی موجود ہیں، اب بھی ہم الجھے ہوئے ہیں کہ:
سود اور رِبا میں فرق
منافع اور استحصال میں فرق
سرمایہ کاری اور قرض میں فرق
صکوک اور بانڈ قرض میں فرق
اسلامی معاشیات اور انسان ساختہ معاشی نظام میں فرق
یہاں تک کہ بعض اوقات لگتا ہے لغتیں بھی تھک گئی ہیں فرق بتاتے ہوئے!
مرکزی بینکوں کا حقیقت پسندانہ چکر
یعنی شرح سود بڑھاتے ہیں، پھر کم کرتے ہیں اور اسے زرِی پالیسی کہتے ہیں یعنی وہ پالیسی جس کے ذریعے مرکزی بینک ملک میں پیسے کی رسد، شرحِ سود اور مہنگائی کو کنٹرول کرتا ہے۔ اور دوسری طرف اسلامی بینکاری کوشش کرتی ہے کہ اسی نظام میں رہتے ہوئے مختلف بھی نظر آئے_ یہ ایسے ہے جیسے ایک خوبصورت فریج میں شراب کی بوتل کے اندر زم زم پانی رکھا ہوا ہے۔
اصل مسئلہ مصنوعات کا ہے، آج بہت سے اسلامی مالیاتی مصنوعات اسلامی لگتی ہیں، اسلامی سنائی دیتی ہیں یہ مصنوعات اسلامی بستہ بندی میں پیش کی جاتی ہیں لیکن سرمایہ کار پھر بھی پوچھتا ہے، کیا یہ واقعی منافع ہے یا صرف سود کا نیا نام؟
بڑا خواب اور معاشی انصاف
بڑا خواب کیا تھا؟ اسلامی مالیاتی نظام صرف بنکاری نہیں ہے، بلکہ مکمل سماجی، معاشی، تجارتی اور زرِی نظام ہے جو معاشی انصاف لائے، حقیقی تجارت کو فروغ دے، شراکتی معیشت بنائے، سماج کو مضبوط کرے- نہ کہ صرف وہی مالیاتی ڈھانچہ جس پر صرف عربی اصطلاحات کا لیبل لگا دیا گیا ہو۔
آخری حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری تب ہی کامیاب ہوگی جب شفافیت بڑھ جائے، تربیت، بازاریابی یعنی مارکیٹنگ پر غالب آ جائے، اخلاق، مصنوعی حسن کی اشیا یعنی کاسمیٹکس پر غالب آ جائے، اصل مقصد، نعروں پر غالب آ جائے- کیونکہ آج مسئلہ یہ ہے ہم کبھی کبھی اشیا سے زیادہ اس کا لیبل بیچ رہے ہوتے ہیں۔
اسلامی بینکاری: طرزِ زندگی اور اعمال کی درستی
اسلامی مالیات صرف ایک بینکاری ماڈل نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے، دیانت، ذمہ داری اور عدل کا نظام۔ اور یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ساتھ حصص کا بازار یعنی اسٹاک ایکسچینج کی طرح تجارت نہیں کرتے بلکہ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں- اصل تبدیلی نام بدلنے سے نہیں آتی، بلکہ سوچ بدلنے سے آتی ہے۔
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور آج کی نیتیں بظاہر ہمیں مسلمان تو ظاہر کرتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلام کی اصل روح یعنی اس کے عملی تقاضوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام ہم سے صرف عبادات کا نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات کا مطالبہ کرتا ہے، جس کی بنیاد سماجی انصاف، عدل، امانت اور دیانت پر ہے۔
اگر نیتیں صاف ہوں اور عمل میں اخلاص ہو تو معاشرے سے جرائم کم ہو سکتے ہیں اور ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال سماج تشکیل پا سکتا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کو محض دعووں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں معاشی و سماجی ترقی، غربت کے خاتمے اور انصاف کے قیام کے لیے استعمال کریں۔ جب نیتیں درست ہوں اور کوششیں خالص مقصد کے ساتھ ہوں تو زمین پر بھی فلاح ممکن ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کی امید۔
اسلام صرف کسی نظام کے ساتھ لگایا جانے والا لیبل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی ہے جو معیشت، مالیات، بینکاری، تجارت اور صنعت سمیت ہر شعبے میں اخلاص، اعتماد اور ہدایت کے مطابق عمل کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ عدل، اخلاق اور حقیقی خوشحالی انسانی ترقی کی بنیاد بن سکیں۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
-
View all postsاسلامی معاشیات اور مالیات کے ممتاز محقق و مفکر یوسف ابن الحسن نے تقریباً نصف صدی پر محیط علمی اور عملی خدمات کے ذریعے اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ١٩٨٢ء میں ڈاکٹر احمد النجار کی نگرانی میں اسلامی بینکاری کے اولین تربیتی پروگرام میں شریک ہونے کے بعد پاکستان کے پہلے اسلامی تجارتی بینک سے وابستہ رہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ فنانس، شرعی مالیاتی مصنوعات کی تیاری اور متعدد قومی و بین الاقوامی منصوبوں میں مؤثر خدمات انجام دیں۔ جامعات اور مالیاتی اداروں میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ، ہزاروں پیشہ ور افراد اور علماء کی تربیت ان کا نمایاں کارنامہ ہے۔ انہوں نے اسلامی بینکاری کا اولین جامع اردو نصاب تشکیل دیا اور کئی تحقیقی دستاویزات اور علمی تصانیف یادگار چھوڑیں۔ ان کی کتاب "اسلامک بینکنگ اینڈ اپلائڈ فنانس" عالمی سطح پر شائع ہو چکی ہے جبکہ دیگر اہم تصانیف اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ ان کا اسلوب تحقیق، استدلال، ادبی شائستگی اور فکری گہرائی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ وہ قرآنی تعلیمات اور عملی مثالوں کی روشنی میں پیچیدہ معاشی موضوعات کو نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔



